سماج کی نوگرہیں مظفر نقوی

Print Friendly, PDF & Email

جنت اوربے روزگار:

اس نے رات کے اندھیرے میں مجھ پہ آواز کستے ہوئے کہا صاحب کب تک جلتے آلاؤ کو یونہی پھونکوں سے بجھاتے رہوگے۔
آؤ تم کو دکھلاؤں کے کچھ جنتیں زمین پربھی ہیں۔جہاں جانا صرف کسی کسی کامقدرہوتاہے۔میں اس کو نظرانداز کرتااپنے راستے پہ گامزن رہا۔اسے کیا خبر کہ جسے وہ میری شرافت سمجھ کے خود کو کوستی رہی ہوگی۔
اس جنت کی انٹری تو درکنار اس بے روزگار کے پاس گھرجانے کے لئے رکشہ کا کرایہ نہ تھا۔
وعدہ اوربدچلن:
عروسی جوڑے میں ملبوس بیٹھی اپنی دلہن کے ساتھ جب عہدوپیماں، اورکچھ نہ چھپانے کی قسمیں جاری تھیں تو اس دوران اس نے بتایا کہ یونیورسٹی میں میراایک افیئر مشہور ہواتھا۔مگر وہ حقیقت پہ مبنی نہ تھا۔میں دم بخود ہوگیا اورسوچنے لگاکہ کس قدر بدچلن عورت ہے ۔
جب کہ میرا تین لڑکیوں سے ان کی شاد ی کے بعدبھی گہرا تعلق رہا۔
کسی نے اپنے خاوند سے اس کا ذکر نہ کیا۔اوریہ ایک عورت جو اپنا ایک افیئر مجھ سے نہ چھپا سکی۔
ادھوری محبت اورافسانہ:
میں نے اس کی بے بسی سے بھرپور آنکھوں میں جھانکتے ہوئے اسے بے رخی سے جواب نہ میں دیا۔
میں تمہارے ساتھ نہیں چل سکتا۔تمہیں بے وفا ہونا ہوگا۔ میرے افسانے میں محبوبہ بےوفاہے۔میں تمہاری وفا کا بوجھ نہیں اُٹھا سکتا۔
میں ادھوری محبت کرسکتاہوں۔ مگراپنا افسانہ ادھورا نہیں۔
بازار اورقیمت:
تم مجھے نہیں خریدسکتی کسی بھی صورت، کچھ چیزیں نہیں بک سکتیں۔
اس نے میری طرف دیکھا اوراطمینان سے جواب دیا میں بھی اسی بات پہ یقین رکھتی تھی۔ مگر جب میں نے یوسف ساحسین پیغمبر مصر کے بازار میں بکتے دیکھا تو مجھے یقین ہوگیا کہ اس دنیا میں کچھ بھی خریدا یا بیچا جاسکتاہے۔ہاں یہ تو عزیزمصر جتنی دولت ہو یا برادرانِ یوسف ساآہنی کلیجہ۔
ضرب اورتفریق:
اپنے ہدف پہ پہنچ کے اس نے بارود سے بھری جیکٹ اتارنی چاہی مگرناکام رہا۔
اوربے بسی کی تصویر بنے سوچتارہاکہ میرے مذہب کے ملا اورمعاشرے کے استادوں نے مجھے تفریق اورتقسیم کا قاعدہ ہی کیوں پڑھایا۔
وہ مجھے محبتوں کوجمع اور ضرب کرنے کافن بھی سکھا سکتے تھے۔نقصان مذہب کا ہوا، میرا یا معاشرے کا۔؟
چھوٹے شہر یا سوچ:
تم چھوٹے شہرکے لوگ بہت تنگ نظر اور تنگ دل ہو۔
تمہارا یا میرا یہ جوڑ۔ ہمارا ساتھ بہت مشکل ہے۔یہ کہتے ہوئے اس نے تین سال پرانے تعلق کو ختم کردیا۔
لیکن جب میں نے نظراٹھاکے دیکھا تو آسمان کی وسعتوں کواپنے سامنے پایا۔
اور نظر جھکاکے دل کو دیکھا تو کائنات کی وسعتوں میں نہ سماسکنے والے اپنے خداکوموجود پایا۔
میں نے مسکراتے ہوئے جواب دیاکہ شہر بڑے، یہ چھوٹے نہیں۔لوگوں کی سوچ بڑی یا چھوٹی ہوتی ہے۔
سچ اورجھوٹ:
کلاس کوپڑھاتے ہوئے جب میں سچ کی اہمیت پہ زوردے رہاتھا۔تو ایک نوجوان طالب علم کھڑا ہوا۔اورمجھ سے سوال کرنے لگا۔
سرجب آپ، میں اوریہ سماج سچ کہہ نہیں سکتے۔ سچ سننا نہیں چاہتے۔اورسچ برداشت کرنے کی ہمت نہیں رکھتے۔توہم اس قدر کڑوی کسیلی چیز کو سچ کانام کیوں دے رہےہیں؟
کیوں نہ سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کوسچ مان کہ اپنی زندگی کورنگین اورخوشنما بنادیں۔اور لفظوں کی عزت بھی برقرار رہ جائے۔
انکل اورتحفہ:
بیٹی باہر آؤ دیکھو کون آیاہے؟
تمہارے پسندیدہ انکل جن کے ساتھ تم گھنٹوں کھیلتی تھی۔اماں نے خوشی سے چہچہاتے ہوئے مجھے بلایا۔
اس بار انکل میرے لئے سوٹ کا تحفہ لائے تھے۔
جوبچپن میں مجھے تنہا کمرے میں چاکلیٹ کے تحفے دیاکرتے تھے۔
شایداتنے سال بعدمیں بھی بڑی ہوچکی تھی۔ انکل کے تحفے اوران کی ضروریات بھی۔
رمضان اور روزے:
مسلسل رمضان میں ایک ہی ہوٹل پہ سحری اورافطاری کے بعدآج خان بابا نے میرے کندھے پہ ہاتھ رکھا اوراپنے پاس بیٹھے دوستوں کو بتانے لگے۔
یہ نوجوان پہلے رمضان سے اب تک تمام روزے رکھ رہاہے۔ورنہ آج کے دور کے نوجوانوں میں اتنی مستقل مزاجی کہاں ہے؟اور میں دل میں سوچنے لگا کیابتاؤں کہ میں ہوسٹل میں رہتاہوں نہ بھی چاہوں تودن بھر بھوکا پیاسا رہنا پڑتاہے۔

Views All Time
Views All Time
275
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   نگاہ ہو گئی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: