Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

آہو، آہو مَیں ایک بوڑھا ہوں – مستنصر حسین تارڑ

آہو، آہو مَیں ایک بوڑھا ہوں – مستنصر حسین تارڑ
Print Friendly, PDF & Email

mustansar-hussainکہتے ہیں کہ بڑھاپے کے سو دُکھ ہوتے ہیں اور ہزار آزار۔۔۔ لیکن جیسے اِس طویل حیات میں خوش بختی اور خوش بھاگی۔ اور یہ وہ بھاگی نہیں جو گھر سے بھاگ جاتی ہے بلکہ یہ بھاگ بھری والے بھاگ والی بھاگی ہے جس نے اللہ کے کرم سے اور کملی والے کی جوتیوں کے صدقے ہمیشہ میرا ساتھ دیا۔ اگرچہ تنگی ترشی اور ناداری کے بھی کچھ زمانے آئے پر وہ شتابی سے گزر گئے، میں اُن کی یاد میں دل کو جلاتا نہیں اگر جلاتا ہوں تو شکرانے کے گھی کے چراغ جلاتا ہوں چنانچہ فی الحال بڑھاپے کے صرف دوچار دُکھ ہیں جن کو سہا جا سکتا ہے اور آزار بھی چند ایک ہیں جن کی شکایت ناشکری ہوگی۔ بس یہ ہے کہ سکت ذرا کم ہوگئی ہے، محفلوں میں شرکت کرنے سے گریز کرتا ہوں، ہجوم سے ہراساں رہتا ہوں، اگر کوئی خاتون مہربان ہونے کے آثار ظاہر کرے تو دل خوش نہیں ہوتا، کچھ عرصہ پیشر جتنے بھی آپریشن ہوئے، میں خطرے کے اندر بہت ہوا، طبیب بھی مایوس ہونے لگے لیکن میں ایک مرتبہ پھر خوش بخت رہا اور خطرے سے باہر آگیا۔۔۔مرگ سے ملاقاتوں کے صرف کچھ آثار بدن پر باقی ہیں، جہاں کچھ ٹانکے لگے تھے، جیسے ٹوٹی ہوئی جوتی کو موچی تروپے لگاتا ہے ا یسے، ماہر سرجن حضرات نے میرے پیٹ پر سلائی کڑھائی کے کمال دکھائے تھے جن کے کچھ آثار باقی ہیں۔ اِس کے سوا میں مکمل صحت میں ہوں، موج کرتا ہوں، صبح کو سیر کرتا ہوں، رات کو اپنی سٹڈی ٹیبل پر براجمان ہو کر سندھ، پنجاب لاہور کے سفروں کے قصے کہانیاں لکھتا ہوں۔۔۔بے شک میں یکم مارچ کو اگر اللہ کو منظور ہوا تو 78 برس کا ہو ہی جاؤں گا۔ اخباروں میں مشاہیر اور ادیبوں کی موت کے بارے میں پڑھ کر رنجیدہ تو ہوتا ہوں پر۔۔۔ خاص طورپر دیکھتا ہوں کہ مرحوم کی عمر کیا تھی، اکثر وہ مجھ سے کم عمر ہوتے ہیں تو رب کا شکر گزار ہوتا ہوں کہ تو مجھے یہاں تک لے آیا اور اگر اُن کی عمر مجھ سے زیادہ ہو تو کچھ ڈھارس بندھتی ہے کہ شاید ابھی برس دو برس کے قیام کا ویزا مجھے مل جائے۔
میں دراصل بوڑھا ہوا نہیں، مجھے بوڑھا بنانے کی سازشیں ہو رہی ہیں۔۔۔ لوگ مجھے ایک قریب المرگ بابا جی ثابت کرنے کے لئے دن رات کوششیں کر رہے ہیں، مثلاً پارک میں سیر کرتے ہوئے ایک صاحب مجھے دیکھ کر رُک جاتے ہیں اور کچھ دیر مجھے نہایت تشویش ناک نظروں سے دیکھتے چلے جاتے ہیں، مجھے اُن سے کافور اور اگربتیوں کی مُشک آنے لگتی ہے اوربالآخر وہ کہتے ہیں، تارڑ صاحب، آپ کی صحت کیسی ہے؟
میں کہتا ہوں، بس اللہ کے فضل سے بہت اچھی ہے۔۔۔صحت اچھی نہ ہوتی تو کیا میں صبح سویرے پارک میں یوں قلانچیں بھر رہا ہوتا، وہ ایک مایوس مسکراہٹ
کے ساتھ کہتے ہیں،خیر پارک میں سیر کرنا تو اچھی صحت کی ضمانت نہیں ہے، ابھی کچھ روز پہلے آپ سے بھی کم عمر ایک بابا جی سیر کرتے دھڑام سے گر گئے اور مر گئے۔۔۔1122 والے ایمبولینس لے کر آئے اور اُنہیں لاد کر چلے گئے۔ اچھا میں نے تو سنا تھا کہ کچھ عرصہ پہلے آپ مرتے مرتے بچے تھے۔۔۔تو میں اقرار کرتا ہوں کہ جی ہاں کچھ مسائل ہو گئے تھے لیکن جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں میں بچ گیا تھا۔ اچھا یہ صاحب یقیناًمجھ سے الفت رکھنے والے ہیں اور میری تحریروں کے شیدائی ہیں اور ہر سویر خصوصی طور پر مجھے نہایت عقیدت سے سلام کرتے ہیں لیکن مجھے شک ہوا کہ وہ میرے بچ جانے پر کچھ زیادہ پُرمسرت نہیں ہیں۔۔۔بہرطور وہ میری ڈھارس بندھاتے ہیں کہ تارڑ صاحب آپ کا دم غنیمت ہے۔۔۔ اپنا خیال رکھئے، آپ ہمارا اس قوم کا سرمایہ ہیں اور مایوسی کے عالم میں چلے جاتے ہیں، اور مجھے یاد آتا ہے کہ یہ شاید پون صدی پہلے کا قصہ ہے جب میں اپنے کوہ نورد ساتھیوں کے ہمراہ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو کے دامن میں پہنچ گیا تھا اور میں نے پاک فوج سے درخواست کی تھی کہ ان علاقوں میں، سیاچن کی جانب سے آتا جاتا کوئی ہیلی کاپٹر ہو تو وہ مجھے بھی اٹھا لے جائے کہ سات روز کے واپسی کے جان لیوا سفر سے میری جان چھوٹ جائے، تب ایک بریگیڈیئر صاحب کا پیغام آیا اور تب میں کنکورڈیا کے عظیم برف زاروں میں ٹھٹھر رہا تھا کہ تارڑ صاحب فکر نہ کریں، سیاچن کے محاذ کے ہر مورچے میں ہمارے افسر آپ کی کتابوں کے رسیا ہیں، آپ تو ہماری قوم کا سرمایہ ہیں۔۔۔ تب میں نے اُس برف زار میں جب کہ میری ناک کی نمی بھی برف میں بدلتی تھی کہا تھا۔۔۔سر اگر آپ کا ہیلی کاپٹر نہ آیا تو قوم کا یہ سرمایہ ہمیشہ کیلئے منجمد ہو جائے گا۔
ایک ریستوران میں جب کہ میں اپنی بیگم کے ہمراہ سیاہ مرچوں میں بھنی ہوئی سٹیک سے شادکام ہو رہا ہوں تو برابر کی میز سے تقریباً میری عمر کے ایک صاحب آتے ہیں، سلام دعا کے بعد معذرت کرتے ہیں کہ میں نے آپ کو ڈسٹرب کیا لیکن ہم آپ کے چاہنے والے ہیں تو تارڑ صاحب آپ کی صحت کیسی ہے، میں قدرے شرمند ہ ہو کر کہتا ہوں کہ جی اللہ کا فضل ہے، تو وہ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ آپ کو بلڈپریشر تو نہیں، میں بتاتا ہوں کہ روزانہ ایک دو گولیاں پھانکتا ہوں تو کنٹرول میں ہے۔ اچھا تو شوگر کا کیا حال ہے، میں عرض کرتا ہوں کہ وہ تو نہیں۔۔۔بعدازاں وہ میرے دِل کی دھڑکن کے بارے میں فکر مندی کا اظہار کرتے ہیں، آپکی انگلیاں تو سرزنش شدہ نہیں کہ یہ الزائمر کے آثار ہوتے ہیں، پاؤں تو نہیں سُوج جاتے۔۔۔رات کو اُٹھ اُٹھ کر پیشاب کرنے تو نہیں جاتے، یہ اسٹریٹ کا مسئلہ ہو سکتا ہے، اور میں شرمندگی سے انکار کرتا چلا جاتا ہوں تو وہ کہتے ہیں ’’میڈیکل چیک اپ باقاعدہ کروا لیا کریں، اس عمر میں کچھ بھی ہوسکتا ہے، غفلت نہ کیجئے گا، آپ تو اس قوم کا سرمایہ ہیں، لیکن سب سے زیادہ سِتم مداح خواتین کی صورت نازل ہوتا ہے، دو برس پہلے فیصل آباد لٹریری فیسٹیول کے دوران جب انتظار حسین، عبداللہ حسین اور میں لاؤنج میں بیٹھے چائے پی رہے تھے تو درجن بہت بہت زیبا صورتوں کی کم عمر اور ادھیڑ عمر خواتین لاؤنج میں داخل ہوئیں اور میرے ناولوں اور سفرناموں سے لیس داخل ہوئیں تو عبداللہ حسین نے کہا ’’لو جی، تارڑ کی گوپیاں آگئی ہیں، تو یہ گوپیاں جو گئے زمانوں میں دور دور رہتی تھیں، ان دنوں سرشام ہی مجھ سے لپٹ لپٹ جاتی ہیں کہ ایک 77 برس کے ہونے والے بوڑھے سے لپٹ جانے میں کچھ خدشہ نہیں۔ خاکستر میں کوئی چنگاری بھی ہو سکتی ہے، اس کا انہیں کچھ خدشہ نہیں، چنانچہ میں بوڑھا محسوس نہیں کرتا اور سب لوگ مجھے بوڑھا ثابت کرنے کے لئے تلے ہوئے ہیں، شاید یہ بھی یہود وہنود کی ایک سازش ہے، بقول بلھے شاہ۔۔۔
تینوں کافر کافر آکھدے، توں آہو آہو آکھ
چنانچہ میں اقرار کرتا ہوں کہ آہو آہو، میں ایک بوڑھا ہوں۔

Views All Time
Views All Time
577
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   چیتا جیتھا بھائے شنّو ۔۔۔ خوف ہی خوف ہے راباندرے ٹیگور جی
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: