Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

کوّا سرزمین شاد باد – مستنصر حسین تارڑ

کوّا سرزمین شاد باد – مستنصر حسین تارڑ
Print Friendly, PDF & Email

mustansar-hussain اس ملک میں بھی اور ماڈل ٹاؤن پارک میں بھی کوّوں کا راج ہے۔۔۔کوّے رنگین پروں والے پکھیروں کے بیری ہوتے ہیں، اُن کے جانی دشمن ہوتے ہیں۔ ماڈل ٹاؤن پارک کی تاحد نظر ہریاول ہرسویر میری آنکھوں میں اتر کر اُنہیں دن بھر تروتازہ رکھتی ہے، اور جب مست گھٹائیں آتی ہیں تو اس پارک میں مور پَر پھیلائے رقص کرتے کُوکتے ہیں۔ اس کے باوجود مجھے لارنس گارڈن یاد آتا ہے، جناح باغ کی یاد ستاتی ہے۔۔۔ اُس کے سینکڑوں برس قدیم گھنے شجر جو ذرا سی بارش ہونے پر مہکتے ہیں، اُن میں پوشیدہ نامعلوم پرندے غل کرنے لگتے ہیں، جناح باغ اس لئے بھی میرے دل کے قریب ہے کہ میں نے مختلف موسموں میں اس کے درختوں پر چہکتے عجب اجنبی پرندے دیکھے ہیں، اُن میں سے کچھ برفانی موسموں سے فرار ہونے والے مہاجر پرندے ہوتے ہیں جو اپنی پرواز کی تھکن اتارنے کے لئے شب دو شب جناح باغ کی گھناوٹ میں اتر کر آرام کرتے ہیں۔ ان کے سوا بہت سے رنگ رنگ پرندے یہاں کے درختوں میں بسیرا کرتے ہیں، چڑیا گھر میں شیر دھاڑتا ہے تو وہ ڈرتے نہیں کہ وہ اُس کی دھاڑ کے عادی ہو چکے ہوتے ہیں، ان میں وہ ایک گمنام اور پتوں کی گھنی گھپاؤں میں روپوش پرندہ ہے جس سے میں باتیں کیا کرتا تھا، اور وہ مجھ سے اپنے دل کے راز کہتاتھا۔۔۔ اس لئے ماڈل ٹاؤن پارک کی نسبت مجھے جناح باغ پسند ہے۔۔۔ کہ ماڈل ٹاؤن پارک میں کوّے راج کرتے ہیں۔۔۔آپ ترس جائیں گے کہ کائیں کائیں کی دل خراش کے سوا کوئی اور چہلکار تو کانوں میں اترے۔۔۔ یہ نہیں کہ دیگر خوش رنگ اور پیاری شکلوں والے پرندے اس پارک پر نہیں اترتے۔۔۔وہ اترتے ہیں پر کوّوں کے غول کے غول اُن پر پل پڑتے ہیں، اُنہیں چونچیں مار مار کر ادھ موا کردیتے ہیں، اُن کا پیچھا کرتے ہیں تاآنکہ یا تو وہ زخموں کی تاب نہ لا کر گر جاتے ہیں یا پھر جان بچا کر فرار ہو جاتے ہیں، میں نے متعدد بار ایسے منظر دیکھے ہیں کہ کوّے کسی اجنسی پرندے کو گھیرے ہوئے اُسے ٹھونگیں مارتے خون آلود کر رہے ہیں اور میں شَو شَو کرکے اُنہیں بھگانے کی کوشش کرتا ہوں پر وہ کہاں باز آتے ہیں، مجھ پر جھپٹنے سے بھی باز نہیں آتے۔۔۔چنانچہ ماڈل ٹاؤن پارک میں کوّوں کی حکومت ہے، چونکہ وہ دھاندلی دھونس سے اکثریت میں آچکے ہیں اس لئے یہ خالص جمہوریت کی ایک درخشاں مثال ہے۔۔۔ کوّوں کو بھی گِنا کرتے ہیں تو لا نہیں کرتے، اُن کے پاس ایک بھاری مینڈیٹ ہے۔۔۔ اُنہیں ماڈل ٹاؤن پارک میں راج کرنے کا قانونی اور جمہوری حق حاصل ہے۔ کوّوں کی اکثریت آج نہیں ہمیشہ سے رہی ہے اور جب کوئی خوش رنگ اور سوہنا پرندہ اس ملک کے گلشن میں اترا، کوّے اُس کی جان کے بیری ہو گئے۔ صرف اس لئے کہ اُس ایک مرغ زریں کی موجودگی میں موازنہ ہو جاتا تھا، عوام کو احساس ہو جاتا تھا کہ ہمارے نصیب میں ان کوّوں کے سوا یہ خوش رنگ، مہکتا، گیت گانے والا پنچھی بھی تو ہوسکتا ہے، تو پھر کوے کیسے اسے برداشت کرتے، اسے یا توچونچیں مار مار کر فرار ہونے پر مجبور کردیا جاتا اور یا پھر ہلاک کر دیا جاتا۔۔۔ قائداعظم، ایک عظیم سلطنت کے گورنر جنرل، سربراہ، اُن کی ایمبولینس یونہی تو خراب نہیں ہو گئی تھی کہ وہ شدید بیماری کی حالت میں بے آسرا، بغیر کسی طبی امداد کے تڑپتے رہے۔ کوّوں کو یہ رنگین اور عوام کے دلوں میں بسنے والا پرندہ پسند نہ تھا۔۔۔ آخر ایدھی صاحب کو نوبل انعام کے لئے کوئی بھی حکومت نامزد کیوں نہیں کرتی۔۔۔جے سالک ایسے مسخرے کو نامزد کردیتی ہے۔۔۔ موجودہ حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر رانا ثناء اللہ، عابد شیر علی، دانیال عزیز اورپرویز رشید کو نوبل انعام کے لئے نامزد کردے۔۔۔کہ یہ یقیناًہمارے عہد کی خرد افروزی اور دانشوری کے نابغۂ روزگار چاند ستارے ہیں۔ ہمیں یوں بھی کوّے بہت دل پسند ہیں، ہم ہمیشہ انہیں حکمرانی کے لئے پسند کرتے ہیں، اُنہیں ووٹ دیتے ہیں۔۔۔ماڈل ٹاؤن پارک میں میری بیگم کے خواتین گروپ میں دستور ہے کہ ہر ہفتے کوئی ایک خاتون صبح کے ناشتے کا اہتمام کرتی ہے۔ اُن میں سے ایک متموّل خاتون پارک کی سہیلیوں کے لئے جب کبھی ناشتہ لاتی ہیں تو پورے چوبیس اُبلے ہوئے انڈے خصوصی طور پر کوّوں کے ناشتے کے لئے لے کر آتی ہیں، اور کوّے جانتے ہیں کہ ہمارے لئے انڈے آئے ہیں چنانچہ وہ اپنے ناشتے کے حصول کے لئے باقاعدہ یلغار کردیتے ہیں، اپنے انڈوں کے سوا خواتین کے انڈے بھی اٹھا کر لے جاتے ہیں، یعنی خواتین کے اپنے ذاتی انڈے۔۔۔تو ایک روز میری بیگم نے اُن سے کہا کہ دیکھئے، کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ آپ یہ انڈے کوّوں کی بجائے پارک میں کام کرتے مالیوں، خاکروبوں یا سکیورٹی کے اہلکاروں کو ناشتے کے لئے عطا کردیں تو اُن خاتون نے کہا ، نہیں، کوّوں کو انڈے کھلانے سے ثواب ہوگا۔۔۔ان لوگوں کو کھلانے سے ثواب نہیں ہوتا۔ چنانچہ کوّوں کی کرامت ملاحظہ کیجئے کہ انسانوں کو نہیں کوّوں کو ناشتہ کرانے سے ثواب ہوتا ہے۔ مجھے یاد ہے پچھلے موسم سرما میں جب ہم سب پارک کے دوست پرانے لاہور کے گلی کوچوں میں آوارگی کرتے تھے تو مسجد وزیر خان کے قریب ایک کوّا فروش کاندھے پر درجنوں کوّے ایک کابک میں قید اٹھائے پھرتا تھا۔ محترم بٹ صاحب نے اسے روکا، دو کوّے، فی کوّا سو روپے کے حساب سے خریدا اور اُن دونوں کو میرے سر پر وار کے آزاد کردیا۔۔۔ یہ بٹ صاحب کی میرے لئے اُلفت کا ایک اظہار تھا۔ مجھے کچھ قلق سا تو ہوا کہ اگر اُلفت کا اظہار کرنا ہی تھا تو کوئی کام کا پرندہ یعنی بلبل وغیرہ میرے سر پر نچھاور کرکے آزاد کرتے لیکن۔۔۔کوّوں کو آزاد کرنے سے ثواب ہوتاہے۔ ہم نے جان بوجھ کر کوّے کی حکمرانی تسلیم کرلی ہے۔ اگر ہم کسی اور پرندے کو برداشت نہیں کرسکتے تو کیا ایسا تو نہیں ہے کہ ہم سب اپنا رنگ روپ بھول کر۔۔۔اپنے سُریلے گیت فراموش کرکے، خود بھی کوّے ہو چکے ہیں، کوّوں پر کوّے حکمرانی کر رہے ہیں تو آئیے ہم سب مل کر کوّوں کا قومی ترانہ گاتے ہیں۔۔۔ کوّا سرزمین شادباد، کائیں کائیں کائیں!!

Views All Time
Views All Time
554
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   کھراب سسٹم کی کھراب نیکیاں-مستنصر حسین تارڑ
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: