مونا لیزا کو میرا شناختی کارڈ دے دیجئے – مستنصر حسین تارڑ

Print Friendly, PDF & Email

mustansar-hussainدنیا میں جتنی بھی آرٹ گیلریز ہیں، عجائب گھر ہیں اگرچہ نوادرات اور عجائب اور تصاویر سے بھرے پڑے ہیں، ہر نوادر انمول، ہر عجائب گنگ کر دینے والا اور ہر تصویر ایک شاہکار لیکن۔۔۔ان سب عجائب گھروں اور آرٹ گیلریز کی وجۂ شہرت اکثر ایک پینٹنگ، ایک مجسمہ یا کوئی ایک نوادر ہوتا ہے، مثلاً اپنے لاہور میوزیم کو دنیا بھر میں ’’فاسٹنگ بدھا‘‘ کے مجسمے کے حوالے سے پہچانا جاتا ہے۔۔۔ یہ ایک ایسا عجوبہ مجسمہ ہے کہ جب جاپان میں اس کی خصوصی نمائش کی گئی، حکومت پاکستان نے مہاتما بدھ کو عارضی طور پر ایکسپورٹ کردیا تو جاپان کے اُس میوزیم کے باہر جہاں ’’فاسٹنگ بدھا‘‘ براجمان کیے گئے تھے، جاپانی بدھ حضرات کی قطاریں لگ گئیں۔۔۔ وہ اس مجسمے کے چرنوں میں چراغ روشن کرتے، اگربتیاں سلگاتے اور پہروں دوزانو ہو کر بیٹھے گیان دھیان میں گم رہتے۔۔۔ یہ پتھر کے خداؤں کے بھی عجب سلسلے ہیں، کہیں وہ لاہور کے میوزیم کے ایک شو کیس میں بے چارگی سے بیٹھے رہتے ہیں اور سکولوں کے بچے اُن پر پھبتیاں کستے ہیں، متشرع حضرات انہیں بامیان کے مجسموں کی مانند پاش پاش کرنا چاہتے ہیں اور کہیں وہ جاپان میں باقاعدہ پرستش کے لائق ایک خدا ہو جاتے ہیں، مجھے یہاں لوک گلوکار طفیل نیازی یاد آجاتا ہے جو ہمیشہ ’’فوک میوزک‘‘ کو ’’پھوک میوزک‘‘ کہا کرتا تھا۔ اُس کا کہنا تھا کہ ہم سرحد کے پار جاتے ہیں تو بھگوان کہلاتے ہیں، واپس پاکستان آتے ہیں تو پھر سے میراثی ہو جاتے ہیں۔ ویسے میری سٹڈی کے ایک شیلف میں بھی ایک ’’فاسٹنگ بُدھا‘‘ کا مجسمہ براجمان ہے۔ ظاہر ہے میں اُس کا پجاری نہیں ہوں لیکن دوسروں کے خداؤں کا بھی تو احترام کرنا چاہیے چنانچہ میں نے اُس کی عزت افزائی کی خاطر اُس کے گلے میں اپنا زنگ آلود ہو چکا پرائیڈ آف پرفارمنس کا تمغہ ڈال دیا ہے۔۔۔ انشاء اللہ ستارۂ امتیاز کا میڈل بھی مہاتما بدھ کے گلے کا ہار کروں گا۔۔۔ رائک میوزیم ایمسٹر ڈیم کی سب سے قیمتی اور منافع بخش متاع ریمبرانت کی ’’پوری دیوار پر آویزاں تصویر‘‘ دے نائٹ واچ ہے ۔۔۔برلن سٹیٹ میوزیم میں بھی ریمبرانت کی پورٹریٹ’’ آہنی خود پہنے ہوئے شخص‘‘، دیکھنے کے لئے ہجوم آتے ہیں۔۔۔ ایمسٹرڈیم میں ہی ’’فان خوخ میوزیم‘‘ کی سب سے بڑی کشش ’’سورج مکھی کے پھول‘‘ ہیں۔ فلارنس کی اکیڈمی کی شہرت مائیکل انجلو کا دیوزاد مجسمہ ’’داؤد‘‘ ہے۔۔۔ کہا جاتا ہے کہ اگر آپ نے ’’داؤد‘‘ نہیں دیکھا تو فلارنس نہیں دیکھا اوراگر فلارنس نہیں دیکھا تو دنیا نہیں دیکھی۔ میڈرڈ کے پراڈو میں اگرچہ دنیا بھر کے تصویری شاہکار آویزاں ہیں لیکن یہ گویا کی جنگی تصویروں کے علاوہ ’’برہنہ ماجا‘‘ ہے جسے مرد حضرات نہایت شوق سے دیکھنے کے لئے آتے ہیں، روم کا ایک عالی شان چرچ گمنام رہتا اگر اُس میں مائیکل انجلو کا تراشا ہوا مجسمہ ’’موسےٰ نہ ہوتا، یاد رہے کہ جب ایک مدت کی سنگ تراشی کے بعد نصف شب کی قربت میں یہ مجسمہ مکمل ہوا تو حضرت مائیکل انجلو نے اپنی جنوں خیزی میں مجسمے سے مخاطب ہو کر کہا ’’بول تو ہی تو مکمل موسےٰ ہے‘‘ مجسمے کہاں بولتے ہیں چاہے وہ موسےٰ کے ہوں تو مائیکل انجلو نے طیش میں آکر اپنا تیشہ اُس کے گھٹنے پر مار کر کہا ’’بولتا کیوں نہیں‘‘ جس کے نتیجے میں ایک مکمل مجسمہ داغدار ہوگیا۔۔۔اُس کے گھٹنے سے پتھر کی ایک چھال اتر گئی۔۔۔ تب میں نے اُس گھٹنے کو چھو کر سوچا تھا کہ ہم سب لوگ جو حرفوں کے فریب سے کہانیوں، ناولوں اور سفرناموں کے مجسمے تراشتے ہیں، ہماری بھی یہی خواہش ہوتی ہے کہ یہ سب بولنے لگیں، کردار باتیں کریں اور باتوں سے خوشبو آئے اور جب وہ نہیں بولتے تو اُنہیں جلا دینا چاہتے ہیں۔

روم میں ہی سینٹ پیٹرز کے ہال میں اس مائیکل انجلو کا شاہکار اور ایک ناقابل یقین مجسمہ ’’پائتا‘‘ نمائش پر ہے۔ سنگ مرمر کی سفید بی بی مریم، اُن کی آغوش میں ابھی ابھی صلیب سے اتارے گئے اُن کے بیٹے عیسےٰ۔۔۔ مُردہ حالت میں۔ اس حیرت زدہ کر دینے والے شاہکار کی تفصیل پھر کبھی بیان کروں گا۔ نیویارک کے ’’موما‘‘ یعنی میوزیم آف ماڈرن آرٹ کی چھت سے ایک سرخ ہیلی کاپٹر لٹکا ہوا ہے جو کسی ویت نامی آرٹسٹ کا جدید شاہکار ہے۔۔۔ ان دنوں میرا بیٹا سُمیر ہنوئی کے پاکستانی سفارت خانے میں ٹریڈ کونسلر کے عہدے پر فائز ہے۔ اُس نے پچھلے ہفتے مجھے خبر کی کہ ابا آج میں ویت نام کے سب سے مشہور تخلیق کار کے ہاں رات کے کھانے پر مدعو ہوا تھا، آپ نے ’’موما‘‘ میں اُس کا ہیلی کاپٹر تو دیکھا ہوگا۔۔۔لیکن ’’موما‘‘ کی اصل شہرت ایک جدید نہیں قدیم روایت کی حامل فان خوخ کی تصویر ’’سٹاری نائٹ‘‘ یا ’’تاروں بھری رات‘‘ ہے، یہ ایک جادوئی تصویر ہے، ۔۔۔ جو کوئی بھی اسے تادیر تکتا ہے وہ خود اس تاروں بھری رات کے اندر داخل ہو جاتا ہے اور پھر کبھی واپس نہیں آسکتا، میرے گلبرگ والے گھر کی سٹڈی کی دیواروں پر میرے پسندیدہ مصوروں کی تصویروں کے بڑے بڑے پرنٹ فریم شدہ سجے تھے۔۔۔ان میں امریکی اینڈریو وہائتھ کے علاوہ پال گوگین، ڈالی، مانے کے علاوہ فان خوخ کی ’’سٹاری نائٹ‘‘ کا پرنٹ بھی آویزاں تھا۔۔۔میں ڈیفنس والے نئے گھر میں منتقل ہوا اور ابھی سامان شفٹ کر رہا تھا کہ کسی شب چور حضرات اُس گھر میں داخل ہوئے، اور کچھ دستیاب نہ ہوا تو سٹڈی کی دیواروں پر آویزاں تصاویر اتار کر لے گئے۔ مجھے بہت قلق ہوا لیکن میں نے چوروں کے ذوق جمال کی بھی داد دی جو گوگین اور فان خوخ کے فن کے مداح تھے۔ چلئے اس تصویری قصے کو مختصر کرتے ہیں، پیرس کے میوزیم ’’لوور‘‘ میں ہزاروں شاہکار تصاویر اور مجسمے درجنوں ہالوں میں نمائش پر sharbat-gullaہیں لیکن لوگ وہاں صرف ’’مونا لیزا‘‘ کو دیکھنے کے لئے آتے ہیں۔۔۔ میں بھی ’’پیار کا پہلا شہر‘‘ کے زمانوں میں تادیر اس تصویر کو تکتا رہا لیکن مجھ پر تو مونا لیزا کی مسکراہٹ کا کچھ اثر نہ ہوا بلکہ جس طور اُس نے اپنے دونوں ہاتھ بدن پر باندھ رکھے ہیں گمان ہوتا تھا کہ وہ خاصی حاملہ ہے۔۔۔ کہا جاتا ہے کہ خوش بختی ہر شخص کے دروازے پر کبھی نہ کبھی دستک دیتی ہے۔۔۔ اکثر وہ اسے ایک واہمہ سمجھتا ہے، دروازہ نہیں کھولتا۔۔۔اسی طور ہر ملک کے حصے میں کم از کم ایک مونا لیزا آتی ہے و ہ اُس کی قدر کرے نہ کرے یہ الگ بات ہے۔ ہمارے حصے میں بھی افغان جنگ کے دوران 15 برس کی ایک افغان مونا لیزا، شربت بی بی کی شکل میں آئی۔ ایک فوٹو گرافر نے اُس کی تصویر اتاری اور دنیا بھر میں شربت بی بی کی یہ تصویر افغان جنگ سے بے گھر ہو جانے والوں کی زبوں حالی کی نمائندہ ہو گئی۔۔۔’’نیشنل جیو گرافک ‘‘کے سرورق پر طاہرہ سید کے بعد یہ شربت بی بی تھی جو سجائی گئی۔۔۔ میں نے نیویارک کے ایک ریستوران کی پوری دیوار پر شربت بی بی کی یہ تصویر نقش دیکھی تھی۔ اُسی فوٹو گرافر نے برسوں بعد اسی افغان مونا لیزا کو ڈھونڈ نکالا پر اب وہ متعدد بچے پیدا کرنے کے بعد ایک بوڑھی عورت ہو چکی تھی۔ اُس کا خاوند مر چکا تھا۔۔۔ وہ فوٹو گرافر اس تصویر کی عنایت سے بین الاقوامی سطح پر نامور ہو گیا، نہایت ثروت مند ہو گیا لیکن شکرانے کے طور پر اُس نے شربت بی بی کو ایک ڈالر بھی پیش نہ کیا، وہ غربت کی چکی میں پستی رہی اور اب وہ ایک مجرم ہے، جیل میں ہے، صرف اس لئے کہ اُس نے پاکستان میں قیام کر جانے کی خواہش میں کچھ غلط بیانی کرکے یہاں کا قومی شناختی کارڈ حاصل کر لیا۔۔۔اس ملک میں لاکھوں افغان غیرقانونی طور پر کراچی، لاہور، پشاور وغیرہ میں دھڑلے سے رہ رہے ہیں۔۔۔لاہور کے اندرون میں ہزاروں افغان بغیر کسی شناخت کے دندناتے پھرتے ہیں، جائیدادیں خریدتے ہیں اور مقامی لوگوں کو دھمکاتے رہتے ہیں تو آپ اُن کو کچھ نہیں کہتے۔۔۔کیا مونا لیزا اس لئے مجرم ہے کہ وہ بے آسرا اور غریب ہے، نہ وہ ہیروئن کا بیوپار کرتی ہے اور نہ ہی کلاشنکوف چلاتی ہے۔۔۔ اس تحریر کے شائع ہونے تک مجھے امید ہے کہ افغان سفارت کاروں کی کوششوں سے وہ رہا ہو جائے گی لیکن اگر ایسا نہیں ہوتا تو مجھ سے میرا شناختی کارڈ لے لیجئے اور اُس پر افغان مونا لیزا کا نام لکھ دیجئے تاکہ وہ پاکستانی مونا لیزا ہو جائے۔

Views All Time
Views All Time
673
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   ایک کالم، کالم نگاروں کی خدمت میں - ظہوردھریجہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: