Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

بیماروں کا حال اچھا نہ تھا – مستنصر حسین تارڑ

بیماروں کا حال اچھا نہ تھا – مستنصر حسین تارڑ
Print Friendly, PDF & Email

mustansar-hussainمجھے آج سے صرف آٹھ دس برس پیشتر سمجھ نہ آتی تھی کہ یہ بابا لوگ ہمہ وقت بیماریوں آپریشنوں اور قبرستانوں کی لوکیشن کے بارے میں کیوں باتیں کرتے رہتے ہیں۔ کبھی وہ کسی بیمار دوست کی خبر گیری کرکے آرہے ہوتے تھے اور کسی کی تدفین میں شرکت کرنے کے لئے جا رہے ہوتے تھے۔ایک کُبڑی مائی جی سے کسی نے پوچھا تھا کہ اماں یہ کمان کہاں سے حاصل کی تو اس نے کہا تھا، بیٹا جب میری عمر کو پہنچو گے تو یہ کمان خودبخود مل جائے گی۔ مجھے بھی یہ کمان مل گئی ہے اور میں بھی اُن بابا لوگ کی مانند ہو چکا ہوں، میرے بھی وہی ’’مشاغل‘‘ ہو چکے ہیں، میرے بھی کچھ دوست رخصت ہو گئے ہیں اور کچھ بیمار پڑے ہیں اور میں اُن کی صحت کی فکر مندی میں گھلتا رہتا ہوں۔ ابھی پچھلے دنوں میں ڈاکٹر تبسم کاشمیری کے ہمراہ افسانہ نویس ذکاء الرحمن سے یونہی ملاقات کرنے گیا ۔ وہ اتوار کا دن تھا اور اگلے اتوار میں اُس کے جنازے میں شریک تھا۔۔۔ شعیب ہاشمی ایسا خوش شکل اور خوش بیان شخص ایک عرصے سے فالج زدہ حالت میں بستر سے لگا صرف غوں غاں کرسکتا ہے۔ ارشد ایک عزیز از جان دوست جو کبھی پاکستان کی ایگلٹ کرکٹ ٹیم میں شامل انگلینڈ کے دورے پر گیا تھا ایک مدت سے پارکنسن کا شکار بستر پر پڑا ہے، نہ بول سکتا ہے نہ پہچانتا ہے، سمیع آہو ایک عظیم منفرد نثر نگار، اگرچہ موت کی قربت میں بہت دن رہا لیکن لوٹ آیا، وہ بھی زبان کھو بیٹھا ہے اور ڈاکٹر انور سجاد، اُس جیسا تخلیق کار تو کوئی اور کبھی نہ ہوگا، کہیں لاچار پڑا ہے۔
میں نے سوچا کہ ابھی مجھ میں تو کچھ سکت باقی ہے تو ان بیماروں کا حال ہی پوچھ لیا جائے۔ بقول امیر مینائی و مثالِ قطرۂ شبنم بہ نوکِ گیاہ۔ رہے رہے نہ رہے نہ رہے‘۔۔۔ایک مرتبہ پھر تبسم کاشمیری میرے کام آیا۔ کار میرے پاس بھی تھی اور اُس کے پاس بھی تھی لیکن اُس کے پاس ڈرائیور بھی تھا چنانچہ ہم اپنے اُس ہمدم دیریں کے پاس جا پہنچے جس نے اردو نثر میں اپنے ہی نئے اور انوکھے رنگ بھنگ کئے جو نہایت نشہ آور تھے۔ اُس نے ایک نئی طرز فغاں ایجاد کی، تاریخ کی انوکھی تفسیر، حرفوں کے نت نئے قافلے اور اردو کہانی اور ناول میں عجب سامری سلسلے زبان اور بیان کئے۔۔۔ اور سمیع کبھی چُپ نہ ہوتا تھا، اپنے سونے کے دانتوں کی نمائش کرتا مسلسل بولتا تھا اور اب بولتا ہی نہ تھا۔ فالج نے اس کی گویائی چھین لی تھی کہ تم بہت بول چکے اب چُپ ہو جاؤ اور وہ چُپ ہو گیا۔ جس کی ادبی منطق اور زبان کے برتاؤ کے سامنے کوئی نہ بول سکتا تھا، اب وہ بول نہیں سکتا تھا۔ میرے ناول ’’راکھ‘‘ میں اُس کی ایرانی حیات کی ایک جھلک ہے۔۔۔ میں نے ایک مدت کے بعد اُس کی بیوی کو دیکھا، وہ اپنے خاوند کی مسلسل لاچاری کے سوگ میں ڈھل چکی تھی۔ ایک زمانے میں یہ دونوں میاں بیوی میرے گلبرگ والے گھر میں کثرت سے آتے جاتے رہتے تھے۔تقریباً جان لیوا فالج زدگی کے دوران اُس کی اولاد نے اُس کا بہت دھیان رکھا۔۔۔ اگر آج وہ زندہ
ہے اور چل پھر سکتا ہے تو یہ اُس کے بچوں کی اپنے باپ کے لئے بے مثال اُلفت ہے جو اُسے موت کے منہ سے نکال لائی اور پھر چلنے پھرنے پر مجبور کر دیا۔۔۔ اُس کی بیٹیوں نے اُس پر اپنی جان چھڑک دی، اپنے آپ کو اُس کے لئے وقف کردیا۔۔۔اس کے گھر کے دروازے کے کواڑ قدیم تصاویر سے نقش کئے گئے تھے اور یہ اُس کی بیٹی بینش کا کمال فن ہے جو نہایت انوکھی مصورہ ہے۔
mustansar-picہم دونوں بولتے رہے اور سمیع مسکراتا رہا، چپ رہا۔۔۔
ہمارا دوسرا بیمار ہمارے آس پاس ڈیفنس میں نہ تھا، پورے پینتالیس کلومیٹر دور رائے ونڈ روڈ کے اختتام پر ’’لیک سٹی‘‘ کے ایک مختصر گھر میں پڑا تھا۔۔۔ ہم اس لیک سٹی میں اُس کا گھر تلاش کرتے تھے جب میں نے ایک ابھی تک خوش شکل اور شاہانہ وقار والی بوڑھی عورت کو فٹ پاتھ پر ایک گمشدہ کیفیت میں چہل قدمی کرتے دیکھا اور میں نے اسے تیس برس بعد بھی پہچان لیا۔ وہ رتّی سجاد تھیں، فرانسیسی سے اردو میں منتقل کرنے والی ادب کی مترجم اور انگریزی میں نہایت کمال کی تحریریں لکھنے والی رتی۔۔۔انور سجاد کی پہلی اہلیہ۔۔۔انہوں نے کینیڈا میں اپنے خاوند کی علالت کے بارے میں سناتو سب کچھ بھول بھال کر ان کی دیکھ بھال کے لئے واپس آگئیں۔انور آرام کر رہے ہیں، طبیعت زیادہ خراب ہو گئی تو ہم انہیں ہسپتال لے گئے۔ سانس کی تکلیف ہے، اٹھ کر ڈرائنگ روم تک نہیں آسکتے۔ میں نے انہیں آپ کی آمد کا بتایا ہے، وہ خوش ہو رہے تھے، ڈاکٹر انور سجاد۔۔۔خود بھی مختصر، کمرہ بہت ہی مختصر۔۔۔رتّی نے اُنہیں جگایا، میں نے اُن کا ہاتھ تھام کر کہا ’’میں مستنصر ہوں‘‘، کون؟۔۔۔ ’’تارڑ ہوں‘‘۔۔۔ ’’کون تارڑ؟‘‘کچھ دیر بعد اُن کے لبوں پر ایک مسکراہٹ آگئی۔۔۔ اچھا اچھا وہی مستنصر جو حسین بھی ہے اور تارڑ بھی ہے۔۔۔ یہ کون ہے؟ ’’یہ ڈاکٹر تبسم کاشمیری ہیں‘‘۔ انور سجاد کی پہچان واپس آگئی۔۔۔ ’’دیکھو مجھے ڈاکٹر نے بولنے سے منع کیا ہے تو تم مجھے بولنے پر مجبور نہ کرنا۔۔۔۔میں باتیں نہیں کرسکتا”
” ڈاکٹر صاحب! آپ کو ڈاکٹر نے باتیں سننے سے تو منع نہیں کیا تو ہم باتیں کرتے ہیں‘‘۔
ڈاکٹر انور سجاد۔۔۔اردو کی جدید کہانی کا بانی اور موجد، ٹیلی ویژن کے اولین اداکاروں اور ڈرامہ نگاروں میں سرفہرست، بہت موثر مصور،مہاراج کتھک کا رقص میں ہونہار شاگرد،ایک سیاست دان، بینظیر کا پسندیدہ، اور جانے کیا کیا!! ایک جانب انتظار حسین کلاسیکی انداز کا کہانی کار اور دوسری جانب انور سجاد، افسانے کو نئے پیراہن میں ملبوس کرتا۔۔۔ ان دونوں کی آپس میں کھٹ پٹ ادبی تاریخ کا ایک حصہ ہے۔
میں نے پرانے قصے چھیڑ دیئے۔۔۔ یاد رہے ڈاکٹر جب آپ کے تحریر کردہ مِنی سیریلز ’’سورج کو ذرا دیکھ‘‘ میں میں نے مدیحہ گوہر اور قوی خان کے بالمقابل ایک نہایت دولت مند وِیلن کا کردار ادا کیا تھا اور پھر آپ نے میرے لکھے ہوئے چند ڈراموں میں اداکاری کی تھی، طاہرہ نقوی ہیروئن ہوا کرتی تھی۔ انور سجاد اپنی گمشدگی سے باہر آتا گیا۔۔۔ ’’چیک کر لو، میری لائبریری میں تمہارا ناول ’’بہاؤ‘‘ اور کہانیوں کا مجموعہ ’’سیاہ آنکھوں میں تصویر‘‘ موجود ہے۔ ’’راکھ‘‘جیسا ناول نہیں لکھا گیا۔۔۔میرا خیال ہے کہ میں نے نہ صرف ’’فاختہ‘‘ بلکہ ’’راکھ‘‘ کی افتتاحی تقریب میں بھی تمہارے بارے میں مضمون پڑھے تھے، صفدر میر نے صدارت کی تھی، صفدر میر کا کیا حال ہے؟
’’وہ تو بہت مدت پہلے ہم سے بچھر گئے تھے۔۔۔ میں آپ کے لئے اپنی کہانیوں کا نیا مجموعہ ’’15کہانیاں‘‘ لایا ہوں، اس پر صرف اپنا ہاتھ رکھ دیجئے۔۔۔میں آپ کے متاثرین میں سے ہوں۔۔۔آپ کے ناول ’’خوشیوں کا باغ‘‘ مجھے راستے سمجھاتا ہے‘‘۔
’’بہاؤ‘‘ بس ’’بہاؤ‘‘ ہے، وہ کھانسنے لگے، ’’کہا تھا کہ مجھے باتیں کرنے پر مجبور نہ کرنا‘‘
’’آپ کی طبیعت ذرا سنبھل جائے ہم پھر آجائیں گے‘‘
’’یہ نہیں سنبھلے گی۔۔۔ تم آجانا‘‘اُنہوں نے میرے بڑھتے ہوئے ہاتھ کو چومتے ہوئے کہا ’’تم آجانا‘‘

Views All Time
Views All Time
1029
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   استحکامِ پاکستان کیسے ہو؟ | میر احمد کامران مگسی
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: