Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

عقیلہ بنی ہاشم زینبؑ بنت علیؑ : أنتِ بحمد الله عالِمةٌ غيرُ مُعلَّمة، فَهِمةٌ غيرُ مُفهَّمة – مستجاب حیدر

عقیلہ بنی ہاشم زینبؑ بنت علیؑ : أنتِ بحمد الله عالِمةٌ غيرُ مُعلَّمة، فَهِمةٌ غيرُ مُفهَّمة – مستجاب حیدر
Print Friendly, PDF & Email

کوفہ میں اسیران کربلاء پا با زنجیر پیش کئے گئے اور سر حسین علیہ السلام ایک طشتری میں پیش کیا گیا تھا اور ایسے میں کوفہ کے گورنر عبید اللہ ابن زیاد نے اہل بیت کی طرف نظر کرکے کہا کہ "دیکھا کیسے اللہ نے تمہیں ذلیل کیا ” تو اس موقعہ پہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے ایک ایسا خطبہ دیا کہ پورے دربار پہ سناٹا چھا گیا، اور اہل کوفہ نے اپنے کانوں ميں انگلیاں دے لیں اور ان کی آہ و بکا تھی کہ رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی اور اہل بیت کے دشمن ، ظلم و ستم کے علمبرداروں کی زبانیں گنگ ہوگئیں تو امام زین العابدین حضرت علی بن حسین سلام اللہ علیہ نے فرمایا
أنتِ بحمد الله عالِمةٌ غيرُ مُعلَّمة، فَهِمةٌ غيرُ مُفهَّمة
اللہ کا شکر آپ کسی کے سکھائے بنا عالمہ ہیں اور کسی کے سمجھائے بغیر مالکہ فہم و فراست ہیں
تنقیح المقال میں شیخ المقانی نے ایک حدیث پیش کرنے سے پہلے کہا
زينب، وما زينب! وما أدراك ما زينب! هي عقيلة بني هاشم، وقد حازت من الصفات الحميدة ما لم يَحُزْها بعد أُمّها أحدحتّى حقّ أن يُقال: هي الصدّيقة الصغرى، هي في الحجاب والعفاف فريدة، لم يَرَ شخصَها أحدٌ من الرجال في زمان أبيها وأخوَيها إلى يوم الطفّ، وهي في الصبر والثبات وقوّة الإيمان والتقوى وحيدة، وهي في الفصاحة والبلاغة كأنّها تُفرِغ عن لسان أمير المؤمنين (عليه السّلام) كما لا يَخفى على مَن أنعم النظر في خُطبتها. ولو قلنا بعصمتها لم يكن لأحد أن يُنكر ـ إن كان عارفاً بأحوالها في الطفّ وما بعده. كيف ولولا ذلك لما حمّلها الحسين (عليه السّلام) مقداراً من ثقل الإمامة أيّام مرض السجّاد (عليه السّلام)، وما أوصى إليها بجملة من وصاياه، ولَما أنابَها السجّادُ (عليه السّلام) نيابةً خاصّة في بيان الأحكام وجملة أخرى من آثار الولاية
زینب ، وہ زینب کیا ہے؟ تم کیا جانو زینب کیا ہے ؟ وہ عقیلہ بنی ہاشم ہے ، ان کو ان صفات حمیدہ سے نوازا گیا جو ان کے بعد کسی ایک ماں کو میسر نہ آئیں۔ اور یہاں تک کہ حق بات ان کے بارے میں کی گئی: وہ صدیقہ صغریٰ ہیں۔وہ محجوب اور عفیفہ واحد ہیں۔ان کے بابا اور بھائیوں کے زمانے میں کسی نے ان کو نہیں دیکھا یہاں تک کہ یوم عاشور اور پھر اس کے بعد مصیبت عظیم آئی اور انہوں نے اس زمانے میں صبر و ثابت قدمی اور منفرد تقویٰ کا مظاہرہ کیا۔ان کی فصاحت و بلاغت ایسی تھی جیسے لسان امیر المومنین علیہ السلام سے جاری ہوتی تھی۔اور جس نے بھی ان کے خطبات پر نظر ڈالنے کی نعمت پائی ہو اس سے یہ نکتہ مخفی نہیں رہے گا۔اور اگر ہم ان کی عصمت کی گواہی دیں تو کوئی اس سے انکار نہیں کرے گا۔اور جیسے کربلاء اور اس کے بعد ان کے جو حالات تھے ان سے یہ بات اور روز روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے اور کیسے نہ ہوتی جب انہوں نے امام حسین سلام اللہ علیہ کی شہادت کے بعد اور ایام مرض امام سجاد ثقل امامت کو اٹھائے رکھا۔اور یہ ان وصایا سے بھی ظاہر ہے جو امام حسین علیہ السلام نے کئے اور ایسے ہی آپ نے احکام کے بیان اور دیگر آثار ولایت امام سجاد کی طرف کئے ان سے بھی آپ کی ولایت ظاہر ہوتی ہے۔
حضرت زینب سلام اللہ علیھا امام سجاد کی سب سے بڑی ڈھارس بنی اور یقینی بات ہے کہ یہ فریضہ اللہ تعالی نے ہی آپ کے سپرد کیا تھا تاکہ امام سجاد اپنے لوگوں کی تعلیم و تربیت کی طرف متوجہ ہوں۔بحار الانوار اور دیگر کئی کتب میں ایسی روایت ملتی ہیں۔
أنّها شاهدت حزنَ الإمام زين العابدين (عليه السّلام) الشديد على أبيه الحسين (عليه السّلام)، فقالت له: ما لي أراك تجود بنفسك يا بقيّةَ جدّي وأبي وإخوتي؟
آپ نے امام زین العابدین کا اپنے والد امام حسین علیہ السلام کا حزن شدید دیکھا تو آپ نے نے ان سے فرمایا :
اے میرے جد،میرے باپ اور میرے باپ کی نشانی میں نہیں چاہتی کہ آپ اپنی جان گنوالو (اس حزن و بکاء میں،مت کرو ) ۔اس پہ امام سجاد نے بہت ہی تڑپادینے والا سوال کیا
وكيف لا أجزَع وأهلَع وقد أرى سيّدي وأخوتي وعُمومتي ووُلد عمّي مُصرَّعين بدمائهم، مُرمَّلين بالعراء مُسلَّبين، لا يُكفَّنون ولا يُوارَون، ولا يُعرّج عليهم أحد ولا يَقرَبُهم بشرٌ، كأنّهم أهلُ بيتٍ من الدَّيلم والخَزَر
میں کیوں نہ آہ و فغان کروں جبکہ میں نے اپنے سیدی ، اپنے بھائی ،اپنے چچا، اپنے چچا زاد کو خاک و خون میں غلطاں دیکھا کہ ان کو مصلوب کردیا گیا اور ان کو نہ کفن دے سکا نہ ان کو دفن کرپایا جبکہ ان کے مرتبے تک نہ تو کوئی پہنچ سکتا تھا اور نہ ان کی طرح کوئی مقرب بشر ہوسکتا تھا کویا وہ دیلم و حزر کے اہل بیت ہوں
جب حضرت زینب سلام علیھا نے یہ سنا تو آپ نے اس موقعہ پہ جو ارشاد فرمایا وہ بھی سننے سے تعلق رکھتا تھا
آپ نے جو دیکھا اس پہ مت اپنے آپ کو ہلکان کریں (اف ! یہ استقامت اور صبر ۔ واللہ یہ عقیلہ بنی ہاشم کا جگر تھا)اللہ کی قسم بے شک عہد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں اس نے آپ کے جد ، والد اور چچا کے لئے عہد لیا،اور بے شک اللہ نے اس امت کے لوگوں سے میثاق لیا کہ وہ اس امت کے فراعنہ کو نہیں پہنچانتے جبکہ وہ اہل سماوات میں معروف تھے۔اور وہ سب ان اعضاء متفرقۃ پہ جمع ہوں گے اور ان کو کاٹیں گے اور اجسام کی بے حرمتی کریں گے اور ان پہ اپنے جھنڈےگاڑیں گے اور ديگر امور جو پہلے ہی بیان کردئے گئے تھے اور پھر ایسے ہی ہوا جیسے امر بیان کیا گیا تھا تو آپ بھی اپنے آپ کو ہلکان مت کیجیئے اور اس کی رضا پہ راضی رہیئے
ایک روایت میں یہ بھی آیا کہ آپ نے امام سجاد کو بتایا :
میرے بیٹے سجاد ! مجھے ام ایمن نے تفصیل کے ساتھ ان سارے واقعات کے بارے میں مطلع کیا تھا اور اس کا پہلا ثبوت اس وقت ملا جب ابن ملجم نے آپ پہ تلوار سے حملہ کیا اور آپ کو گھر لایا گیا اور آپ پہ موت کے آثار تھے تو میں نے بابا (علی بن ابی طالب ) کو بتایا کہ مجھے ام ایمن نے اس بارے میں ایسے ایسے بتایا تو میرے بابا نے اس وقت مجھے بتا دیا تھا کہ یہ سب باتیں ظہور میں آئیں گی اور مجھے کہا کہ زینب ! اس وقت تمہیں صبر عظیم کا مظاہرہ کرنا ہے۔آپ نے مجھے کہا تھا کہ مجھے ڈر ہے کہ اس شہر کے ذلیل ترین لوگ تم پہ چڑھ دوڑیں گے میری آل اولاد کو قتل کریں گے۔اس دن تمہارا مددگار ڈھونڈے کو نہیں ملے گا، تمہار محب و شیعہ تم سے دور کردئے جائیں گے اور اس دن شیاطین کے سردار ابلیس کی قیادت میں بنی آدم کی اکثریت کے جہنم کی راہ ہموار ہونے پہ جشن منعقد ہوگا۔ اور کیا ایسے نہیں ہوا۔میرے بابا ( علی ابن طالب ) نے مجھے نصحیت کی تھی ۔صبر ،صبر ، صبر
حضرت زینب سلام اللہ علیہا پہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے گہرے اثرات تھے۔ آپ سے ایک روایت ملتی ہے کہ
میں اپنی والدہ (فاطمہ زھرہ ) کو دیکھتی کہ وہ رات کو قیام کرتی تھیں اور ان کا پہلا سجدہ ہی اتنا طویل ہوتا کہ صبح صادق ہوجاتی اور آپ رات کے مختصر ہونے کا شکوہ بارگاہ الہی میں کیا کرتی تھیں اور میں نے بھی اسے معمول بنالیا
اسی لئے امام سجاد نے بتایا :
إنّ عمّته زينب ما تَرَكت نوافلها الليليّة مع تلك المصائب والمحن النازلة بها في طريقهم إلى الشام
بے شک میری پھوپھی زینب نے ان مصائب و تکالیف میں بھی رات کو نوافل ترک نہ کئے۔وہ مصائب و تکالیف شام میں نازل ہوئے
آپ کو پتا ہے کہ ریحانۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کربلاء میں میدان شہادت کی جانب جاتے ہوئے اپنی بہن زینب سلام اللہ علیھا نے کیا کہا تھا ؟
يا أُختاه، لا تنسيني في نافلة الليل
اے بہن نوافل لیل میں مجھے مت بھلادینا (ہائے ،ہائے )
امام سجاد نے ایک اور گواہی دی ہے اور ہمیں حضرت زینب سلام اللہ علیھا کی شخصیت کے بارے میں جاننے کا موقعہ دیا :
إنّ عمّتي زينب كانت تؤدّي صلواتها من قيام ( الفرائض والنوافل) عند سير القوم بنا من الكوفة إلى الشام، وفي بعض المنازل كانت تصلّي من جلوس، فسألتها عن سبب ذلك، فقالت: أصلّي من جلوس لشدّة الجوع والضعف منذ ثلاث ليال؛ لأنّها كانت تُقسّم ما يُصيبها من الطعام على الأطفال،
بے شک میری پھوپھی زینب کوفہ سے شام تک کے سفر میں فرائض و نوافل کھڑے ہوکر ادا کرتی تھیں اور بعض پڑاؤ ایسے آئے جہاں آپ نے بیٹھ کر نماز پڑھی تو ان سے اس کا سبب پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ میں بیٹھ کر اس لئے نماز پڑھ رہی ہوں کہ بھوک کی شدت ہے اور تین راتوں سے ضعف و کمزوری ہوگئی ہے۔کیونکہ ان کو جو بھی کھانے کو ملتا وہ آپ بچوں میں تقسیم کردیتی تھیں
امام ہادی ابوالحسن العسکری کی بہن حضرت حکیمہ بنت محمد بن علی الرضا نے فرمایا :
أنّه كانت لزينب (عليها السلام) نيابة خاصّة عن الحسين (عليه السّلام)، وكان الناس يرجعون إليها في الحلال والحرام، حتّى برئ زينُ العابدين (عليه السّلام) من مرضه
بے شک وہ زینب کے لئے امام حسین کی جانب سے نیابت خاصہ حاصل ہوئی تھی اور لوگ حلال و حرام کے بارے میں جاننے کے لئے ان سے رجوع کرتے تھے اور یہ نیابت آپ کے پاس اس وقت تک رہی جب تک زین العابدین بیماری سے صحت یاب نہ ہوگئے
آپ سے امام سجاد نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے آخری وقت بارے پوچھا تو آپ نے فرمایا
جب بابا علی ابن ابی طالب کا آخری وقت تھا تو آپ نے میرے بھائی امام حسن علیہ السلام سے فرمایا کہ جب میں فوت ہوجاؤں تو مجھے غسل دیکر کفن پہنانے کے بعد میرے اوپر وہی چادر ڈالنا جو چادر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا پہ ڈالی گئی تھی۔
آپ زینب سلام اللہ علیھا نے جب محمد اور عون کو مقتل کی طرف بھیجا تھا تو آپ نے وقت رخصتی نہ ہی ان کی شہادت پہ ایک بھی آنسو آنکھ سے بہنے نہ دیا تھا :
امّا دفاعها عن أخيها وإمامها الحسين الشهيد (عليه السّلام)، فقد رافقته إلى كربلاء، ووقفت إلى جانبه خلال تلك الشدائد التي يَشيبُ لها الوِلدان، وقدّمت ابنَيها (عوناً ومحمّداً) شهيدَين في طفّ كربلاء، ولم يُنقَل عنها (عليها السلام) أنّها نَدبت ابنَيها بكلمةٍ ولا ذَرَفت لفقدهما دمعة، فقد كان همّها الشاغل مواساة أخيها الحسين (عليه السّلام) بكلّ وجودها
آپ نے اپنے بھائی اور اپنے امام حسین علیہ السلام کا دفاع کیا اور ان کے ساتھ کربلاء میں رفاقت اختیار کی اور ان کی جانب ہی اپنی توجہ رکھی یہاں تک کہ آپ کے دو بیٹے قربان کرڈالے،اپنے دونوں بیٹوں عون و محمد کو کربلاء میں شہید کروایا اور ان سے ایسا کوئی قول نقل نہیں کہ انھوں نے بیٹوں کی شہادت پہ کوئی کلمہ غم زبان سے نکالا اور اور نہ ہی انہوں نے ان دونوں کی شہادت پہ آنسو بہائے بلکہ اپنے بھائی حسین علیہ السلام کی اپنے پورے وجود کے ساتھ مدد کی ۔ (واہ )
اور پتا ہے کہ اتنی حوصلہ مند خاتون کا حوصلہ کہاں ٹوٹا ٹوٹا نظر آیا ، کیا کیفیت ان پہ طاری ہوئی ، شب عاشور تھی اور حضرت زینب اپنے بھائی امام حسین علیہ السلام کے خیمے میں داخل ہوئیں تو دیکھا کہ آپ تلوار صقیل کررہی تھیں اور یہ عالم دیکھا تو آپ کے منہ سے بے اختیار نکل گیا
يا دهرُ أُفٍّ لك من خليلِ
اف ( آنسو )
اور جب آپ نے دیکھ لیا کہ آپ کے بھائی کے مقتول ہونے کا وقت آگیا اور ان کی شہادت کا منظر بھانپا تو یہ اشعار آپ کی زبان پہ جاری ہوگئے
ليتَ الموتَ أعدَمني الحياة! اليومَ ماتت فاطمةُ أمّي وعليٌّ أبي وحسن أخي، يا خليفةَ الماضي وثُمالَ الباقي
کاش موت آج مجھے حیات سے معدوم کردیتی ،آج میرے لئے میری ماں فاطمہ ، میرے بابا علی ، میرے بھائی حسن کی موت ہوئی ہے اے خلیفۃ الماضی و ثمال الباقی
اور ایسے ہی آپ کا صبر اس وقت جواب دیتا نظر آیا جب حضرت علی اکبر کو یزیدی فوج نے گھیرے میں لے لیا اور ایک شخص نے نیزہ مارا آپ گھوڑے سے گر گئے، ایک ظالم نے آپ کا سر قلم کردیا تو ایسے میں آپ امام حسین اس طرف یہ کہتے ہوئے جانے لگے
اللہ کی مار ان پہ جنھوں نے تمہیں قتل کیا ، یہ کتنے جری ہوگئے کہ اللہ ، اس کے رسول کی پرواہ تک نہیں کی اور یہاں تک کہ حرمت رسول کا پاس نہ کیا،تمہار بعد اب دنیا اندھیر ہے
قَتَل اللهُ قوماً قتلوك، ما أجرأهُم على الرحمان وعلى رسوله وعلى انتهاكِ حُرمةِ الرسول، على الدنيا بَعدَك العَفا
تو سامنے خیمے سے آہ و بکاء کے ساتھ ایک خاتون نکل کر آئیں
يا حبيباه! يا ثمرةَ فؤاداه! يا نورَ عيناه
ہائےمیرا حبیب ، ہائے میرے دل کا ثمر ، ہائے میرے آنکھوں کی روشنی
(کلیجہ پھٹ کر ہاتھ آتا ہے، کیا کروں کوئی اور لکھ بھی تو نہیں رہا )
هي زينب بنت عليّ (عليه السّلام). فجاءت وانكبّت عليه، فجاء الحسين (عليه السّلام) فأخذ بيدها ورَدَّها إلى الفِسطاط
وہ زینب بنت علی تھیں ، وہ آئیں اور آپ پہ رونے لگیں تو امام حسین علیہ السلام آئے ، آپ نے ان کا ہاتھ تھاما اور ان کو لیکر خیمے کی جانب پلٹ گئے
جب حضرت زینب سلام علیہا نے امام حسین کا مثلہ کیا گیا لاشہ دیکھا تو آپ باہر نکلیں اور آپ یہ کہہ رہی تھیں
کاش آج آسمان زمن پہ گرپڑتا ، اور پھر عمر بن سعد بن ابی وقاص سے مخاطب ہوئیں جو کہ حسین کے قریب تھا کہ ابو عبداللہ الحسین کو قتل کیا جارہا ہے اور تو کھڑا دیکھ رہا ہے ؟ تو عمر ان کا سامنا نہ کرسکا اور چہرہ پھیر لیا
فواللهِ إنّه لكذلك إذ خرجت زينبُ ابنةُ فاطمة أختُه… وهي تقول: لَيتَ السماء تَطابقتْ على الأرض! ثمّ خاطبت عمر بن سعد وقد دنا من الحسين، فقالت: يا عمر بن سعد! أيُقتَلُ أبو عبد الله وأنت تَنظر إليه ؟ فصرف عمر بن سعد وجهَه عنہا
باقر مجلسی نے روایت کیا کہ جب امام حسین گھوڑے سے گرے اور ان کی روح قفس عنصری سے جدا ہوگئی تو حضرت زینب بنت فاطمہ یہ کہتے خیمے سے نکلیں ” ہائے میرے بھائی ، ہائے میرے سید ، ہائے اہل بیت ، کاش آسمان زمین پہ گرپڑتا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجاتے
خرجت زينب من الفسطاط وهي تنادي: وا أخاه وا سيّداه وا أهلَ بيتاه! لَيت السماء أطبقت على الأرض، وَ لَیْتَ الْجِبالُ تَدَکْدَکَتْ عَلَی السَّهْل
ایک راوی نے لکھا ہے جب خیموں کو آگ لگ گئی ، اور اہل بیت اطہار کا بچا کچھا خاندان باہر نکلا تو اس وقت حضرت زینب نے روتے ہوئے جو الفاظ کہے ان کو میں بھول نہیں سکتا کہ وہ جناب حسین علیہ السلام پہ رو رہی تھیں اور کس محزون قلب کے ساتھ وہ کہہ رہی تھیں
فواللهِ لا أنسى زينبَ بنت عليّ (عليه السّلام) وهي تندبُ الحسينَ وتنادي بصوتٍ حزين وقلبٍ كئيب
آپ زینب سلام اللہ علیھا کہہ رہی تھیں
یا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! کاش آسمان گرپڑے، حسین شہید ہوگئے، ان کی لاش کی بے حرمتی کی گئی اور آپ کی بیٹیوں کی چادروں کو لوٹ لیا گیا ، ہماری فریاد اللہ سے ہی ہے
آپ نے امام حسین علیہ السلام کی لاش کے پاس کھڑے ہوکر مدینہ کی طرف رخ کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں مخاطب کیا
وا محمداه بناتك سبايا و ذريتك مقتلة تسفي عليهم ريح الصبا، و هذا الحسين محزوز الرأس من القفا مسلوب العمامة و الردا، بابي من اضحي عسكره في يوم الاثنين نهبا، بابي من فسطاطه مقطع العري، بابي من لا غائب فيرتجي و لا جريح فيداوي بابي من نفسي له الفدا، بابي المهموم حتي قضي، بابي العطشان حتي مضي، بابي من شيبته تقطر بالدماء، بابي من جده محمد المصطفي، بابي من جده رسول اله السماء، بابي من هو سبط نبي الهدي، بابي محمد المصطفي، بابي خديجة الكبري بابي علي المرتضي، بابي فاطمة الزهراء سيدة النساء، بابي من ردت له الشمس حتي صلي
اے محمد یہ آپ کی بیٹیاں ہیں جو اسیر ہوکر جارہی ہیں. یہ آپ کے فرزند ہیں جو خون میں ڈوبے زمین پر گرے ہوئے ہیں، اور صبح کی ہوائیں ان کے جسموں پر خاک اڑا رہی ہیں! یہ حسین ہے جس کا سر پشت سے قلم کیا گیا اور ان کی دستار اور ردا کو لوٹ لیا گیا؛ میرا باپ فدا ہو اس پر جس کی سپاہ کو سوموار کے دن غارت کیا گیا، میرا باپ فدا ہو اس پر جس کے خیموں کی رسیاں کاٹ دی گئیں! میرا باپ فدا ہو اس پر جو نہ سفر پر گیا ہے جہاں سے پلٹ کر آنے کی امید ہو اور نہ ہی زخمی ہے جس کا علاج کیا جاسکے! میرا باپ فدا ہو اس پر جس پر میری جان فدا ہے؛ میرا باپ فدا ہو اس پر جس کو غم و اندوہ سے بھرے دل اور پیاس کی حالت میں قتل کیا گیا؛ میرا باپ فدا ہو اس پر جس کی داڑھی سے خون ٹپک رہا تھا! میرا باپ فدا ہو جس کا نانا رسول خدا(ص) ہے اور وہ پیامبر ہدایت(ص)، اور خدیجۃالکبری(س) اور علی مرتضی(ع)، فاطمۃالزہرا(س)، سیدة نساء العالمین کا فرزند ہے، میرا باپ فدا ہو اس پر وہی جس کے لئے سورج لوٹ کے آیا حتی کہ اس نے نماز ادا کی

Views All Time
Views All Time
419
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   تاریخ سےگھٹالوں کی شوقین جماعتِ اسلامی
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: