باب الحوائج کے در پہ نہ آئے تو سب گنوادیا تم نے

Print Friendly, PDF & Email

بھی بائیس رجب المرجب گزرا تو ہم نے انتہائی دکھ اور غمناکی کے ساتھ کچھ جلوس نکلتے دیکھے جو پہلے کبھی نکالے نہ گئے تھے۔یہ جلوس نکالنے والے اس دن نیاز امام جعفر صادق آل محمد دلانا ہی نہیں بھولے بلکہ انہوں نے مبالغہ آرائی کی حد کرتے ہوئے اہل بیت اطہار کو اذیت پہنچانے والا کام کردیا۔آج پچیس رجب المرجب کو ان کی زبانوں پہ آبلے پڑگئے اور ان کے ٹی وی چینل پہ بھی اس دن کی مناسبت سے کوئی پروگرام دیکھنے کو نہ ملا اور نہ ہی یہ جھنڈے لہراتے نکلے۔یہ ان کی ترجیحات بتانے کے لیے کافی ہے۔ آج کا دن اس ہستی کا سعود الی اللہ کا دن ہے جو کہا کرتا تھا عونك للضعيف من أفضل الصدقة تیرا کمزور کی مدد کرنا صدقہ کرنے سے افضل ہے اور اس نے ایمان والوں کی نشانی بتاتے ہوئے گویا اپنی کتھا بیان کرڈالی تھی.المؤمن مثل كفتي الميزان كلما زيد في إيمانه زيد في بلائه. مومن ترازو کے دو پلڑوں جیسا ہوتا ہے جیسے اس کا ایمان کا پلڑا بھاری ہوتا ہے تو اس کی آزمائش کا پلڑا بھی اتنا ہی بھاری ہوتا جاتا ہے اور جن کی بے بصیرتی کا میں نے شروع میں ذکر کیا کاش انہوں نے امام موسی کاظم کے اس قول پہ غور و فکر کیا ہوتا تو وہ اس بے بصیرتی کا شکار نہ ہوتے۔آپ فرماتے ہیں. تفقهوا في دين الله فإن الفقه مفتاح البصيرة وتمام العبادة والسبب إلى المنازل الرفيعة والرتب الجليلة في الدين والدنيا وفضل الفقيه على العابد كفضل الشمس على الكواكب ومن لم يتفقه في دينه لم يرض الله له عملا. اللہ کے دن میں سمجھ بوجھ حاصل کرو کیونکہ فقہ بصیرت کی چابی ہے اور عبادت کی انتہا اور رفعت کی سیڑھیاں چڑھانے والا اور دین و دنیا میں جلیل القدر رتبہ دلانے والا ہے۔فقیہ کی عابد پہ فضیلت ایسی ہے جیسے سورج کی ستاروں پہ-اور جو دین میں سمجھ بوچھ اور تفقہ کا حامل نہیں ہے اللہ اس کے اعمال سے بھی راضی نہیں ہوتا۔

یعنی بسترے کمر پہ لادھے اور لوٹا ہاتھ میں پکڑ آپ اپنے سفر کو دین میں محنت کا نام دو اور چالیس چالیس روز کے چلے کاٹو اور پھر 22 رجب کو تم کمزور اور بے بنیاد باتوں سے امام جعفر الصادق سے منہ پھیرلو اور 25 رجب پہ امام موسی کاظم کی شہادت پہ خاموشی کی چادر تانے کہیں چھپ جاؤ تو تمہاری پگڑیوں، چلوں، ریاضتوں کا کوئی مول پڑنے والا نہیں ہے۔کیونکہ جب نظر علی شناس نہیں ہے تو پھر عمل کی قبولیت کی ضمانت بھی نہیں ہے۔ پچیس رجب المرجب ولایت و عرفان کے ساتویں امام موسی بن جعفر الکاظم کی شہادت کا دن ہے۔اس دن کی مناسبت سے ہم جب ولایت کے اس ساتویں آفتاب کا ذکر کرنے لگتے ہیں تو میرے ذہن میں امام موسی بن جعفر علیہ السلام کا ایک قول آجاتا ہے۔آپ نے فرمایا. المصيبة للصابر واحدة وللجازع اثنتان. جو مصیبت پہ صبر کرتا ہے تو اس پہ مصیبت ایک بار ہی آتی ہے۔اور جو اس پہ صبر و استقامت سے کام نہیں لیتا تو یہ اس پہ بار بار آتی ہے۔اس لیے مصائب آنے پہ آئمہ اہل بیت اطہار صبر و استقامت کا مظاہرہ کیا اور پھر وہ اسے جاوداں ہوئے کہ اس کی مثال نہیں ملتی۔اور خود امام موسی الکاظم نے جیسے صبر کیا اس کی بھی مثال ملنا مشکل ہے۔

امام موسی کاظم صفر المظفر کی سات تاریخ کو 128ھجری بمطابق نومبر 745ء میں حجاز کے شہر مکّہ سے مدینہ کے راستے میں آنے والے مقام ابواء میں پیدا ہوئے۔ امام جعفر الصادق حج بیت اللہ کرکے اپنی زوجہ کے ساتھ مکّہ سے مدینہ لوٹ رہے تھے کہ مقام ابواء پہ آپ کی ولادت ہوئی۔ یہ وہی تاریخی مقام ہے جہاں پہ آپ کے جد امجد حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی والدہ ماجدہ سیدہ آمنہ کی قبر مبارک تھی۔یہ مروان کا زمانہ تھا۔آپ کے والد محترم مدینہ منورہ میں ایک بڑے مدرسہ کو چلارہے تھے۔ محسن امین نے ‘اعیان الشیعہ’ میں لکھا ہے کہ جب آپ کی ولادت ہوئی تو امام جعفر الصادق آپ کو مدینہ منورہ لیکر گئے اور آپ کی ولادت کی خوشی میں تین روز تک دعوت طعام کا اہتمام کیا۔ امام جعفر الصادق کو اپنی اولاد میں امام موسی کاظم سے سب سے زیادہ محبت اور مودت تھی۔ باقر شریف القرشی نے’حیات جعفر الصادق’ میں لکھا ہے وہ جس گھر میں زندگی گزارتے تھے اس میں دین کے گھرانے کا امام رہتا تھا جس نے قیام انسانیت کو ممکن بنایا اور اسے بلند تر کرڈالا۔اور یہ وہ گھر تھا جو فیضلت والی جگہ تھی۔ایمان و تقوی کا مدرسہ تھا۔اور ان کو یہاں سے محبت ملی ،کبھی تکلیف نہ ہوئی۔اور یہاں انہوں نے کبھی برا کلام نہ سنا۔اور ان سب عناصر نے ملکر امام موسی کی اعلی تربیت کا اہتمام کرڈالا۔

امام موسی کاظم نے 55 سال عمر پائی۔جس میں 20 سال ان کی والد کی زندگی میں گزرے اور 35 سال والد کی شہادت کے بعد گزارے۔ امام موسی کاظم نے 20 سال کی عمر اپنے والد کے زیر سایہ گزاری اور یہ وہ زمانہ ہے جب بنوامیہ کا زوال شروع ہوگیا تھا اور عباسی ملوکیت قائم ہونے جارہی تھی۔اسے زمانہ ‘الفترت’ بھی کہا جاتا ہے۔یہ وہ زمانہ ہے جس میں امام جعفر الصادق کی کڑی نگرانی کی جارہی تھی اور ہر پل جاسوسوں کی ٹولی ان کی سرگرمیوں پہ نظر رکھتی تھی۔لیکن امام جعفر صادق اس زمانے میں مکتب علی شناس کو مضبوط بنیادوں پہ کھڑا کرنے میں دن رات مصروف تھے۔اور پھر جب ان کے والد کا انتقال ہوگیا تو امام موسی کاظم نے مکتب علی شناس کی قیادت سنبھال لی اور اس کے ساتھ ساتھ امام موسی کاظم اس مدرسہ کے نگران اور پرنسپل معلم بھی ہوگئے جس کو ان کے والد نے پروان چڑھایا تھا۔

ابو محمّد الحسن بن عليّ بن زياد الوشّا جن کا لقب ربیع ،البجلی ،الکوفی اور الخزاز بھی کہا جاتا ہے۔جنھوں نے نہ صرف امام جعفر الصادق کا زمانہ پایا بلکہ انہوں نے امام موسی کاظم، امام علی رضا اور امام ھادی کا زمانہ بھی پایا۔ان سے نجاشی نے ایک روایت نقل کی ہے وقد روى النجاشيّ عن أحمد بن محمّد بن عيسى أنّ الوشاء قال له: إنّي أدركت في هذا المسجد [أي مسجد الكوفة] تسعمائة شيخ، كلٌّ يقول: حدّثني جعفر بن محمّد اور بے شک النجاشی نے احمد بن محمد بن عیسی سے انہوں نے الوشاء سے روایت کی کہ انہوں نے احمد سے کہا: میں نے اس مسجد کوفہ میں آٹھ سو شيوخ(الحدیث) کو پایا سب کہتے تھے: مجھ سے حدیث بیان کی جعفر بن محمد الباقر نے۔ گویا بیت الجعفر الصادق تھا وہ ایک جامعہ کی حثیت اختیار کرگیا تھا اور اس جامعہ کے اندر تفسیر، حدیث ، کلام اور حکمت حاصل کرنے کے لیے ہزاروں طالب علم آئے جو بعد میں ان علوم کے ماہر کبار علماء میں شمار ہوئے۔ تو امام موسی کاظم اس بڑے علمی و فکری ماحول میں پروان چڑھے۔

یہ بھی پڑھئے:   مثالی محبت | ممتاز شیریں

امام موسی کاظم کا زمانہ وہ تھا جب بغدادی سلطنت اپنے اوج کمال پہ جاپہنچی تھی۔یونانی فلسفہ اور یونانی مفکرین اور نوفلاطونی فلسفی و حکماء کی فکر اس زمانے کے مسلم معاشرے میں نئی بحثوں کو جنم دے رہی تھی۔یہ سلسلہ خود امام جعفر کے زمانے میں بھی دیکھنے کو ملا تھا اور ان کے کئی مناظرے معروف ہوئے۔ امام جعفر کا گھر اور مسجد نبوی کا صحن ان کے مدرسے کی حدود تھیں اور پورے عالم اسلام سے لوگ ان کے سامنے زانوئے تلمذ طے کرتے تھے۔اور امام موسی کاظم کو مدینہ و مکّہ /حجاز سے لیکر عراق تک اور آگے ایران و شام تک اور اس سے آگے مکران سے سندھ تک اور گجرات کے ساحلوں سے لیکر کاٹھیاوارڈ تک اور آگے سراندیپ/سری لنکا تک مکتب اہل بیت سے جڑ جانے والے لوگوں کا ایک نیٹ ورک ورثے میں ملا تھا۔اور امام موسی کاظم ان سب کی پیاس علمی بجھانے میں مصروف تھے۔ امام موسی کاظم کی تربیت سے فیض یاب ہوکر ہزاروں علماء،فقہا، محدثین، فلسفی دنیا کے کونے کونے میں پہنچے اور انہوں نے مکتب علی شناس کو پھیلانے میں مدد فراہم کی۔ جن لوگوں نے امام کاظم سے استفادہ کیا اور روایت کی ان میں خطیب بغدادی ہیں جنھوں نے تاریخ بغداد میں ان سے روایات لیں۔ابو مظفر السمعانی نے رسالہ قوامیہ میں ان سے روایت کی۔ابو صالح الموذن نے اربعین میں ان سے روایت کی اور عبداللہ ابن بطۃ نے العکبری نے الابانۃ میں اور ابو اسحاق الثعلبی نے الکشف و البیان میں ان سے روایت کی۔

امام احمد بن حنبل فرمایا کرتے تھے کہ ‘حدثنی ابی جعفر بن محمد قال حدثنی ابی محمد ابن علی قال حدثنی ابی علی بن الحسین قال حدثنی ابی الحسین بن علی قال حدثنی ابی علی بن ابی طالب قال قال رسول اللہ ایسی سند ہے کہ اگر میں اسے مجنون پہ پڑھ کر پھونک دوں تو اس کا جنون جاتا رہے ہارون رشید کے زمانے میں اس نے امام کاظم کی بڑھتی ہوئی مقبولیت دیکھی اور اسے خوف ہوا کہ کہیں امام بنوعباس کی سلطنت کا تختہ نہ الٹ دیں تو ان کو قید خانے میں ڈال دیا گیا۔جیل میں بھی ان کا فیض علم منقطع نہ ہوا اور وہ اپنے سے ہونے والے سوالات کا جواب تحریری صورت میں جیل سے ہی دیتے رہے۔حاص طور پہ مسائل فقہ۔بعض ماہرین تاریخ کا کہنا ہے کہ فقہ پہ اولین کتاب لکھنے کا سہرا امام کاظم کے سر پہ ہے۔ آپ ہارون رشید کے زمانے میں پہلی بار قید ہوئے تو جلد رہا کرديے گئے لیکن دوسری بار 179ھجری میں آپ کو قید کیا گیا اور پہلے آپ کو 7 ذی الحج کو عیسی بن جعفر کی نگرانی میں بصرے میں قید رکھا گیا اور اس کے بعد آپ کو بغداد پہلے فضل بن الربیع کے زندان میں قید کیا گیا اور اس کے بعد سندی بن شاہک کی قید میں رکھا گیا۔ یحیی بن برمکی ہارون کے کہنے پہ سندی بن شاہک نے ان کو زھر آلود کھجوریں کھانے پہ مجبور کیا۔اس نے دس کھجوریں آپ کو کھلادیں تو کہا مزید کھائیں۔تو آپ نے اس پہ وہ تاریخی جملہ کہا جو آپ کی فراست مومنانہ کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔آپ نے فرمایا حَسبُکَ قَد بَلَغتَ ما یَحتاجُ اِلیهِ فِیما اُمِرتَ بِهِ تیرے لیے یہی کافی ہے۔بے شک تجھے جو کرنے کا حکم دیا گیا تھا اس میں تو کامیاب ہوگیا ہے. اس کے بعد سندی نے بظاہر عادل نظر آنے والے درباریوں کو بطور گواہ بلاکر یہ دکھانے کی کوشش کی کہ وہ جیل میں تندرست اور ہشاش بشاش ہیں۔امام کاظم اس کی چال پھانپ گئے اور آپ نے فرمایا کہ مجھے زھر دیا گیا ہے اور میں تین دن بعد انتقال کرجاؤں گا۔اور آپ تین دن بعد انتقال کرگئے۔

جیل میں آپ کے پیروں میں زنجیر اور گلے میں طوق ڈال کر رکھا گیا تھا اور جب آپ کی شہادت ہوگئی تو آپ کی طبعی وفات کا پروپپیگنڈا کیا گیا اور آپ کا جنازہ بغداد کے پل پہ رکھ دیا گیا اور شاہک سندی نے کہا روافض کا امام طبعی موت مرگیا ہے اور اس کا چہرہ دیکھ لو۔ اس موقعہ پہ پورا بغداد آپ کے جنازے پہ امڈ آیا اور دیکھنے والوں نے امام موسی کاظم کی گردن پہ طوق کا نشان صاف دیکھا۔ امام موسی کاظم کو ان کی زندگی میں غیض و غضب کو پی جانے والے اور محتاجوں و بے کسوں کی مدد کرنے والے کہا جاتا تھا۔آپ کی وفات کے بعد آپ کی قبر مبارک پہ عوام الناس اور خواص دونوں کا جم غفیر ہونے لگا۔بغداد میں محلہ کاظمین میں آپ کی قبر مبارک بنی جو آج بھی مرجع خلائق ہے۔ آپ کے مزار کو باب حوائج کہا جاتا ہے۔کیسی ہی مشکل و مصیبت طاری ہو وہ امام موسی کاظم کی قبر پہ آکر دعا مانگنے سے دور ہوجانے کا اعتقاد عام ہے۔ تاریخ بغداد میں خطیب بغدادی نے لکھاأخبرنا القاضي أبو محمد الحسن بن الحسين بن محمد بن رامين الإستراباذي ، قال : أنبأنا أحمد بن جعفر بن حمدان القطيعي ، قال : سمعت الحسن بن إبراهيم أبا علي الخلال يقول: ما همني أمر فقصدت قبر موسى بن جعفر فتوسلت به إلا سهل الله تعالى لي ما أحب.( انتهى من تاريخ بغداد امام موسیٰ بن جعفر کاظم کی قبر مبارک کے بارے میں ابو علی الخلال کہتے ہیں جب مجھے کوئی مشکل درپیش ہوتی تو میں امام موسیٰ بن جعفر کی قبر پر جا کر اُن کو وسیلہ بناتا تو جیسے میں چاہتا اﷲ تعالیٰ ویسے ہی میرے لئے راستہ نکال دیتا وكان الشافعي يقول قبر موسى الكاظم الترياق المجرب اور امام شافعی کہا کرتے تھے کہ موسی الکاظم کی قبر تریاق مجرب/آزمودہ تریاق ہے مصائب و مشکلات کا امام موسی الکاظم کی شان میں ان کے معاصر اور بعد میں آنے والے علماء و مشائخ اہل سنت نے بہت تفصیل سے ان کی شان بیان کی ہے۔ اور ان کے بارے میں ہر کی زبان پہ یہ جملہ ضرور آیا ہے کہ امام موسی الکاظم سخی و کریم تھے اور جو ان کی برائی کرتا،اس کو بھی یہ مشکل میں اپنی صفت سخاوت سے محروم نہ کرتے تھے۔اور سب نے کہا کہ ان کی قبر ‘باب الحوائج’ ہے۔ میں امام موسی کاظم کی شہادت کے اس خاص دن کے موقعہ پہ اپنی تحریر کا اختتام عبدالباقی العمری الفاروقی کے اشعار پہ کرتا ہوں،وہ کہتے ہیں لذو استجر متوسلا ان ضاق امرک او تعسر بأبي الرضا جدالجواد محمد موسي بن جعفر. اگر تیرا کوئی کام تنگ ہو یا کوئی مشکل پڑجائے تو ضرور امام رضا کے والد جواد و کریم جد محمد موسی بن جعفر کا وسیلہ پیش کرکے اللہ سے دعا مانگ لے

یہ بھی پڑھئے:   بےنظیر بھٹو قتل کے ذمہ دار کون؟

ایک عارف کہتے ہیں کہ موسی علیہ السلام وادی سینا میں جب کوہ طور پہ جانے لگے تو ان سے کہا گیا تھا کہ جوتی اتار کر آئیں اور ہم کہتے ہیں کہ اگر امام موسی کاظم کے مزار پہ آنا ہے تو جوتے اتارنے سے پہلے اپنے نفس کی پلیدی کو الگ کرنا ہوگا تب امام کاظم کی بارگاہ میں حضوری ملے گی۔ اس سے پہلے کہ میں اپنی اس تحریر کو ختم کروں میں چاہتا ہوں کہ امام موسی بن جعفر الکاظم کی فکر پہ کچھ روشنی ان کے اقوال کے زریعے سے ڈالتا جاؤں جو آپ کی شخصیت بارے بھی ہمیں آگاہی فراہم کرتی ہے۔ آپ اکثر فرمایا کرتے تھے السخي الحسن الخلق في كنف الله لا يتخلى الله عنه حتى يدخله الجنة وما بعث الله نبيا إلا سخيا وما زال أبي يوصيني بالسخاء وحسن الخلق حتى مضى سخی اور حسن خلق رکھنے والا اللہ کی رحمت میں ہوتا ہے اور اللہ اس سے کبھی الگ نہيں کرتا یہاں تک کہ اسے جنت میں داخل کردیتا ہے۔اللہ نے جس بھی نبی کو مبعوث کیا وہ سخی تھا اور میرے والد وفات تک مجھے سخاوت اور حسن خلق کی وصیت کرتے رہے یہاں تک کہ وہ گزرگئے۔ ليس حسن الجوار كف الأذى ولكن حسن الجوار الصبر على الأذى ہمسائیگی کا حسن اذیت پہنچانے سے رک جانے میں نہیں بلکہ حسن الجوار تو اذیت پہ صبر کرنے میں ہے۔ لا تذهب الحشمة بينك وبين أخيك وأبق منها فإن ذهابها ذهاب الحياءاپنے اور اپنے بھائی کے درمیان چشم پوشی کو ہاتھ سے مت جانے دینا اور اسے باقی رکھنا کیونکہ اگر یہ چلی گئی تو پھر حیاء ہاتھ سے چلی جائے گی۔ میں سوچ رہا ہوں کہ ابھی 22 رجب المرجب گزری ہے جب اہلسنت اور اہل تشیع مل کر نیاز امام جعفر الصادق دلاتے ہیں تو اس دن ایک گروہ نے امام جعفر الصادق کی نیاز کو پس پشت ڈالا اور وہ کام کیا جو اہلسنت میں کبھی نہ ہوا تھا۔اور یہ کام بھی اہلسنت کی دعوت و تبلیغ کا سب سے بڑا نیٹ ورک رکھنے والی تںظیم نے کیا۔اور کمزور دلائل سے اپنے ایک غیر مانوس اقدام کا دفاع کرنے کی کوشش کی۔مگر آج جب 28 رجب المرجب ہے اور ایک ایسے امام کا یوم شہادت ہے جس کو سب الکاظم و سخیا و کریما کہتے ہیں اور سب اس کے علم و ورع و تقوی کے قائل ہیں لیکن اس یوم کی مناسبت سے نہ تو اس تنظیم کے چینل پہ خصوصی نشریات دکھائی گئیں اور نہ ہی’یوم موسی الکاظم’ کے طور پہ اس یوم کو مناتے ہوئے کوئی جلوس نکالا گیا۔یہ جلوس اگر کوئی محبت اہل بیت اطہار نکال لیتا تو ابھی رفض کے فتوے جاری ہوجاتے۔

ناصبیت عصر حاضر میں تیزی سے پھیلتی جاتی ہے۔اور اس ناصبیت نے یہ ٹھیکہ اٹھارکھا ہے کہ جو مولفۃ القلوب میں سے یا فتح مکّہ کے بعد مطیع ہوجانے والوں میں سے شہادت عثمان ابن عفان رضی اللہ عنہ کے بعد امام علی المرتضی اور ان کی اولاد کے مدمقابل آیا یا اس نے اہل بیت اطہار سے کہیں مجادلہ و مناقشہ کیا، اس کی تعریف میں غلو کیا جائے۔اس کے بارے میں کمزور چیزوں کو ثقہ بناکر پیش کیا جائے۔سب سے بڑھ کر ان پہ سکوت کے راستے کو ترک کرکے ان کے اقدامات جو کہ بالاتفاق غلط تھے اور حق اس باب میں جناب علی المرتضی کے ساتھ تھا کو اگر ٹھیک نہ قرار دیا جاسکے تو اسے ‘خطائے اجتھادی’ کہہ کر ایک نیکی سمٹنے کے قابل قرار دے ديے جائیں۔یہ ناصبیت کی طرف بڑھنے کا پہلا قدم ہے۔اور اکثر دیکھا گیا کہ اس کی انتہا آخرکار خارجیت اور اہل بیت اطہار کی شان میں بے ادبی پہ آکر ختم ہوتی ہے۔

Views All Time
Views All Time
173
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: