Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

پاکستان کا انتہائی قدامت پرستی کی جانب جھکاؤ۔ سعودی ریاست کیسے اپنے علاقائی مقاصد کی تکمیل کرتی ہے(3) ؟-مستجاب حیدر

by اپریل 26, 2017 کالم
پاکستان کا انتہائی قدامت پرستی کی جانب جھکاؤ۔ سعودی ریاست کیسے اپنے علاقائی مقاصد کی تکمیل کرتی ہے(3) ؟-مستجاب حیدر

تیسرا حصہ
اپنے پیغام کو پھیلانے کے لئے الھدیٰ اپنے ہاں تعلیم پانے والوں کو پابند کرتا ہے کہ وہ اپنے دوستوں اور پڑوسیوں کو انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے تیار کردہ نصاب پہ مشتمل تین روزہ کورس میں شرکت کے لئے راضی کریں۔نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اسکول میں اس بارے میں بات چیت کے بعد ان کورسز میں داخلہ لے لیتے ہیں اور کئی ایک ایسے ہی نوجوان اپنے خاندان یا پڑوس کی عورتوں کی ان سرگرمیوں میں حصّہ لیتے دیکھ کر ترغیب پکڑتے اور کورس میں داخلہ لے لیتے ہیں۔
الھدیٰ کی 2000 سے زائد شاخیں ہیں جن میں وہابی نصاب اور تعلیمی مواد ہونے کے ساتھ ساتھ ہاشمی کے لیکچرز کی ٹیپ بھی بڑے تبلیغی مشن کے طور پہ استعمال ہوتی ہیں۔ہاشمی کہتی ہیں کہ ان کا ارادہ مولوی پیدا کرنے کا نہیں ہے۔ان کا کہنا ہے کہ الھدیٰ اسلام کی کوئی خیالی،یوٹوپئین تفہیم پیش نہیں کرتا بلکہ عملی تفہیم پیش کرتا ہے۔الھدیٰ کے ڈپلومے حکومت پاکستان سے منظور شدہ نہیں ہیں۔
اس ادارے کے سابق طلباء کہتے ہیں کہ اس ادارے کا نصاب ان کو سلف کا اسلام سکھاتا ہے ( سلفی ازم اور وہابیت کا بہت ہی روایتی سا فقرہ) اور دنیا کے دوسرے غیر شفاف نظریات سے الگ کرتا ہے۔ جیمز ڈورسے کہتا ہے کہ یہ سوچ ہے جو آگے چل کر بہت سوں کو ریڈیکلائز کرتی ہے۔ہاشمی کی طرح اس کے طلباء بھی اس کی طرح بظاہر بہت نرم انداز میں بات کرتے ہیں لیکن ان کے اندر وہابیت کوٹ کوٹ کر سرایت کرجاتی ہے۔
الھدیٰ کے ناقد الھدیٰ کی اپروچ پہ تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کرتے ہیں کہ اس کے طریقہ تعلیم و تربیت سے خاندانی رشتوں میں دراڑ آتی ہے۔کئی شوہروں اور دوسرے مرد رشتے داروں نے یہ الزام لگایا کہ ان کی عورتوں کو مذہبی انتہا پسند بنانے کا کام الھدیٰ نے کیا ہے۔وہ عورتیں جو الھدیٰ میں جاتی ہیں اکثر اپنے خاندانوں کو طعنہ دیتی ہیں کہ وہ بہتر مسلمان نہیں ہیں۔جیمز ڈورسے اس حوالے سے ایک برٹش پاکستانی خاتون عائشہ سلیم کی کہانی بیان کرتے ہیں جنھوں نے کینڈا اور پاکستان میں الھدیٰ جاکر تعلیم لی تھی۔
عورتوں کو الھدیٰ میں یہ بتایا جاتا ہے کہ مردوں کو راہ راست پہ لانا ان کی ذمے داری ہے اور عورتوں کو سعودی برقعہ استعمال کرنے کو کہا جاتا ہے تاکہ مرد ان کو دیکھ کر جنسی طور پہ انگیخت نہ ہوں۔
عورتوں کو یہ بھی سکھایا جاتا ہے کہ وہ کسی بھی صورت اپنے مردوں کو اپنے ساتھ جنسی اختلاط کرنے سےنہ روکیں کیونکہ نکاح کے بعد اپنے شوہر سے انکار مباشرت کا حق ان کے پاس نہیں ہوتا اور اگر وہ ایسا کرتی ہیں تو فرشتے ان پہ لعنت کرتے ہیں۔دردانہ نجم جو کہ الھدیٰ کی ایک عشرہ قبل طالبہ رہیں بتاتی ہیں کہ ان کو کہا جاتا تھا کہ بیوی کو اپنے شوہر کو سیکس سے انکار کسی صورت نہیں کرنا چاہئیے۔یہ اسلام کے خلاف ہے۔
جیمز ڈورسے کے خیال میں الھدیٰ انسٹی ٹیوٹ نے پاکستانی کلچر کی تبدیلی اور عورتوں کے کردار میں کئی طریقوں سے اہم تبدیلیاں متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔یہ ادارہ امراء اور درمیانے طبقے کی عورتوں پہ فوکس کرتا ہے کیونکہ اس کے خیال میں ان دو طبقوں کی عورتیں مجموعی طور پہ اقدار کو متعین کرتی ہیں۔ہاشمی کے مطابق الھدیٰ ایک ایسا انسٹی ٹیوٹ ہے جو جدید معاشرے سے ہم آہنگ اصلاح شدہ تعلیمی نظام پہ مشتمل ہے اور اس کا کام دانشورانہ گرما گرمی پیدا کرنا نہیں ہے۔فائزہ مشتاق ایک پاکستانی اسکالر ہیں جنھوں نے الھدیٰ پہ ہی اپنا پی ایچ ڈی کا مقالہ تحریر کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اس ادارے کے طلباء اور اساتذہ خود کو ایسا تعلیم یافتہ طبقہ خیال کرتے ہیں جن کے کندھوں پہ معاشرے کی اخلاقیات کی درستگی کی ذمہ داری ہے۔
فائزہ مشتاق کا کہنا ہے کہ 2010ء میں الھدیٰ انسٹی ٹیوٹ سے 155 ہزار خواتین نے گریجویٹ کیا جبکہ کئی ہزار عورتوں نے اس ادارے کی غیر روایتی دروس میں شرکت کی۔الھدیٰ سے متاثر خواتین کا فہم دین سعودی عرب اور جماعت اسلامی کے نکتہ نظر کے مطابق ہے۔یہ مقامی رسوم و رواج،ثقافتی روایات اور اسلام کے غیر وہابی نمونوں کو مسترد کرتی ہیں۔اور ایسے ہی الھدیٰ توسل کے عقیدے کا انکار بھی کرتا ہے۔
دردانہ نجم کہتی ہیں،”ہاشمی امراء کی اور درمیانے طبقے کی خواتین کو ہدف بناتی ہیں۔اگر یہ نشانہ فٹ بیٹھے تو اس طبقے کی عورتیں خودبخود الھدیٰ کے مقصد کو نچلے طبقات تک لیکر چلی جاتی ہیں۔اگر معاشرے کا بالائی طبقہ درست ہوجائے تو باقی کا معاشرہ بھی آسانی سے ٹھیک ہوجاتا ہے۔بالائی طبقہ درمیانے طبقے کی طرح قدامت پرست نہیں ہوتا۔ان میں ایسی عورتیں بکثرت ہوتی ہیں جو شراب نوش کرتی ہیں اور ان کا ماضی بہت نیک نہیں ہوتا۔تو وہ بظاہر ہم سے ہر ایک کی ناموس اور عصمت یہ بتاکر بحال کرتی ہیں کہ اللہ بہت غفور و رحیم ہے۔وہ ایسی چیزوں کے بارے میں بات کرتی ہیں جسے ان کی مخاطب عورتیں اپنے آپ سے بہت زیادہ متعلق پاتی ہیں”۔ نجم کا کہنا ہے، "عورتوں کو ایسے برین واش کیا جاتا ہے کہ وہ گھر جاکر راتوں رات سب کچھ بدلنے کی کوشش کرتی ہیں۔یہاں تک کہ میں میوزک سننا پسند نہیں کرتی تھی اور میں نے بہت سی ایسی چیزیں ترک کردیں جو معاشرے میں رائج تھیں اور ہاشمی نے کہا غلط ہیں۔اس نے مجھے الجھا دیا۔وہ ہمیں سکھاتے جس کا ہم پہ بہت اثر ہوتا۔پانچ گھنٹے انسٹی ٹیوٹ میں اور پھر گھر آکر ہم وہاں پڑھائی گئی چیزوں کو دوھراتے رہتے۔وہ بار بار ہم سے کہتے کہ اپنا وقت فضول اور دنیاوی چیزوں میں ضائع مت کریں۔کوئی ٹی وی ، کوئی لطیفے نہیں بس مذہبی لٹریچر۔فکشن بیکار اور جھوٹی غیر حقیقی چیز ہے اور جو غیر حقیقی ہو اسلام اس سے منع کرتا ہے تو فکشن کی اسلام میں کوئی جگہ نہیں ہے۔الھدیٰ میں جو جاتا وہ انتہائی قدامت پرستی کا شکار ہوجاتا”۔
الھدیٰ سعودی عرب کی موافقت میں کئی ثقافتی رسوم مستند اسلامی علم کے نام پہ مسترد کرتا ہے۔یہ بدعت کے نام پہ بہت سی چیزوں کا انکار کرتا ہے۔بدعت میں تصویر کشی ، موسیقی، رقص، ثقافتی میلوں کے ساتھ ساتھ میلاد النبی اور چہلم امام حسین وغیرہ سب شامل ہیں جن کو جمہور سنّی اور شیعہ اسلام کے ماننے والے غیر اسلامی نہیں سمجھتے۔
دردانہ نجم کہتی ہیں،” الھدیٰ کے ںزدیک موسیقی شیطان کا کام ہے”۔یہ سعودی کنزرویٹو ازم سے متاثر ہونے کی واضح نشانی ہے ورنہ جمہور سنّی اور شیعہ اسلام کو موسیقی سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔الھدیٰ کی جو آفیشل ویب سائٹ ہے اس پہ جانداروں کی تصاویر نہیں دکھائی جاتیں۔
دردانہ نجم کا کہنا ہے کہ اس نے الھدیٰ میں جو پڑھایا جارہا تھا اس پہ دو سال بعد سوال اٹھانے شروع کئے، "یہ دوسرے مذہبی اداروں کی طرح ایسا ادارہ تھا جہاں کچھ بھی نیا نہیں تھا۔میں یہ سوچ کر کافی پریشان ہوگئی۔الھدیٰ نے مجھے ایسے وقت میں اپنی طرف کھینچا تھا جب میں کچھ ذاتی مسائل سے نبرد آزما تھی۔تو میں اس جانب چلی گئی ۔میں مذہبی ہونا چاہتی تھی۔میں تلاش کررہی تھی۔میرے جذباتی مسائل تھے اور میرے پاس دو آپشن تھے یا تو میں خود کو شراب میں ڈبو دوں یا مذہب سے رجوع کروں جو آپ کو ایسے وقت ایک اسٹرکچر دیتا ہے جب آپ کسی انتہائی جذباتی مسئلے سے دوچار ہوتے ہیں۔میں نے فرحت ہاشمی کو سنا۔یہ ان کی ملاحت زدہ آواز اور الفاظ کی ادائیگی کا اسلوب تھا جس نے مجھے متاثر کیا۔انھوں نے مجھے مذہب کا ایک نیا رخ دکھایا جو بہت جدید اور شہری ورژن تھا۔ان کی شخصیت روایت سے ہٹ کر تھی۔وہ بہت شاندار تھیں۔وہ کانوں میں بالیاں پہنے رکھتیں اور عورتوں کے درمیان ہوتیں تو برقعہ اتار کر باتیں کرتیں۔وہ انگریزی میں بولتیں۔ان کا تعلیمی پس منظر متاثر کن تھا اور وہ ایک ایسی ماڈرن خاتون تھیں جنہوں نے دنیا دیکھی تھی۔میں اشتہاری کمپنی میں کام کررہی تھی۔میں نے اپنی جاب ترک کردی اور الھدیٰ میں شمولیت اختیار کرلی”۔
دردانہ نجم کا مشاہدہ فائزہ مشتاق کی تحقیق سے ملتا ہے۔فائزہ مشتاق کا کہنا ہے،” ہاشمی کو میں نے دیکھا کہ ان کی کلاس چھوٹی ہو یا بڑی وہ کمال مہارت سے سب کی توجہ صرف اپنی جانب مبذول کرانے کی اہلیت رکھتی ہیں۔ان کے سننے والے ان کے کہے ایک ایک لفظ کو بے تابی سے اپنی نوٹ بک میں درج کرنے کی کوشش کرتے نظر آئے یا اپنے سامنے رکھی کتابوں سے ان کی کہی باتوں کا تقابل کرتے نظر آئے اور میں نے کسی کو ان کی باتوں سے توجہ ہٹاتے نہیں دیکھا”۔

Views All Time
Views All Time
345
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

جواب دیجئے

%d bloggers like this: