Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

یزید کےبارے میں نرمی اختیار کرنا تکفیریت حاضرہ کی پہلی نشانی ہے – مستجاب حیدر

by اپریل 26, 2017 قلم کار
یزید کےبارے میں نرمی اختیار کرنا تکفیریت حاضرہ کی پہلی نشانی ہے – مستجاب حیدر

محدث ابن جوزی کی کتاب ” الرد علی المعتصب العنید المانع من ذم یزید ” سے تکفیری بہت خار کھاتے ہیں اور ناصبیت کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے۔کیونکہ اس کتاب کے بارے میں جب پاکستان کے اندر 80ء کی دھائی میں یزید کے بارے میں بہت تیزی سے تکفیری پروپیگنڈا عروج پہ تھا اور یزید کو ” جنت کی سند ” دینے کے لئے دلائل گھڑے جارہے تھے تو یہ کتاب بدقسمتی سے اہلسنت کے علماء کے پاس نہ آسکی اور اس زمانے میں اگر محدث ابن جوزی کا حوالہ دیا بھی گیا تو صواعق المحرقہ سے ہی دیا جاتا رہا اور اس پہ تکفیری کیمپ نے یہ رٹ لگائے رکھی کہ یہ کمزور روایت ہے۔مگر حقیقت کب تک چھپی رہ سکتی تھی اور حقیقت سامنے آکر رہی۔ آج یہ کتاب موجود ہے اور اس کتاب سے ناصبیت کی چڑ کی وجہ سمجھ میں بھی آنے والی ہے۔میں نے اس کتاب کا جب مطالعہ شروع کیا تو مجھے اس کی سمجھ آنے لگی کہ کیوں محدث ابن جوزی کی جانب اس کتاب کا انتساب کیا جانا مشکوک بنانے کی کوشش ہوئی ؟ کیوں سبط ابن جوزی یعنی ابن جوزی کے نواسے پہ رافضی ہونے کی تہمت گھڑی گئی اور ان کو اہلسنت سے ہی خارج کرنے کی کوشش کی گئی مطلب قدیم علماء و اکابر میں بھی جو تکفیری دیوبندی اور وہابیوں کی مطابقت میں نہ نکلے وہ شیعہ ہوگیا یا غیر مستند ہوگیا۔اس بات کا جواب میں نے اس مضمون میں آگے چل کر دے دیا ہے۔لیکن ابھی سب سے اہم بات وہ سن لیجئے جسے محدث ابن جوزی نے اپنی کتاب ” الرد علی المتعصب العنید المانع عن ذم یزید ” میں درج کیا اور یہ دلیل ناصبیت کو کھاگئی:
حضرت صالح بن احمد بن حنبل نے اپنے والد احمد بن حنبل سے پوچھا :
ابا جان ایک گروہ کہتا ہے کہ آپ یزید کو برحق خلیفہ مانتے ہو ؟
اس پہ امام احمد بن حنبل نے جواب دیا :
بیٹا جس کا اللہ پہ ایمان ہو وہ یزید کی حاکمیت کیوں مانے گا ؟
تو صالح نے پھر سوال کیا ۔ ” ابا جان! پھر آپ یزید پہ لعنت کرنے سے کیوں منع کرتے ہو ؟
امام نے جواب دیا : بیٹا میں ایسے شخص پہ لعنت سے کیوں منع کروں گا جس پہ لعنت خود قرآن بھیجتا ہو۔
تو بیٹے نے پھر پوچھا ، ابا جان ، قرآن میں کہاں درج ہے اس پہ لعنت کرنے کا حکم ، تو امام احمد نے یہ آیت تلاوت کی:
فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِن تَوَلَّيْتُمْ أَن تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ (222) أُولَٰئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فَأَصَمَّهُمْ وَأَعْمَىٰ أَبْصَارَهُمْ
پھر تم سے یہ بھی توقع ہے کہ اگر تم ملک کے حاکم ہو جاؤ تو ملک میں فساد مچانے اور قطع رحمی کرنے لگو۔یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے پھر انہیں بہرا اور اندھا بھی کر دیا ہے۔
امام احمد بن حنبل کی اس روایت میں قرآن مجید سے دلیل لائی گئی اور یہ اتنی واضح دلیل ہے کہ اس کے سامنے ٹھہرنا ممکن نظر نہیں آتا اور مجھے علامہ سید محمود آلوسی کی بات بہت وزنی لگتی ہے کہ یزید پہ لعنت نہ کرنے والوں میں یا تو وہ علماء قدیم شامل تھے جن پہ دلائل و شواہد پوری طرح واضح نہ ہوئے یا پھر محض منافق اس بات سے انکار کرتے ہیں اور تکفیریوں کے باب میں منافقت کا قول ہی ٹھیک ہے۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم اور اہل بیت سے عداوت رکھنے والے یا بنو امیہ کے حاکموں کی محبت میں مبتلاء رہنے والوں کا المیہ یہ رہا ہے کہ انہوں نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ جمہور اہلسنت کی فکری اور علمی تاریخ کو ایسے مسخ کریں کہ پڑھنے والے کو معلوم ہی نہ ہو کہ کیسے اہلسنت کے عظیم اکابر اور علماء و دانش وروں کی تاريخ کو مسخ کردیا گیا ہے اور اسے عین آل سعود کی دم بھرنے والی مذہبی اسٹیبلشمنٹ کی فکر کے مطابق کردیا گیا ہے۔جب سے پاکستان میں سپاہ صحابہ پاکستان کا ظہور ہوا ہے تب سے یہ کوشش ایک باقاعدہ منظم تحریک میں بدل گئی ہے۔اور تکفیری فاشزم کا ایک بنیادی اور نمایاں وصف یہ ہے کہ یزید کے جرم کی سنگینی کم سے کم کی جائے بلکہ اسے مسلمانوں کا جائز حکمران اور اس کے مدمقابل حضرت امام حسین کو ایک باغی کے روپ میں پیش کیا جائے۔اگر یزید کو اچھا حکمران نہ ثابت کیا جاسکے تو پھر اسے قتل حسین سے بری کرایا جائے اور یہ بھی نہ ہو تو اس کو فاسق تو کہا جائے مگر سکوت کو فرض کہہ دیا جائے مگر جو اس پہ لعنت کرے اس کو زبردستی خاموش کرانے کی کوشش کی جائے۔میں تاریخ کے مختلف ادوار میں یزیدیت کے بارے میں مسلم معاشروں کے رجحان کا جائزہ لے رہا تھا تو میرے سامنے بنوعباس کا مابعد امام احمد بن حنبل کا دور سامنے آگیا۔یعنی 5ویں صدی ہجری سے 6 ھجری کے درمیان کا دور۔اس زمانے میں جمال الدین عبدالرحمان بن علی بن محمد القرشی التیمی البکری جو کہ ابن جوزی کے نام سے مشہور ہوئے جن کی پیدائش بغداد یا بصرہ کے محلہ جوزیہ میں ہوئی تھی اور اپنے وقت کے بہت بڑے محدث اور بڑے حنبلی فقیہ تھے کی کتاب ” الرد علی المتعصب العنید المانع من ذم یزید ” یعنی اس متعصب سخت دشمن کے رد میں جو یزید کی مذمت کرنے سے منع کرتا ہے سامنے آگئی۔
محدث ابن جوزی کا تذکرہ درج ذیل کتب میں موجود ہے :
مرآۃ الجنان الیافعی جلد 4 ص 489 مطبوعہ مکتب دار العلمیۃ بیروت
وفیات الاعیان ابن خلیکان جلد تین صفحہ ایک سو چالیس
الذیل علی طبقات حنابلۃ ابن رجب جلد 1 صفحہ تین سو ستانوے
سیر اعلام النبلاء الذھبی جلد 21 صفحہ تین سو پینسٹھ
العبر الذھبی جلد 4 صفحہ دو سو ستانوے
محدث ابن جوزی نے یہ کتاب کیوں لکھی ؟ جیسا کہ محدث ابن جوزی نے خود بتایا اور ابن رجب و ذہبی نے بھی یہ واقعہ ذکر کیا ہے جسے میں یہاں بیان کرنا لازم خیال کرتا ہوں:
محدث ابن جوزی کی مجلس سجی ہوئی تھی جب کچھ لوگوں نے آپ سے سوال کیا ، ” کیا یزید پہ لعنت لعنت کرنا جائز ہے؟” یہ سوال اس زمانے میں کیا گیا جب بغداد کے اندر حنابلہ کے اندر ایک شدت پسند گروپ سامنے آچکا تھا اور اس گروپ میں ہی ایسے لوگ موجود تھے جو نہ صرف یزید پہ لعنت سے منع کرتے بلکہ اس گروہ کے لوگ ایسا کرنے والوں کے خلاف عباسی خلیفہ کے کان بھی بھرتے تھے۔یہ ابتدائی عباسی دور سے خاصا مشکل دور تھا اور اس زمانے میں یزید کی مذمت کرنے اور اس کے خلاف سرعام مجالس میں بولنے سے مراد یہ لے لی جاتی تھی کہ ایسا کرنے کا مقصد عباسی بادشاہت کو کمزور کرنا ہے۔محدٹ ابن جوزی نے اس سوال کے جواب میں ذرا درمیانی راہ والا جواب دیا۔آپ نے فرمایا کہ خاموشی زیادہ بہتر ہے ، تو سوال کرنے والوں نے کہا کہ یہ تو ان کو پتہ ہے یہ بتلائیے کہ یزید پہ لعنت کرنا جائز ہے کہ نہیں ؟اس پہ محدث جوزی نے ایک اور طریقے سے گیند دوبارہ سوال کرنے والوں کی کورٹ میں پھینک دی :
"ایک ایسا حاکم جو تین سال حکومت میں رہا ہو اور اس نے پہلے سال امام حسین کو شہید کیا ،دوسرے سال اس نے اہل مدینہ کو ڈرایا اور تیسرے سال اس نے کعبہ پہ منجنیق سے پتھر برسائے اور اسے کو گرایا ہو تو تم کیا کہو گے اس کو ؟ لوگوں نے نے کہا ، ” ہم اس پہ لعنت کریں گے ” تو محدث ابن جوزی نے کہا کہ تب پھر یزید پہ لعنت کرو اس نے یہ سب کام کئے تھے۔اس پہ ابن جوزی کی مجلس میں ایک گروہ لوگوں کا بیٹھا تھا وہ ان کی مجلس سے ناراض ہوکر چلا گیا اور وہ سب کے سب ایک اور متشدد اور ظاہر پرست عبدالمغیث بن زھیر بن علوی الحربی البغدادی جو کہ 500 ھجری میں پیدا ہوا تھا کے پاس گئے اور اس نے ابن جوزی کے قول کے رد میں ایک کتاب ” فضائل یزید ” کے نام سے لکھی۔یہ کتاب اس گروہ نے بغداد سمیت عباسی سلطنت کے کافی حصوں میں پھیلائی اور اس کی جب شہرت ہوئی تو محدث ابن جوزی نے اس کتاب کا رد لکھا اور اس کا نام ” الرد علی المتعصب العنید المانع من ذم یزید ” رکھا۔
پاکستان میں دیوبندی اور اہلحدیث کے اندر تکفیری ، ناصبی اور خارجی نیز محبان بنوامیہ کا خیال یہ ہے اور تھا کہ پاکستان میں اردو پڑھنے والوں کو محدث ابن جوزی کا کیا پتا ہوگا ؟ اور انھوں نے ایک افسانہ گھڑ لیا اور کہا یہ کہ مذکورہ کتاب نہ تو محدث ابن جوزی نے لکھی اور نہ ہی یہ کتاب ان کی ہے بلکہ اسے ان کے نواسے نے غلط طور پہ ان سے منسوب کردیا اور سبط ابن جوزی کے بارے میں یہ بات پھیلادی کہ وہ رافضی ہوگئے تھے۔جبکہ یہ سبط ابن جوزی پہ سراسر یہ بہتان تھا اور محدث ابن جوزی کی اس کتاب کا تذکرہ
ابن اثیر نے اپنی الکامل التاریخ کی جلد 11 ، ص 5622، ابن کثیر نے البدایہ والنھایۃ کی جلد 8 ص 223 اور ابن تیمیہ نے کتاب منھاج السنۃ کی جلد 4 ص 574 ،حافظ ابن رجب حنبلی نے الذیل علی طبقات الحنابلۃ کی جلد 1 ص 356 اور اسی جلد کے ص 418 پہ کیا اور ذہبی نے سیر اعلام النبلاء کی جلد 21 ص 160 ، ابن حجر الہتیمی نے الصواعق المحرقۃ کے صفحہ 262 اور حاجی خلیفہ نے کشف الظنون کی جلد 1 ص 139 ، اسماعیل پاشا نے ہدیۃ العارفین جلد 1 ص 521 اور الخوانساری کی روضات الجنات جلد 5 ص 36 ، عبدالحمید العلوجی نے مولفات ابن جوزی کے ص 103 میں کیا۔ابن اثیر،ابن کثیر اور ابن تیمیہ نیز ذہبی نے محدث ابن جوزی کے تذکرے میں ان کی کتاب کا نام نہیں لکھا مگر یہ ضرور بتایا کہ کہ انھوں نے یزید پہ لعنت کے جواز میں ایک باقاعدہ کتاب تحریر کی تھی جبکہ باقی سب نے کتاب کا نام بھی درج کیا۔عمر رصا کحالہ نے اس کتاب کو فاش غلطی کرتے ہوئے الٹا عبدالمغیث کی کتاب بتلادیا تھا۔
ابن تیمیہ نے اگرچہ منھاج السنۃ میں کئی جگہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے فضائل کا انکار کیا ہے اور کئی جگہوں پہ اس نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے افعال پہ تنقید کی ہے لیکن یزید کے بارے میں اس کے منہ سے بھی حق بات نکل گئی اس نے لکھا :
ان ھناک من یظن بیزید انہ کان رجلا صالحا و امام عدل و انہ کان من الصحابۃ الذین ولد و اعلی عہد النبی وقال ان ہذا من الضلال
تو یہاں جو یزید کے بارے میں یہ گمان کرے کہ وہ نیک آدمی ، عادل امام ، ان صحابہ کی اولاد تھا جو عہد نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ميں پیدا ہوئے تو ایسا شخص گمراہ ہے
مولوی محمود عباسی فاضل دارالعلوم الاسلامیہ عربیہ بنوری ٹاؤن کراچی نے واقعہ کربلاء اور سیدنا یزید کے نام سے جو کتابیں تحریر کیں جن میں یزید پہ لکھی کتاب کا مقدمہ مولوی عبداللہ خطیب لال مسجد والد مولوی عبدالعزیز اور تقریظ مولوی غلام اللہ خان بانی جامعہ تعلیمات القرآن راجہ بازار راولپنڈی والد موجودہ مہتمم مدرسہ مولوی اشرف علی نے لکھی تھی اور یہ جنرل ضیاء الحق کے دور میں چھپی تھی اور اس پہ بہت شور ہوا تو پابندی لگادی گئی تھی مگر اس کتاب میں مواد ایک طرف عبدالمغیث کی کتاب فضائل یزید سے لیا گیا اور دوسری طرف ” العواصم من القواسم سے لیا گیا تھا اور آخر الذکر کتاب ایک اندلسی مولوی نے بنوامیہ کے حاکموں کو خوش کرنے کے لئے لکھی تھی اور اس کے بارے میں شیخ ابن تیمیہ کے ہی ہم عصر ذہبی نے لکھا کہ اس کتاب میں ٹھیک اور غلط دونوں ہی بھردیئے گئے اور غلط تعبیرات و تشریحات کی گئیں۔جبکہ عبدالمغیث کی کتاب بارے ابن اثیر نے اپنی تاریخ الکامل کی جلد 11 ص 562 پہ لکھا
اتی فیہ العجائب ۔۔ اس میں عجیب چیزیں آگئیں
ابن کثیر نے البدایہ والنھایہ کی جلد 12 ص 328 پہ لکھا
اتی فیہ باالغرائب والعجائب ،و قد رد علیہ ابن الجوزی فاجاد واصاب
اس میں عجیب و غریب چیزیں لائی گئیں تو اس کا رد ابن جوزی نے لکھا اور بہت جید اور ٹھیک جواب لکھا
ذہبی نے کتاب ” العبر ” کی جلد 4 ص 294 اور سیر اعلام النبلاء کی جلد 21 ص 1600 پہ لکھا
اتی فیہ الموضوعات ۔۔ اس میں گھڑی ہوئی چیزیں آئی ہیں ۔۔۔العبر
اتی بعجائب و اوابد لو لم یولف لکان خیرا ۔۔۔۔ عجائب آئے اس میں اور دور از قیاس چیزیں بھی اور اگر وہ اسے نہ ہی لکھتا تو بہتر رہتا ۔۔۔ سیر اعلام النبلاء
عبدالمغیث آج کے تکفیریوں کی طرح بادشاہوں کی چاپلوسی کرنے والا تھا۔جیسے آج تکفیری آل سعود سے ریال لیتے اور ہر پاکستانی حکومت کو بلیک میل کرتے یا ان کے لئے اپنی خدمات پیش کرتے رہتے ہیں ایسے ہی عبدالمغیث کا حال تھا۔ابن رجب حنبلی نے لکھا ہے کہ ایک مرتبہ اس وقت کا عباسی بادشاہ ناصر المستضی ابو عباس امام احمد بن حنبل کی قبر کی زیارت کررہا تھا کہ اس نے عبدالمغیث کو بھی وہاں دیکھا اور اسے پہچاننے کے بعد اس سے پوچھ لیا : ” کیا تم وہی عبدالمغیث ہو جس نے یزید کی تعریف میں کتاب لکھی ہے ؟” اس چالاک مولوی نے فوری پینترا بدلا اور کہا معاذ اللہ میں یزید کے مناقب کیوں لکھوں گا ؟ میں نے تو بس یہ لکھا کہ وہ فاسق تھا مگر مسلمانوں کا خلیفہ تھا اسے اقتدار سے الگ کرنے کی کوشش کرنا غلط ہے۔اگر میں ایسا نہ لکھتا تو لوگ آپ کے افعال کو بہانہ بناکر آپ کی حکومت کے درپے ہوجاتے،یہ سنکر عباسی حاکم خوش ہوگیا اور اس نے کہا تب تو ٹھیک ہے۔
حافظ ابن رجب نے یہ واقعہ درج کرنے کے بعد لکھا ہے کہ عبدالمغیث نے غلط بیانی کی اس نے اپنی کتاب کا نام ہی فضائل یزید رکھا جس سے ظاہر تھا کہ اس نے یہ کتاب یزید کی تعریف میں لکھی۔
حافظ رجب یا اور کوئی تاریخ کا مصنف اس وقت یہ لکھنے کی ہمت نہ کرسکا کہ عباسی حاکم نے بھی جان بوجھ کر عبدالمغیث کا موقف مان لیا کیونکہ عبدالمغیث نے درپردہ اصل میں عباسی حاکم کو یہ باور کرانے کی کوشش کی تھی کہ اگر یزید پہ ان کو سچ لکھنے پہ مجبور کیا گیا تو عباسیوں کی اپنی حکومت خطرے میں پڑجائے گی۔اور کوئی بھی ملوک چاہے وہ عباسی ہو یا سلجوق یا مغل ہو یا کوئی افغان یا تورانی وہ کیوں چاہے گا کہ ملوکیت کے بارے میں سچ لکھا جائے۔
محدث ابن جوزی نے اپنی کتاب کے آغاز میں ہی لکھا ہے کہ :
"عبدالمغیث کو نہ منقولات کا فہم ہے اور نہ ہی معقولات کا وہ تو بس حدیث پڑھتا ہے اور پڑھاتا ہے لیکن اسے زرا تمیز نہیں کہ صحیح کو سقیم سے ، مقطوع سند کو موصول سے ، قول تابعی کو قول صحابی سے اور ناسخ کو منسوخ سے الگ کرسکے اور اگر دو بظاہر متضاد موقف کی احادیث آجائیں تو ان کو جمع کیسے کرنا ہے اور ان میں موافقت کیسے پیدا کرنی ہے یہ بھی اسے پتا نہیں ہے”۔

Views All Time
Views All Time
694
Views Today
Views Today
2
Previous
Next

One commentcomments

  1. ما شااللہ

جواب دیجئے

%d bloggers like this: