Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

پاکستان کا الٹرا کنزرویٹو ازم کی جانب جھکاؤ کیسے سعودی علاقائی سیاسی مقاصد کے لئے فائدہ مند ہے؟ (1) – ترتیب و ترجمہ : مستجاب حیدر

by اپریل 25, 2017 کالم
پاکستان کا الٹرا کنزرویٹو ازم کی جانب جھکاؤ کیسے سعودی علاقائی سیاسی مقاصد کے لئے فائدہ مند ہے؟ (1) – ترتیب و ترجمہ : مستجاب حیدر

جیمز ایم ڈورسے راجا رتنم انٹرنیشنل سکول آف اسٹڈیز آف نیانگ ٹیکنالوجی یونیورسٹی سنگاپور کے سینئر فیلو ہیں اور انھوں نے حال ہی میں ایک انتہائی فکر انگیز تحقیقی مضمون لکھا ہے جو پاکستان کے انتہائی قدامت پرستی کی جانب جھکاؤ اور اس میں سعودی عرب کے کردار کا جائزہ لیتا ہے۔مستجاب حیدر نے اس کا ایک خلاصہ پیش کیا ہے جسے قسط وار شائع کیا جارہا ہے۔اصل مضمون کا لنک اور مضمون کے حوالہ جات آخری قسط میں شامل کردئے جائیں گے۔ادارہ
جیمز ڈورسے کہتے ہیں
"سعودی فنڈنگ 400 سال کے عرصے پہ پہلی ایک طویل پبلک ڈپلومیسی کمپئن ہے اور اپنی طرز کی یہ سب سے لمبی کوشش ہے جس نے نہ صرف پاکستانی معاشرے کے کئی اہم حصوں کو الٹرا کنزرویٹو،انتہائی قدامت پرست بنانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے بلکہ اس نے حکومت اور ریاست کے بنیادی حصوں کو بھی الٹرا کنزرویٹو بناڈالا ہے۔اور ایسا ماحوال پیدا کیا ہے کہ یہ الڑا کنزرویٹو سوچ ان جگہوں پہ مستحکم رہے، اس کی پہنچ اور بڑھے اور ایسے انسٹی ٹیوشن/ادارے پھلے پھولیں جو معاشرے کے خاص گروپوں کو اپنا ہدف بنائیں۔اس نے ایسے اداروں کا قیام بھی ممکن بناڈالا ہے جو ضروری نہیں ہے کہ مالیاتی طور پہ سعودی عرب کے محتاج ہوں یا براہ راست منسلک ہوں بلکہ وہ آئیڈیالوجی میں سعودی ریاست سے اشتراک رکھتے ہیں۔پاکستانی حکومت کی پالسیوں اور سعودی حوصلہ افزائی کے سبب کی وجہ سے کوئی سماجی گروپ یا طبقہ ایسا نہیں ہے بشمول پاکستان کی سیاست اور فوج جو اس الٹر کنزرویٹو ازم کے پھیلاؤ کی مہم کا نشانہ نہ بنی ہو”۔
جیمز ڈورسے الٹرا کنزرویٹو ازم کو پاکستان کی مڈل اور اپر مڈل کلاس عورتوں میں پھیلانے والے سعودی آئیڈیالوجی سے متاثر اداروں میں الھدی انٹرنیشنل ویلفئیر فاؤنڈیشن کی مثال پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
” الھدی انٹرنیشنل ویلفئیر فاؤنڈیشن، ایک مذہبی تعلیمی ادارہ ہے جس کی شاخیں پاکستان کے کئی ایک شہروں میں ہونے کے ساتھ ساتھ شمالی امریکہ، یورپ اور مڈل ایسٹ میں موجود ہیں۔اور یہ ان اداروں میں نمایاں طور پہ شمار ہوتا ہے جو پاکستانی مڈل اور اپر مڈل کلاس کی خواتین کو اپنی طرف راغب کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ان میں سے بہت سے لبرل لائف اسٹائل کی حامل عورتوں نے اپنے آپ کو بدلا ہے اور مذہب کی انتہائی قدامت پرستانہ تشریح و تعبیر کو اپنایا ہے جو کہ سعودی آئیڈیالوجی کے مماثل ہے جسے الھدی فاؤنڈیشن اسلام کی سچی اور واحد حقیقی آئیڈیالوجی قرار دیتا ہے۔ایسا کرتے ہوئے یہ ادارہ نہ صرف پاکستانی معاشرے کو انتہائی قدامت پرستی کی جانب دھکیلتا ہے بلکہ ایک ایسے عالمی نکتہ نظر کو اپنانے کی جانب بھی ارادی یا غیر ارادی طور پہ مجبور کرتا ہے جو سعودی علاقائی سیاسی مقاصد کو ایسے ملک میں پورا کرنے میں کام آتے ہیں جو کہ مڈل ایسٹ، جنوبی اور وسطی ایشیاء کے سنگم میں قائم ہے۔اس ادارے کی ڈائریکٹر 60 سالہ فرحت نسیم ہاشمی پاکستان کی جماعت اسلامی سے تربیت یافتہ ہیں اور سید مودودی کی آئیڈیالوجی سے انھوں نے آغاز کیا تھا اور وہ اب پاکستان کے اندر موجود مذہبی تقسیم میں ایک نمایاں کردار کی حامل ہیں۔اپنے پیروکاروں کے لئے وہ انسپائریشن کا سبب ہیں جس نے ان کی زندگیوں کو ایک ایسے راستے پہ ڈالا جو ان کی حقیقی نجات کا سبب بنے گا اور یہ راستہ وہی اسلام کی انتہا پسندانہ قدامت پرستی پہ مبنی (وہابی) تعبیر ہے۔جبکہ ان کے مخالف اس کو سعودی عرب سے آنے والی مذہبی جنونیت اور عدم برداشت کو پھیلانے والی ایک عاملہ کے سوا کچھ نہیں سمجھتے۔ہاشمی کے ناقد الزام لگاتے ہیں کہ وہ پاکستان کی اپر اور مڈل کلاس میں ایسی انتہا پسندانہ قدامت پرستی کو پھیلا رہی ہیں جس سے ریڈیکلائزیشن کے لئے ماحول سازگار ہوتا ہے”۔
پاکستانی صحافی اعزاز سید جن کا فوکس اسلامی عسکریت پسندی اور اس موضوع پہ انہوں نے ایک اہم کتاب لکھی ہے کہتے ہیں،” وہ انتہا پسندی پھیلاتی ہے، اس میں تو کوئی شک نہیں ہے۔وہ مذہب کو جہاد سکھانے کے لئے پڑھاتی ہے۔وہ منافرت انگیز خطابت میں ملوث ہے”۔
فرحت نسیم ہاشمی جو کہ لمبے قد کی اور قدرے فربہ خاتون ہیں جو اپنے آپ کو مکمل طور پہ سعودی برقعے میں چھپائے رکھتی ہیں جن سے صرف ان کی آنکھیں دکھائی دیتی ہیں جن پہ موٹے شیشوں کی عینک لگی ہے۔وہ اپنے اوپر لگنے والے الزامات کا دفاع کرتی ہیں اور اس پہ حیران ہوتی ہیں(اس سادگی پہ کون نا مرجائے)۔
” میں حیران ہوں کہ لوگ ایسی چیزیں کہاں سے نکال لاتے ہیں۔ہماری تدریسی کلاسوں میں کوئی سیاست نہیں ہوتی۔سیاست میرا شعبہ نہیں ہے۔میں تو گھر اور دل میں سکون پہ کام کرتی ہوں۔میں لوگوں کو اپنی سیرت کی اچھی تعمیر اور اچھے رہ کر زندگی گزارنا سکھاتی ہوں۔یہ بات مجھے پریشان کرتی ہے کہ دنیا میں امن نہیں ہے۔مجھے سمجھ نہیں آتا کہ لوگ باہم جھگڑتے کیوں ہیں؟مجھے جو سکون قلب ملا میں اسے دوسروں کے ساتھ شئیر کرنا چاہتی ہوں”۔
وہ حیران کن طور پہ 19744ء میں مبینہ طور پہ سعودی حمایت کے نتیجے میں پاکستانی آئین میں کی جانے والی دوسری ترمیم سے اختلاف کرتی ہیں جوکہ سنّی و شیعہ مسلمانوں کے جمہور کی رائے سے یکسر مختلف بھی ہے ان کا کہنا ہے:
"احمدیوں کو عقیدہ ختم نبوت سے انکار کے سبب کافر سمجھا جاتا ہے لیکن میرے خیال میں ان کو یہ حق ہے کہ وہ خود کو کیا کہتے ہیں”۔
جیمز ڈورسے پاکستان کے اندر سعودی اثر ورسوخ کی تاريخ کا جائزہ لیتے ہوئے لکھتے ہیں
سعودی عرب نے پاکستان پر اپنا پہلا واضح دباؤ 19533ء میں ڈالا جب اس نے لاہور میں احمدی مخالف فسادات کے الزام میں موت کی سزا پانے والے مسلم لیڈروں کی سزا پہ عمل درآمد روکنے کے لئے مداخلت کی۔احمدیوں کی ایک بڑی تعداد ان حملوں میں ماری گئی تھی اور یہ حملے آج تک نہیں رکے ہیں”۔
فرحت ہاشمی حیرت انگیز طور پہ کہتی ہیں:
” ہر آدمی کو حق ہے کہ دوسروں کے معاملات میں مداخلت کئے بغیر اور دوسروں کو نقصان پہنچائے بغیر وہ اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارے۔۔ اگر ایک احمدی اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے تو یہ اس کا ذاتی معاملہ ہے”
جب ہاشمی کے ریکارڈ لیکچرز ، الھدی فیکلٹی کی تعلیمات اور اس کے سابق طلباء کے نظریات وغیرہ کے ریکارڈ کا جائزہ لیا جاتا ہے تو ہاشمی جس لبرل اظہار کے ساتھ ہمارے سامنے آتی ہے اس کی تصدیق ہوتی ہی نہیں۔بلکہ یہ لبرل اظہار ان کے ریکارڈ سے ٹکراتا ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ فرحت نسیم ہاشمی جیسی الٹرا کنزرویٹو ازم کی مبلغات اور مبلغوں کی جانب سے بنیادی آزادیوں کی لبرل تشریح پاکستان میں اس عدم برداشت کے خلاف بننے والی فضاء ہے جو کہ افراد اور ہجوم کی جانب سے قانون اپنے ہاتھ میں لینے اور توہین کا الزام لگاکر لوگوں کو مار دینے کے سبب پیدا ہوئی ہے۔فرحت نسیم ہاشمی خود کو اور اپنے ادارے کی سعودی عرب سے کسی قسم کی وابستگی کی نفی کرتی ہیں۔وہ یہاں تک کہتی ہیں کہ ان کو یہ بھی پتا نہیں ہے کہ محمد بن سلمان کون ہے؟ یہ بات انہوں نے تب کہی جب ان کو بتایا گيا کہ سعودی ولی عہد و وزیر دفاع محمد بن سلمان اپنے ملک میں محدود سماجی و معاشی اصلاحات کے خواہاں ہیں۔تو انہوں نے برجستہ کہا:
"محمد بن سلمان کون ؟”۔
فرحت نسیم ہاشمی سے جب جیمز ڈورسے نے ملاقات کا وقت مانگا تو انہوں نے بتایا کہ وہ غیر محرم مرد سے اسی صورت یں ملیں گی جب ان کا محرم مرد موجود ہوگا۔تو جیمز ڈورسے سے وہ اپنے داماد عاطف اقبال کی موجودگی میں ملیں جو کہ پاکستانی نیول کمانڈر ہے اور الھدی فاؤںڈیشن بورڈ کا ممبر ہے۔
جیمز ڈورسے کہتے ہیں کہ یہ بھی سعودی قانون کے مطابق ہے جو فرحت ہاشمی نے کیا۔جبکہ جیمز ڈورسے نے فرحت ہاشمی سے وہابیت کے بارے میں سوال کیا تو فرحت ہاشمی نے ایک بار پھر لا علمی اور بے خبری کا مظاہرہ کیا۔فرحت ںسیم ہاشمی نے کہا:
” میں کسی خاص فقہ یا امام کی تقلید نہیں کرتی۔جب لوگ وہابیت کے بارے میں بات کرتے ہیں تو مجھے اس کی بالکل سمجھ نہیں آتی۔میں کبھی کسی مدرسے میں نہیں گئی۔اور نہ ہی میں ایسے لوگوں سے ملی جن کو وہابی کہا جاتا ہے”
پاکستان میں الٹرا کنزرویٹو ازم پہ نظر رکھنے والے تجزیہ کار کہتے ہیں کہ مذاہب اربعہ میں سے کسی ایک مذہب کی تقلید کے انکار کو منظم طریقے سے ان لوگوں نے پھیلایا جو سعودی عرب کے زیر اثر سلفی ازم سے متاثر ہیں۔
جیمز ڈورسے نے جب بعض ایسے سلفی مذہبی سکالرز سے ملاقات کے بارے میں فرحت ہاشمی سے پوچھا جن میں سعودی مذھبی یونیورسٹی کے بعض اساتذہ کے نام بھی شامل تھے جو کہ جیمز ڈورسے کی نظر میں اسلام کے بارے میں اس کی اکیڈمک اسٹڈی پہ اثر انداز ہوئے ہوں تو فرحت ہاشمی نے یہ تسلیم کیا کہ وہ ایسے سکالرز سے اردن،شام، ترکی اور مصر میں ملی تھیں۔ہاشمی ایام حج و عمرہ یا اپنی بیٹی سے ملنے کے لئے سعودی عرب جانے کے موقعہ پہ سعودی سلفی سکالرز سے ملاقاتوں سے انکاری ہیں۔ان کے داماد عاطف اقبال نے ای میل کے ذریعے جیمز ڈورسے کو بتایا کہ آپ کو پہلے ہی پتا ہوگا کہ اکثر سعودی علماء عورتوں سے براہ راست ملاقات نہیں کرتے۔
جیمز ڈورسے کے مطابق فرحت نسیم ہاشمی چاہے کتنا ہی انکار کریں یہ بات یقینی ہے کہ فرحت زمانہ ظالب علمی سے ہی کئی ایک نمایاں الٹراکنزرویٹو ازم کے علمبردار سکالرز سے رابطے میں تھیں اور ان میں سے کئی پر تو جہادی عسکریت پسندوں کے لئے ہمدردیوں کے الزام ہیں۔ذاکر نائیک ایک متنازعہ ہندوستانی سکالر جوکہ دنیا کا سب سے بڑا اور نمایاں سلفی ٹیلی ويژن مقرر خیال کیا جاتا ہے اور جس نے اسامہ بن لادن کی حمایت کی اور سیاسی تشدد کو ٹھیک قرار دیا اور اس نے یوٹیوب پہ آنے والی ایک ویڈیو میں یہ اعتراف کیا کہ وہ اکثر فرحت نسیم ہاشمی اور اس کے شوہر ادریس زبیر سے رابطے میں رہتا ہے۔
الھدی کے اساتذہ اکثر اپنے لیکچرز کے دوران سعودی علماء کے فتاوے اور مذہبی آراء کو بطور مثال اور نظیر کے پیش کرتے ہیں۔
فرحت نسیم ہاشمی جو چار بچوں کی ماں ہیں،وہ صرف لبرل لوگوں میں متنازعہ نہیں ہیں بلکہ ان کے خلاف انتہائی قدامت پرست مرد علماء کی جانب سے بھی ردعمل دیکھنے کو ملتا ہے۔یہ قدامت پرست مرد مولوی اس پہ بدعتی ہونے کا الزام لگاتے ہیں اگرچہ وہ خود بھی بدعت کو مسترد کرنے کا پرچار بڑے پیمانے پہ کرتی ہیں۔ایسے معاملات جو جمہور سنّی اسلام کے اندر جائز خیال کئے جاتے ہیں وہابی ازم اور دیوبندی ازم ان کو بدعت گردانتے ہیں۔قدامت پرست سلفی اور دیوبندی علماء میں ایسے لوگ موجو ہیں جو فرحت کو اس لئے بدعتی کہتے ہیں کہ وہ عورتوں کو قرآن و حدیث کی خود تشریح کرتے ہوئے مجتہد کے منصب پہ فائز کرتی ہے۔
پاکستان کی مردبالاستی کی حامل انتہائی قدامت پرستانہ مذہبی اسٹبلشمنٹ فرحت ہاشمی کو مرد بالادست مذہبی تسلط کے خلاف خطرہ خیال کرتی ہے لیکن یہ مانتی ہے کہ فرحت نے پاکستانی اشرافیہ کے اندر کافی اثر ورسوخ حاصل کرلیا ہے۔اور اس اسٹبلشمنٹ کے ںزدیک فرحت کا ادارہ سعودی سافٹ پاور کو مضبوط کرنے میں اہم تر ثابت ہوا کیونکہ یہ ادارہ سعودی حمایت یافتہ آئیڈیالوجی کو ہی آگے بڑھا رہا ہے۔فرحت ہاشمی کہتی ہیں:
"میں ان کی (سعودیوں) کی پیروی نہیں کرتی۔میں تو کتاب اللہ کی پیروی کرتی ہوں۔ہم قرآن و سنت دونوں کی پیروی کرتے ہیں اور شرک کو رد کرتے ہیں”۔
فرحت ہاشمی 12 بہن بھائیوں میں سب سے بڑی ہیں اور انھوں نے 19944ء میں الھدی ویلفئیر فاؤنڈیشن کو قائم کیا۔اور آج اس کی درجنوں شاخیں پاکستان اور پاکستان سے باہر قائم ہیں۔فرحت ہاشمی کے والدین جماعت اسلامی کے سرگرم کارکن تھے تو بچپن سے ہی ان سب بہن بھائیوں کو مودودی ازم اور وہابیت کی فکری غذا ملتی رہی۔
فرحت ہاشمی نے بھی اسلامی جمعیت طالبات سے آغاز کیا اور پھر جلد ہی وہ اس تنظیمی سیاست سے بے زار ہوگئیں جہاں موقعہ اور وقت پہ اصولوں کی قربانی دینا پڑتی تھی۔وہ کہتی ہیں:
"میں یہ سب دیکھ کر ششدر رہ گئی ،مجھے شاک لگا اور میں سوچا کہ جہاں میرا دل نہیں ہے وہاں میرا ہونا بنتا نہیں”
اس کے والد ایک ہومیوپیتھک ڈاکٹر تھے جو کہ صبح سویرے اپنے بچوں کو خود قرآن اور اسلام کے بنیادی اصول سکھاتے اور پھر اسکول بھیجتے اور خود کام پہ چلے جاتے۔
ہاشمی کہتی ہیں:
"میرے والد مذہبی تھے لیکن وہ روایتی مولوی نہ تھے۔وہ کشادہ ذہن تھے۔انہوں نے ہمیں جدید اسکول اور جامعات میں پڑھنے کو بھیجا۔وہ ہمیں اپنی سوچ کے ساتھ دنیا دیکھنے کی اجازت دینے والے تھے۔ہم پہ کسی چیز کا جبر نہیں تھا۔میں ان سے بار بار سوال کرتی رہتی کیونکہ مجھے قرآن کے بارے میں بہت کم پتا تھا لیکن بتدریج مجھے پتا لگنا شروع ہوگیا اور مجھے یہ اچھا لگنے لگا۔اس نے میرے دل کو چھو لیا،میں نے پھر تدریس شروع کی اور اپنا تجربہ دوسروں تک منتقل کرنا شروع کردیا۔

Views All Time
Views All Time
375
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

جواب دیجئے

%d bloggers like this: