Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

کافر کہیں کے

by ستمبر 27, 2016 بلاگ
کافر کہیں کے
Print Friendly, PDF & Email

anees-hansعید سے ایک دن پہلے روزنامہ جنگ ملتان ایڈیشن کی خبر پڑهی سانحہ بلدیہ ٹاؤن کراچی کی یاد تازہ ہو گئی۔

آگ کے شعلے ، راستے سب بند پلاننگ کے تحت۔ اندر مزدور کچھ تنخواہوں پر تو کچھ دیہاڑی پر۔
مرد و عورت لڑکے اور لڑکیاں۔ ۔۔ سب حالات کے مارے ہوئے پاپی پیٹ کی آگ بجهانے کی تگ و دو میں ۔ پیٹ کی آگ کیا بجهتی باہر کی آگ کے شعلے جلانے لگے۔
پہلے دهواں دم لینے لگا جو اس سے بچ گئے انہیں تپش پگهلا گئی جو اس سے بهی بچ گئے وہ شعلوں کی خوراک بن گئے ۔ جو ان سے علیحدہ نچلی منزل میں تهے انہیں وہ پانی جو آگ بجھانے میں استعمال ہوا تاکہ ان کی زندگیاں بچائی جا سکیں وہی پانی ابل گیا اور ان پهنسے ہوئے بیچاروں کی صرف ہڈیاں ہی اس پانی سے بچ گئیں۔
کهال ،گوشت، دل۔۔۔ جس میں نا جانے کیا کیا ارمان تهے، دماغ جن میں کیا کیا سوچیں تهیں ۔ آنکھیں جو نا جانے کن کن کو دیکهنے کی مشتاق تهیں۔ کان جو کسی خاص آواز کے منتظر ہوں گے۔زبان جو کسی کے کو میٹهے بول سنانا چاہتی ہوگی۔معدہ جو خواب اچهی خوراک کے دیکهتا ہوگا۔۔ ٹانگیں جن پر چل کر کسی کے پاس جانے کی خواہش ہوگی۔ظالم ابلتا ہوا پانی جو جان بچانے کے بہانے فائر بریگیڈ کی گاڑیوں میں سفر کر کے ملک الموت کے ساتھ آیا اور سب کچھ کها گیا۔
بهلا جان بچانے والے بهی جان لیتے ہیں؟
مگر یہاں تو ایسا ہی ہوا۔
بڑوں سے سنتے آئے ہیں، قرآن مجید، احادیث اور کتابوں میں یہی درج ہے کہ قیامت تو موت کے بعد آئے گی۔ مگران مظلوموں نے تو قیامت زندگی میں ہی دیکهی ۔ جان دینے سے پہلے تڑپتے ہوئے ،بلکتے ہوئے، چیخ و پکار کرتے ہوئے، کہتے ہوں گے کہ یا رب تو تو کہتا تها کہ روز جزا والے دن ہی قیامت ہو گی، سزا حساب کتاب کے بعد ملے گی، مگر تیری رحمت سزا سے پہلے غالب آئے گی۔ مگر یہاں تو نہ جرم بتایا نا حساب کتاب ہوا نہ تیری رحمت غالب آئی ۔ ہمیں جہنم میں دهکیل دیا۔پہلے درجے سے لیکر آخری درجہ تک ۔اوپر آگ تهی تو آخری درجہ میں ابلتا ہوا پانی۔
بچاؤ بچاؤ سے شروع ہونے والے مناظر دم دینے سے ہی ختم ہوئے ۔ مگر کئی روح فرسا تصورات زندہ کر گئے۔
کسی کو سہاگ یاد آیا ہوگا تو کسی کو بیوی، کسی کو ماں کی حفاظتی دعا یاد آئی ہوگی تو کسی کو بیمار پیارا،کسی کے تصورات میں دم دینے سے پہلے شادی کے انتظار میں بیٹھی منگیتر تو کسی کو اپنے بعد کفالت کی فکر۔کسی کو بچے یاد آئے ہونگے تو کسی کو باقی رہ جانے والا قرض۔قیامت ہی برپا تهی وہاں پر۔ مگر خالقِ کائنات کی نہیں زمینی خداؤں کی۔

سرکار جب ہوش میں آئی تو موت کا رقص عروج پر تها۔زمینی خدا اپنے ہیڈ کوارٹر میں بیٹهے گنتی کر رہے تھے کہ کتنے گئے ہوں گے کتنے کے بچنے کے چانس ہو سکتے ہیں۔زیر گردش خبروں میں تعداد 1200 تک تهی ۔۔ مگر حکومتی تصدیق 252 سے آگے نابڑهی۔پورا ملک سوگ میں ڈوب گیا۔3 دن تک تو لاشیں ملتی رہیں۔کسی کی ماں بین کرتی تو کسی کی بہن کہیں باپ رلاتا ٹی وی پر آکر تو کہیں بهائی۔مظلوم بهوکے پیاسے فیکٹری کے باہر بیٹھے رہے 3 دن تک۔ جی ہاں حدت تین دن تک کم نہیں ہوئی تھی بلڈنگ کی آگ بجهنے کے 2 دن بعد بهی اور پانی کا ابال بھی۔
لاشیں ناقابلِ شناخت تهیں۔ اندازے سے دی گئی ہوں گی۔جو گهر سے بھاگے ہوئے کام کر رہے تهے ان کے ورثاء آج تک منتظر۔ جن کے شناختی کارڈ نہیں بنے وہ بهی نامعلوم ٹھہرے۔
ہفتوں قوم اس صدمے میں رہی اور قاتل خوش ہوتے رہے۔خدا بهی فریادیں اور بد دعائیں سنتا رہا۔حکمرانوں ،منصفوں اور طاقتوروں کو دیکهتا رہا کہ شاید انصاف یہ دے دیں ۔ مگر کہاں؟ آخر کار رب کا منصفانہ نظام حرکت میں آیا اورطاقت کا پہیہ الٹا گهومنا شروع ہو گیا۔
بدبخت گروہ کے گهر سے ہی بهیدی لڑهکنے شروع ہوئے۔ان کے منہ سے وہ حقیقتیں نکلنی شروع ہوئیں جو خلق کو معلوم تهی مگر اداروں سے اوجهل۔پہلے پتہ بهی اس گروہ کی مرضی کے بغیر نہیں ہلتا تها اور اب پتّا بهی ہلے تو انہیں گرفتاری کا دهڑکا رہتا ہے۔بے شک میرے مالک سے بڑا کوئی منصف نہیں۔

بات چلی تهی روزنامہ جنگ کی خبر سے ۔ جس کے مطابق جرمنی کی کمپنی علی انٹرپرائزر کو 52 کروڑ روپے ہرجانہ ادا کرے گی۔ جی جناب۔
کمپنی کا قصور یہ تها کہ کمپنی نے علی انٹرپرائزر سے مال کا معاہدہ کیا تها پروڈکشن کروا کر خریدنے کا۔صرف خریداری جرم تها اس کافروں کی کمپنی کا۔جرمنی کی حکومت کی درخواست پر کمپنی نے ہرجانہ کے معاہدے پر رضامندی ظاہر کرتے ہوئے دستخط کیے۔کمپنی حادثہ کے فوراً بعد 10 کروڑ روپے پہلے ہی دےچکی تهی۔یہ آرڈر کافروں کو مال کے نقصان کے علاوہ 62 کروڑ میں پڑا۔ ورثاء تک رقم پہنچے نا پہنچے مگر کمپنی دے گی۔

مارنے والے بے گناہ معصوم مسلمان ۔۔۔ ہر جانہ دینے والے گناہ گار کافر

ان کافروں کے مقابلے میں مسلمان کا مسلمان سےحسن سلوک دیکهنا ہوتو سعودی عرب میں پهنسے پاکستانیوں سے قابلِ احترام سعودی کفیلوں کا سلوک دیکھ لیں۔ کتنے ماہ سے بغیر تنخواہ ایک وقت کے کهانے پر وقت گزارہ کر رہے ہیں مگر نیک دل سعودی بهائی ان کے گھروں میں فاقے کروا کر بهی مطمئن نہیں۔یہ سلوک وہ اکیلے نہیں کر رہی پاکستانی سفارت خانہ چشم پوشی کر کے برابر کا ساتهی ہے۔
یہ میڈیا شور نا مچاتا تو ان کی سستی قبریں وہیں بنتیں۔

مسلمان بهائی زندہ باد ۔۔ کافر مردود مردہ باد

Views All Time
Views All Time
224
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   عطائیت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے حکومتی دعوے - انور عباس انور
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: