Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

بلاعنوان

by جنوری 11, 2017 ادب, مزاح
بلاعنوان
Print Friendly, PDF & Email

اس دن ایک آدمی تین عورتوں اور بچوں کے ہمراہ میرے کمرے میں داخل ہونے کے بعد فوراً میری تعریف میں زمین و آسمان ایک کرنے لگا۔اور میری قابلیت اور طبی جواہر کو کئی رنگ دینے لگا۔ پہلے تو کچھ خوشی ہوئی پھر مسرت کے نشے میں دماغ کچھ خمار کا شکار ہوا۔جب وجہ تسمیہ تعریف و رجان پوچھا تو بتایا گیا کہ یہ جو بچہ دیکھ رہے ہیں اس کی خارش کے علاج کیلئے ہم نے کوئی ڈاکٹر نہیں چھوڑا تھاکوئی حکیم اور ایسا نسخہ نہیں جو ہم نے آزمایا نہ ہولیکن آپ کے پاس صرف ایک بار آئے تھے اور یہ آپ کی دوائی سے ٹھیک ہو گیا تھاابھی وہ تعریفی کلمات کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنے ہی والا تھا کہ میں نے ٹوکا اب کس سلسلے میں آئے ہیں؟ مجھے یقین ہو گیا تھا کہ اب یہ سارے گاؤں کے خارش کے مریض میرے پاس لانے والا ہے۔اس نے ایک عورت کو آگے بڑھ کر معائنے والے سٹول پر بیٹھنے کو کہا اور بولا ڈاکٹر صاحب اس کی شادی کو آٹھ سال ہو گئے ہیں اور ان کے ہاں کوئی اولاد نہیں ہوئی ہے۔ہم آپ کے پاس بڑے یقین اور امید کیساتھ آئے ہیں۔۔۔

اس دن مجھے معلوم ہوا میری حس مزاح کس قدر کمزور ہے ۔
یہ دو ماہ کا بچہ میرے پاس آیا تو میں نے اچھی طرح سمجھایا کہ اس کی کو سوائے ماں کے دودھ کے کوئی چیز نہیں دینی ہے۔جب یہ بچہ دوبارہ دستوں کے ساتھ آیا تو اس کے باپ نے شکائیت لگائی کہ آپ نے تو صرف ماں کے دودھ سوا ہر چیزدینے سے منع کیا تھا مگر اس کی ماں اس کو چائے بھی پلاتی ہے۔ میں نے طنزاً ماں سے کہا اس کو برفی بھی کھلانا تھی۔ وہ بڑی خوشی سے بولی ’’ کھلائی تھی ڈاکٹر صاحب مگر اینے ہضم نہیں کیتی سی‘‘

لاجواب تو مجھے اس بابا جی نے بھی کر دیا تھا جو سوجی ہوئی ٹانگ کے ساتھ آئے اور اصرا ر کرنے لگے کہ نبض دیکھ کر میری مرض بوجھو۔ میں نے سمجھانے کی بہت کوشش کی کہ میں کوئی حکیم نہیں ہوں مگر چارو ناچار نبض پکڑ کر پوچھا بابا جی چوٹ کیسے لگی تھی؟
باباجی تراخ سے بولے’’ رہ گئی نا ساری ڈاکٹری۔ بڑی تعریف سنی سی تیری۔ تینوں اے وی نئی پتا لگا ، مینوں مج نے ٹڈ ماری سی‘‘
میں نے تھوڑا احتجاج کیا کہ میں قریب قریب پہنچ گیا تھا مگر بابا جی ناراض ہو کر دوائی لئے بغیر چلے گئے

اس واقعے کے بعد جب حاجی مقبول صاحب نے ہاتھ آگے بڑھا دیا اور نبض دیکھ کر مرض بوجھنے کو کہا تو میں نے کچھ دیر تک نبض دیکھی اور پھر ہاتھ نبض پر رکھے اپنے کمپیوٹر پر فیس بک دیکھنے میں مصروف ہو گیاحاجی صاحب کچھ دیر تو انتظار کرتے رہے پھر گویا ہوئے
’’ پتڑ کی کرن ڈیاں ہویاں۔تیرے کولوں ھالے نئیں میری بیماری بجھی نئی گئی۔ او میں خربوزے کھا کے اتوں پانی پی لتا سی جیدی وجہ توں مینوں ہیضہ ہو گیا سی؟‘‘ میں نے فورا جواب دیا
’’ بماری تے میْں لب لئی سی پر ۔میں خربوزے دی قسم لبھن ڈیا ہویا سی۔۔تاکہ سہی دوا دے سکاں‘‘
حاجی مقبول صاحب میری قابلیت کی داد دیتے ہوئے پرچی لئے کمرے سے رخصت ہوئے تو دیر تک مسکراہٹ میرے لبوں اور آنکھوں سے نمودار ہوتی رہی۔۔۔

جب چار ماہ کا بچہ دوبارہ 103 بخار کے ساتھ آیا تو میں نے پوچھا ’’ جو دوائی آپ کو دی تھی وہ ہے یا ختم ہو گئی ہے ‘‘ تو دادی فوراً بولی
’’ پتڑ ، ساری دوا پلا چھڈی آ ۔۔پر بخار نئی ٹٹیا‘‘
میں نے پھر پوچھا’’ بچہ دوائی پی کر کہیں الٹی تو نہیں کر دیتا‘‘ میرا مطلب ہے دوائی بچے کے پیٹ میں تو چلی جاتی ہے؟‘‘
’’ ہاں جی بالکل۔۔بچے کو تو ہم نے دوا دی ہی نہیں۔ چونکہ یہ دودھ اپنی ماں کا پیتا ہے اسلئے دوا اس کی ماں کو پلا دی تھی۔اسلئے ساری دوا بچے تک پہنچتی رہی ہے۔‘‘

جی نہیں ابھی سر پیٹ لینے کا مقام نہیں آیا ایک اور سرگزشت ابھی اور سنئے۔۔۔۔

ایک چھے ماہ کے بچے کو لایا گیا جس میں پانی کی شدید کمی ہو چکی تھی۔اس کے ساتھ کمزور سی ماں جس کے دونو ہاتھوں پر برینولا دیکھ کر میرے ذہن میں کہانی یوں لکھی گئی کہ ماں زیادہ بیمار ہو گئی ہوگی اور بچے کو سنبھالنے والا گھر میں کوئی نہیں ہوگا۔ اور اس لاپرواہی سے بچہ بیمار ہو کر اس حالت میں چلا گیا ہے۔ مگر جب معائینہ کرنے کے بعد میں نے کہا کہ بچے میں پانی کی بہت کمی ہے اور ڈرپ لگانی پڑے گی تو بچے کا باپ بولا
’’ دو ڈرپیں تو اس کی ماں کو لگ چکیں ہیں اس سے تو بچے کی پانی کی کمی پوری نہیں ہوئی تو اب کیسے ہو گی؟‘‘
میں نے پوچھا ڈرپ اور ماں کو کو کیوں؟
تو جواب آیا ’’ گاؤں کے ڈاکٹر نے ڈرپ لگانے کی کوشش کی تھی مگر سوئی نہ لگ سکی تو اس نے کہا چونکہ بچہ ماں کا دودھ پیتا ہے اسلئے ڈرپیں ماں کو لگا دیتے ہیں ، دودھ کے رستے بچے کو چلی جائیں گی‘‘
جی ہاں اب دل کھول کر سر پیٹیں اور اپنے حسن مزاح کو داد دیں عوام کے شعور اور حکومتی ذمہ داریوں پر انگلیاں مت اٹھائیں۔ یہ کسی مزاح نگار کے قلم سے پھوٹتے شگوفے نہیں ہیں نہ ہی یہ کسی قلم کار کے ذہن کی تخلیق ہیں۔یہ ان بیشمار واقعات میں سے چند ایک ہیں جن سے ہمارا روزانہ واسطہ پڑتا ہے۔

مشتاق احمد یوسفی

Views All Time
Views All Time
383
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   ویلنٹائین ڈے کا غیر جانبدارانہ جائزہ
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: