پڑیے گر بیمار (حصہ اول) – مشتاق احمد یوسفی

Print Friendly, PDF & Email

تو کوئی نہ ہو تیمار دار؟جی نہیں ! بھلا کوئی تیمار دار نہ ہو تو بیمار پڑنے سے فائدہ؟ اور اگر مر جائیے تو نوحہ خواں کوئی نہ ہو؟ توبہ کیجئے !مرنے کا یہ اکل کھرادقیانوسی انداز مجھے کبھی پسندنہ آیا۔ ہو سکتا ہے غالب کے طرف دار  یہ کہیں کہ مغرب کو محض جینے کا قرینہ آتا ہے، مرنے کاسلیقہ نہیں آتا۔ اورسچ پوچھئے تو مرنے کاسلیقہ کچھ مشرق ہی کا حصہ ہے۔ اسی بنا پر غالب کی نفاست پسندطبیعت نے ٧٧٢١ ءحج میں وبائے عام میں مرنا اپنے لائق نہ سمجھاکہ اس میں ان کی کسر شان تھی۔ حالانکہ اپنی پیشن گوئی کو صحیح ثابت کرنے کی غرض سے وہ اسی سال مرنے کے آرزو مند تھے۔

اس میں شک نہیں کہ ہمارے ہاں با عزت طریقے سے مرنا ایک حادثہ نہیں، ہنر ہے جس کے لیے عمر بھر ریاض کرنا پڑتا ہے۔ اور اللہ اگر توفیق نہ دے تو یہ  ہر ایک کے بس کا روگ نہیں۔ بالخصوص پیشہ ورسیاستدان اس کے فنی آداب سے واقف نہیں ہوتے۔ بہت کم لیڈرایسے گزرے ہیں جنھیں صحیح وقت پر مرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ میرا خیال ہے کہ ہر لیڈر کی زندگی میں، خواہ کتنا ہی گیا گزرا کیوں نہ ہو، ایک وقت ضرور آتا ہے جب وہ ذرا جی کڑا کر کے مر جائے یا اپنے سیاسی دشمنوں کو رشوت دے کر اپنے آپ کو شہید کرا لے تو وہ لوگ سال کے سال نہ سہی، ہر الیکشن پر ضرور دھوم دھام سے اس کاعرس منایا کریں۔ البتہ وقت یہ ہے کہ اس قسم کی سعادت دوسرے کے زور بازو پر منحصر ہے۔ اورسعدی کہہ گئے ہیں کہ دوسرے کے بل بوتے پر جنت میں جانا عقوبت دوزخ کے برابر ہے۔ پھراس کا کیا علاج کہ انسان کو موت ہمیشہ قبل از وقت اور شادی بعد از وقت معلوم ہوتی ہے۔

بات کہاں سے کہاں جا پہنچی۔ ورنہ سردست مجھے ان خوش نصیب جواں مرگوں سے سروکارنہیں جو جینے کے قرینے اور مرنے کے آداب سے واقف ہیں۔ میرا تعلق تواس مظلوم اکثریت سے ہے جس کو بقول شاعر
جینے کی ادا یاد، نہ مرنے کی ادا یاد
چنانچہ اس وقت میں اس بے زبان طبقہ کی ترجمانی کرنا چاہتا ہوں جو اس درمیانی کیفیت سے گزر رہا ہے جو موت اور زندگی دونوں سے زیادہ تکلیف دہ اور صبر آزما ہے۔ یعنی بیماری! میرا اشارہ اس طبقہ کی طرف ہے جسے
سب کچھ اللہ نے دے رکھا ہے صحت کے سوا

میں اس جسمانی تکلیف سے بالکل نہیں گھبراتا جو لازمہ علالت ہے۔ اسپرین کی صرف ایک گولی یا مارفیا کا ایک انجکشن اس سے نجات دلانے کے لیے کافی ہے۔ لیکن اس روحانی اذیت کا کوئی علاج نہیں جو عیادت کرنے والوں سے مسلسل پہنچتی رہتی ہے۔ ایک دائم المرض کی حیثیت سے جو اس درد لادواکی لذت سے آشنا ہے، میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ مارفیا کے انجکشن مریض کے بجائے مزاج پرسی کرنے والوں کے لگائے جائیں تو مریض کو بہت جلد سکون آ جائے۔

اردو شاعری کے بیان کو باور کیا جائے تو پچھلے زمانے میں علالت کی غایت”تقریب بہر ملاقات” کے سواکچھ نہ تھی۔ محبوب عیادت کے بہانے غیر کے گھرجاتااورہرسمجھ دار آدمی اسی امید میں بیمار پڑتا تھا کہ شاید کوئی بھولا بھٹکا مزاج پرسی کو آ نکلے۔
علالت بے عیادت جلوہ پیدا کر نہیں سکتی

اس زمانے کے انداز عیادت میں کوئی دل نوازی ہو تو ہو، میں تو ان لوگوں سے ہوں جو محض عیادت کے خوف سے تندرست رہنا چاہتے ہیں۔ ایک حساس دائم المرض کے لیے "مزاج اچھا ہے ؟”ایک رسمی یا دعائیہ جملہ نہیں بلکہ ذاتی حملہ ہے جوہرباراسے احساس کمتری میں مبتلا کر دیتا ہے۔ میں تو آئے دن کی پرسش حال سے اس قدر بے زار ہو  چکا ہوں کہ احباب کو آگاہ کر دیا ہے کہ جب تک میں بقلم خود یہ اطلاع نہ کر  دوں کہ آج اچھا ہوں۔ مجھے حسب معمول بیمار ہی سمجھیں اور مزاج پرسی کر کے شرمندہ ہونے کا موقع نہ دیں۔

سناہے کہ شائستہ آدمی کی یہ پہچان ہے کہ اگر آپ اس سے کہیں کہ مجھے فلاں بیماری ہے تو وہ کوئی آزمودہ دوا نہ بتائے۔ شائستگی کا یہ سخت معیارتسلیم کر لیا جائے تو ہمارے ملک میں سوائے ڈاکٹروں کے کوئی اللہ کا بندہ شائستہ کہلانے کامستحق نہ نکلے۔ یقین نہ آئے تو جھوٹ موٹ کسی سے کہہ دیجئے گا کہ مجھے زکام ہو گیا ہے۔ پھر دیکھئے، کیسے کیسے مجرب نسخے، خاندانی چٹکلے اور فقیری ٹوٹکے آپ کو بتائے جاتے ہیں۔ میں آج تک یہ فیصلہ نہ کرسکاکہ اس کی اصل وجہ طبی معلومات کی زیادتی ہے یا مذاق سلیم کی کمی۔ بہرحال بیمار کو مشورہ دیناہرتندرست آدمی اپنا خوش گوار فرض سمجھتا ہے اور انصاف کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں ننانوے فی صد لوگ ایک دوسرے کو مشورے کے علاوہ اور دے بھی کیا سکتے ہیں ؟

بعض اوقات احباب اس بات سے بہت آزردہ ہوتے ہیں کہ میں ان کے مشوروں پر عمل نہیں کرتا۔ حالانکہ ان پر عمل پیرانہ ہونے کا واحد سبب یہ ہے کہ میں نہیں چاہتا کہ میرا خون کسی عزیزدوست کی گردن پر ہو۔ اس وقت میرا منشا صلاح و مشورہ کے نقصانات گنوانا نہیں (اس لیے کہ میں دماغی صحت کے لیے یہ ضروری سمجھتاہوں کہ انسان کو پابندی سے صحیح غذا اور غلط مشورہ ملتا رہے۔ اسی ذہنی توازن قائم رہتا ہے )نہ یہاں ستم ہائے عزیزاں کا شکوہ مقصود ہے۔ مدعا صرف اپنے ان بہی خواہوں کو متعارف کرانا ہے جو میرے مزمن امراض کے اسباب و علل پر غور کرتے اور اپنے مشورے سے وقتاًفوقتاً مجھے مستفیدفرماتے رہتے ہیں۔ اگراس غول میں آپ کو کچھ جانی پہنچانی صورتیں نظر آئیں تو میری خستگی کی داد دینے کی کوشش نہ کیجئے، آپ خود لائق ہمدردی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   بیس لگاؤ 500 کماؤ کی سیاسی تجارت - حیدر جاوید سید

سرفہرست ان مزاج پرسی کرنے والوں کے نام ہیں جو مرض کی تشخیص کرتے ہیں نہ دوا تجویز کرتے ہیں۔ مگراس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ منکسرمزاج ہیں۔ دراصل ان کا تعلق اس مدرسہ فکر سے ہے جس کے نزدیک پرہیز علاج سے بہتر ہے۔ یہ اس شکم آزار عقیدے کے مبلغ و موید ہیں کہ کھاناجتناپھیکاسیٹھاہو گا، صحت کے لیے اتنا ہی مفید ہو گا۔ یہاں یہ بتانا بے محل نہ گا کہ ہمارے ملک میں دواؤں کے خواص دریافت کرنے کا بھی یہی معیار ہے۔ جس جس طرح بعض خوش اعتقاد لوگوں کا ابھی تک یہ خیال ہے کہ ہر بد صورت عورت نیک چلن ہوتی ہے، اسی طرح طب قدیم میں ہر کڑوی چیز کو مصفی خون تصور کیا جاتا ہے۔ چنانچہ ہمارے ہاں انگریزی کھانے اور کڑوے قدحے اسی امید میں نوش جان کیے جاتے ہیں۔

اس قبیل کے ہمدردان صحت دو گروہوں میں بٹ جاتے ہیں۔ ایک وہ غذارسیدہ بزرگ جو کھانے سے علاج کرتے ہیں۔ دوسرے جو علاج اور کھانے دونوں سے پرہیز تجویز فرماتے ہیں۔ پچھلی گرمیوں کا واقعہ ہے کہ میری بائیں آنکھ میں گوہانجنی نکلی تو ایک نیم جان جو خود کو پورا حکیم سمجھتے ہیں، چھوٹتے ہی بولے :

"فم معدہ پر ورم معلوم ہوتا ہے۔ دونوں وقت مونگ کی دال کھائیے۔ دافع نفخ و محلل ورم ہے۔ ”
میں نے پوچھا”آخر آپ کو میری ذات سے کون سی تکلیف پہنچی جو یہ مشورہ دے رہے ہیں ؟
فرمایا”کیا مطلب؟
عرض کیا”دو چار دن مونگ کی دال کھا لیتا ہوں تو اردو شاعری سمجھ میں نہیں آتی اور طبیعت بے تحاشا تجارت کی طرف مائل ہوتی ہے۔ اس صورت میں خدانخواستہ تندرست ہو بھی گیا تو جی کے کیا کروں گا؟
بولے "آپ تجارت کو اتنا حقیر کیوں سمجھتے ہیں ؟ انگریزہندوستان میں داخل ہواتواس کے ایک ہاتھ میں تلواراوردوسرے میں ترازو تھی۔ ”
گزارش کی "اور جب وہ گیا تو ایک ہاتھ میں یونین جیک تھااوردوسری آستین خالی لٹک رہی تھی!”

بات انھیں بہت بری لگی۔ اس لیے مجھے یقین ہو گیا کہ سچ تھی۔ اس کے بعد تعلقات اتنے کشیدہ ہو گئے کہ ہم نے ایک دوسرے کے لطیفوں پرہنسناچھوڑدیا۔ استعارہ و کنایہ برطرف۔ "میرا اپنا عقیدہ تو یہ ہے کہ جب تک آدمی کو خواص کی غذا ملتی رہے، اسے غذا کے خواص کے بکھیڑے میں پڑنے کی مطلق ضرورت نہیں۔ سچ پوچھیے تو عمدہ غذا کے بعد کم از کم مجھے تو بڑا انشراح محسوس ہوتا ہے اور بے اختیار جی چاہتا ہے کہ بڑھ کر ہر راہ گیرکوسینے سے لگا لوں۔ دوسراگردہ قوت ارادی سے دوا اور غذا کا کام لینا چاہتا ہے اورجسمانی عوارض کے علاج معالجہ سے پہلے دماغ کی اصلاح کرنا ضروری سمجھتا ہے۔ یہ حضرات ابتدائے مرض ہی سے دوا کے بجائے دعا کے قائل ہیں اور ان میں بھاری اکثریت ان سترے بہترے بزرگوں کی ہے جو گھگیا گھگیا کر اپنی درازی عمر کی دعا مانگتے ہیں اوراسی کو عین عبادت سمجھتے ہیں۔ اس روحانی غذا کے لیے میں فی الحال اپنے آپ کو تیار نہیں پاتا۔ مجھے اس پر قطعاً تعجب نہیں ہوتا کہ ہمارے ملک میں پڑھے لکھے لوگ خونی پیچش کا علاج گنڈے تعویذوں سے کرتے ہیں۔ غصہ اس بات پر آتا ہے کہ وہ واقعی اچھے ہو جاتے ہیں۔

کچھ ایسے عیادت کرنے والے بھی ہیں جن کے اندازپرسش سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیماری ایک سنگین جرم ہے اور وہ کسی آسمانی ہدایت کے بموجب اس کی تفتیش پر مامور کیے گئے ہیں۔ پچھلے سال جب انفلوئنزا کی وبا پھیلی اور میں بھی صاحب فراش ہو گیا تو ایک ہمسائے جو کبھی پھٹکتے بھی نہ تھے، کمرہ علالت میں بہ نفس نفیس تشریف لائے اور خوب کرید کرید کر جرح کرتے رہے۔ بالآخر اپنا منہ میرے کان کے قریب لا کر راز دارانہ  انداز میں کچھ ایسے نجی سوالات کیے جن کے پوچھنے کا حق میری نا چیز رائے میں بیوی اور منکر نکیر کے علاوہ کسی کو نہیں پہنچتا۔

ایک بزرگوار ہیں جن سے صرف دوران علالت میں ملاقات ہوتی ہے۔ اس لیے اکثر ہوتی رہتی ہے۔ موصوف آتے ہی برس پڑے اور گرجتے ہوئے رخصت ہوتے ہیں۔ پچھلے ہفتے کا ذکر ہے۔ ہلہلا  کر بخار چڑھ رہا تھا کہ وہ آ دھمکے کپکپا کر کہنے لگے : "بیماری آزادی میں بھی بڑی غیریت برتتے ہو، برخوردار!دو گھنٹے سے ملیریا میں چپ چاپ مبتلاہو اور مجھے خبر تک نہ کی۔ "

بہتیرا چاہا کہ اس دفعہ ان سے پوچھ ہی لوں کہ "قبلہ کونین!اگر آپ کو بر وقت اطلاع کرا دیتا تو آپ میرے ملیریا کا کیا بگاڑ لیتے ؟”

ان کی زبان اس قینچی کی طرح ہے جو چلتی زیادہ ہے اور کاٹتی کم۔ ڈانٹنے کااندازایسا ہے کہ جیسے کوئی کودن لڑکازورزورسے پہاڑے  یاد کر  رہا ہو۔ مجھے ان کی ڈانٹ پر ذرا غصہ نہیں آتا۔ کیونکہ اب اس کا مضمون ازبر ہو گیا ہے۔ یوں بھی اس کینڈے کے بزرگوں کی نصیحت میں سے ڈانٹ اور ڈاڑھی کو علیٰحدہ کر دیا جائے، یا بصورت نقص امن، ڈانٹ میں سے ڈنک نکال دیا جائے تو بقیہ بات (اگر کوئی چیز باقی رہتی ہے )نہایت لغو معلوم ہو گی۔

یہ بھی پڑھئے:   پانامہ لیکس کے حمام میں

ان کا آنا فرشتہ موت کا آنا ہے۔ مگر مجھے یقین ہے کہ حضرت عزرائیل علیہ السلام روح قبض کرتے وقت اتنی ڈانٹ ڈپٹ نہیں کرتے ہوں گے۔ زکام انھیں نمونیہ کا پیش خیمہ دکھائی دیتا ہے اورخسرہ میں ٹائیفائڈ کے آثار نظر آتے ہیں۔ ان کی عادت ہے کہ جہاں محض سیٹی سے کام چل سکتا ہے، وہاں بے دھڑک بگل بجا دیتے ہیں۔ مختصر یہ کہ ایک ہی سانس میں خدانخواستہ سے انا للہ تک کی تمام منزلیں طے کر لیتے ہیں۔ ان کی مظلوم ڈانٹ کی تمہید کچھ اس قسم کی ہوتی ہے :

"میاں !یہ بھی کوئی انداز ہے کہ گھرکے رئیسوں کی طرح
نبض پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہو
بیکاری بیماری کا گھر ہے۔ شاعر نے کیا خوب کہا ہے :
بیمار مباش کچھ کیا کر۔ ”
مصرع کا جواب شعرسے دیتا ہوں :
کمزور میری صحت بھی، کمزور مری بیماری بھی
اچھا جو ہوا کچھ کر نہ سکا، بیمار ہوا تو مر نہ سکا

یہ سن کر وہ بپھر جاتے ہیں اور اپنے سن وسال کی آڑ لے کرکوثروتسنیم میں دھلی ہوئی زبان میں وہ بے نقط سناتے ہیں کہ زندہ تو درکنار، مردہ بھی ایک دفعہ کفن پھاڑکرسوال و جواب کے لیے اٹھ بیٹھے۔ تقریر کا لب لباب یہ ہوتا ہے کہ راقم الحروف جان بوجھ کر اپنی تندرستی کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑا ہے۔ میں انھیں یقین دلاتا ہوں کہ اگر خود کشی میرا منشا ہوتا تو یوں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر نہیں جیتا، بلکہ آنکھ بند کر کے ان کی تجویز کردہ دوائیں کھا لیتا۔

آئیے، ایک اور مہربان سے آپ کو ملاؤں۔ ان کی تکنیک قدرے مختلف ہے۔ میری صورت دیکھتے ہی ایسے ہراساں ہوتے ہیں کہ کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ ان کا معمول ہے کہ کمرے میں بغیر کھٹکھٹائے داخل ہوتے ہیں اور میرے سلام کا جواب دئیے بغیر تیمارداروں کے پاس پنجوں کے بل جاتے ہیں۔ پھرکھسرپھسرہوتی ہے۔ البتہ کبھی کبھی کوئی اچٹتا ہوا فقرہ مجھے بھی سنائی دے جاتا ہے۔ مثلاً:
"صدقہ دیجئے۔ جمعرات کی رات بھاری ہوتی ہے۔ ”
"پانی حلق سے اتر جاتا ہے ؟”
"آدمی پہچان لیتے ہیں ؟”
یقین جانئے۔ یہ سن کرپانی سر سے گزر جاتا ہے اور میں تو رہا ایک طرف، خود تیماردار میری صورت نہیں پہچان سکتے۔

سرگوشیوں کے دوران ایک دو دفعہ میں نے خود دخل دے کر بقائمی ہوش وحواس عرض کرنا چاہا کہ میں بفضل تعالیٰ چاق و چوبند ہوں۔ صرف پیچیدہ دواؤں میں مبتلا ہوں۔ مگر وہ اس مسئلہ کو قابل دست اندازی مریض نہیں سمجھتے اور اپنی شہادت کی انگلی ہونٹوں پر رکھ کر مجھے خاموش رہنے کا اشارہ کرتے ہیں۔ میرے اعلان صحت اور ان کی پر زور تردید سے تیمار داروں کی میری دماغی صحت پر شبہ ہونے لگتا ہے۔ یوں بھی بخارسوڈگری سے اوپر ہو  جائے تومیں ہذیان بکنے لگتا ہوں جسے بیگم، اقبال گناہ اور رشتے دار وصیت سمجھ کر ڈانٹتے ہیں اور بچے ڈانٹ سمجھ کرسہم جاتے ہیں۔ میں ابھی تک فیصلہ نہیں کرسکایہ حضرت مزاج پرسی کرنے آتے ہیں یاپرسادینے۔ ان کے جانے کے بعد میں واقعی محسوس کرتا ہوں کہ بس اب چل چلاؤ لگ رہا ہے۔ سانس لیتے ہوئے دھڑکا لگا رہتا ہے کہ روایتی ہچکی نہ آ جائے۔ ذرا گرمی لگتی ہے تو خیال ہوتا ہے کہ شاید آخری پسینہ ہے اور طبیعت تھوڑی بحال ہوتی ہے تو ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھتا ہوں کہ کہیں سنبھالانہ ہو۔

لیکن مرزا عبد الودود بیگ کااندازسب سے نرالا ہے۔ میں نہیں کہہ سکتاکہ انھیں میری دلجوئی مقصود ہوتی ہے یااس میں ان کے فلسفہ حیات و ممات ہونے کو دل نہیں چاہتا۔ تندرستی وبال معلوم ہوتی ہے اورغسل صحت میں میں تمام قباحتیں نظر آتی ہیں، جن سے غالب کو فکر وصال میں دو چار ہونا پڑا
کہ گر نہ ہو تو کہاں جائیں، ہو تو کیوں کر ہو

اکثر فرماتے ہیں کہ بیماری جان کا صدقہ ہے۔ عرض کرتا ہوں کہ میرے حق میں تو یہ صدقہ جاریہ ہو کر رہ گئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے خالی بیمار پڑ جانے سے کام نہیں چلتا۔ اس لیے کہ پسماندہ ممالک میں
فیضان علالت عام سہی، عرفان علالت عام نہیں

حصہ دوم پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Views All Time
Views All Time
301
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: