Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

پڑیے گر بیمار (حصہ دوم) – مشتاق احمد یوسفی

پڑیے گر بیمار (حصہ دوم) – مشتاق احمد یوسفی
Print Friendly, PDF & Email

تحریر کا پہلا حصہ اس لنک پر ملاحضہ کریں

ایک دن میں کان کے درد میں تڑپ رہا تھا کہ وہ آ نکلے۔ اس افراتفری کے زمانے میں زندہ رہنے کے شدائد اور موت کے فیوض و برکات پرایسی موثر تقریر کی کہ بے اختیار جی چاہا کہ انہی کے قدموں پر پھڑپھڑا  کر اپنی جان آفرین کے سپردکر دوں اورانشورنس کمپنی والوں کو روتا دھوتا چھوڑ جاؤں۔ ان کے دیکھے سے میرے تیمار داروں کی منہ کی رہی سہی رونق جاتی رہتی ہے۔ مگر میں سچے دل سے ان کی عزت کرتا ہوں۔ کیونکہ میرا عقیدہ ہے کہ محض جینے کے لیے کسی فلسفہ کی ضرورت نہیں۔ لیکن اپنے فلسفہ کی خاطر دوسروں کو جان دینے پر آمادہ کرنے کے لیے سلیقہ چاہیے۔

چونکہ یہ موقع ذاتی تاثرات کے اظہار کا نہیں۔ اس لیے میں مرزا کے انداز عیادت کی طرف لوٹتا ہوں۔ وہ جب تندرستی کو ام الخبائث اور تمام جرائم کی جڑ قرار دیتے ہیں تو مجھے رہ رہ کر اپنی خوش نصیبی پر رشک آتا ہے۔ اپنے دعوے کے ثبوت میں دلیل ضرور پیش کرتے ہیں کہ جن ترقی یافتہ ممالک میں تندرستی کی وبا عام ہے وہاں پرجنسی جرائم کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے۔ میں کان کے درد سے نڈھال ہونے لگا تو  انھوں نے مسئلہ مسائل بیان کر کے میری ڈھارس بندھائی:

"میاں ہمت سے کام لو۔ بڑے بڑے نبیوں پر یہ وقت پڑا ہے۔ "

میں دردسے ہلکان ہو چکا تھا۔ ورنہ ہاتھ جوڑ کر عرض کرتا کہ خدا مارے یا چھوڑے، میں بغیر دعویٰ نبوت یہ عذاب جھیلنے کے لیے ہر گز تیار نہیں۔ علاوہ ازیں، قصص الانبیاء میں نے بچپن میں پڑھی تھی اور یہ یاد نہیں آ رہا تھا کہ کون سے پیغمبر کان کے درد کے باوجود فرائض نبوی انجام دیتے رہے۔

اس واقعہ کے کچھ دن بعد میں نے از راہ تفنن مرزاسے کہا”فیرینک ہیرس کے زمانے میں کوئی صاحب استطاعت مرداس وقت تک ’جنٹلمین‘ ہونے کا دعویٰ نہیں کرسکتا تھا جب تک وہ کم از کم ایک مرتبہ نا گفتہ بہ جنسی امراض میں مبتلا نہ ہوا ہو۔ یہ خیال عام تھا کہ اس سے شخصیت میں لوچ اور رچاؤ پیدا ہوتا ہے۔ "

تمباکو کے پان کا پہلاگھونٹ پی کر کہنے لگے "خیر!یہ تو ایک اخلاقی کمزوری کی فلسفیانہ تاویل ہے مگراس میں شبہ نہیں کہ درد اخلاق کوسنوارتا ہے۔ "

وہ ٹھیرے ایک جھکی۔ اس لیے میں نے فوراً یہ اقرار کر کے اپنا پنڈ چھڑایا کہ "مجھے اس کلیہ سے اتفاق ہے۔ بشرطیکہ درد شدید ہو اورکسی دوسرے کے اٹھ رہا ہو۔ "

پچھلے جاڑوں کا ذکر ہے۔ میں گرم پانی کی بوتل سے سینک کر رہا تھا کہ ایک بزرگ جواسی کے پیٹے میں ہیں خیر و عافیت پوچھنے آئے اور دیر تک قبر و عاقبت کی باتیں کرتے رہے جو میرے تیمار داروں کو ذرا قبل از وقت معلوم ہوئیں۔ آتے ہی بہت سی دعائیں دیں، جن کا خلاصہ یہ تھا کہ خدا مجھے ہزاری عمر دے تاکہ اپنے اور ان کے فرضی دشمنوں کی چھاتی پر روایتی مونگ دلنے کے لئے زندہ رہوں۔ اس کے بعد جانکنی اورفشارگورکااس قدر مفصل حال بیان کیا کہ مجھے غریب خانے پر گور غریباں کا گمان ہونے لگا۔ عیادت میں عبادت کا ثواب لوٹ چکے تو میری جلتی ہوئی پیشانی پر اپنا ہاتھ رکھاجس میں شفقت کم اور رعشہ زیادہ تھا اور اپنے بڑے بھائی کو(جن کا انتقال تین ماہ قبل اسی مرض میں ہوا تھاجس میں میں مبتلا تھا) یاد کر کے کچھ اس طرح آب دیدہ ہوئے کہ میری بھی ہچکی بندھ گئی۔ میرے لئے جو تین عدد سیب لائے تھے وہ کھا چکنے کے بعد جب انھیں کچھ قرار آیا تو وہ مشہور تعزیتی شعرپڑھاجس میں ان غنچوں پرحسرت کا اظہار کیا گیا ہے جوبن کھلے مرجھا گئے۔

میں فطرتاً رقیق القلب واقع ہوا ہوں اور طبیعت میں ایسی باتوں کی سہاربالکل نہیں ہے۔ ان کے جانے کے بعد "جب لاد چلے بنجارا” والا موڈ طاری ہو جاتا ہے اور حالت یہ ہوتی ہے کہ ہر پرچھائیں بھوت اور ہر سفید چیز فرشتہ دکھائی دیتی ہے۔ ذرا آنکھ لگتی ہے تو بے ربط خواب دیکھنے لگتا ہوں۔ گویا کوئی”کالک”یاباتصویرنفسیاتی افسانہ سامنے کھلا ہوا ہے۔کیا دیکھتا ہوں کہ ڈاکٹر میری لاش پر انجکشن کی پچکاریوں سے لڑ رہے ہیں اور لہولہان ہو رہے ہیں۔ ادھر کچھ مریض اپنی اپنی نرس کو کلوروفارم سنگھارہے ہیں۔ ذرا دور ایک لا علاج مریض اپنے ڈاکٹر کویاسین حفظ کرا رہا ہے۔ ہر طرف ساگودانے اور مونگ کی دال کی کھچڑی کے ڈھیر لگے ہیں۔ آسمان بنفشی ہو رہا ہے اور عناب کے درختوں کی چھاؤں میں، سناکی جھاڑیوں کی اوٹ لے کر بہت سے غلمان ایک مولوی کو غذا بالجبر کے طور پر معجونیں کھلا رہے ہیں۔ تا حد نظر کافور میں بسے ہوئے کفن ہوا میں لہرا رہے ہیں۔ جا بجا لوبان سلگ رہا ہے اورمیراسرسنگ مرمر کی لوح مزار کے نیچے دبا ہوا ہے اوراس کی ٹھنڈک نس نس میں گھسی جا رہی ہے۔ میرے منہ میں سگرٹ اور ڈاکٹر کے منہ میں تھرمامیٹر ہے۔ آنکھ کھلتی ہے تو کیا دیکھتا ہوں کہ سرپربرف کی تھیلی رکھی ہے۔ میرے منہ میں تھرمامیٹرٹھنساہواہے اور ڈاکٹر کے ہونٹوں میں سگرٹ دبا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   سفرنامہ واش روم

لگے ہاتھوں، عیادت کرنے والوں کی ایک اورقسم کا تعارف کرا دوں۔ یہ حضرات جدید طریق کار برتتے اورنفسیات کا ہر اصول داؤں  پر لگا دیتے ہیں۔ ہر پانچ منٹ بعد پوچھتے ہیں کہ افاقہ ہوا یا نہیں ؟ گویا مریض سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ عالم نزع میں بھی ان کی معلومات عامہ میں اضافہ کرنے کی غرض سے RUNNING COMMENTARY کرتا رہے گا۔ ان کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ کس طرح مریض پر ثابت کر دیں کہ محض انتقاماً  بیمار ہے یا وہم میں مبتلا ہے اورکسی سنگین غلط فہمی کی بناپراسپتال پہنچا دیا گیا ہے۔ ان کی مثال اس روزہ خور کی سی ہے جو انتہائی نیک نیتی سے کسی روزہ دار کا روزہ لطیفوں سے بہلانا چاہتاہو۔ مکالمہ نمونہ ملاحظہ ہو:

ملاقاتی:ماشاءاللہ ! آج منہ پر بڑی رونق ہے۔

مریض: جی ہاں ! آج شیو نہیں کیا ہے۔

ملاقاتی:آواز میں بھی کرارا پن ہے۔

مریض کی بیوی:ڈاکٹر نے صبح سے ساگودانہ بھی بند کر  دیا ہے۔

ملاقاتی : (اپنی بیوی سے مخاطب ہو کر)بیگما!یہ صحت یاب ہو جائیں تو ذرا انھیں میری پتھری دکھانا جو تم نے چارسال سے اسپرٹ کی بوتل میں رکھ چھوڑی ہے (مریض سے مخاطب ہو کر)صاحب!یوں تو ہر مریض کو اپنی آنکھ کا تنکا بھی شہتیر معلوم ہوتا ہے۔ مگر یقین جانیے، آپ کا شگاف توبس دو تین انگل  لمباہو گا، میرا تو پورا ایک بالشت ہے۔ بالکل کھنکھجورا معلوم ہوتا ہے۔

مریض: (کراہتے ہوئے )مگر میں ٹائیفائڈ میں مبتلا ہوں۔

ملاقاتی: (ایکا ایکی پنترا بدل کر)یہ سب آپ کا وہم ہے۔ آپ کو صرف ملیریا ہے۔

مریض: یہ پاس والی چارپائی، جواب خالی پڑی ہے، اس کا مریض بھی اسی وہم میں مبتلا تھا۔

ملاقاتی: ارے صاحب!مانئے تو! آپ بالکل ٹھیک ہیں۔ اٹھ کر منہ ہاتھ دھوئیے

مریض کی بیوی: (روہانسی ہو کر) دو دفعہ دھو چکے ہیں۔ صورت ہی ایسی ہے۔

اس وقت ایک دیرینہ کرم فرما یاد آ رہے ہیں، جن کا طرز عیادت ہی اور ہے۔ ایساحلیہ بنا کر آتے ہیں کہ خود ان کی عیادت فرض ہو جاتی ہے۔ "مزاج شریف!” کو وہ رسمی فقرہ نہیں، بلکہ سالانہ امتحان کاسوال سمجھتے ہیں اورسچ مچ اپنے مزاج کی جملہ تفصیلات بتانا شروع کر دیتے ہیں۔ ایک دن منہ کا مزہ بدلنے کی خاطر میں نے "مزاج شریف!”کے بجائے "سب خیریت ہے ؟” سے پرسش احوال کی۔ پلٹ بولے "اس جہان شریت میں خیریت کہاں ؟”اس مابعد  الطبیعاتی تمہید کے بعد کراچی کے موسم کی خرابی کا ذکر آنکھوں میں آنسوبھرکرایسے اندازسے کیا گویا ان پرسراسرذاتی ظلم ہو رہا ہے، اوراس کی تمام تر ذمہ داری میونسپل کارپوریشن پر عائد ہوتی ہے۔

آپ نے دیکھا ہو گا کہ بعض عورتیں شاعر کی  نصیحت کے مطابق وقت کو پیمانہ امروز و فروا سے نہیں ناپتیں بلکہ تاریخ و سنہ اور واقعات کاحساب اپنی یادگار زچگیوں سے لگاتی ہیں۔ مذکورالصدردوست بھی اپنی بیماریوں سے کیلنڈر کا کام لیتے ہیں۔ مثلاً شہزادی مارگریٹ کی عمر وہ اپنے دمے کے برابر بتاتے ہیں۔ سوئزسے انگریزوں کے نہر بدر کیے جانے کی تاریخ وہی ہے جو ان کا پتا نکالے جانے کی ! میرا قاعدہ ہے کہ جب وہ اپنی اور جملہ متعلقین کی عدم خیریت کی تفصیلات بتا کر اٹھنے لگتے تو اطلاعاً اپنی خیریت سے آگاہ کر دیتا ہوں۔

بیمار پڑنے کے صد با نقصانات ہیں۔ مگر ایک فائدہ بھی ہے، وہ یہ کہ اس بہانے اپنے بارے میں دوسروں کی رائے معلوم ہو جاتی ہے۔ بہت سی کڑوی کسیلی باتیں جو عام طور پر ہونٹوں پر لرز کر رہ جاتی ہیں، بے شمار دل آزار فقرے جو”خوف فسادخلق”سے حلق میں اٹک کر رہ جاتے ہیں، اس زمانے میں یار لوگ نصیحت کی آڑ میں "ہو الشافی” کہہ کربڑی بے تکلفی سے داغ دیتے ہیں۔ پچھلے سنیچرکی بات ہے۔ میری عقل ڈاڑھ میں شدید درد تھا کہ ایک روٹھے ہوئے عزیز جن کے مکان پر حال ہی میں قرض کے روپیہ سے چھت پڑی تھی، لقا کبوتر کی مانندسینہ تانے آئے اور فرمانے لگے :

"ہیں آپ بھی ضدی آدمی!لاکھ سمجھایاکہ اپنا ذاتی مکان بنوا لیجئے مگر آپ کے کان پر جوں نہیں رینگتی۔ "

یہ بھی پڑھئے:   اساں جان کے میٹ لئی اکھ وے-گل نوخیز اختر

طعنے کی کاٹ درد کی شدت پر غالب آئی اور میں نے ڈرتے ڈرتے پوچھا، "بھائی!میری عقل تواس وقت کام نہیں کرتی۔ خدارا!آپ ہی بتائیے، کیا یہ تکلیف صرف کرایہ داروں کو ہوتی ہے ؟”

ہنس کر فرمایا”بھلا یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے۔ کرائے کے مکان میں تندرستی کیوں کر ٹھیک رہ سکتی ہے۔ "

کچھ دن بعد جب انہی حضرت نے میرے گھٹنے کے درد کو بے دودھ کی چائے پینے اور رمی کھیلنے کاشاخسانہ قرار دیا تو بے اختیار ان کاسرپیٹنے کو جی چاہا۔

اب کچھ جگ بیتی بھی سن لیجئے۔ جھوٹ سچ کا حال خدا جانے۔ لیکن ایک دوست اپنا تجربہ بیان کرتے ہیں کہ دو ماہ قبل ان کے گلے میں خراش ہو گئی، جوان کے نزدیک بد مزہ کھانے اور گھر والوں کے خیال میں سگرٹ کی زیادتی کا نتیجہ تھی۔ شروع میں تو انھیں اپنی بیٹھی ہوئی آواز بہت بھلی معلوم ہوئی اور کیوں نہ ہوتی؟سنتے چلے آئے ہیں کہ بیٹھی ہوئی (HUSKY)آواز میں بے پناہ جنسی کشش ہوتی ہے۔ خدا کی دین تھی کہ گھر بیٹھے آواز بیٹھ گئی۔ ورنہ امریکہ میں تو لوگ کوکاکولا کی طرح ڈالر بہاتے ہیں جب کہیں آواز میں یہ مستقل زکام کی سی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ لہٰذا جب ذرا افاقہ محسوس ہوا تو انھوں نے راتوں کو گڑگڑا گڑگڑا کر، بلکہ خنخنا  خنخنا کر دعائیں مانگیں :

"بار الہٰا!تیری شان کریمی کے صدقے ! یہ سوزش بھلے ہی کم ہو جائے، مگر بھراہٹ یونہی قائم رہے !”

لیکن چند دن بعد جب ان کا گلا خالی نل کی طرح بھق بھق کرنے لگا تو انھیں بھی تشویش ہوئی۔ کسی نے کہا”لقمان کا قول ہے کہ پانی پیتے وقت ایک ہاتھ سے ناک بند کر لینے سے گلا کبھی خراب نہیں ہوتا۔ "

ایک صاحب نے ارشاد فرمایا”سارافتورپھل نہ کھانے کے سبب ہے۔ میں تو روزانہ نہار منہ پندرہ فٹ گنا کھاتا ہوں۔ معدہ اور دانت دونوں صاف رہتے ہیں۔ ” اور ثبوت میں انھوں نے اپنے مصنوعی دانت دکھائے جو واقعی بہت صاف تھے۔

ایک اور خیرخواہ نے اطلاع دی کہ زکام ایک زہریلے وائرسVIRUSسے ہوتا ہے جوکسی دواسے نہیں مرتا۔ لہذا جوشاندہ پیجئے کہ انسان کے علاوہ کوئی جانداراس کا ذائقہ چکھ کر زندہ نہیں رہ سکتا۔

بقیہ روداد انہی کی زبان سے سنئے :

"اور جن کرم فرماؤں نے از راہ کسرنفسی دوائیں تجویز نہیں کیں۔ وہ حکیموں اور ڈاکٹروں کے نام اور پتے بتا کر اپنے فرائض منصبی سے سبکدوش ہو گئے۔ کسی نے اصرار کیا کہ آیورویدک علاج کراؤ۔ ‘بڑی مشکل سے انھیں سمجھایاکہ میں طبعی موت مرنا چاہتا ہوں۔ کسی نے مشورہ دیا کہ ’حکیم نباض ملت سے رجوع کیجئے۔ نبض پر انگلی رکھتے ہی مریض کا شجرہ نسب بتا دیتے ہیں (اسی وجہ سے کراچی میں ان کی طبابت ٹھپ ہے )قارورے پر نظر ڈالتے ہی مریض کی آمدنی کا اندازہ کر لیتے ہیں۔ ‘آوازاگرساتھ دیتی تومیں ضرور عرض کرتا کہ ایسے کام کے آدمی کو تو انکم ٹیکس کے محکمہ میں ہونا چاہیے۔

"غرضیکہ جتنے منہ ان سے کہیں زیادہ باتیں !اورتواورسامنے کے فلیٹ میں رہنے والی اسٹینوگرافر(جوچست سویٹراورجنیزپہن کر، بقول مرزا عبد الودود بیگ، انگریزی کاSمعلوم ہوتی ہے )بھی مزاج پرسی کو آئی اور کہنے لگی ’حکیموں کے چکر میں نہ پڑیئے۔ آنکھ بند کر کے ڈاکٹر دلاور کے پاس جائیے۔ تین مہینے ہوئے، آواز بنانے کی خاطر میں نے املی کھا کھا  کر گلے کاناس مار لیا تھا۔ میری خوش نصیبی کہئے کہ ایک سہیلی نے ان کاپتہ بتا دیا۔ اب بہت افاقہ ہے۔ ‘

"اس بیان کی تائید کچھ دن بعد مرزا عبد الودود بیگ نے بھی کی۔ انھوں نے تصدیق کی ڈاکٹر صاحب امریکی طریقہ سے علاج کرتے ہیں اورہرکیس کوبڑی توجہ سے دیکھتے ہیں۔ چنانچہ سینڈل کے علاوہ ہر چیز اتروا کر انھوں نے اسٹینوگرافرکے حلق کا بغور معائنہ کیا۔ علاج سے واقعی کافی افاقہ ہوا اور وہ اس سلسلے میں ابھی تک پیٹھ پر بنفشی شعاعوں سے سینک کرانے جاتی ہے۔ "

مجھے یقین ہے کہ اس طریقہ علاج سے ڈاکٹر موصوف کو کافی افاقہ ہوا ہو گا!

Views All Time
Views All Time
137
Views Today
Views Today
3
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: