Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

کفن-منشی پریم

کفن-منشی پریم
Print Friendly, PDF & Email

جھونپڑے کے دروازے پر باپ اور بیٹا دونوں، ایک بجھے ہوئے الاؤ کے سامنے خاموش بیٹھے ہوئے تھے اور اندر بیٹے کی نوجوان بیوی بدھیا درد زہ سے پچھاڑیں کھا رہی تھی اور رہ رہ کر اسکے منہ سے ایسی دلخراش صدا نکلتی تھی کہ دونوں کلیجہ تھام لیتے تھے۔ جاڑوں کی رات تھی، فضا سناٹے میں غرق، سارا گاؤں تاریکی میں جذب ہو گیا تھا۔
گھیسو نے کہا۔ معلوم ہوتا ہے بچے گی نہیں۔ سارا دن تڑپتے ہو گیا، جا دیکھ تو آ۔
مادھو دردناک لہجے میں بولا” مرنا ہی ہے تو جلدی مر کیوں نہیں جاتی۔ دیکھ کر کیا کروں۔؟”

” تو بڑا بیدرد ہے بے! سال بھر جس کے ساتھ جندگانی کا سکھ بھوکا۔ اسی کیساتھ اتنی بیوپھائی۔”
” تو مجھ سے تو اسکا تڑپنا اور ہاتھ پاؤں پنکنا نہیں دیکھا جاتا۔ ”

چماروں کا کنبہ تھا اور سارے گاؤں میں بدنام۔ گھیسو ایک دن کام کرتا تو تین دن آرام، مادھو اتنا کام چور تھا کہ گھنٹے بھر کام کرتا تو گھنٹے بھر چلم پیتا۔ اس لیے اسے کوئی رکھتا ہی نہ تھا۔ گھر میں مٹھی بھر اناج بھی موجود ہو تو انکے لیے کام کرنے کی قسم تھی۔ جب دو ایک فاقے ہو جاتے تو گھیسو درختوں پر چڑھ کر لکڑیاں توڑ لاتا اور مادھو بازار میں بیچ لاتا اور جبتک وہ پیسے رہتے، دونوں ادھر ادھر مارے مارے پھرتے جب فاقے کی نوبت آ جاتی تو پھر لکڑیاں توڑتے یا کوئی مزدوری تلاش کرتے۔

گاؤں میں کام کی کمی نہ تھی۔ کاشتکاروں کا گاؤں تھا۔ محنتی آدمی کیلئے پچاس کام تھے مگر ان دونوں کو لوگ اسی وقت بلاتے جب دو آدمیوں سے ایک کا کام پا کر بھی قناعت کر لینے کے سوا اور کوئی چارہ نہ ہوتا۔ کاش دونوں سادھو ہوتے تو انہیں قناعت اور توکل کیلئے ضبط نفس کی مطلق ضرورت نہ ہوتی۔ یہ انکی خلقی صفت تھی۔ عجیب زندگی تھی انکی۔ گھر میں مٹی کے دو چار برتنوں کے سوا کوئی اثاثہ نہیں، پھٹے چیتھڑوں سے اپنی عریانی کو ڈھانکے ہوئے دنیا کی فکروں سے آزاد۔ قرض سے لدے ہوئے گالیاں بھی کھاتے مار بھی کھاتے مگر کوئی غم نہیں۔ مسکین اتنے کہ وصولی کی مطلق امید نہ ہونے پر لوگ انہیں کچھ نہ کچھ قرض دے دیتے تھے۔ مٹر یا آلو کی فصل میں کھیتوں سے مٹر یا آلو اکھاڑ لاتے اور بھون بھون کر کھا لیتے۔ یا دس پانچ اوکھ توڑ لاتے اور رات کو چوستے۔

ھیسو نے اسی زاہدانہ انداز میں ساٹھ سال کی عمر کاٹ دی اور مادھو بھی سعادت مند بیٹے کیطرح باپ کے نقش قدم پر چل رہا تھا بلکہ اسکا نام اور بھی روشن کر رہا تھا۔ اس وقت بھی دونوں الاؤ کے سامنے بیٹھے ہوئے آلو بھون رہے تھے جو کسی کے کھیت سے کھود لائے تھے۔ گھیسو کی بیوی کا تو مدت ہوئی انتقال ہو گیا تھا۔ مادھو کی شادی پچھلے سال ہوئی تھی۔ جب سے یہ عورت آئی تھی۔ اس نے اس خاندان میں تمدن کی بنیاد ڈالی تھی۔ پسائی کر کے گھاس چھیل کر وہ سیر بھر آٹے کا انتظام کر لیتی تھی اور ان دونوں بے غیرتوں کا دوزخ بھرتی رہتی تھی۔

جب سے وہ آئی یہ دونوں اور بھی آرام طلب اور آکسی ہو گئے تھے بلکہ کچھ اکڑنے بھی لگے تھے۔ کوئی کام کرنے کو بلاتا تو بے نیازی کی شان سے دوگنی مزدوری مانگتے۔ وہی عورت آج صبح سے درد زہ میں مر رہی تھی اور یہ دونوں شاید اسی انتظار میں تھے کہ وہ مر جائے تو آرام سے سوئیں۔

گھیسو نے آلو نکال کر چھیلتے ہوئے کہا” جا کر دیکھ تو کیا حالت ہے۔” اس کی چڑیل کا پھسار ہو گا اور کیا، یہاں تو اوجھا بھی ایک روپیہ مانگتا ہے۔ کس کے گھر سے آئے؟”
مادھو کو اندیشہ تھا کہ وہ کوٹھری میں گیا تو گھیسو آلوؤں کا بڑا حصہ صاف کر دیگا، بولا” مجھے وہاں ڈر لگتا ہے۔”
” ڈر کس بات کا ہے۔ میں تو یہاں ہی ہوں۔”
تو تم ہی جاکر دیکھو نا۔”
میری عورت جب مری تھی تو میں تین دن تک اسکے پاس سے ہلا بھی نہیں اور پھر مجھ سے لجائے گی کہ نہیں، کبھی اسکا منہ نہیں دیکھا، آج اسکا اکھرا ہوا بدن دیکھوں۔ اسے تن کی سدھ بھی تو نہ ہو گی۔ مجھے دیکھ لے گی تو کھل کر ہاتھ پاؤں بھی نہ پٹک سکے گی۔

میں سوچتا ہوں کہ کوئی بال بچہ ہو گیا تو کیا ہو گا۔ سونٹھ، گڑ، تیل کچھ بھی تو نہیں ہے گھر میں۔ ”
سب کچھ آ جائیگا۔ بھگوان بچہ دیں تو، جو لوگ ابھی ایک پیسہ نہیں دے رہے ہیں، وہ تب بلا کر دینگے۔ میرے نو لڑکے ہوئے ، گھر میں کچھ بھی نہ تھا مگر اسطرح ہر بار کام چل گیا۔ ”

جس سماج میں رات دن محنت کرنیوالوں کی حالت انکی حالت سے کچھ بہت اچھی نہ تھی اور کسانوں کے مقابلے میں وہ لوگ جو کسانوں کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانا جانتے تھے کہیں زیادہ فارغ البال تھے وہاں اس قسم کی ذہنیت کا پیدا ہو جانا کوئی تعجب کی بات نہیں تھی۔ ہم تو کہیں گے گھیسو کسانوں کے مقابلے میں زیادہ باریک بیں تھا اور کسانوں کی سی دماغ جمعیت میں شامل ہونے کے بدلے شاطروں کی فتنہ پرواز جماعت میں شامل ہو گیا تھا۔

ہاں اس میں یہ صلاحیت نہ تھی کہ شاطروں کے آئین وآداب کی پابندی بھی کرتا۔ اس لیے یہ جہاں اسکی جماعت کے اور لوگ گاؤں کے سرپنچ اور مکھیا بنے ہوئے تھے۔ اس پر سارا گاؤں انگشت نمائی کر رہا تھا پھر بھی اسے یہ تسکین تو تھی ہی کہ اگر وہ خستہ حال ہے تو کم سے کم اسے کسانوں کی سی جگر توڑ محنت تو نہیں کرنی پڑتی اور اسکی سادگی اور بے زبانی سے دوسرے بے جا فائدہ تو نہیں اٹھاتے۔

دونوں آلو نکال نکال کر جلتے جلتے کھانے لگے۔ کل سے کچھ نہیں کھایا تھا، اتنا صبر نہ تھا کہ انہیں ٹھنڈا ہو جانے دیں۔ کئی بار دونوں کی زبانیں جل گئیں۔ چھل جانے پر آلو کا بیرونی حصہ تو زیادہ گرم نہ معلوم ہوتا لیکن دانتوں کے تلے پڑتے ہی اندر کا حصہ زبان اور حلق اور تالو کو جلا دیتا تھا اور اس انگارے کو منہ میں رکھنے سے زیادہ خیریت اسی میں تھی کہ وہ اندر پہنچ جائے۔ وہاں اسے ٹھنڈا کرنے کیلئے کافی سامان تھے اس لیے دونوں جلد جلد نگل جاتے حالانکہ اس کوشش میں انکی آنکھوں سے آنسو نکل آتے۔

گھیسو کو اسوقت ٹھاکر کی برات یاد آئی جس میں بیس سال پہلے وہ گیا تھا۔ اس دعوت میں اسے جو سیری نصیب ہوئی تھی وہ اسکی زندگی میں ایک یادگار واقعہ تھی اور آج بھی اسکی یاد تازہ تھی۔ بولا” وہ بھوج نہیں بھولتا۔ تب سے پھر اسطرح کا کھانا اور بھر پیٹ نہیں ملا۔ لڑکی والوں نے سب کو پوڑیاں کھلائی تھیں، سب کو۔ چھوٹے بڑے سب نے پوڑیاں کھائیں اور اصلی گھی کی چٹنی، رائتہ، تین طرح کے سوکھے ساگ، ایک رسے دار ترکاری، دہی چٹنی، مٹھائی اب کیا بتاؤں کہ اس بھوج میں کتنا سواد ملا۔

کوئی روک نہیں تھی جو چیز چاہو مانگو اور جتنا چاہو کھاؤ۔ لوگوں نے ایسا کھایا، ایسا کھایا کہ کسی سے پانی نہ پیا گیا مگر پروسنے والے ہیں کہ سامنے گرم گرم گول گول مہکتی کچوریاں ڈال دیتے ہیں۔ منع کرتے ہیں کہ نہیں چاہیے پتل کو ہاتھ روکے ہوئے ہیں مگر وہ ہیں کہ اٹے جاتے ہیں اور جب سب نے منہ دھو لیا تو ایک ایک بڑا پان بھی ملا مگر مجھے پان لینے کی کہاں سدھ تھی۔ کھڑا نہ ہوا جاتا تھا۔ جھٹ پٹ جا کر اپنے کمبل پر لیٹ گیا۔ ایسا دریا دل تھا وہ ٹھاکر۔

مادھو نے ان تکلفات کا مزا لیتے ہوئے کہا ” اب ہمیں کوئی ایسا بھوج کھلاتا۔”
اب کوئی کیا کھلائے گا؟ وہ جمانا دوسرا تھا۔ اب تو سب کو کھپایت سوجھتی ہے۔ سادی بیاہ میں مت کھرچ کرو، کریا کرم میں مت کھرچ کرو۔ پوچھو گریبوں کا مال بٹور بٹور کر کہاں رکھو گے مگر بٹورنے میں تو کمی نہیں ہے۔ ہاں کھرچ میں کھپایت سوجھتی ہے۔
تم نے ایک بیس پوڑیاں کھائی ہونگی۔
بیس سے جیادہ کھائی تھیں۔
” میں پچاس کھا جاتا۔”
پچاس سے کم میں نے بھی نہ کھائی ہونگی، اچھا پٹھا تھا۔ تو اسکا آدھا بھی نہیں ہے۔ آلو کھا کر دونوں نے پانی پیا اور وہیں الاؤ کے سامنے اپنی دھوتیاں اوڑھ کر پاؤں پیٹ میں ڈالے سو رہے۔ جیسے دو بڑے بڑے اژدھے گینڈلیاں مارے پڑے ہوں اور بدھیا ابھی تک کراہ رہی تھی۔

صبح کو مادھو نے کوٹھری میں جاکر دیکھا تو اسکی بیوی ٹھنڈی ہو گئی تھی۔ اسکے منہ پر مکھیاں بھنک رہی تھیں۔ پتھرائی ہوئی آنکھیں اوپر ٹنگی ہوئی تھیں۔ سارا جسم خاک میں لت پت ہو رہا تھا۔ اسکے پیٹ میں بچہ مر گیا تھا۔

مادھو بھاگا ہوا گھیسو کے پاس آیا پھر دونوں زور زور سے ہائے ہائے کرنے اور چھاتی پیٹنے لگے۔ پڑوس والوں نے یہ آہ و زاری سنی تو دوڑے ہوئے آئے اور رسم قدیم کے مطابق غمزدوں کی تشفی کرنے لگے۔

مگر زیادہ رونے دھونے کا موقع نہ تھا کفن کی اور لکڑی کی فکر کرنی تھی۔ گھر میں تو پیسہ اسطرح غائب تھا جیسے چیل کے گھونسلے میں مانس۔ چکے تھے۔ باپ بیٹے روتے ہوئے گاؤں کے زمیندار کے پاس گئے۔ وہ ان دونوں کی صورت سے نفرت کرتے تھے۔ کئی بار انہیں اپنے ہاتھوں پیٹ چکے تھے۔ چوری کی علت میں ، وعدے پر کام نہ کرنے کی علت میں۔ پوچھا ” کیا ہے بے گھیسوا۔ روتا کیوں ہے۔ اب تو تیری صورت ہی نظر نہیں آتی۔ اب معلوم ہوتا ہے کہ تم اس گاؤں میں رہنا نہیں چاہتے۔

گھیسو نے زمین پر سر رکھ کر آنکھوں میں آنسو بھرے ہوئے کہا۔ ” سرکار بڑی بپت میں ہوں۔ مادھو کی گھر والی رات گجر گئی۔ دن بھر تڑپتی رہی سرکار۔ آدمی رات تک ہم دونوں اسکے سرہانے بیٹھے رہے۔ دوا دارو جو کچھ ہو سکا سب کیا۔ گر ہمیں دگا دے گئی۔ اب کوئی ایک روٹی دینے والا نہیں رہا مالک۔ تباہ ہو گئے۔ گھر اجڑ گیا۔ آپ کا گلام ہوں۔ اب آپکے سوا مٹی کون پار لگائے گا۔ ہمارے ہاتھ میں تو جو کچھ تھا وہ سب دوا دارو میں اٹھ گیا۔ سرکار ہی کی دیا ہو گی تو اسکی مٹی اٹھے گی۔ آپ کے سوا اور کس کے دوار پر جاؤں۔

زمیندار صاحب رحمدل آدمی تھے مگر گھیسو پر رحم کرنا کالے کنبل پر رنگ چڑھانا تھا۔ جی میں تو آیا کہہ دیں۔ ” چل دور ہو یہاں سے لاش گھر میں رکھ کر سڑا۔ یوں تو بلانے سے بھی نہیں آتا۔ آج جب غرض پڑی تو آکر خوشامد کر رہا ہے۔ حرام خور کہیں کا بدمعاش مگر یہ غصہ یا انتقام کا موقع نہیں تھا۔ طوعا” وکرہا” دو روپے نکال کر پھینک دیے مگر تشفی کا ایک کلمہ بھی منہ سے نہ نکالا۔ اسکی طرف تاکا تک نہیں۔ گویا سر کا بوجھ اتارا ہو۔

جب زمیندار صاحب نے دو روپے دیے تو گاؤں کے بنیے مہاجنوں کو انکار کی جرات کیونکر ہوتی۔ گھیسو زمیندار کے نام کا ڈھنڈورا پٹنا جانتا تھا۔ کسی نے دو آنے دیے کسی نے چار آنے۔ ایک گھنٹے میں گھیسو کے پاس پانچ روپیہ کی معقول رقم جمع ہو ئی۔ کسی نے غلہ دیے دیا کسی نے لکڑی اور دوپہر کو گھیسو اور مادھو بازار سے کفن لانے چلے اور لوگ بانس وانس کاٹنے لگے۔

گاؤں کی رقیق القلب عورتیں آآ کر لاش کو دیکھتی تھیں اور اسکی بے بسی پر دوبوند آنسو گرا کر چلی جاتی تھیں۔
بازار میں پہنچ کر گھیسو بولا۔ ” لکڑی تو اسے جلانے بھر کی مل گئی ہے۔ کیوں مادھو؟۔
مادھو بولا، ہاں لکڑی تو بہت ہے۔ اب کپھن چاہیے۔
تو کوئی ہلکا سے کپھن لے لیں۔
ہاں اور کیا؟ لاش اٹھتے اٹھتے رات ہو جائیگی۔ رات کو کپھن کون دیکھتا ہے۔
کیا برا رواج ہے کہ جسے جیتے جی تن ڈھانکنے کو چیتھڑا بھی نہ ملے، اسے مرنے پر نیا کپھن چاہیے۔
” اور کیا رکھا رہتا ہے۔ یہی پانچ روپے پہلے ملتے تو کچھ دوا دارو کرتے۔

دونوں ایکدوسرے کے دل کا ماجرا معنوی طور سمجھ رہے تھے۔ بازار میں ادھر ادھر گھومتے رہے۔ یہاں تک کہ شام ہو گئی۔ دونوں اتفاق سے یا عمداً ایک شراب خانہ کے سامنے آ پہنچے اور گویا کسی طے شدہ فیصلے کے مطابق اندر گئے۔ وہاں ذرا دیر تک دونوں تذبذب کی حالت میں کھڑے رہے۔ پھر گھیسو نے ایک بوتل شراب لی۔ کچھ گزک لی اور دونوں برآمدے میں بیٹھ کر پینے لگے۔
کنی کجیاں پیہم پینے کیبعد دونوں سرور میں آ گئے۔

گھیسو بولا، کپھن لگانے سے کیا ملتا۔ آکھر جل ہی تو جاتا، کچھ بہو کیساتھ تو نہ جاتا۔
مادھو، آسمان کیطرف دیکھ کر بولا گویا فرشتوں کو اپنی معصومیت کا یقین دلا رہا ہو۔ دنیا کا دستور ہے۔ یہی لوگ باہمنوں کو ہجاروں روپے کیوں دیتے ہیں۔ کون دیکھتا ہے، پرلوک میں ملتا ہے یا نہیں۔

بڑے آدمیوں کے پاس دھن ہے پھونکیں، ہمارے پاس پھونکنے کو کیا ہے۔
لیکن لوگوں کو جواب کیا دو گے؟ لوگ پوچھیں گے کپھن کہاں ہے؟
گھیسو ہنسا۔ کہہ دیں گے روپے کمر سے کھسک گئے بہت ڈھونڈا۔ ملے نہیں۔
مادھو بھی ہنسا۔ اس غیر متوقع خوش نصیبی پر قدرت کو اسطرح شکست دینے پر بولا۔ بڑی اچھی تھی بیچاری مری بھی تو خوب کھلا پلا کر۔

آدھی بوتل سے زیادہ ختم ہو گئی۔ گھیسو نے دو سیر پوریاں منگوائیں، گوشت اور سالن اور چٹ پٹی کلیجیاں اور تلی ہوئی مچھلیاں۔ شراب خانے کے سامنے دوکان تھی۔ مادھو لپک کر دو پتوں میں ساری چیزیں لے آیا۔ پورے ڈیڑھ روپے خرچ ہو گئے۔ صرف تھوڑے سے پیسے بچ رہے۔

دونوں اسوقت اس شان سے بیٹھے ہوئے پوریاں کھا رہے تھے جیسے جنگل میں کوئی شیر اپنا شکار اڑا رہا ہو۔ نہ جواب دہی کا خوف تھا نہ بدنامی کی فکر۔ ضعف کے ان مراحل کو انہوں نے بہت پہلے طے کر لیا تھا۔ گھیسو فلسفیانہ انداز سے بولا۔ ہماری آتما پرسن ہو رہی ہے تو کیا اسے پن نہ ہو گا۔
مادھو نے فرق صورت جھکا کر تصدیق کی، جرور سے جرور ہو گا۔ بھگوان تم انترجامی( علیم ) ہو۔ اسے بیکٹھ لے جانا۔ ہم دونوں ہردے سے اسے دعا دے رہے ہیں۔ آج بھوجن ملا وہ کبھی عمر بھر نہ ملا تھا۔

ایک لمحہ کیبعد مادھو کے دل میں ایک تشویش پیدا ہوئی۔ بولا” کیوں دادا ہم لوگ بھی تو وہاں ایک نہ ایک دن جائیں گے ہی۔” گھیسو نے اس طفلانہ سوال کا کوئی جواب نہ دیا۔ مادھو کیطرف پر ملامت انداز سے دیکھا۔
جو وہاں ہم لوگوں سے وہ پوچھے گی کہ تم نے ہمیں کپھن کیوں نہیں دیا، تو کیا کہو گے؟
کہیں گے تمہارا سر۔
پوچھے گی تو جرور۔
تو کیسے جانتا ہے اسے کپھن نہ ملیگا؟ تو مجھے اب گدھا سمجھتا ہے۔ میں ساٹھ سال دنیا میں کیا گھاس کھودتا رہا ہوں۔ اسکو کپھن ملے گا اور اس سے بہت اچھا ملیگا، جو ہم دینگے۔

مادھو کو یقین نہ آیا۔ بولا کون دیگا؟ روپے تو تم نے چٹ کر دیے۔
گھیسو تیز ہو گیا۔ میں کہتا ہوں اسے کپھن ملیگا۔ تو مانتا کیوں نہیں؟
کون دیگا، بتاتے کیوں نہیں؟
وہی لوگ دینگے جنہوں نے ابکی دیا۔ ہاں وہ روپے ہمارے ہاتھ نہ آئیں گے اور اگر کسی طرح آ جائیں تو پھر ہم اسطرح یہاں بیٹھے پئیں گے اور کپھن تیسری بار ملیگا۔
جوں جوں اندھیرا بڑھتا تھا اور ستاروں کی چمک تیز ہوتی تھی۔ میخانے کی رونق بھی بڑھتی جاتی تھی۔ کوئی گاتا تھا، کوئی بہکتا تھا، کوئی اپنے رفیق کے گلے لپٹا جاتا تھا۔ کوئی دوست کے منہ میں ساغر لگائے دیتا تھا۔ وہاں کی فضا میں سرور تھا۔ ہوا میں نشہ۔ کتنے تو چلو میں ہی الو ہو جاتے ہیں۔ یہاں آتے تھے تو صرف خود فراموشی کا مزہ لینے کے لیے۔ شراب سے زیادہ یہاں کی ہوا سے مسرور ہوتے تھے۔ زیست کی بلا یہاں کھینچ لاتی تھی اور کچھ دیر کیلئے وہ بھول جاتے تھے کہ وہ زندہ ہیں یا مردہ ہیں یا زندہ درگور ہیں۔

اور یہ دونوں باپ بیٹے اب بھی مزے لے لے کر چسکیاں لے رہے تھے۔ سب کی نگاہیں انکی طرف جمی ہوئی تھیں۔ کتنے خوش نصیب ہیں دونوں، پوری بوتل بیچ میں ہے۔
کھانے سے فارغ ہر کر مادھو نے بچی ہوئی پوریوں کا تیل اٹھا کر ایک بھکاری کو دیدیا، جو کھڑا انکی طرف دیکھ رہا تھا اور دینے کے غرور اور مسرت اور ولولہ کا اپنی زندگی میں پہلی بار احساس کیا۔ گھیسو نے کہا، لیجا کھوب کھا اور آشیرباد دے” جسکی کمائی ہے وہ تو مر گئی مگر تیرا آشیرباد اسے جرور پہنچ جائیگا۔ روئیں روئیں سے آشیرباد دے بڑی گاڑھی کمائی کے پیسے ہیں۔

مادھو نے پھر آسمان کیطرف دیکھ کر کہا۔ وہ بیکنٹھ میں جائیگی۔ دادا بیکنٹھ کی رانی بنے گی۔ گھیسو کھڑا ہو گیا اور جیسے مسرت کی لہروں میں تیرتا ہوا بولا۔ ہاں بیٹا بیکنٹھ میں نہ جائیگی تو کیا یہ موٹے موٹے لوگ جائینگے جو گریبوں کو دونوں ہاتھ سے لوٹتے ہیں اور اپنے پاپ کے دھونے کیلئے گنگا نہاتے ہیں اور مندروں میں جل چڑھاتے ہیں۔
یہ خوش اعتقادی کا رنگ بھی بدلا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نشہ کی خاصیت سے یاس اور غم کا دورہ ہوا۔ مادھو بولا، مگر دادا بیچاری نے جندگی میں بڑا دکھ بھوکا۔ مری بھی کتنا دکھ جھیل کر۔ وہ آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر رونے لگا۔

گھیسو نے سمجھایا، کیوں روتا ہے بیٹا! کھس ہو کر وہ مایا جال سے مکت ہو گئی۔ جنجال سے چھوٹ گئی۔ بڑی بھاگوان تھی جو اتنی جلد مایا موہ کے بندھن توڑ دیے۔
اور دونوں وہیں کھڑے ہو کر گانے لگے۔ ٹھگنی کیوں نینا جھکا دے ٹھگنی۔

سارا میخانہ محو تماشہ تھا اور یہ دونوں مے کش مخمور محویت کے عالم میں گائے جاتے تھے پھر دونوں ناچنے لگے۔ اچھلے بھی، کودے بھی، گرے بھی، ہلکے بھی، بھاؤ بھی بتائے اور آخر نشے سے بدمست ہو کر وہیں گر پڑے۔

Views All Time
Views All Time
295
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   کہتا ہے دل کہ اسکو بھی محشر پہ ٹال دے-ڈاکٹر ایم ایچ بابر
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: