Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

ڈریں اس وقت سے

ڈریں اس وقت سے
Print Friendly, PDF & Email

سورۃ لقمان میں ارشاد خدا وندی ہے” اگر کوئی عمل رائی کے دانے کے برا بر بھی ہو اور وہ پہاڑ کی چٹان کی تہہ میں ہو یا آسمانوں میں یا زمین میں کہیں بھی چھپا ہوا ہو اﷲ اسے نکال کر سامنے لے آئے گا بے شک اﷲ بڑا باریک بین اور بڑا با خبر ہے‘‘۔ کوٹ مومن میں اسلام آباد اور حکومت پنجاب کے زیر اہتمام منعقد کرائے جانے والے مسلم لیگ نواز کے جلسہ ٔعام میں مقررین کی جانب سے جس قسم کے جملے اور نعرے اختیار کئے گئے وہ غیر متوقع نہیں تھے لیکن مرکزی سٹیج سے میاں نواز شریف کے حکم سے ان سامعین سے جس قسم کے نعرے لگوائے گئے وہ کسی ایسی شخصیت سے میچ نہیں کرتے تھے جس نے اس ملک کی سالمیت کیلئے مختلف عہدوں سے آٹھ مرتبہ آئین پاکستان کے تحت حلف اٹھایا ہو۔

کوٹ مومن میں مرکزی سٹیج کے نیچے اور اس کے ارد گرد سجائے گئے بینرز اور پوسٹرز کے علا وہ اپنی تقریروں میں جو کچھ کہا گیا وہ کسی بھی جمہوری یا سوشل کنٹریکٹ کے تحت وجود میں آنے والے معاشرے کے بالکل الٹ تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ مشن جو نہال ہاشمی نے ادھورا چھوڑ دیا تھا آج اسے مکمل کرنے کا عزم کیا جا رہا ہے۔ اداروں کو دھمکیاں دی گئیں‘ ان کے خلاف وہ گرجدار نعرے لگوائے گئے جس کی نظیر آج تک دیکھنے اور سننے میں نہیں آئی۔ بلا شک و شبہ یہ1997 کی اس فلم کا دوسرا حصہ لگ رہی تھی جب سپریم کورٹ پر لاہور اور راولپنڈی سے اپنے مخصوص ورکر بلا کر اس پر یلغار کرائی گئی۔ کوٹ مومن میں کہا گیا کہ کل ہم نے عدلیہ بحال کرائی تھی اب ہم عدل بحال کرائیں گے۔

جب وہ عدل بحالی کی بات کرتے ہیں تو حضرت سلطان باہوؒ کا مشہور صوفیانہ کلام یاد آتا ہے اور اس مضمون کے ذریعے اس درویش ولی کا صوفیانہ کلام میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کے گوش گزار کر رہا ہوں اگر موقع ملے یا وہ کبھی منا سب سمجھیں تو عدل کی تحریک شروع کرنے سے پہلے اسے غور سے سن لیں :۔ ” عدل کریں تے تھر تھر کنبھن اچیاں شاناں والے ہو‘‘۔

محترم میاں نواز شریف صاحب ڈریئے اس وقت سے جب عدل اپنی پوری طاقت اور شان سے اپنا ترازو لئے ہوئے آپ کو اپنے سامنے حاضر کرے گا، جب پنجاب اور مرکز کا اہل کار نیب میں گواہی دینے کے بعد ڈر کر آپ سے جھک کر ہاتھ نہیں ملائے گا۔جب نیب عدالت میں آپ کے مقدمات کیلئے عدالت میں گواہی دینے کیلئے بلائے جانے والوں کو دو دن پہلے آپ کے چند وکیلوں کے سامنے ریہرسل نہیں کرائی جا سکے گی۔ ڈریں اس وقت سے جب آپ کے آگے اور پیچھے پنجاب اور اسلام آباد پولیس اور اس کی ایجنسیوں کی تیس چالیس گاڑیوں کے قافلے نہیں ہوں گے۔ ڈریں اس وقت سے جب اسلام آباد پولیس کی وردی پہنے ہوئے قوم کے ٹیکسوں سے تنخواہ اور بھر پور سہولیات لینے والے پولیس افسر کو آپ گاڑی سے اترتے ہوئے جان بوجھ کر پنسل گراکر اپنا کرو فر دکھانے کیلئے جھکانے کی ہمت نہ کر سکیں گے۔ڈریں اس وقت سے جب نہ تو بڑا اور نہ ہی چھوٹا وزیر اخلہ آپ کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوا ہو گا۔ڈریں اس وقت سے جب عدل اپنی روح کے مطا بق کام کرتے ہوئے خود کو منوائے گا اور آپ بھی محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی طرح قید خانوں کے باہر طویل انتظار کرتے نظر آئیں گے ۔ڈریں اس وقت سے جب عدل کسی مصلحت کا شکار نہیں ہو گا جب عدل بقول اعتزاز احسن نرمی اختیار نہیں کرے گا ڈریں اس وقت سے جب پولیس کانسٹیبل سے لے کر انسپکٹر جنرل پولیس قاعدے اور قانون کے ماتحت ہوں گے، جب وہ آئین پاکستان کے ماتحت اور اس کی روح کے مطا بق کام کریں گے ،جب وہ امیر اور غریب کیلئے قانون کا الگ الگ معیار قائم نہیں کر سکیں گے، جب آپ کے جلسوں اور جلوسوں کیلئے پولیس لائنز سے ہزاروں کی نفری اور سکولوں اور کالجوں کے مرد و خواتین اساتذہ اور لاہور سے پی ایچ اے کے ملازمین کو تادیبی کارروائی کے شکنجے میں جکڑ کر لایا نہیں جا سکے گا۔ ڈریں اس وقت سے جب آپ کے آتے جاتے ہوئے کئی کئی گھنٹے ٹریفک بند نہیں کی جا سکے گی؟۔

یہ بھی پڑھئے:   قربانی پر اپنی انا کو قربان کر دیں

محترم میاں محمد نواز شریف آپ نے کوٹ مومن میں جلسہ عام سے خطاب میں لوگوں سے پوچھا ہے کہ ” میرے ساتھ تحریک عدل کیلئے باہر نکلو گے؟‘‘۔ میاں صاحب بڑے شوق سے نکلیں دعا ہے کہ سب کو خدا یاد آ جائے التجا ہے کہ عدل خدا کی جواب دہی سے ڈرتے ہوئے اپنی اصل شکل اور روح سے پاکستان میں نازل ہو جائے، اس لئے میاں صاحبان ڈریں اس وقت سے جب عدل اپنے گرد لپٹی ہوئی تمام زنجیروں کو توڑتا ہوا ہر قسم کی مصلحتیں جھٹک کر ماڈل ٹاؤن لاہور کے دس افراد، دو خواتین اور پانچ ماہ کی ایک روح کے قتل اور82 افراد کو تاک تاک کر ارادہ قتل کیلئے گولیاں برسانے کے مرتکب اور محرک ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں بغیر کسی خوف اور جھجک کے کھڑا کرتے ہوئے ان پر قانون اور انصاف کی ایک ایک شق لاگو کرے گا۔جہاں نہ تو پسندیدہ صدر ہو گا‘ نہ آئی جی اور نہ ہی پسندیدہ منصف ۔

آپ دھمکیاں دے رہے ہیں کہ عدل کی تحریک چلائیں گے حضور بڑے شوق سے چلائیں اور اس سے پیچھے مت ہٹیں لیکن ڈریں اس وقت سے جب بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ایک ایک پیسے کا آپ سے حساب مانگا جائے گا۔ ڈریں اس وقت سے جب لندن میں کابینہ کے اجلاس بلانے پر اس قوم کے کروڑ ہا روپے ضائع کرنے کی آپ سے پوچھ گچھ ہو گی؟۔ڈریں اس وقت سے جب نہ تو سعودیہ اور نہ ہی قطر اور ترکی سے کوئی آپ کو بچانے کیلئے آئے گا اور اگر کسی نے ایسا کیا تو عدل اس کے سامنے سینہ تان کر آئین پاکستان کی کتاب لئے کھڑا ہو جائے گا اور پھر عدل کی جیت اس طرح ہو گی کہ اورنج ٹرین ، میٹرو ٹرین اور موٹر وے کے ایک ایک پیسے کا حساب لینے کیلئے کوئی اپنی آنکھیں بند نہیں کر سکے گا۔

یہ بھی پڑھئے:   دامن کو ذرا دیکھ ذرا بندقبا دیکھ - حیدر جاوید سید

آپ لوگوں نے چند دن پہلے کیلی فورنیا کی عدالت کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے میڈیا سے پوچھا ہے کہ جعلی خان سے اس کی بیٹی کے بارے پوچھیں گے ۔۔۔تو دیر مت کیجئے گا لیکن اس سے پہلے ڈریں اس وقت سے جب عمران خان کی جانب سے بھی ایسا کوئی مطالبہ سامنے آ جائے گا تو پھر خود ہی سوچئے پھر کیا ہو گا ؟۔ پھر کس کس کو جواب دیا جائے گا؟ پھر کس کس کو مطمئن کیا جائے گا؟۔ پھر صادق اور امین کی بات کہاں جا کر ختم ہو گی؟۔آپ لوگ شیشے کے گھروں میں بیٹھے ہوئے ہیں اس لئے کسی کے گھر کے شیشوں پر پتھر مارنے سے گریز کریں اس لئے اس طرح کی باتیں کرنے سے پہلے ڈریں اس وقت سے جب کوئی وہی پتھر اٹھا کر آپ کی جانب پھینکنا شروع کر دے گا۔ سوچئے اگر عدل خدا کے حکم سے ڈر کر غلام عباس کا سپریم کورٹ میں پڑا ہوا برسوں پرانا ایل ڈی اے کے دس ہزار سے زائد پلاٹوں کا کیس سامنے لے آیا تو کیا ہو گا۔۔۔۔ڈریں اس وقت سے جب نہ تو پنجاب کی راج شاہی ہو گی اور نہ ہی وفاق سے کمک ملے گی۔۔!!

بشکریہ روزنامہ دنیا

Views All Time
Views All Time
68
Views Today
Views Today
2
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: