Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

یہ مَیں اور تُو کی دنیا-ممتاز شیریں

by جون 7, 2017 ادب
یہ مَیں اور تُو کی دنیا-ممتاز شیریں

یہ زندگی بہت عجیب ہے۔ بہت ہی عجیب، اس میں لمحہ بہ لمحہ ایک نئی داستان جنم لیتی ہے ۔
نہ جانے کیوں کل رات سے دل بہت بوجھل ہے۔بہت سی بھولی بسری باتیں ہیں جو یاد آرہی ہیں بہت سے بچھڑے رشتے ہیں جن کی کسک ستا رہی ہے بہت سے لوگ ہیں جو یاد آرہے ہیں ۔آج کوئی کہانی لکھنے کا قطعی ارادہ نہیں ہے بلکہ آج کچھ احساسات، کچھ خیالات، کچھ درد کو آپ کے ساتھ شئیر کرنا ہے۔
کچھ داستانیں ایسی ہیں جن کو بیان کرنے کے لیئے دل کے اندر ایک الاؤ سا پکتا ہے مگر الفاظ نہیں ملتے اور پھر ہر داستان لکھی بھی تو نہیں جا سکتی۔ ہم نے سنا تھا کہ جن احساسات و خیالات کو اظہار کے راستے نہ ملیں تو وہ متبادل راستے ڈھونڈ لیتے ہیں جیسے کوئی معصوم بچہ جسے بولنا نہیں آتا ہے اسے کوئی چیز مانگنی ہو تو وہ مختلف حرکات و سکنات سے اس کا اظہار کرتا ہے جس کو وہ لوگ بخوبی پہچان لیتے ہیں جو "اپنے” ہوتے ہیں ۔”اپنے” یہ لفظ بھی کبھی کبھی کتنا غیر سا لگتا ہے ۔
اس غیر لگنے کی وجہ؟ یہ وہ سوال ہے جہاں اظہار کے لئے الفاظ کھو جاتے ہیں اپنا آپ بکھرا بکھرا سا محسوس ہونے لگتا ہے ۔بہت سارے کردار چلتے پھرتے یہیں کہیں میرے آس پاس ہی محسوس ہونے لگتے ہیں یہ کردار کبھی کسی فرضی کہانی کا موضوع بنتے ہیں اور کبھی حقیقی آپ بیتیوں کا۔ سچ تو یہ ہے کہ فرضی کچھ بھی نہیں ہوتا ہے کہیں نہ کہیں حقیقت لفظوں کے دریچوں سے جھانک رہی ہوتی ہے ۔۔ذرا دیر کے لئے آنکھیں بند کروں تو ایک بھراپُرا گھر نظروں کے سامنے آجاتا ہے۔
دو سگی بہنوں کی شادیاں دو سگے بھائیوں سے ہوئی تھی ایک بہن کثیر الاولاد تھی تو دوسری کے دو بیٹے ایک بیٹی تھی ۔دونوں بہنوں میں تو کبھی تو تکار ہو بھی جایا کرتی تھی کہ جہاں چار برتن ساتھ رکھے ہوں وہ آپس میں لڑکھڑاتے آواز پیدا کرتے ہی ہیں۔ لیکن خالہ زاد کہیں یا تایا زاد ان بہن بھائیوں کی محبت مثالی تھی باہر والے تو باہر والے خود ان بہین بھائیوں کو کبھی یہ احساس نہیں ہوا کہ ہم میں سگاکون ہے؟
ایک دوسرے پر جان دینے والے ، ایک کا درد دوسرا اپنے دل میں محسوس کرتا۔الغرض زندگی چلتی رہی ،چلتی رہی۔ بہنوں کی شادیاں ہو گئیں وہ اپنے اپنے گھروں کو رخصت ہوئیں بھائیوں کی دلہنیں آگئیں۔ محبت پھر بھی مسکراتی رہی بہن بھائی ایک دوسرے پہ جان نچھاورکرتے رہے۔
ان سب کے حسن اتفاق سے لوگ متاثر نظر آتے تھے سب کے بچے آپس میں شیر و شکر نظر آتے تھے ان تعلقات میں دراڑ تب نظر آئی جب بچے بڑے ہوئے ،تعلیمی مدارج کے اختتام پر پہنچے اور ان کے رشتے ناطے کرنے کا وقت آیا نہ جانے شیطان نے کون سی چال چلی کہ آپس میں بنتے رشتے بگڑنے لگے محبتوں میں جکڑے بہن بھائیوں کے دلوں میں بدگمانی کا بادل چھانے لگا یہ بادل اس وقت اور گہرا ہو گیا جب ایک بھائی نے اپنی بیٹی کی شادی بہن کے بیٹے سے کی اور وہ شادی ناگزیر وجوہات کی بناء پر علیحدگی پر ختم ہو گئی یہ وجہ ایسی بنیاد ڈال گیا کہ پورا خاندان تتر بتر ہو گیا ۔
اداس زندگی،اداس،وقت،اداس موسم،اداس رُت۔کتنی چیزوں پہ الزام لگا ہےان کے روٹھنے کے بعد۔
بے شک مال اور اولاد آزمائش ہیں ۔امتحان ہیں۔ سب رشتے امتحان ہیں بھائی،بہن، اولاد، سب امتحان کے پرچے ہیں ۔
وقت کی عدالت میں۔
زندگی کی صورت میں۔
یہ جو تیرے ہاتھوں میں ۔
ایک سوال نامہ ہے۔
یہ زندگی کے پرچے ہیں۔
کس نے یہ بنایا ہے۔
کس لیئے بنایا ہے۔
کچھ سمجھ میں آیا ہے۔
زندگی کے پرچے کے۔
سب سوال لازم ہیں۔
سب سوال مشکل ہیں۔
زندگی کے پرچے کے یہ سوال جب انا پرستی، خود غرضی، خودپرستی کا مجموعہ بنتے ہیں تو اپنائیت آٹے میں سے بال کی طرح باہر نکل جاتی ہے ،بے اخلاص نیکیوں کا ڈبہ خالی ڈھول کی طرح بجنے لگتا ہے۔جو بہن بھائی ماں کے سائے تلے ایک ہی تھالی میں کھاتے تھے ماں کی زندگی میں ہی بد گمانیوں کا شکار ہوگئے اور صرف تھالیاں ہی نہیں دل بھی جدا ہو گئے۔ماں کا انتقال ہو گیا لیکن زندگی کی سب سے بڑی حقیقت موت بھی انہیں دوبارہ نہ جوڑ سکی ۔
موت۔ کتنا بڑا جھٹکا۔کتنی بڑی سچائی۔ انہیں ماں کی موت قیامت لگ رہی تھی۔ لیکن درحقیقت سب سے بڑی قیامت خون کے رشتے کی بے حسی تھی بھائی نے جیتے جی بہنوں سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا،بھائی کا گھر اجڑا تو قیامت بہن کے گھر بھی ٹوٹی۔لیکن ایسے ہی موقعوں کے لیئے نبی کریم صلی اللہ وعلیہ وسلم نے تربیت کر دی کہ ” اپنی مشکلوں میں اللہ سے مدد طلب کرو اور ہمت نہ ہارو”۔” اگر تجھ پر کوئی مصیبت آپڑے تو یوں مت سوچ کہ اگر میں ایسا کرلیتا تو یوں ہو جاتا بلکہ یہ سوچ کہ اللہ نے یہ مقدر کیا تھا جو اس نے چاہا وہ کیا”
اس لیئے کہ "اگر” شیطان کے عمل کا دروازہ کھولتا ہے۔ مگر افسوس یہ ہے کہ ان میں سے کوئی بھی دنیا پرست نہ تھا۔دین کی سمجھ، بچے حافظ القران ،گھرانہ مذہبی ،پنج وقتہ نمازی، تہجد گزار۔پھر کیا ہوا۔تکبر۔
ہاں شاید عجز و انکساری کا تکبر لے ڈوبا ۔ہر چیز کا ایک نشہ ہوتا ہے ،شیطان دھوکا دینے کو ہر آن گھات لگائے بیٹھا ہے ۔تکبر شیطانی عیب ہے ،عبادت کا بھی ایک تکبر ہوتا ہے ابلیس بھی تکبر میں مارا گیا انہیں بھی اپنی مَیں کا تکبر لے ڈوبا۔میرے ساتھ کیوں۔یہ واقعہ کسی کے بھی ساتھ ہوسکتا تھا۔ تقدیر پہ ہمارا ایمان ہمیں مطمئن و پرسکون کر دیتا ہے ورنہ شیطانی وسوسوں کی حسرتیں ناگ بن کر زندگی بھر ڈستی رہتی ہیں اگر مگر سے نکل آئیں۔ اللہ کے فیصلے پر سر جھکا کر راضی بہ رضا ہو جائیں اللہ نے بار بار زندگی کا ابتلاء و آزمائش ہونا واضح کر دیا ہے۔
لنبلونکم۔( ہم تمہارا امتحان لے کر رہیں گے)
لیبلوکم۔( تاکہ تمہیں آزمائیں )
لنبلوھم ( تاکہ ہم تمہارا امتحان لیں )
” ہم تمہیں ضرور خوف و خطر، جان ومال کے گھاٹے میں مبتلا کر کے تمہارا امتحان لیں گے اور جو لوگ صبر کریں گے ان کے لیئے خوشخبری ہے” اللہ کے فیصلے پر سر جھکا کر راضی بہ رضا ہو جائیے تقدیر سے لڑنا ممکن نہیں۔” اللھم اسئلک الرضا بالقضا۔ یا اللہ ۔میں تجھ سے مانگتی ہوں۔ میں تیرے ہر حکم ،ہر فیصلے پہ راضی ہوں ہم خدانخواستہ راضی نہ ہوئے تو حالات تو نہیں بدلیں گے حقائق تو جوں کے توں رہیں گے لیکن ہاں ہم شیطان کے پھندے میں پھنس کر حسرتوں ،بے قراریوں، بے چینیوں کا شکار ہو جائیں گے ۔مصائب پر صبر کریں گے تو ان اللہ مع الصابرین کا ساتھ ہوگا۔
جہاں انتقام کا جذبہ ہوگا ،بدلے کی آگ ہوگی وہاں شیطان کا ساتھ ہوگا وہ ابلیس (مایوس) ہوا ہے۔ مایوسی پھیلائے گا ،دماغ ماؤف کر دے گا امیدیں توڑ دے گا۔۔ ہاتھ جوڑتی ہوں ۔خدارا پلٹ آئیں۔زندگی میں ہی مل لیں۔ رنجشیں بھلا دیں۔ تقدیر پر راضی ہو جائیں کہ اس میں خطا رشتوں کی نہیں تقدیر کی ہے ۔مجھے نہیں پتہ کہ میں کیا لکھ رہی ہوں ۔دل رقیق القلب ہو رہا ہے ۔ہمارا عام الحزن دراز ہوگیا ہے۔الہٰی رحم۔
ان کی دوری نے چھین لی ہے ہنسی مجھ سے اور لوگ کہتے ہیں کتنے سدھر گئے ہو تم۔
سب کہتے ہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اداسی کم ہو جاتی ہے مَیں کہتی ہوں "وقت گزرنے کے ساتھ اداسی بڑھ جایا کرتی ہے کافی عرصے سے بچھڑے ہوؤں کی یاد بھی زیادہ آیا کرتی ہے” ۔ ذہن کی جھیل پر یادوں کی دھنک پھوٹتی ہے ۔ ایک میلہ ہے جو ہر شام ادھر لگتا ہے۔یہ زندگی جب شروع ہوتی ہے تومعلوم ہی نہیں ہوتا کہ زندگی کیا ہے۔کوئی کہتا ہے زندگی ایک تشنگی ہے۔کوئی کہتا ہے زندگی ایک سفر ہے۔مگرزندگی بے بندگی شرمندگی ہے۔کیا سنہری الفاظ ہیں جو زندگی کی حقیقت کو کھول دیتے ہیں ۔
تو سوچئے ذرا۔اپنائیت میں غیریت کا زہر ملانے سے پہلے۔دنیا کی لذتوں میں کھونے سے پہلے۔دین کا لبادہ چڑھانے سے پہلے باطن کی ناپاکی کا بھی کچھ علاج ہو جائے ۔
یہ خواہشوں کا عالم،یہ آرزو کی دنیا
یہ جہاں رونقوں کا ،یہ جستجو کی دنیا
اس میں بقا نہیں ہے،آخر فنا ہے اس کو خواہ کتنی ہی حسیں ہو یہ رنگ و بو کی دنیا
جب چھوڑ کے ہی جاناتو دل کو کیا لگانا
یہ میری تیری دنیا، یہ مَیں اور تُو کی دنیا۔

Views All Time
Views All Time
227
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

جواب دیجئے

%d bloggers like this: