کچھ علاج اس کا بھی | ممتاز شیریں

Print Friendly, PDF & Email

یہ بہت پرانی بات نہیں ہے کہ ہمارے معاشرے میں بارہ تیرہ سال کا لڑکا اپنے سے ذرا بڑی عمر کی لڑکی کو باجی اور تیس سے بڑی عمر کی خاتون کو آنٹی کی نظر سے دیکھتا اور کہتا تھا۔ آج ہمارا میڈیا اسے سکھاتا ہے کہ بڑا اور چھوٹا کچھ نہیں ہوتا ہے عورت بس عورت ہوتی ہے۔ اس سے کسی بھی عمر میں کسی بھی زمانے میں عشق کیا جا سکتا ہے اسے بس اسی نظر سے دیکھو۔ باجی، بہنا، آنٹی، خالہ، پھوپھی، چچی، بھابھی یہ سب بس القابات ہیں ان کے کوئی حقیقی معنی نہیں ،ان کا کوئی احترام نہیں۔

مجھے یہ سب لکھنے پر مجبور خلیل الرحمان قمر کے مستقل نشر ہونے والے ڈراموں نے کیا ہے کل رات ٹی وی پر ان کا تازہ سیریل "تو دل کا کیا ہوا” چل رہا تھا جس میں بیوی صاحبہ اپنے شوہر کو چھوڑ کر ماں کے گھر چل دیتی ہیں اور طلاق کا مطالبہ کرتی ہیں کیونکہ ان کو شادی کے بعد احساس ہوتا ہے کہ انہیں اپنے شوہر سے محبت نہیں ہے اور دراصل محبت تو وہ کسی اور شخص سے کرتی ہیں۔ اس سیریل سے کچھ ماہ پہلے ان ہی صاحب کا لکھا ہوا سیریل "ذرا یاد کر”نشر ہوا تھا اس میں بھی یہی سبق دیا گیا تھا کہ نکاح کسی سے کرو عشق کسی سے اور شادی کسی اور سے کرو ۔ بات صرف ان دوڈراموں ہی کی نہیں ہے میڈیا متواتر ایسے ہی ڈرامے پیش کر رہا ہے جس کا ہمارے کلچر ،ہماری تہذیب ،ہماری معاشرت اور شائستگی سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ جس بات کو بیان کرنے کے لیئے الفاظ کا چناؤ بہت دشوار ہو جاتا ہے میڈیا دن رات ایک کر کے اس کوشش میں ہے کہ یہ دشواری ختم کر دی جائے کسی کو بھی کچھ سوچنا نہ پڑے بلکہ "سب کہہ دو” سے "سب کر گذرو” یعنی ہر شخص مادر پدر آزاد ہو جائے جس کے جو جی میں آئے وہ وہی کرے اور کہے۔ کوئی مذہبی،اخلاقی،معاشرتی رکاوٹ حائل نہ ہو۔

حدیث رسول صلی اللہ و علیہ و سلم ہے کہ
” جب تم میں حیا باقی نہ رہے تو جو جی میں آئے وہ کرو ” (بخاری)
یعنی حیا ہی وہ چیز ہے جو انسان کو برے اور فحش کام کرنے سے روکتی ہے لیکن ادھر کچھ عرصے سے لگاتار ایسے ڈرامے دیکھنے کو مل رہے ہیں جس میں حیا باختہ مناظر، قابل اعتراض جملے ، ایک وقت میں کئی کئی عشق کئیے جانے کا سبق دیا جا رہا ہے۔ کوئی دیکھنے والا نہیں ہے کہ اس نسل کے ذہنوں کو اور خاندانی نظام کو کس طرح پامال کیا جا رہا ہے۔ چند ماہ قبل ختم ہونے والی سیریز "ذرا یاد کر” سے لے کر حالیہ جاری "تو دل کا کیا ہوا” تک ایک ہی بات کی گردان کی جا رہی ہے کہ کسی کی بھی بیوی جب چاہے کسی دوسرے مرد سے محبت کر کے اعلانیہ اور فخریہ اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کر سکتی ہے اور وہ بیوی اتنی خود سر اور زورآور ہے کہ شوہر، ساس سسر، اپنے ماں باپ کسی کے بھی قابو میں نہیں ہے۔ اس لادین میڈیا نے ان جیسے کئی ڈراموں کی صورت میں ان مقدس رشتوں پر کاری ضرب لگائی ہے ۔ ان ڈراموں کی سنگینی کااندازہ اس واقعے سے لگائیے جو میری ایک جاننے والی نے سنایا ان ہی کی زبانی سنیئے۔

یہ بھی پڑھئے:   سماجی روابط اور نوجوان | حمیرا اسلم

کچھ عرصہ پہلے مجھے ایک اسکول میں جاب کرنا پڑی یہ کوئی گلی محلے کا اسکول نہیں تھا بلکہ ویل ایجوکیٹیڈ سمجھے جانے والے اسکولوں میں سے ایک اسکول تھا۔ میرا پہلا دن تھا کلاس چہارم مجھے دی گئی تھی کلاس میں بچے بچیاں سب ہی تھے میں کاپیاں چیک کر رہی تھی کہ ایک بچے کی آواز آئی۔۔ ٹیچر! میں نے گردن اٹھائے بناء جواب دیا "جی بیٹا جان ۔۔بولئیے؟ مگر میرے ہاتھوں سے قلم گرا اور میں بہت دیر تک اسے اٹھانے کی قابل نہیں ہو سکی یہ کیا سنا تھا میرے کانوں نے۔ دوسرا بچہ جو شاید اس کا دوست تھا بولا۔ اوئے ہوئے، دیکھ تجھے "جان” بولا ہے ٹیچر نے ۔ ۔ چل اب ایک پھول لا کر دے ٹیچر کو۔ چوتھی جماعت کا وہ بچہ جو میرے اپنے بچے کی عمر کا تھا ایک بار تو جی چاہا کہ ایک زوردار تھپڑ لگاؤں مگر اگلے لمحے خیال آیا کہ یہ معصوم ذہن ،معصوم پھول ہے اس کا کیا قصور؟ تھپڑ کے مستحق تو وہ ماں باپ ہیں، وہ معاشرہ ہے، وہ میڈیا ہے جس نے ان پاکیزہ اور فرشتہ صفت ذہنوں کو اس قدر پراگندہ کر دیا ہے کہ رشتوں کا احترام اور رتبوں کا تقدس سب جاتا رہا ہے۔ یہ واقعہ سن کر مجھے اندازہ ہوا کہ میڈیا ان معصوم پھولوں کی معصومیت کو کس بے دردی سے کچل رہا ہے حقیقت تو یہ ہے کہ آج جو کچھ رونما ہو رہا ہے اس کا بیج میڈیا کافی عرصے سے بو رہا ہے اور آج جو پھل ہم کاٹ رہے ہیں وہ ان ہی کا شاخسانہ ہے۔ کو ئی ہے جو اس تباہی کا جائزہ لے کہ کس طرح باقاعدہ پلاننگ کے ساتھ نئی نسل کو ہی نہیں بلکہ خاندانی نظام کو بھی پستی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ کیا سارا قصور میڈیا کا ہے؟ کیا اس جرم میں ہم بھی برابر کے شریک نہیں ہیں؟ جب تک غلط باتوں کو اسی طرح ٹھنڈے پیٹوں ہضم کیا جاتا رہے گا یہ یلغار یوں ہی جاری رہے گی ۔کیا ہمارے اندر تیسرے درجے کا ایمان بھی باقی نہیں بچا ہے کہ کم از کم بُرائی کو بُرائی ہی سمجھا جائے۔

یہ بھی پڑھئے:   دل کے زخموں پہ چھڑکنے کو نمک باقی ہے۔تسنیم عابدی

ان ڈراموں کو پیش کرنے والے اپنے رب کی وہ تنبیہہ یاد کر لیں جس میں کہا گیا ہے کہ
"جو لوگ اہل ایمان میں بے حیائی پھیلانا چاہتے ہیں ان کے لئے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے۔”(سورۃ النور)
کیا حدیث نبوی صلی اللہ و علیہ وسلم کے یہ الفاظ انہیں خوفزدہ نہیں کرتے کہ” اللہ پاک جب کسی شخص کو ہلاک کرنا چاہتا ہے تو اس سے حیا چھین لیتا ہے۔ "

Views All Time
Views All Time
760
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: