Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

مثالی محبت | ممتاز شیریں

Print Friendly, PDF & Email

محبت کا لفظ کتنا خوبصورت ہے جب ہمیں محبت ملتی ہے چاہے وہ والدین کی ہو، اولاد کی ہو، دوستوں کی ہو، شوہر یا بیوی کی ہو، تو دل خوشی سے جھوم اٹھتا ہے اور اس میں اطمینان اور سکون پیدا ہوتا ہے۔ لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ اس محبت کا ماخذ کیا ہے ؟ محبت کا یہ جذبہ ہمارے لئے لوگوں کے دلوں میں کس نے ڈالا ؟
شاید آپ نے کبھی یہ محسوس کیا ہو کہ جب آپ بہت غمگین ہوں اور اک دم کوئی شخص ،بالکل غیر متوقع طور پر آپ کے ساتھ اتنی اچھی طرح پیش آئے یا ایسی کوئی بات کہہ جائے جو آپ کے دل کو مسرور کر دے اور آپ سوچتے رہ جائیں کہ یہ کیسے ہوگیا؟کبھی آپ کے دل میں یہ خیال آیا کہ یہ بات ایک ایسی ہستی نے اس شخص کے دل میں ڈالی جسے آپ کا خیال ہے جو ہر لمحہ آپ کو دیکھ رہا ہے۔ یہ ساری محبتیں اللہ سبحانہ و تعالی کی بخشی ہوئی ہیں پھر سوچئے کہ جو ان سب محبتوں کا سر چشمہ ہے وہ خود کتنا محبت کرنے والا ہوگا تو اب خود سے پوچھئے کہ کیا ہم بھی اس سے اتنی ہی محبت کرتے ہیں۔ جتنی وہ ہم سے کرتا ہے ؟ ہم سب اپنےآپ کو ٹٹول کر دیکھیں کہ ہمارے دلوں میں اللہ تعالی کا کیا مقام ہے؟ حضرت جابر رضی سے ایک حدیث روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ و علیہ وسلم نے فرمایا جو یہ جاننا چاہتا ہے کہ اللہ تعالی کے نزدیک اس کا کیا مقام ہے ،وہ یہ دیکھے کہ اللہ کا مقام اس کے نزدیک کیا ہے۔
شاید اس محبت سے دور ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ آج کے دور میں اسلام کی جو تصویر پیش کی جاتی ہے اس میں زیادہ تر اللہ سے ڈرایا ہی جاتا ہے ہم اللہ کا ذکر کرتے ہیں تو زیادہ تر عذاب کا ذکر ہوتا ہے ،اگر ایسا نہیں کروگے تو جہنم کی آگ میں جلو گے ،جنت کے دروازے تم پر بند کر دیئے جائیں گے ،ہر لمحے ہمیں یہ ڈراوا ملتا رہتا ہے کہ اگر یہ غلطی کی تو اس کی یہ سزا ملے گی سزاؤں کے خوف نے ہمیں اتنا جکڑ لیا ہے کہ ہم دنیا میں پہنچی کسی بھی اذیت کسی بھی تکلیف پر یہی سمجھتے ہیں کہ اللہ نے ضرور مجھے کسی نہ کسی گناہ کی سزا دی ہے اگرچہ یہ احساس بھی اللہ تعالی سے محبت کا باعث ہے لیکن ہم ان باتوں سے اتنا خوف کھانے لگتے ہیں کہ سوچتے ہیں ان چیزوں سے دور ہی رہیں تو بہتر ہے ۔
لیکن اللہ تعالی تو ایسا نہیں ہے۔اس نے ہمارے لئے یہ نہیں چاہا۔ اللہ تعالی نے ہمارے لئے یہ دنیا بنائی۔
ہمارے لئے طرح طرح کی نعمتیں نازل فرمائیں ۔کبھی آپ اس کائنات کی خوبصورتی پر غور کریں،کبھی آنکھیں بند کر کے سوچیں کہ آپ کسی اونچے پہاڑ پر کھڑے ہیں ،ٹھنڈی ہوا چل رہی ہے اوپر نیلا آسمان ہے ،پرندے چہچہا رہے ہیں پیروں تلے نرم نرم گھاس ہے ،پھولوں کی خوشبو ہے اور جہاں تک نظر جائے لہلہاتے کھیت ہیں ،پانی کے جھرنے ہیں۔ کتنا خوبصورت اور سکون بخش ہے یہ سارا منظر۔ یہ ساری خوبصورتی اللہ سبحانہ تعالی نے انسان ہی کے لئے تو بنائی ہے اللہ تعالی نے کائنات کی تمام چیزوں کو ہمارے لئے مسخر کر دیا ہے کہ ہم اس کو استعمال کریں وہ تو صرف یہ چاہتا ہے کہ ہم اس کے ہو جائیں۔
اللہ تعالی نے انسان کو دنیا میں امتحان کے لئے بھیجا ہے ۔یہ دنیا ایک عارضی ٹھکانہ ہے یہاں پر ہم جیسا عمل کریں گے اسی طرح کا بدلہ ہمیں ملے گا گویا اللہ یہ چاہتا ہے کہ ہم اس کی مان کر چلیں ،صرف اس لئے کہ وہ ہمیں انعام اور نعمتوں سے نواز دے ،دنیا اور آخرت کی پریشانیوں اور مشکلات کو دور کردے۔
قرآن پاک میں ارشاد ہے، ” جو اپنے آپ کو اللہ کی اطاعت میں سونپ دیتا ہے ،اور عملاً نیک روش پر چلتا ہے اس کے لئے اس کے رب کے پاس اجر ہے ،اور ایسے لوگوں کے لئے کچھ خوف اور رنج نہیں ہے”
ہم سوچتے ہیں کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ ہمیں کوئی خوف اور کوئی غم نہ ہو؟ تو اس کی وضاحت ہمیں اس حدیث سے ملتی ہے ۔حضرت ابو ہریرہ رضی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ وعلیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ” میرا بندہ میرا قرب حاصل کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے حتٰی کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں اور جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تو اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے اور جب وہ مجھ سے کوئی سوال کرتا ہے تو میں اسے دیتا ہوں ، اور اگر وہ کسی چیز سے پناہ مانگے تو میں ضرور اسے پناہ دیتا ہوں (بخاری)
جب ہم اللہ کے ہو جاتے ہیں تو اللہ ہمارا خاص مددگار بن جاتا ہے ہمارے اعضاء اور جوارح کی حفاظت کرتا ہے اور انہیں اپنی نافرمانی میں استعمال نہیں ہونے دیتا ہے اور ہمارے دل کو ہر وہ نعمت جو اس نے عطا کی ہے اس پر راضی کر دیتا ہے۔
ہمیں چاہیئے کہ ہم اپنے دل میں اللہ تعالی کی محبت پیدا کریں وہی تو ایک ہستی ہے جو ہماری محبتوں کی قدر کرتا ہے ایسی قدر جو دنیا میں کوئی نہیں کر سکتا، والدین سے ہم بے لوث محبت کرتے ہیں لیکن ان سے بھی شکایت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد شوہر سے امیدیں وابستہ ہوتی ہیں شوہر کو بیوی سے ہوتی ہیں اور پھر دونوں کو اولاد سے ہوتی ہے ہم یہ توقع رکھتے ہیں کہ یہ ہمارے لئے وہی کچھ کریں گے جو ہم نے ان کے لئے کیا، یہ ہم سے اتنی ہی محبت کریں گے جتنی ہم نے کی لیکن۔ کبھی نہ کبھی ،کسی نہ کسی وقت ہماری یہ امیدیں ٹوٹ جاتی ہیں لیکن اللہ تعالی ایک ایسی ہستی ہے جس پر ہم یقینی بھروسہ کر سکتے ہیں کہ وہ ہمیں کبھی ناامید نہیں کرے گے۔
اللہ تعالی سے محبت کرنے کے یہ معانی نہیں ہیں کہ ہم دوسروں سے محبت کرنا چھوڑ دیں جب اللہ تعالی سے محبت ہوتی ہے تو پھر اس کے سب بندوں سے بھی محبت ہو جاتی ہے پھر ہم کسی انسان کو حقارت یا تکبر سے نہیں دیکھتے ہیں کیونکہ وہ بھی اللہ کا بندہ ہے اللہ بھی ہم سے یہی چاہتا ہے کہ ہم سب سے نرم دلی اور شفقت سے پیش آئیں اور سب کے حقوق خوش اسلوبی سے ادا کریں لیکن یہ محبت بھی صرف اللہ کے لئے ہو اس لئے نہیں کہ بدلے میں وہ شخص بھی ہمیں کچھ دے گا۔
زندگی کتنی پرسکون ہو جاتی ہے جب بھروسہ اللہ پر اور امیدیں اللہ سے وابستہ ہوں ۔ اللہ کا وعدہ ہے کہ اگر تمہاری محبت میرے لئے ہوگی تو میں لوگوں کے دلوں میں بھی تمہاری محبت پیدا کر دوں گا ” بے شک دلوں کا پلٹنا اللہ کے ہاتھ میں ہے” ارشاد ہے جو لوگ ایمان لائے اور عمل صالح کرتے رہے عنقریب اللہ ان کے دلوں میں محبت پیدا کر دے گا(سورہ مریم)
نیکی کا جذبہ ہر انسان کے دل میں ہوتا ہے لیکن دنیا کی رنگینیاں ہمیں سب بھلا دیتی ہیں اور ہم سوچتے ہیں کہ ابھی تو وقت ہے بعد میں کر لیں گے ۔موت تو برحق ہے کسی وقت ،کسی لمحے ،کسی بھی جگہ آسکتی ہے اور ہم سے یہ موقع چھن جائے گا پھر نہ ہم اس کو ایک لمحہ آگے بڑھا،سکتے ہیں اور نہ پیچھے کر سکتے ہیں اس لئے ہمیں سوچنا چاہئیے کہ جب اور جتنا وقت مل رہا ہے اس کو پوری طرح استعمال میں لے آئیں پتہ نہیں کب اللہ سے ملاقات کا لمحہ آپہنچے۔
تو پھر ہم کس وجہ سے رکے ہوئے ہیں۔ شاید دل میں یہ خیال آتا ہے کہ اتنے گناہ ہوگئے ہیں اب اللہ سے رجوع کا کیا فائدہ؟ اب تو بہت دیر ہوگئی ہے لیکن یہ سب شیطان کے ہتھکنڈے ہیں وہ چاہتا ہی نہیں کہ ہم کامیابی حاصل کریں وہ تو جلا بھنا بیٹھا ہے اور حسد کا شکار ہے کہ انسان کو اللہ نے یہ مقام کیوں عطا کر دیا ہے ۔
اللہ تعالی قرآن کریم میں فرماتا ہے (اے نبی صلی اللہ و علیہ وسلم) کہہ دو کہ اے میرے بندو،جنہوں نے اپنی جانوں پہ زیادتی کی ہے اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو جاؤ ،یقیناً اللہ سارے گناہ معاف کر دیتا ہے وہ تو غفور و رحیم ہے۔)
دوسری بات جو اللہ سے رجوع میں روکتی ہے وہ دنیا ترک کر دینے کا خوف ہے جو کہ بالکل غلط ہے اسلام ہی تو ایسا دین ہے جس نے روحانیت اور مادیت دونوں کو یک جا کیا ہوا ہے دین اور دنیا ساتھ لے کر چلنے کا حکم دیا ہے صرف عبادت ہی نہیں بلکہ حقوق العباد سمیت ہر کام انسان کو کرنے ہیں بس نیت اللہ کے لئے ہونی چاہیئے
اللہ کی یہ محبت ہمیں کب حاصل ہوگی جب ہم اس کا پیغام پڑھیں گے جو اس نے ہمارے لئے بھیجا ہے دنیا میں کوئی محبت کرنے والا ہمیں کچھ بھیجتا ہے تو ہم اس کی کتنی قدردانی کرتے ہیں بار بار اس کے تحفے کو کھول کر دیکھتے ہیں لیکن اللہ نے ہمیں جو تحفہ دیا اسے ہم نے بس خوبصورت غلافوں میں بند کر کے الماری کے سب سے اوپر خانے میں سجا کر رکھ دیا ہے یہ توفیق ہی نہیں ہوتی کہ اس کو اتار کر پڑھ اور سمجھ لیں حالانکہ اس میں صاف لکھا ہے کہ الَا بذِکِر اللّہِ تَطمَئِنُ الُقلُوبُ۔
( اللہ کی یاد ہی وہ چیز ہے جس سے دلوں کو سکون ملتا ہے)(الرعد)
قرآن کو پڑھنا،اس کے ذریعے اپنے رب کو پہچاننا، اس کی صفات کو جاننا ،یہ سب اللہ کا ذکر ہی تو ہے ۔ اللہ تو بہت مہربان ہے ،وہ تو دلوں کا حال جانتا ہے وہ ہماری کوشش کو دیکھے گا اللہ کو اخلاص نیت چاہیئے بس ہم تھوڑی کوشش کر کے دیکھیں اللہ خود ہمیں بڑھ کر تھام لے گا

Views All Time
Views All Time
419
Views Today
Views Today
3
یہ بھی پڑھئے:   عید میلاد النبی ﷺ کی شرعی حیثیت - سید ابرار حسین بخاری

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: