Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے

by دسمبر 7, 2017 بلاگ
ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے

سات دسمبر 2016 چار بج کر بیس منٹ پر حویلیاں کی پہاڑیوں میں داعی اجل کو لبیک کہنے والے جنید جمشید کا شمار ان لوگوں میں ہوتا تھا کہ جن سے مل کر زندگی سے پیار ہوجائے۔ خوشیوں کی اطلاع تو طے شدہ پروگرام کا حصہ ہوتی ہے لیکن غم اور صدمے کی اطلاع اگرچہ خالق تقدیر کے یہاں تو متعین ہی ہوتی ہے۔ مگر ہمارے محدود علم میں یہ اسی وقت آتی ہے جب پردہ غیب سے اس کے ظہور کا فیصلہ صادر ہوجاتا ہے۔ بعض اطلاعات اتنی دردناک اور ناقابل فراموش ہوتی ہیں کہ ان کے غم اور صدمے کو وقت کا مرہم مندمل بھی کردے تو بھی اچانک اس لمحے کی یاد آ کر مدتوں دل کو تڑپاتی رہتی ہے۔ ایسی ہی ایک خبر 7 دسمبر 2016 کی شام موصول ہوئی جس نے دل و دماغ کو مفلوج کر دیا کہ جنید جمشید فضائی حادثے میں جاں بحق ہو گئے ہیں۔”اناللہ و اناالیہ راجعون”

اس دور میں اسلامی اخلاق و کردار کا ایسا جامع نمونہ دنیا میں خال خال ہی نظر آتا ہے۔ انہوں نے عملاً ثابت کیا کہ وہ اخلاق و کردار کی اعلی ترین عملی مثال اور اللہ کے دین کے انتھک مجاہد اور داعی ہیں ۔ایثار، قربانی، علی ظرفی ،صبر و قناعت ،صلہ رحمی، دنیا کی مال و دولت سے بے رغبتی، خدمت خلق میں شوق وانہماک ان کے نامہ اعمال کے چمکتے دمکتے ہیرے موتی اور جواہر ہیں۔ ایسے ہی مومن کے بارے میں اقبال نے کہا کہ
"قدم بے باک تیرے از ہجوم جان مشتاقان
تو صاحب خانہ آخر چرا وزوانہ می آئی”

وہ اپنی حیات کے محدود ماہ و سال لے کر آئے تھے۔ دعوت دین عظیم ترین کام ہے۔ اللہ اپنے جن بندوں سے یہ کام لیتا ہے وہ بلاشبہ بڑے خوش بخت ہوتے ہیں۔ دعوت دین محض درس و تدریس اور تبلیغ و ابلاغ کا نام نہیں بلکہ اس کے بنیادی اجزاء میں دعوت کے ابلاغ کے ساتھ داعی کا ذاتی کردار اور عملی نمونہ بھی بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ پھر یہ عمل خلق خدا کے ساتھ ہمدردی،خیر خواہی اور بے لوث جذبے کا متقاضی ہے نرم دلی،خوش گفتاری اور خوش اخلاقی اسوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روشنی میں بنیادی اوصاف شمار ہوتے ہیں۔ جنید جمشید مرحوم کے اندر یہ تمام صفات بدرجہ اول موجود تھیں۔ وہ ہر ایک سے اتنی کشادہ دلی کے ساتھ ملتے تھے جیسے ہر کوئی ان کے لئے بہت خاص ہو وہ اتنے اونچے اخلاق والے انسان تھے کہ اس زمانے میں شاید ہی ایسے لوگ کہیں مل پائیں۔ جنید جمشید ایسے خوش نصیبوں میں سے ہیں جنہوں نے اللہ کی خاطر عیش وعشرت کو چھوڑا تکالیف اور مشقتیں برداشت کیں مگر ہمت نہیں ہاری۔ جنید جمشید کی زندگی سیکھنے والوں کے لئے نمونہ حیات ہے موسیقی کی دنیا سے نکل کر محبوب عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کوچے میں چلے آئے اور اپنا نام ثناء خوانان مصطفی ص کی فہرست میں لکھوا گئے۔ اللہ اور اس کے محبوب کی محبت میں شہرت کو خیر باد کہہ کر اللہ کا دین سیکھنے اللہ کے راستے میں نکلے تو گانے والے ساتھی سمجھانے پہنچ گئے کہ کیوں بنی بنائی شہرت کو برباد کر رہے ہو؟ بھوکے مر جاؤ گے مگر اس قلب سلیم نے واپسی سے انکار کر دیا۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ شہرت و عزت صرف دنیاوی ہے جسے بالآخر فنا ہونا ہے اصل عزت وہ ہے جہاں خدا بندے سے خود بلا کر پوچھے کہ بتا تیری رضا کیا ہے؟ محبوب کائنات کی محبت میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں ایسی حمد و ثناء پڑھی کہ جس کی کہیں مثال نہیں ملتی۔ جیسے ان کے پڑھے ہوئے مشہور کلام میں میرا دل بدل دے، محمد ص کا روزہ قریب آرہا ہے، الہی تیری چوکھٹ پر بھکاری بن کہ آیا ہوں، مجھے زندگی میں یارب سر بندگی عطا کر، وہ زم زم یاد آتا ہے، وہ کعبہ یاد آتا ہے، حرم کی مقدس فضاؤں میں گم ہوں، میرے نبی، پیارے نبی، سنت تیری دنیا و دیں، اے اللہ اے اللہ تو ہی عطا تو جود و سخا، اے رسول امیں، خاتم المرسلین، تجھ سا کوئی نہیں، تجھ سا کوئی نہیں اور میں تو امتی ہوں اے شاہ امم، کر دیں میرے آقا اب نظر کرم جیسے مقبول عام کلام شامل ہیں۔ یہ کلام لوگوں کے دلوں میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت سے منور کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنے کردار و عمل سے ثابت کیا کہ انسان اسلام کے قریب ہو کر بھی آئیڈیل بن سکتا ہے، عزت اور شہرت کما سکتا ہے۔

"چاہتے سب ہیں کہ ہوں اوج ثریا پہ مقیم
پہلے ویسا کوئی پیدا تو کرے قلب سلیم”

کسی شخص کی عظمت کی یہی نشانی ہوتی ہے کہ اس کی موت کے بعد بھی ہر شخص اسے خیر کے کلمات سے یاد کرے۔ جنید جمشید اس پیمانے پر پورا اترتے ہیں رب تعالی ان کے درجات بلند کرے (آمین)۔ وہ شہادت کی تمنا کیا کرتے تھے اور اللہ نے ان کی تمنا کو اس طرح پورا کیا کہ اللہ کے راستے میں نکلے سفر کے دوران ہی انہوں نےاپنی منزل کو پالیا۔ ان کی شہادت ظاہری طور پر ایک بڑا حادثہ تھی لیکن درحقیقت یہی مشیت ایزدی تھی۔ اللہ نے ان کو وہ بلند درجہ عطا کرنا تھا جس کے وہ تمنائی تھے ان کی شہادت نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ آج جنید جمشید کو ہم سے بچھڑے پورا ایک سال گیا لیکن ان کی جدائی کا غم آج بھی تازہ ہے۔ دنیا کا دستور ہے کہ کسی شخص کے رخصت ہو جانے کے بعد رفتہ رفتہ لوگ اسے بھول جاتے ہیں، اس کی یادیں فراموش ہو جاتی ہیں، اس کے تذکرے کم ہوجاتے ہیں لیکن جنید جمشید کے ساتھ ایسا معاملہ نہیں ہوا۔ آج بھی لوگ انگلیوں پر گن کر دن بتا سکتے ہیں کہ انہیں ہم سے بچھڑے کتنے دن بیت گئے ہیں۔ ایسا کیونکر ہوا؟ ان کو یہ رتبہ کس نے بخشا؟ یہ رتبہ اس ذات باری تعالی نے بخشا جس کا وعدہ ہے ” فاذ کرونی ازکرکم”
جنید جمشید 7 ،دسمبر 2016 سے پہلے تک صرف ایک شخصیت کا نام تھا لیکن اب حق تعالی نے انہیں دین کی موثر دعوت کا استعارہ بنا دیا ہے
” ایں سعادت بزور بازو نیست”
حقیقت یہ ہے کہ مرتے نہیں ہیں وہ لوگ جیتی ہیں جن کی نیکیاں۔ جنید جمشید بھائی کا اس دنیا سے چلے جانا کا افسوس و رنج تو ہے لیکن رب کی رضا پر ہم راضی ہیں اللہ سے دعا ہے کہ "اے مالک یوم الدین جتنی عزتیں تو نے انہیں اس دنیا میں دی تھیں اپنے یہاں ان کا اس سے بھی دوگنا اجر سے نوازنا اور انہیں اعلی علیین میں مقام عطا فرمانا”۔ (آمین)
اب اٹھ کہ ذرا اشک میں آنکھوں کے سنبھالو
قصے تیری یادوں کے تو تادیر چلیں گے۔

Views All Time
Views All Time
74
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

جواب دیجئے

%d bloggers like this: