Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

میں دل میں روؤں گی، آنکھوں میں مسکراؤں گی

by نومبر 24, 2017 بلاگ
میں دل میں روؤں گی، آنکھوں میں مسکراؤں گی
Print Friendly, PDF & Email

محبت کی خوشبو اشعار میں سمونے والی خوشبو کی شاعرہ پروین شاکر کی آج یوم پیدائش ہے آپ کو اردو کے منفرد لہجے کی شاعرہ ہونے کی وجہ سے بہت کم عرصے میں وہ شہرت حاصل ہوئی جو بہت کم لوگوں کے حصے میں آتی ہے انہوں نے الفاظ اور جذبات کو ایک انوکھے تعلق میں باندھ کر سادہ الفاظ میں نسائی انا، خواہش اور انکار کو اشعار کا روپ دیا۔
آج سے اکتالیس سال قبل 1976 میں جب آج کے دور کی طرح نہ تو لوگوں کے پاس موبائل فون تھے اور نہ ہی سوشل میڈیا نے اتنی ترقی کی تھی کہ پوری دنیا سمٹ کر ایک انگلی کے اشارے پر آجائے ایسے وقت میں پروین شاکر ہاتھوں میں خوشبو تھامے آئیں ان کے سوچ اور محسوسات کی خوشبو بڑی تیزی کے ساتھ چار سو پھیل گئی۔
"کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی
اس نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی”
ہمارے معاشرے میں مشرقی لڑکی ایک راز ایک پہیلی کی طرح ہوتی ہے جس کو آج بھی ہمارے معاشرے میں سوچنے ،محسوس کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے اور اگر وہ سوچ لے یا محسوس کر کے بیان کرنے کی جرات کر لے تو اس کو معاشرے سے بغاوت کے مترادف گردانا جاتا ہے ۔سو پروین کو بھی جب تک جیتی رہیں یہ خراج اپنی ازدواجی اور سماجی زندگی کے بہت سے تقاضوں کوقربان کر کے دینا پڑا۔

ان کی شاعری میں روایت سے انکار اور سماج سے بغاوت ہے انہوں نے اپنی شاعری میں صنف نازک کے جذبات کی تصویریں بنائیں اور عورت کے دکھ اور کرب کو نظموں میں ڈھالا ۔۔
کمال ضبط کو خود بھی تو آزماؤں گی
میں اپنے ہاتھ سے اس کی دلہن سجاؤں گی
سپرد کر کے اسے روشنی کے ہاتھوں میں
میں اپنے گھر کے اندھیروں میں لوٹ جاؤں گی
بدن کے کرب کو وہ بھی نہ سمجھ پائے گا
میں دل میں روؤں گی، آنکھوں میں مسکراؤں گی
وہ کیا گیا، کہ رفاقت کے سارے لطف گئے
میں کس سے روٹھوں گی اور کسے مناؤں گی
وہ ایک رشتہ بے نام بھی نہیں لیکن
میں اب بھی اس کے اشاروں پہ سر جھکاؤں گی
سماعتوں میں گھنے جنگلوں کی سانسیں ہیں
میں اب بھی تیری آواز سن نہ پاؤں گی
جواز ڈھونڈ رہا تھا وہ نئی محبت کا
وہ کہہ رہا تھا کہ میں اس کو بھول جاؤں گی

یہ بھی پڑھئے:   تعلیم۔۔۔آم۔۔۔ہو گئی - عبدالرحمٰن بیگ

"بینا” کے نام سے آغاز میں پہچانی جانے والی شاعرہ کی پہلی کتاب "خوشبو” 1976 میں شائع ہوئی اور نوجوان لڑکیوں کے حلقے میں خوشبو کی طرح پھیل گئی ۔
” خوشبو ” کے اندر روایت میں جکڑی لڑکیوں کے جذبات کی وہ ترجمانی کی گئی تھی جو کہ اس سے پہلے عیاں کرنے کی جرات کم از کم کسی نوجوان شاعرہ کو نہیں ہوئی تھی

اپنے سرد کمرے میں
میں اداس بیٹھی ہوں
نیم وا دریچوں سے
نم ہوائیں آتی ہیں
میرے جسم کو چھو کر
آگ سی لگاتی ہیں
تیرا نام لے لے کر
مجھ کو گدگداتی ہیں
کاش میرے پر ہوتے
تیرے پاس اڑ آتی
کاش میں ہوا ہوتی
تجھ کو چھو کے لوٹ آتی
میں نہیں مگر کچھ بھی
سنگ دل رواجوں کے
آہنی حصاروں میں
عمر قید کی ملزم
صرف ایک لڑکی ہوں!

پروین کی شاعری نوجوان نسل کی نمائندگی ہے۔ ان کی شاعری کا مرکزی نقطہ ہمیشہ عورت اور اس کے محسوسات رہے ہیں  ان کے اشعار میں ایک لڑکی کو بیوی ،ماں اور عورت تک کے سفر کو بخوبی دیکھا جا سکتا ہے ۔

"جانے کب تک تیری تصویر نگاہوں میں رہی
ہوگئی رات تیرے عکس کو تکتے تکتے
میں نے پھر تیرے تصور کے کسی لمحے میں
تیری تصویر پہ لب رکھ دیےآ ہستہ سے”

عورت پن کے ایسے جذبوں کی ترجمانی کرنے کی جرات صرف پروین ہی کر سکتی تھیں انہوں نے ماں بننے کے تجربے سے لیکر باپ بننے کے احساسات تک سب ہی موضوعات پر اشعار کہے۔۔اکیسویں صدی کے بچوں کے شعور پر کہتی ہیں۔۔۔!
"جگنو کو دن کے وقت پرکھنے کی ضد کریں
بچے ہمارے عہد کے چالاک ہوگئے ”
ان کے اشعار میں ہمیں فیض اور فراز کی جھلک ضرور ملتی ہے لیکن آواز میں نقالی نہیں ہے بلکہ پروین کی شاعری کلاسیکی موسیقی کی نزاکت ،لوک گیت کی سادگی، اور بھولپن و نفاست کا دل آویز سنگم ہیں
اس بارے میں وہ خود لکھتی ہیں کہ۔۔!
” جب ہولے سے چلتی ہوئی ہوا نے پھول کو چوما تھا تو خوشبو نے جنم لیا تھا”
احمد ندیم قاسمی ان کے استاد تھے جنہیں وہ "عمو جان” کہہ کر مخاطب کرتی تھیں
پروین شاکر کی شاعری میں کربناک موڑ اس وقت آیا جب ان کے شوہر نصیر علی سے ان کی علیحدگی ہو جاتی ہے اور جب وہ اس موضوع پر اظہار خیال کرتی ہیں تو ان کا لہجہ بہت تلخ ہو جاتا ہے

یہ بھی پڑھئے:   مٹی کی مونا لیزا-اے حمید

"کیسے کہہ دوں کہ مُجھے چھوڑ دیا اُس نے
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رُسوائی کی
تیرا پہلو، ترے دل کی طرح آباد ر ہے
تجھ پہ گُزرے نہ قیامت شبِ تنہائی کی
اُس نے جلتی ہُوئی پیشانی پہ جب ہاتھ رکھا
رُوح تک آ گئی تاثیر مسیحائی کی
اب بھی برسات کی راتوں میں بدن ٹوٹتا ہے
جاگ اُٹھتی ہیں عجب خواہشیں انگڑائی کی”

اپنی شاعری کی خوشبو کو بہ کو پھیلاتی 26 دسمبر 1994 ء کو اسلام آباد میں ایک ٹریفک حادثے میں 42 سال کی عمر میں وہ ہم سب سے یہ کہتی ہوئی بچھڑ گئیں کہ ۔۔۔!
"مر بھی جاؤں تو کہاں لوگ گواہی دیں گے
لفظ میرے، مرے ہونے کی گواہی دیں گے”

Views All Time
Views All Time
257
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: