Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

بیادِ سید سلمان ندوی

by نومبر 22, 2017 بلاگ
بیادِ سید سلمان ندوی
Print Friendly, PDF & Email

دنیا میں پیدا ہونے والا ہر بچہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ تعالی ابھی اپنے بندوں سے مایوس نہیں ہوا ہے ہم اور آپ جیسے لاکھوں انسان اس دنیا میں آتے ہیں اور اپنی عمر طبعی پوری کر کے چپ چاپ چلے جاتے ہیں ۔لیکن کبھی کبھی جب اللہ تعالی انسانوں سے بہت خوش ہوتے ہیں تو کسی ایسی ہستی کو جنم دیتے ہیں جن کی عظمت و بڑائی میں انسانیت کے لیئے نجات پوشیدہ ہوتی ہے بے شک کہ ایسی ہستیاں برسوں میں جنم لیتی ہیں ۔
ایسی ہی نادر و روزگار ہستی علامہ سید سلیمان ندوی کے نام سے دنیا کے پردے پر ظہور پذیر ہوئی۔
آج 22 نومبر عالم اسلام کے عظیم عالم دین سید سلیمان ندوی کی تاریخ پیدائش بھی ہے اور تاریخ وفات بھی ۔۔۔
علامہ سید سلیمان ندوی برصغیر پاک و ہند کی ایسی ہمہ گیر ،جامع صفات اور عظیم شخصیت تھی جو بیک وقت تاریخ و فلسفہ،منطق و نفسیات،فقہ و حدیث اور ادب و مذہب کے شعبوں پر محیط تھی۔ آپ کی شخصیت میں جنید و شبلی کا زہد و پاکبازی،افلاطون و ارسطو کا علم و دانش، رازی کی عقل پسندی اور غزالی کی فکررسا موجود تھی ۔
سید صاحب 23 صفر بمطابق 22 نومبر 1884 بروز جمعہ صوبہ بہار کے ایک مردم خیز قصبہ دسنہ میں پیدا ہوئے برصغیر میں صوبہ بہار ہمیشہ سے ایک مردم خیز صوبہ رہا ہے اس صوبے میں بے شمار اہل علم نے جنم لیا ہے ۔
علامہ سید سلیمان ندوی ایک ایسے دور میں پیدا ہوئے تھے جب ہندوستان سیاسی سطح پر غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا اور فکری سطح پر انتشار و بے چینی کے آثار نمودار ہو گئے تھے علامہ سید سلیمان ندوی علم کا بحر ذخار تھے ان کی ذات میں اللہ تعالی نے بیک وقت کئی گوناگوں اوصاف جمع کر دیئے تھے انہوں نے اپنے قلم سے وہ معرکۃ الآرا کتابیں لکھیں جنہوں نے ایک طرف تو یورپی مصنفین کے نظریات کی دھجیاں بکھیر دیں تو دوسری طرف مسلمانوں کو یقین و اعتماد کی دولت سے مالا مال کیا۔
ان کی تصانیف میں سیرت عائشہ،تاریخ ارض القران،نقوش سلیمانی اور حیات شبلی بہت مشہور و معروف ہیں ان کے علاوہ بھی آپ نے سینکڑوں علمی،دینی اور مذہبی و تاریخی کتابیں لکھیں۔
آپ نے ندوۃالعلماء میں تعلیم حاصل کی،علامہ شبلی نعمانی سے روحانی و علمی فیض حاصل کیا اور دارالمصنفین میں بیٹھ کر تصنیف و تالیف کا کام کیا۔ علامہ شبلی نعمانی نے 18 نومبر 1914 میں اعظم گڑھ میں وفات پائی اپنی آخری عمر میں وہ سیرت النبی صلی اللہ و علیہ وسلم کی تدوین و تالیف میں مصروف تھے جسے انہوں نے اس آرزو اور تمنا کے ساتھ لکھنا شروع کیا تھا کہ۔۔!
” عجم کی مدح کی،عباسیوں کی داستاں لکھی
مجھے ہر چند مقیم آستاں غیر ہونا تھا
مگر اب لکھ رہا ہوں سیرت پیغمبر خاتم صلی
خدا کا شکر ہے کہ یوں خاتمہ بالخیر ہونا تھا”

یہ بھی پڑھئے:   ہر برس کے ہوں دن پچاس ہزار | ام رباب

مولانا شبلی جب مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو اپنے ہونہار شاگرد کو تار دے کر پونا سے بلوایا اس وقت سید صاحب دکن کالج پونا میں فارسی کے اسسٹنٹ پروفیسر تھے اور علمی حلقوں میں کافی مشہور ہو چلے تھے جب سید صاحب مولانا شبلی کے بلانے پر اعظم گڑھ پہنچے تو اس وقت مولانا شبلی قریب المرگ تھے ۔استاد نے شاگرد کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا۔۔
” سیرت النبی صلی میری تمام عمر کی کمائی ہے سب کام چھوڑ کر سیرۃ تیار کرو”
سعادت مند شاگرد نے جواب دیا۔۔
"ضرور”
شبلی نعمانی کی وفات کے بعد سید سلیمان ندوی نے دکن کالج پونا سے استعفی دیا اور اعظم گڑھ تشریف لے آئے اور سارے دنیاوی کاموں سے منہ موڑ کر استاد کی وصیت پر عمل شروع کردیا اور سیرت کی تصنیف کو آخر تک استاد کے اسلوب تحریر اور شان تحقیق کے مقرر کردہ معیار سے گرنے نہیں دیا 1918 ء میں سیرت النبی کی جلد اول شائع کی اور اپنے استاد کی روح کو تسکین پہنچائی سید صاحب نے سیرۃ النبی کی اشاعت پر بجا طور پر فرمایا کہ۔۔
” شام از زندگی خویش کہ کارے کردم”
اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنی محققانہ تصنیف تاریخ ارض القران کی جلد دوم بھی شائع کی جس میں اقوام عرب کی لسانی ، مذہبی، تجارتی اور تمدنی حالات پر بحث ہے اس کتاب کی اشاعت نے سید صاحب کی علمی شہرت میں مزید اضافہ کیا لیکن سیرت عائشہ اور سیرۃ النبی آپ کی وہ مایہ ناز تصانیف ہیں جن میں سیرۃ عائشہ کی اشاعت پر بیگم صاحبہ بھوپال نے خوش ہوکر آپ کو انعام مرحمت فرمایا تھا اور علامہ محمد اقبال کے پاس جب سیرت عائشہ پہنچی تو اقبال نے سیرت عائشہ پڑھ کر سید صاحب کو خط لکھا کہ ۔۔
” یہ ہدیہ سلیمانی نہیں ،سرمہ سلیمانی ہے اس کتاب کو پڑھنے سے میرے علم میں بہت اضافہ ہوا ہے اللہ آپ کو جزائے خیر دے”
سید صاحب نے مدراس میں سیرۃ النبی کے موضوع پر 8 خطبات بھی دئیے یہ خطبات اپنے موضوع کے لحاظ سے سیرۃ کا نچوڑ ہیں اور سید صاحب کے وسعت علمی کا آئینہ دار ہیں۔
علامہ شبلی نے اپنے انتقال کے وقت یہ وصیت بھی کی تھی کہ۔۔
” جب تم دنیا کے کاموں سے فارغ ہو چکو تو میری سوانح حیات بھی قلم بند کرنا”
چنانچہ سید صاحب نے 1940 میں حیات شبلی پر کام شروع کیا اور تین سال کی محنت کے بعد فروری 1943ء میں 846 صفحات پر مشتمل "حیات شبلی” شائع کی۔
"حیات شبلی ” سید صاحب کی آخری تصنیف تھی اور یہ کتاب صرف ایک شخص کی سوانح حیات نہیں بلکہ مسلمانان ہند کے پچاس برس کے علمی و ادبی ،سیاسی ،تعلیمی،مذہبی اور قومی واقعات کی تاریخ بھی ہے ۔
اکتوبر 1949ء میں سید صاحب اپنی اہلیہ اور بیٹے سلمان ندوی کے ساتھ حج بیت اللہ کو تشریف لے گئے جس جہاز سے آپ نے سفر کیا اس کے امیر بنائے گئے اور حجاز پہنچ کر سلطان ابن سعود کے مہمان خصوصی ہوئے
حج کے بعد مدینہ منورہ میں ایک ماہ قیام کیا اور بارگاہ نبوی صلی اللہ و علیہ وسلم میں رسول اکرم صلی کے سوانح نگار نے اپنی عقیدت و محبت، عجز و نیاز، کیف و سرور کا اظہار ان لفظوں میں کیا۔۔
” آہستہ قدم، نیچی نگاہ، پست ہو آواز
خوابیدہ یہاں روح رسول عربی ہے
بجھ جائے تیرے چھینٹوں سے اے ابر کرم آج
جو آگ میرے سینے میں برسوں سے دبی ہے”

یہ بھی پڑھئے:   مودی سرکار ہوگی خوار

دسمبر 1949ء میں اس سفر سے واپس بمبئی پہنچے اور جنوری کے وسط میں بھوپال آئے اپریل کے آخر میں اپنا تعلق بھوپال سے منقطع کرکے اعظم گڑھ تشریف لے گئے سید صاحب کا ارادہ مستقل طور پر دارالمصنفین اعظم گڑھ میں قیام کا تھا لیکن کچھ ناگزیر حالات نے ایسا مجبور کیا کہ جس دارالمصنفین کو آپ نے اپنے خون جگر سے سینچا تھا اس کو چھوڑ کر آپ کو 14جون 1950 میں پاکستان ہجرت کرنا پڑی ۔
اہل پاکستان نے آپ کی آمد پر خوشی و مسرت کا اظہار کیا کہ رسول اکرم صلی کا سیرت نگار، محقق و مورخ اور عالم اسلام کا ایک جید عالم ان کی مملکت کا باشندہ ہوگیا ہے ۔
حکومت پاکستان نے ادارۃ تعلیمات اسلامی کے نام سے علماء کا ایک بورڈ بنایا جس کی صدارت آپ کو سونپی گئی آپ آئین ساز اسمبلی کے مشیر خاص مقرر ہوئے اور آئین سازی کی تدوین کے سلسلے میں اپنے قیمتی افکار و نظریات سے فائدہ پہنچایا آپ نے پاکستان کے دستور کو اسلامی خطوط پر ڈھالنے کا کام سر انجام دیا۔ 22 نومبر 1953ء کو امت مسلمہ کے اس جید عالم نے داعی اجل کو لبیک کہا اور اپنی جان جان آفریں کے سپرد کر دی۔
آپ کی نماز جنازہ مفتی شفیع نے پڑھائی اور آپ اسلامیہ کالج کے احاطے میں علامہ شبیر احمد عثمانی کے پہلو میں آسودہ خاک ہوئے۔
افسوس ۔۔۔!کہ دست اجل نے بہت جلد انہیں اچک لیا ورنہ ان کی شخصیت اس ملک و قوم کے لیئے نہ جانے اور کتنی مفید ہوتی۔

"مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کے اے لئیم
تُو نے وہ گنج ہائے گرامایہ کیا کیئیے۔۔؟؟

Views All Time
Views All Time
101
Views Today
Views Today
2
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: