سوشل میڈیا کا مثبت و منفی استعمال | ممتازشیریں

Print Friendly, PDF & Email

آج کل سوشل میڈیا ہماری زندگی  اور مصروفیات کا باقاعدہ حصہ بن چکا ہے۔ہر چیز کے کچھ فائدے اور کچھ نقصانات ہوتے ہیں، سوشل میڈیا کا بھی معاملہ کچھ یونہی سمجھئے، اگر  حدود و قیود کے بغیر وقت بے وقت، ہر وقت اس میں  مشغول رہا جائے تو اس سے بڑی کوئی نقصان دہ چیز نہیں، اور اگر اپنے اوقات کا  خیال رکھتے ہوئے اس کا مثبت استعمال کیا  جائے تو کسی درجے میں فائدے سے بھی خالی نہیں۔

 جتنا وقت ہم کسی بھی سوشل میڈیا یعنی فیس بک، ٹویٹر ،انسٹاگرام یا کسی دوسری ویب سائٹس کو دیتے ہیں اگر اس کا چوتھائی حصہ بھی ہم کتابوں کو دینے لگیں تو ہمارا علم ان ذرائع سےحاصل شدہ سطحی علم سے نہ صرف کئی گنا بڑھ سکتا ہے، بلکہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت میں بھی اضافہ اور عقل و شعور میں  بھی پختگی  پیدا ہو سکتی ہے۔اس حقیقت سے بہرحال انکار ممکن نہیں کہ سوشل میڈیا  نے کتاب سے دور کر دیا ہے۔ حالانکہ ”کوئی رفیق نہیں ہے کتاب سے بہتر”۔ مطالعہ کی کمی کے دو لازمی نتیجے فکری تنزلی اور  تحریری  پسماندگی ہیں، اسلئے اپنی فکر اور تحریر کو  مضبوط کرنے کیلئے مطالعہ ازحد ضروری ہے۔

ہر کام کا ایک وقت ہوتا ہے ، وقت بے وقت کی مصروفیات انسان کو  خلفشارِ ذہنی کا  شکار کر دیتی ہیں۔ سوشل میڈیا کے استعمال کیلئے بھی ایک وقت مخصوص کرنا لازم ہے۔ ورنہ یہ دیگر علمی و عملی سرگرمیوں  میں رکاوٹ کا باعث بن سکتا ہے۔ اور ویسے بھی فرصت  کے لمحات اور عدمِ مشغولیت  ان چیزوں میں  سے ہے کہ  جن   کے معاملے میں اکثر لوگ خسارے میں ہیں اسلئے جن لوگوں کی مصروفیات علمی ، تحقیقی یا  تخلیقی قسم کی ہوں  انہیں  خود کو اس پابندی میں  جکڑنا ضروری ہے۔جبکہ اکثر لوگ اس سے غافل ہیں

کسی  نے سچ کہا ہےکہ” جنہیں پڑھنا چاہئے وہ لکھ رہے ہیں۔۔۔!” ایک من علم کیلئے  دس من عقل کی ضرورت ہوتی ہے اور یہاں لبرلز و سیکولر اور دین بیزار  لوگوں کا  مقابلہ کرنے کیلئے یا ان کے زہریلے اثرات سے بچنے کیلئے  دس من علم کی ضرورت ہے آج ہم دیکھتے ہیں کہ سوشل میڈیا کی وسیع دنیا میں ہر شخص دین اسلام اور مذہبی و معاشرتی معاملات میں بڑے آرام سے فتوے صادر کرنے لگتا ہے۔چاہے وہ اس کا ماہر ہو یا نہ ہو۔

کسی نے لکھا ہے کہ :”رزق ہی  نہیں بعض کتابیں بھی ایسی ہوتی ہیں جن کے پڑھنے سے پرواز میں کوتاہی آجاتی ہے۔”  میرے خیال  میں اسے یوں کہنا چاہئے کہ صرف کتابیں ہی نہیں ،بعض مشاغل بھی ایسے ہوتے  ہیں کہ ان کے ساتھ تعلق سے پرواز میں کوتاہی آجاتی ہے  سوشل میڈیا  کا تعلق بھی ایسی ہی پرواز سے ہے لیکن اگر ہم اس کا مثبت استعمال کریں تو سوشل میڈیا

سے ہم وہ سب کچھ سیکھ سکتے ہیں جو حکیم  لقمان  جیسے عظیم دانشور نے لوگوں سے سیکھا تھا۔۔۔۔ان  سے کسی نے پوچھا کہ آپ نے ادب کہاں سے سیکھا ؟حکیم لقمان نے جواب دیا کہ۔۔۔! میں نے ادب، بے ادبوں سے سیکھا ہے۔۔۔۔!!!۔ ان کا جو فعل مجھے برا محسوس ہوا میں نے اس کے کرنے سے پرہیز کیا ہے۔ ہم دن بھر کتنی چیزیں اور رویے ایسے دیکھتے ہیں جو ہمیں پسند نہیں ہوتے یا برے لگتے ہیں، بس تو پھر سوشل میڈیا پر بھی ان سب سے بچنا لازم ہے۔دوستی و دشمنی میں اعتدال لازم  ہے۔فیس بک پر ہی  بعض لوگ دشمنی میں  اتنا آگے چلے جاتے ہیں کہ واپسی کے راستے مسدود  کر بیٹھتے ہیں۔حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ: اپنے  دشمن سے دشمنی میں بھی اعتدال رکھو، ہوسکتا ہے کہ وہ کبھی تمہارا دوست بن جائے،جبکہ یہی حال دوستی کا ہے۔انباکس میں دوستی کے زعم میں وہ وہ باتیں کی جاتی ہیں  کہ  دوستی ختم ہونے کے بعد ان کا سامنا مشکل ہوجاتا  ہے۔اسی حدیث کے دوسرے  حصے  میں کہا  گیا ہے  کہ اپنے دوست سے دوستی میں  بھی اعتدال قائم رکھو،ہوسکتا ہے کہ وہ کبھی تمہارا دشمن بن جائے۔دونوں قسم کی بیسیوں  مثالیں  اسکرین شارٹس کی صورت میں سامنے آتی رہتی ہیں۔سو۔۔۔!!

یہ بھی پڑھئے:   عاشقان علم و ادب رخصت ہوئے | حیدر جاوید سید

 ”اے عدم احتیاط لازم ہے

لوگ منکر نکیر ہوتے ہیں”

شہرت کا خناس بڑا خطرناک قسم کا وائرس ہوتا ہے،اور بدقسمتی سے آجکل یہ بہت پھیلتا جارہا ہے، یہ سیدھا دل پر حملہ آور ہوتا ہے اور اس بیماری کا پتہ  بھی نہیں چلتا۔یہ انسان کو خودرائی  اور تکبر تک کھینچ کے لے جاتی ہے۔اور پھر اپنے سوا سب ہیچ نظر آنے لگتے ہیں،اس سے وہی لوگ بچ پاتے ہیں جو  اللہ تعالٰی کے فضل و کرم اور کسی کے فیضانِ نظر سے عقلِ سلیم رکھتے ہیں۔۔ !اسلئے خود کو سستی شہرت سے بچانا لازم ہے۔ہمیشہ ڈرتے رہنا چاہئے  کہ سوشل میڈیا پر  ہماری موجودگی  اور خدمات کہیں  محض   لوگوں کی تعریف سننے کیلئے تو  نہیں ہے؟ اگر ایسا ہے تو  ”نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے” والی بات ہوگی۔

سوشل میڈیا کی دنیا  ایک مصنوعی دنیا ہے۔ لہذا اسے اسی حد تک رکھنا چاہئے،اور اس کی وجہ سے اپنی حقیقی زندگی کو متاثر نہیں ہونے دینا چاہئے۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس  سے  باہر ایک  حقیقی دنیا بھی ہے اور حوصلہ افزاء حد تک بہت بہترین ہے بس اصول یہ ہے کہ یہاں  نہ  تو کسی کی شہرت سے متاثر ہونا  چاہئے اور نہ  اپنی عدمِ شہرت سے مایوس،ہر کسی کا   ایک الگ میدان ہے ہوسکتا ہے کہ آپ کا یہ میدان نہ ہو۔عدمِ شہرت تو عافیت ہے لیکن عموماً دیکھا گیا ہے کہ جسے تھوڑی شہرت ملی اس کا  دماغ آسمان پر پہنچ جاتا ہے،اس لئے  اپنے دل کا معائنہ کرتے رہنا لازم ہے۔

 ایک مسلمان کی شان یہ ہے کہ اس کا کوئی عمل بھی نیک نیتی سے خالی نہ ہو۔سوشل میڈیا کے استعمال میں  بھی  تفریحِ طبع کے ساتھ مقصدیت اور نیک نیتی بہرحال  اہم چیز ہے۔ جب ہمارے مد مقابل لوگ باقاعدہ  کسی نہ کسی مشن و مقصد کے تحت کام کر رہے ہیں تو ہم کیوں پیچھے رہیں۔”پرے ہے چرخِ نیلی فام سے منزل مسلماں کی”۔نیک بات کا پھیلانا صدقہ ہے اور آپ کی طرف سے پوسٹ کی گئی نیک بات لمحوں میں  ہزاروں لوگوں تک پہنچ کر  آپ کا دامن نیکیوں سے بھر سکتی ہے اور اسی طرح گناہوں کا معاملہ ہے۔اسی طرح مقصد پر کاربند رہنا بھی ضروری ہے۔ اکثر لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ   آتے تو کسی اچھے مقصد کے تحت ہیں لیکن استعمال دوسروں کے  غلط مقاصد میں ہو جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   اور وہ کتاب دیکھے!

آج جبکہ دینی مدارس کے طلباء دھڑا دھڑ سوشل میڈیا کا حصہ بن رہے ہیں اور وہاں زندگی کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے اہلِ علم و دانش سے متاثر بھی ہو رہے ہیں تو ان کی نظریاتی پختگی اور فکری اساس کا مضبوط ہونا ایک لازمی امر ہے، تاکہ وہ متاثر ہونے کے بجائے مؤثر بن سکیں، نیز وہ فکری گمراہیوں کا شکار ہونے کے بجائے دوسروں کی فکری اصلاح کرسکیں. مدعو بننے کے بجائے دین کے سچے داعی بن سکیں،کسی سے مرعوب ہونے کے بجائے فخر کے ساتھ اپنے نظریات کا دفاع کرسکیں۔ کسی سے دبنے کے بجائے دلیل کے ساتھ اپنا مقدمہ لڑ سکیں۔ نفرت کی لاٹھی سے ہانکنے کے بجائے حسنِ اخلاق کے ساتھ دوسروں کو قریب لاسکیں۔ دوسروں   کو اپنے  مشن و مقصد کے قریب لانے کی غرض سے  ملاقاتیں بھی ہوں تو اپنے اصول و نظریات  قربان نہ ہوں۔اس حوالے سے اپنے  اندر خود داری اور خود اعتمادی پیدا کرنا لازم ہے

سوشل میڈیا پر رہتے  ہوئے ترجیحات کا تعین بہت لازم ہے۔ ورنہ بندہ اسی کو دنیا کی سب سے بڑی ترجیح سمجھ بیٹھتا ہے۔ اگر اس کے سبب آپ کے کام، ذمہ داریاں یا خانگی زندگی  متاثر ہورہی ہے تو  آپ ان کاموں  پر فوکس کریں کیونکہ وہ آپ کی زندگی میں  اولین ترجیح و توجہ  کے متقاضی ہیں اسے اپنے لئے لازم و ملزوم مت سمجھئے۔ اس میدان میں  محنت کیجئے جس سے آپ کا  رزق وابستہ ہے، اکثر طالب علم اپنی صلاحتیں بنانے کی عمر میں پڑھائی وغیرہ کے اہم کام چھوڑ کر اس سے چمٹے نظرآتے ہیں، ایسے لوگوں کیلئے سوشل میڈیا ذہنی تعیش  کے سوا کچھ نہیں۔

گھر والوں کے ساتھ ، بوڑھے والدین یا بچوں کے ساتھ بیٹھ کر سوشل میڈیا پر مشغول  رہنا ان کے حقوق کی بدترین حق تلفی ہے۔ سوشل میڈیا باقی رہے گی لیکن بوڑھے والدین  مہمان ہوتے ہیں، کسی بھی وقت رخصت ہو جائیں گے اور بچے بھی بڑے ہوجائیں گے۔  پھر کل کو  ہم اور آپ بھی دیکھ رہے ہوں گے کہ بیٹا  موبائل ہاتھ میں لئے  گھنٹوں مشغول رہتا ہے لیکن بے اعتنائی سے جواب دینے کے علاوہ اس کے پاس   ہمارے  ساتھ  بات کرنے کیلئے وقت نہیں ہے۔  آج  رابطے بڑھ گئے لیکن محبتیں کم ہوگئیں، رابطے بے شک کم ہو جائیں لیکن محبتیں کم نہیں ہونی چاہئیے۔۔۔

 

Views All Time
Views All Time
873
Views Today
Views Today
5

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: