Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

ہم سب نہال ہاشمی ہیں | مجتبیٰ شیرازی

ہم سب نہال ہاشمی ہیں | مجتبیٰ شیرازی

نہال ہاشمی کوئی فرد نہیں نہ ہی اُس کا تعلق کسی ایک جماعت،گروہ یا لیگ سے ہے۔یہ ایک رویہ ہے ایک رجحان ہے ۔ہم میں سے ہر ایک میں ایک نہال ہاشمی موجود ہے۔میں اکثر عرض کرتا ہوں کہ برصغیر میں رہنے والوں کا سب سے بڑا مسئلہ عمل کی بجائے ردعمل پر زور ہے ۔دنیا میں کہیں کچھ عمل ہو ہم ہمہ وقت اُس پر ردعمل کو تیار بیٹھے ہوتے ہیں۔اگر آپ غور سے ملاحظہ فرمائیں تو یہ انتہا پسندی اور دہشت گردی جسے ہمارا آج کا سب سے بڑا مسئلہ گردانا جاتا ہے یہ بھی رد عملیت کی پیداوار ہے۔اس کا سب بڑا بیانیہ امت مسلمہ کے ساتھ بڑی طاقتوں کا ناروا سلوک اور اُس کے رد عمل میں اُن طاقتوں کی مبینہ تباہی بتا یا جاتا ہے ۔

ٹی وی،سنیما،فلم ،کیمرے اور اس نوعیت کی دیگر ایجادات کے حوالے سے ماضی میں ہمارے فتوے اور حال میں ان ایجادات کو زبردستی کلمے پڑھانے کی کوششیں،یہ رد عمل ہے۔اگر ہم عملیت پسند ہوتے تو اپنے فلسفہ حیات کے مطابق ایجادات میں مصروف ہوتے لیکن ہماری سائنس کیمیا گری اور توانائی بخش معجونوں سے کبھی آگے بڑھ کر نہیں دی۔ہم خطاطی اور مصوری کی داد دے رہے تھے جب اغیار پرنٹنگ پریس ایجاد کر رہے تھے۔ہم حرم کی آبادیوں میں اضافے کر رہے تھے جب مغرب انسانی آبادی کی بہت بڑی اکثریت کو زندگی کی پیداواریت میں داخل کر رہا تھا ۔ہم وضو اور غسل کے مسائل میں الجھے ہوئے تھے جب وہ پانی میں بجلی بنانے کی صلاحیت ڈھونڈ چکے تھے۔ہم زکوٰۃ اور خمس کی شرح اور نصاب کی بحث میں سر پھٹول کر رہے تھے اور وہ کرہ ارض پر موجود سرمائے پر قابض ہوتے جارہے تھے۔

وہ عملیت پسند ہیں لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ اُن کے جملہ اعمال مثبت اور قابل تقلید ہیں لیکن اس بات کی داد تو بنتی ہے کہ انہوں نے اپنے منفی مقاصد کے لئے بھی رد عمل کے بجائے عمل کا راستہ اپنایا ہے۔انہوں نے طعنوں،کوسنوں،جلسے ،جلوسوں کے بجائے سکولوں، کالجوں،یونیورسٹیوں اور لائبریریوں کا راستہ اپنایا ہے ۔حالانکہ فکر وعمل میں توازن کا نصاب دین کی صورت میں ہمارے پاس موجود تھا لیکن ہم نے اپنے دین کو ذاتی جاہ پسندی یا معجزوں کے قصے کہانیوں میں بدل دیا انہوں نے الہام کا متن بدلا تھا لیکن ہم نے ترجمے اور تفسیر کی موشگافیاں کرتے ہوئے اپنا چلن بدل لیا۔

مسجد نبوی میں امام جعفر صادق علیہ السلام کے درس میں علم الادیان بھی پڑھایا جاتا اور علم الابدان بھی تعلیم کیا جاتا تھا ۔مغرب نے گذشتہ صدی میں اُن کے پڑھائے ہوئے علم پر بھی متجسسّانہ حیرت کے ساتھ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے ۔ادھر ہم نے مدینہ علم صل اللہ و علیہ و آ لٰہ وسلم کے خاک یا نور کی بحث چھیڑ رکھی ہے اور باب مدینۃالعلم علیہ السلام کے حوالے سے فرقہ بندی میں الجھے ہوئے ہیں ۔معزز علمائے کرام عربی قواعد انشا یا رجال و کلام سے باہر آئیں تو امت کو بھی پتہ چلے کہ کیا کیا علمی خزانے ایک ایک حدیث اور قول میں ہمارے علمی تجسس کے منتظر ہیں۔

علماء سے شکایت اپنی جگہ لیکن یہ ہم جو دنیاوی علوم سے بہرہ مند ہیں ہم میں سے کتنوں نے علم و عمل کے تناظر میں قرآن و حدیث کا مطالعہ کیا ہے؟ہم میں سے کتنے ہیں جنہوں نے قرآن مجید ہاتھ میں لے کر حضرت موسیٰ کے لفظوں میں شرح صدر کی تمنا کی ہے۔کتنے ہیں جنہوں میں زمینوں آسمانوں پر غور کے الہامی پیغام کو قبول کیا ہے۔کتنے ہیں جنہوں نے فلسفہ ء زکوٰۃ پر غور فرماتے ہوئے معیشت کے خد و خال واضح کرنے کی طرف توجہ کی ہے۔کتنے ہیں نہ دیکھے جا سکنے والے معبود کی کبریائی پر ایمان کے فلسفے میں انسانی مساوات کے اصول وضع کرنے کی جستجو کی ہے۔کتنے ہیں جنہوں نے للہ الامراور للہ الملک پر یقین میں موجود فلسفہ سیاست کو کشید کرنے کی طرف نگاہ کی ہے۔

mm
مزاج طبیعت سے شاعر،پیشے سے وکیل اور فکرو عمل سے سیاسی کارکن ہیں۔انہوں نے شکستہ جھونپڑوں سے زندان کی کوٹھڑیوں تک ،دلدل کی ماری گلیوں سے اقتدار محل کی راہداریوں تک زندگی کے سارے چہرے دیکھے ہیں ۔وہ جو لکھتے ہیں سنائی اور دکھائی دیتا ہے۔
مرتبہ پڑھا گیا
288مرتبہ پڑھا گیا
مرتبہ آج پڑھا گیا
2مرتبہ آج پڑھا گیا
Previous
Next

One commentcomments

  1. Arshad Mehmood

    گو ہم سب ہاشمی نہیں پھر بھی سب نہال ضرور ہیں بلکہ زیادہ تو نونہال ہیں 🙂

Leave a Reply

%d bloggers like this: