Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

سفر | مجتبیٰ حیدر شیرازی

Print Friendly, PDF & Email

زندگی ایک مسلسل عمل کا نام ہے۔اس کے خود کار نظام ہی دراصل وہ جال ہیں جس میں ہر لحظہ انسان پھنستا چلا جاتا ہے۔آنکھیں دیکھ سکتی ہی نہیں بلکہ دیکھنا چاہتی بھی ہیں اور اسی بظاہر بے ضرر سے چاہنے سے زندگی کا جال پھیلنے لگتا ہے۔پلک جھپکنے کی مہلت میں کوئی کیا سکون کی سوچے؟پیروں کے تلووں میں موجود ریکھائیں راستوں کے ساتھ مل کر عجب زاویے بناتی ہیں۔ انہیں زاویوں سے سمتیں پھوٹتی ہیں اور سفر نصیبی کا آغاز ہوتا ہے۔انسان چل دیتا ہے کہ نصیب کا لکھا یہی ہے ۔ چلتے چلتے اسے نصیب کے لکھے سے کوفت ہونے لگتی ہے اور پھر راستہ خلا کو مڑنے لگتا ہے۔ادھر پیروں کے نیچے سے زمین نکلی اور ادھر سمت پر اختیار بھی گیا۔کبھی ہوا اور کبھی وزن سمت کا تعین کرنے لگ جاتا ہے۔

کہانی کا کیا ہے میں نہ لکھ پایا تو کسی اور کے ذمے کر دی جائے گی۔مجھے بہرطور کہانی کے اندر سے گذرکے جانا ہے سو میں یہی کر رہا ہوں۔ جہاں جہاں مرکزی کردار میرے سر پڑتا ہے مجھے نبھانا ہوتا ہے ۔ یہی ساری کہانی ہے اور باقی رہے نام اللہ کا۔دسمبر آتے آتے کئی جون مجھے جلا کر بھسم کر چکے تھے۔ اس دوران سائرہ کے حصے کی کہانی سسکتی بلکتی فاصلے بھگتتی رہی اور میں اپنے حصے کے بھگتان میں لگا رہا۔ کہانی کا ایک موڑ جیسے امر بیل کی طرح لپٹ کر رہ گیا۔نہ کوئی سرا پکڑائی دیتا اور نہ ہی رہائی کی کوئی سبیل ہوکے دیتی۔ سائرہ میرے ساتھ تھی جب نجانے کب کہانی نے یہ موڑ لے لیا تھا۔ واقعات اندر ہی اندر الجھ رہے تھے لیکن میں بے نیازی سے موسم پڑھتا گذرتا چلا جا رہا تھا۔ پت جھڑ پھیلتے پھیلتے کوئی محیط سا ہو گیا تھا لیکن میرا وجود شاید خلا کے بے وزن موسموں کے لطف میں تھا۔

سائرہ کوئی دن گذار کر مہینوں لمبی جدائی پر جا چکی تھی۔کہانی کے وطن عزیز باب میں اس کا کردار صوتی تاٗثرات کی حد تک چل رہا تھاجبکہ پردہ سیمیں پر وسوسوں اور اندیشوں کے نقطے تصویر کے درپے تھے۔اگرچہ مناظر تھرکتے دکھائی دیتے لیکن مکالموں کی گونج سے صاف پتہ پڑتا تھا کہ تصویر وں اور آوازوں کی حد تک کہانی کسی ایک ہی کردار کے ہتھے چڑھی ہوئی ہے۔ سائرہ کی تشویش میرے ہمراہ تھی لیکن بات تشویش سے خاصی آگے کی تھی۔میں اس کے لئے روز نیا اسکرپٹ لکھتا لیکن بھاؤ تاؤ پر آکر بات رک سی جاتی ۔ مجھے اپنے مکالمے لکھنے کا مناسب وقت ہی میسر ہو کے نہ دے رہا تھا۔میں اپنے ساتھ ہوتے ہوئے بھی پہلی بار بالکل اکیلا رہ گیا تھا۔مجھے تعطیلات میں برطانیہ جانا بھی نجانے کیوں ذلت آمیز پسپائی سا لگ رہا تھا۔پورا ڈٹا ہونے کے باوجود مجھ سے اپنی عزت نہیں ہو رہی تھی۔ میں نے کوئی جرم نہیں کیا تھا لیکن احساس جرم خون میں تیزاب سا دوڑتا تھا۔ میں نے اپنی عزت کرنے کو سائرہ سے درخواست کی اور وہ فوراََچلی آئی۔ساون زمین کی کوکھ کھنگال رہا تھاجب سائرہ کہانی میں آشامل ہوئی۔لیکن یہ بھی واقعہ تھا کہ اس کی موجودگی میں بھی کہانی پکڑ میں نہ آرہی تھی۔روز کوئی نہ کوئی عجیب منظر ہمارے چاہے بغیر کہانی کا حصہ بننے لگا۔ہم اپنے اپنے کرداروں سے انصاف کو پورے پورے خرچ ہو رہے تھے لیکن حاصل وصول نفی ہی میں رہ جاتا تھا۔

میں نے سائرہ کو باخبر کیا کہ کہانی ہتھے سے اکھڑچکی ہے لیکن وہ بے چاری بھی کیا کرتی۔اجالے اس کے ہاں بھی ایسے موافق نہ تھے کہ کہانی ان کے سپرد کی جا سکتی۔ وطن عزیز باب میں ہمارا کچھ بھی نہ تھا بس سیاہ کاغذ تھے جن پر ہمارے ذمے رقموں اور اعداد کے ساتھ خوشحالیاں تصویر کرنا تھیں۔ نہ مجھے اور نہ ہی سائرہ کو ہندسوں سے کوئی علاقہ تھا کہ سچ کو دستاویز کرتے۔ سو ہم نے ایک دفعہ پھر خود کو وقت کے حوالے کیا اور چپ سادھے خلا کھلنے کی دعاؤں میں لگ گئے۔ خلا کھلا تو ایک دن بارگاہ وفا میں میری بالجبر طلبی کا دن لکھا ہوا تھا۔خاموشی کی دستاویز پر صرف میرے دستخط طلب کئے گئے اور نامہ اعمال کی ہر فرد رات کی کالک سے لکھ کر مجھے اس کے لفظوں میں مقید کر دیا گیا۔ صفائی کے سارے گواہوں کی زبانیں کاٹ کر صفحہ مثل پر نتھی کر دی گئیں لیکن مثل پر موجود فرد جرم جیسے رات بھر میں ساری صفائیاں چاٹ جاتی ۔ روز صبح مقدمے کی کاروائی فرد جرم کے اعادے کے ساتھ شروع ہوتی اور پھر جرح کے نام پر اندھیرے مجھ پر وہ وہ الزام تراشی کرتے کہ میں خود اعتراف جرم کر کے خاموشی کی کال کوٹھڑی میں جا دبکتا۔کوئی دن کو مقدمے کی کاروائی میں سائرہ بھی شامل ہوئی لیکن شریک مجرم نجانے کیوں میری ذلت میں شمولیت کے قابل نہ پایا گیا اور فیصلے کی حد تک اسے با عزت نہیں لیکن با سہولت بری کردیا گیا۔ابھی سائرہ کو اپنے حصے کے اجالے بھگتنے تھے سو اس نے کوئی دیر کو کہانی سے اجازت چاہی اور اپنے گردا گرد پھیلے تعفن سے نبٹتی رہی۔ میرے حصے کے مقدمے کی کاروائی جاری رہی تھی کہ سائرہ احمد علی ایک دفعہ پھر لمبی جدائی پر لوٹ گئی۔اس کے لوٹ جانے کی اذیت بھی مجھ تک غائبانہ حوالے سے پہنچی۔وہ فون پر سسک رہی تھی اور کیوں سسک رہی تھی کہانی کے اس موڑ تک مجھے اس کی کوئی خبر نہیں۔اس نے مجھے لوٹ جانے کی اذیت میں کیوں شریک نہ کیا یہ بھی ایک سوال ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   شکاری - انتون چیخوف

مجھے نہ اس سے کوئی گلہ ہے اور نہ ہی نرمین سے کوئی شکایت ہے البتہ مجھے خود سے یہ توقع ہر گز نہ تھی کہ میں ان شکست لمحوں میں یوں چٹخ جاؤں گا۔سائرہ نے مجھے لوٹ جانے میں شریک نہ کیا تو اس کی کوئی مصلحت ہو گی اور نرمین نے جو کیا میرے پاس اس کے ہزاروں معقول جواز موجود ہیں ۔ نہیں ہے تو میرے پاس اپنی اس بے دریغ اذیت کوشی کا کوئی جواز نہیں جو میں نے اپنے ذمے اس سارے عرصے میں کی۔ میں نے کسی کے خلاف کوئی جرم نہ کیا تھا لیکن احساس جرم کیوں چیخ چیخ کر میرے اس یقین کو جھٹلاتا تھا میرے پاس اس حرکت کا کوئی بھی جواز نہیں ہے۔ نرمین نے جو کیا اس کے سوا اس کے پاس اور کرنے کو کیا تھا۔ اس نے اپنے بوجھ اٹھانے میں بھی مجھے خلوت کی رعایت دی اور کبھی کسی اور کا ہاتھ نہیں مانگا۔ اس نے سائرہ کے سامنے اپنا بھرم اور میری عزت رکھی۔ اس نے کہانی کے تسلسل کی راہ میں خود کو حائل نہیں کیا۔اس نے میری محبت کا ہاتھ جھٹکا لیکن میرے ہاتھ کو کوئی گزند نہیں پہنچایا۔ اس نے کئی بار وقارسے کنارہ کیا لیکن کسی آنکھ پر وہ مناظر کھلنے نہیں دیئے۔مجھ سے زیادہ کسے خبر کہ نرمین کے لئے وہ بوجھ حد برداشت سے بھی بڑھ کر تھا لیکن اس نے مجھے اپنی برداشت کے نئے نئے تخمینے لگانے سے کبھی منع نہیں کیا۔

اور پھر بہت سارے اوراق سیاہی میں لتھڑے رہے۔ایک لفظ بھی نہ پھوٹتا بس سیاہ دائرے ایک ایک سطر میں رقصاں دکھائی دیتے۔سائرہ احمد علی بھی عجیب و غریب مکالمے بولنے لگی تھی کہ ایک لفظ بھی پلے نہ پڑتا۔ اس نے پتہ نہیں کہاں سے یہ کردار ڈھونڈ نکالا تھا اورمجھے دیس نکالا دے کر پوری کی پوری اس میں گھس بیٹھی تھی۔ معاملات میری عمومی سمجھ سے باہر ہو رہے تھے۔کہیں ساری زمین فصل گل کی طرح کھل اٹھتی اور کبھی ایک دوزخ جابجا دہکنے لگتا۔نرمین اپنے وقار کی اسیر ہو کر رہ گئی تھی۔ برداشت اس کی پشت پر کوڑے برساتی تو وہ اپنے زخم میرے وجود پر چننے لگ جاتی۔ ایک ایک ٹیس مجھے سو سو طرح سے گھائل کرتی لیکن چیخ وپکار پر سائرہ اپنا نشتر نکال لیتی۔ زندگی نے مجھے آلیا تھا اور صرف آہی نہیں لیا تھا بلکہ رگیدنا شروع کر دیا تھا۔ میرے ساتھ ایسے ہی کیوں ہوتا ہے۔ہر کام میں کوئی نہ کوئی گڑبڑ میرے ہمراہ ہوجاتی ہے۔

محبت کا کوئی چہرہ نہیں ہوتا۔ اپنے اظہار کے لئے یہ کبھی لفظ، کبھی عکس اور کبھی کوئی واقعہ بْنتی ہے۔ لیکن یہاں محبت میرے ارد گرد جو لفظ، عکس اور واقعات بْن رہی تھی ان میں سب کچھ تھا لیکن محبت دکھائی نہ پڑتی تھی۔نرمین میری محبت ہی نہیں میری ذات شریک بھی ہے لیکن وہ میری ذات کا کوڑا کرکٹ سنبھالنے پر آمادہ نہیں۔ یہ کوڑا کرکٹ عمروں سے میرے اندر جمع ہے تو میں اسے کہاں پھینکوں کہ میرے چاروں طرف اس کی خوشبو ہے۔ایک ذرا خود کو کھولنے کی کوشش میں یہ جو گند مچا ہے یہ بھی تو میرا ہے۔ خود کو نہ کھولتا تو شاید دم گھٹ کر مر ہی جاتا ہے۔ سائرہ کا کیا قصور ہے کہ مجھے اس کی انگلیوں سے خود کو کھولنا ممکن لگا تھا۔ کوئی اس کی انگلیاں تو دیکھے کیا حشر ہوا ہے کہ ناخن ادھڑ کر ایک ایک پور میں گڑے ہوئے ہیں۔ اس کے ہاتھ میں میرا وجود کھلنے پر ایسا تو نہ تھا۔ یہ تو اس کے سلیقے نے اسے کر دیا ہے ورنہ کوئی دیکھتا کہ ایک ایک بوٹی میں کیسی بساند تھی۔ اس نے اپنے لہو سے دھویا اور اپنی دھوپ میں سکھا کر کس ترتیب سے آرائش کی ہے کہ ایسا خوشنما لگنے لگا ہے۔ لیکن سائرہ اس حد تک عورت کیوں ہورہی ہے کہ اس کی انسانیت کوئی روندا گیا میدان جنگ دکھائی دیتی ہے۔اسے کیا ہوا؟اس کے میرے بیچ یہ ریاضی کہاں سے در آئی۔ بات میں کھاتے نجانے کیوں کھلنے لگے لیکن صد شکر کہ نفع نقصان کبھی بیچ میں نہ پڑتا اور دونوں اطراف بھرم رہ جاتا۔ دونوں اطراف تو میں نے احتیاطاََ لکھ دیا ہے ورنہ تو اس بے چاری کے حصے میں نقصان ہی نقصان تو تھا۔مجھے اس کی شدید ضرورت تھی اور وہ تھی کہ خود سے ضد لگائے وقت کے دھارے پر بہے جاتی تھی۔ جہاں کہیں کوئی موج اسے پٹختی مجھے چیخم دھاڑ میں شریک ہونا لازم ہوتا تھا۔ کئی بار مجھے شک پڑا کہ میں تعلق کی اداکاری کر رہا ہوں اور وہ بھی میرے مقابل کردار نبھا رہی ہے۔ مہینوں پہ مہینے گذرے اور زرد رو بے کیفی کے تنور میں میری ہڈیاں تڑختی رہیں۔سائرہ نے کئی دفعہ میری امید کی منڈیر پر دیا روشن کیاآنکھیں اس کی لو کے گرد پروانہ وار انتظار میں رہیں لیکن عین وقت پر وصال رت کے پاؤں میں حالات کی مہندی سج گئی۔ میرے ساتھ دہلیز پر بیٹھی نرمین نے مجھے طعنوں پر دھر لیا اور میں ناکردہ ملی بھگت کے جرم میں کوسنوں پر مصلوب کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے:   سمِ قاتل – پہلا حصہ

یہ ہوتا ہے بلکہ یہی تو ہوتا ہے۔ ہم ایسے لوگ تقدیر کو تدبیر کی پٹخنیاں دینے نکلتے ہیں پلک پلک خواب دیکھتے ہیں اور پھر ایک ایک پور انہیں تعبیر کرنے میں آزماتے ہیں۔منظر ہموار ہوں تو انہیں زمین پر جنتیں اترتی دکھائی دیتی ہیں اور ادھر ایک ذرا رستہ پاؤں میں اٹکاتو ایک طوفان اٹھا دیا۔تقدیر کہاں تدبیروں سے ٹلتی ہے کہ ہمیں تو اسباب و علل بھی کھوجنے میں صدیاں لگتی ہیں۔مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ زندگی اپنے سارے اختیارات سمیت وقت معلوم تک ہمارے سپرد ہے لیکن یہ بھی تو طے ہے کہ زندگی دئیے گئے نصاب میں طبع آزمائی کا نام ہے۔ ہم بعض اوقات تدبیر کی بحث میں نصاب سے پنجہ آزمائی میں لگ جاتے ہیں اور یہی وہ مقام ہے جہاں ناکامیاں اور نارسائیاں وجود کا حصہ بننے لگتی ہیں۔خواہش جرم نہیں اور نہ ہی اس کی تکمیل میں خود آزمائی پر کوئی قدغن ہے لیکن خواہش اور امکان کے درمیان توازن ہی میرے نزدیک انسانیت ہے ورنہ کسی کمزور لمحے میں حیوانیت پل پڑتی ہے۔اس سارے عرصے میں کئی بار حیوانیت مجھ پر بھی پل پڑنے کو تھی لیکن شاید خدا مجھے اکیلا چھوڑ کر جانے والوں میں سے نہیں۔اور شاید مجھے کوئی بھی اکیلا چھوڑنے پر راضی نہ تھا کہ میرے کردار کی ہر دو ضمنیات بھلے مجھے گھسیٹ رہی تھیں لیکن مجھے چھوڑ جانے پر دونوں ہی آمادہ نہ تھیں ۔ یہی وجہ تھی کہ اس دشت نما وقت میں بھی کہیں کہیں کوئی نخلستان اگ آتا اور پھر ادھڑا ہوا وجود ایک نئے عذاب جھیلنے کی سکت پا جاتا۔

Views All Time
Views All Time
467
Views Today
Views Today
1
mm

مزاج طبیعت سے شاعر،پیشے سے وکیل اور فکرو عمل سے سیاسی کارکن ہیں۔انہوں نے شکستہ جھونپڑوں سے زندان کی کوٹھڑیوں تک ،دلدل کی ماری گلیوں سے اقتدار محل کی راہداریوں تک زندگی کے سارے چہرے دیکھے ہیں ۔وہ جو لکھتے ہیں سنائی اور دکھائی دیتا ہے۔

mm

مجتبیٰ حیدر شیرازی

مزاج طبیعت سے شاعر،پیشے سے وکیل اور فکرو عمل سے سیاسی کارکن ہیں۔انہوں نے شکستہ جھونپڑوں سے زندان کی کوٹھڑیوں تک ،دلدل کی ماری گلیوں سے اقتدار محل کی راہداریوں تک زندگی کے سارے چہرے دیکھے ہیں ۔وہ جو لکھتے ہیں سنائی اور دکھائی دیتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: