میثاق سیاست

Print Friendly, PDF & Email

انتخابات بھی پہنچ آئے ہیں تیسری مرتبہ ایک سول حکومت اپنی مدت پوری کر رہی ہے اور آئینی تقاضوں کے مطابق انتخابات کا فریضہ نگران انتظامیہ کے سپرد کئے جانے کا عمل بھی جاری ہے۔ نگران وزیراعظم کے نام پر سیاسی جماعتوں میں اتفاق رائے بھی انتہائی خوش آئند امر ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ ہم سیاسی بلوغت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ہماری سیاسی قیادت کو یقینا احساس ہے کہ جہاں کہیں بھی وہ خلا چھوڑے گی وہاں سے اُس کی پسپائی کا عمل شروع ہو جائے گا ۔ چنانچہ وفاقی حکومت کے بعد اب صوبائی سطح پر حکومت اور اپوزیشن میں نگران انتظامیہ کے بارے میں اتفاق رائے کا آغاز ہو گیا ہے۔ اس سلسلے میں اگرچہ پہل خیبر پختونخواہ سے ہوئی لیکن نامزد نگران وزیراعلیٰ پر سیاسی حلقوں کے تحفظات پر وہ نامزدگی واپس لینے کا فیصلہ بھی بہتر سیاسی ماحول کے ساتھ انتخاب کی طرف جانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

میں بہت سنجیدگی سے محسوس کرتا ہوں کہ وقت آگیا ہے اس مثبت سیاسی طرز عمل کو آگے بڑھایا جائے تاکہ انتخابات کے انعقاد کے دوران بھی یہی حس ذمہ داری قائم رہے اور مابعد انتخابات بھی ماضی کی تلخیوں سے محفوظ رہا جاسکے۔ ضروری ہے کہ سیاسی جماعتیں خود بیٹھ کر انتخابی مہم کے لئے ایک ضابطہ اخلاق طے کریں اور اس کے لئے وسیع پیمانے پر ایک میثاق سیاست کا اہتمام کیا جائے۔ اس میثاق کا پہلا نکتہ اشتعال اور متشددانہ جذباتیت سے گریز ہونا چاہیے۔ اسی نکتے کے ذیل میں یہ اتفاق ہونا چاہیے کہ سیاست میں کسی بھی راہنما کے ایمان اور حب الوطنی کے حوالے سے فتوی گری نہیں کی جائے گی۔ حساس نوعیت کے دینی اور مذہبی معاملات کے حوالے سے غیر ذمہ دارانہ گفتگو یا نعرہ بازی سے احتراز کیا جائے گا۔ ایک دوسرے پر تنقید سیاسی موقف یا سیاسی کردار کے حوالے سے کی جائے گی۔ تنقید کے دوران بھی سیاستدان ایک دوسرے کی عزت، مرتبہ اور حیثیت کو ممکن حد تک ملحوظ خاطر رکھیں گے۔

غداری، کفر اور انتخابی دھاندلی کے ضمن میں ملک میں قوانین اور اُن کے نفاذ کے ادارے موجود ہیں۔ اگر کسی بھی سیاسی شخصیت کے خلاف کوئی ایسی شکایت موجود ہے تو اس سلسلے کو سیاسی ایشو بنانے کے بجائے قانون نافذ کرنے والے ادراوں سے رجوع کو رواج دینے کا عزم کیا جائے کیونکہ ایسے موضوعات کو جذباتی انداز میں عوام کے سپرد ہونے کے کئی بھیانک نتائج ہم بھگت چکے ہیں اور وہ نتائج اپنی جگہ لیکن وہ موضوع بھی آخرکار مٹی پاﺅ کی پالیسی کا ہی شکار ہوا ہے۔ ہماری سیاسی قیادت کو سمجھ جانا چاہیے کہ سیاست کی اساس ہی تحمل اور برداشت ہے اور یہ مختلف الآراء فریقین کی موجودگی ہی میں آگے بڑھتی ہے۔ سیاست کا ہدف کسی کا سر نہیں بلکہ دماغ ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   مدد ہمیشہ پلٹ کر آتی ہے-وسعت اللہ خان

کسی بھی سیاسی جماعت کی بقاء، مقبولیت اور ارتقاء کا فیصلہ عوام پر چھوڑ دینے کے اصول کو تسلیم کیا جانا چاہیے اور عوام ایسے جملہ فیصلے اپنے ووٹوں کے ذریعے کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں یہ بھی مذموم رواج راسخ ہے کہ عوامی فیصلہ ناپسندیدہ یا غیر مطلوب ہونے کی صورت میں عوام کی جہالت کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے۔ یہ بنیادی اصول بھی تسلیم ہونا چاہیے کہ اجتماعی عوامی شعور کبھی بھی غلط نہیں ہوتا۔ مروجہ انتخابی قوانین کے تناظر میں عوام کو جس طرح کا موقع میسر آتا ہے وہ اسی کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں۔ اصل مسئلہ رائے دہندگی کی آزادی اور رائے سازی کے مواقع ہیں۔ جب سیاسی قیادتیں امیدواروں کے فیصلوں میں اہلیت کے بنیادی اصول سے انحراف کرتے ہوئے الیکٹیبلز، برادری اور اس نوعیت کے اسباب کو بنیاد بنائیں گے تو وہ رائے دہندگان سے کیسے اہلیت پر فیصلے کی توقع کر سکتے ہیں۔ اگر سیاسی جماعتیں فتح و شکست برطرف اہلیت کو امیدواروں کی نامزدگی کا معیار بنائیں تو رائے دہند گان بھی اسی معیار پر اپنے ووٹ کا استعمال کریں گے۔ اہلیت کو رواج دینا قیادت کی ذمہ داری ہے اور سیاسی قیادت کو اجتماعی طور پر اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہو گا۔ اہلیت کے فقدان کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوگا کہ سینکڑوں پر مشتمل ایوانوں میں درجن بھر اراکین کے علاوہ باقی سب ان ایوانوں کی کاروائیوں میں ہاتھ اُٹھانے یا گرانے کے علاوہ کبھی شامل نہیں ہوتے۔ اس کا نتیجہ ان ایوانوں کا مجموعی طور پر غیر موثر ہونا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   ترقی پسند دانشور سید علی جعفر زیدی سے ملاقات

اس میں کوئی شک نہیں کہ سیاست میں اقتدار کے حصول کی کوشش ہر جماعت کا حق ہوتا ہے لیکن یہ کوشش بزعم خود کوئی ہدف نہیں ہوتی بلکہ اس کوشش کا مقصد اپنے نظریے اور منشور کے مطابق ملکی معاملات کو چلا کر ملک و قوم کا بہترین انتظام و انصرام ہوتا ہے لیکن ہمارے ہاں بنیادی عوامی فہم یہ بن گیا ہے کہ ہر جماعت کا بنیادی ہدف ہی کسی نہ کسی طرح اقتدار کا حصول ہے اور جماعت کا نظریہ اور منشور اس جدوجہد میں کہیں بہت پیچھے رہ جاتا ہے۔ اقتدار کے حصول کی اس کوشش میں تعداد اور مقدار کو قدر اور اہلیت پر ہر جگہ ترجیح دی جاتی ہے۔ کئی لوگ پانچ سال ایک پارٹی کے ساتھ اقتدار کے مزے لوٹتے ہیں اور اُس پارٹی کا انتخابی مستقبل خطرے میں پڑتے دیکھتے ہی فی الفور بہتر سیاسی مستقبل رکھنے والی جماعت میں شامل ہو جاتے ہیں۔ ان شمولیتوں میں نظریہ اور منشور کا کوئی کردار ہوتا ہے اور نہ ہی ملک و قوم کی خدمت کا کوئی احساس دیکھائی پڑتا ہے۔ میثاق سیاست میں تمام سیاسی جماعتوں کو اس ملک میں سیاست کے اعتبار اور وقار کے لئے اس مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل ڈھونڈھنا چاہیے۔

Views All Time
Views All Time
229
Views Today
Views Today
1

مجتبیٰ حیدر شیرازی

مزاج طبیعت سے شاعر،پیشے سے وکیل اور فکرو عمل سے سیاسی کارکن ہیں۔انہوں نے شکستہ جھونپڑوں سے زندان کی کوٹھڑیوں تک ،دلدل کی ماری گلیوں سے اقتدار محل کی راہداریوں تک زندگی کے سارے چہرے دیکھے ہیں ۔وہ جو لکھتے ہیں سنائی اور دکھائی دیتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: