فیصلہ خدائی مخلوق کا

Print Friendly, PDF & Email

پپو تم میاں صاحب کے ساتھ ہو یا خلائی مخلوق کے ساتھ ۔
چوہدری نثار کی پریس کانفرنس سننے کے بعد میں ڈیپریشن سے نکلنے کے لئے پپو مخولئے کو گدگدانے کی کوشش میں تھا ۔
میں خلائی مخلوق کے ساتھ ہونا چاہتا ہوں لیکن تم اور تمہارے جیسی خدائی مخلوق کی طرح نہیں ۔وہ پپو ہی کیا جس کی بات کو سمجھنے کے لئے اُسی سے مددنہ لینی پڑے ۔
میں اور میرے جیسی خدائی مخلوق کس طرح خلائی مخلوق کے ساتھ ہے ؟

تمہیں پتہ ہے کہ خلائی مخلوق جو چاہے شکل اختیار کر سکتی ہے ۔سوائے صاحبان نظر کے کسی کو بھی سمجھ نہیں آتا کہ خلائی مخلوق کس شکل میں کس کے ساتھ کیا کر رہی ہے چنانچہ دیکھتی آنکھوں اور سنتے کانوں والی خدائی مخلوق نظرآتی شکلوں اور سنائی دیتے لفظوں کے پیچھے چل پڑتی ہے اور یہ جاننے بوجھنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کرتی ہے وہ اصل میں میاں صاحب کا ساتھ دے رہی ہے یا خلائی مخلوق کا ۔
نظر آتی شکلیں!پپو تم عجیب بات کر رہے ہو ۔دیکھتی آنکھیں اور سنتے کان نہ نظرآتی شکلیں اور نہ سنائی دینے والے لفظ کیسے دیکھ سن سکتے ہیں؟
بس دوست جو نہیں دیکھ سن سکتے وہ نہ چاہتے ہوئے بھی خلائی مخلوق کے ساتھ ہوتے ہیں ۔کسی اور کے ساتھ ہونے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ آپ شکلوں کے پیچھے دیکھ اور لفظوں کے پیچھے مطلب بھانپ سکیں۔

لیکن یہ تو بتاؤ کہ میاں صاحب کا خلائی مخلوق ہی سے کیوں معرکہ ٹھہر گیا ہے ؟

کچھ لوگ ہیں جو سیاست کرتے ہیں جبکہ کچھ لوگ سیاست کرتے نہیں بلکہ باقاعدہ لڑتے ہیں ۔ سیاست کرنے والوں کو خلائی مخلوق کچھ نہیں کہتی لیکن جو سیاست لڑنے لگ جائیں انہیں خلائی مخلوق سے معرکہ لڑنا پڑتا ہے۔ میاں صاحب جب تک ریڈ زون نہیں پہنچتے سیاست کرتے رہتے ہیں اور اچھی خاصی سیاست کرتے ہیں لیکن ریڈ زون تو جیسے انہیں محاذ سمجھ آتا ہے جونہی سائرنوں اور بگلوں کی گونج میں وہ ریڈ زون میں وارد ہوتے ہیں انہیں شاید سائرن اور بگل کی آواز پر طبل جنگ کا گمان ہو جاتا ہے وہ شیر کی کاٹھی پر سوار سیاست لڑنے نکل کھڑے ہوتے ہیں ۔انہیں شکلوں کے پیچھے دیکھنا اور لفظوں کے پیچھے مطلب بھانپنا بھول جاتا ہے سو جانے انجانے میں خلائی مخلوق پر بھی حملہ آور ہو جاتے ہیں ۔بس پھر حملہ میاں صاحب کا ہوتا ہے اور باقی معرکہ خلائی مخلوق خود ترتیب دے لیتی ہے ۔
پپو بس آخری بات بتا دو کہ یہ معرکہ کیا رُخ اختیار کرے گا اور اس کا نتیجہ کیا نکلے گا ؟

یہ بھی پڑھئے:   چھوٹے بھائیوں کے نام

اس دفعہ کا معرکہ اس سے قبل ہونے والے معرکوں سے قدرے مختلف ہے ۔اور اس کی وجہ ہے کہ وقت کم ہے اور مقابلہ سخت ہے ۔ اس سے پہلے خلائی مخلوق اپنے سیارچے کے وقت کے مطابق معرکے کا نظم الاوقات طے کرتی تھی لیکن اب بابا رحمتے اور ذرائع ابلاغ کے گھڑیال اور کلاک درمیان میں ٹن ٹن کرنے لگتے ہیں سو وقت اب زمینی حقائق سے طے کیا جانا ضروری ہو گیا ہے ۔ادھر دوسری طرف میاں صاحب کے ہاں بھی عمر خطرے کی گھنٹیاں بجانے لگ گئی ہے ۔ سو وقت دونوں طرف کم ہے ۔اور تمہیں پتہ ہے کہ ٹائم ٹیبل طے شدہ ہو تو فیصلہ کن عنصر خدائی مخلوق بن جاتی ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ کتنی خدائی مخلوق شکلوں کے پیچھے اور لفظوں کے پیچھے دیکھنے کا ہنر جان پاتی ہے ۔میاں صاحب تو اب تک کے سارے راؤنڈ ہار چکے ہیں۔اُن کی قسمت کا فیصلہ بھی خدائی مخلوق کے ذمے ہے ۔اس معرکے کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ خلائی مخلوق میاں صاحب کو اور میاں صاحب اُس مخلوق کو نہ صرف بخوبی جانتے ہیں بلکہ دونوں ایک دوسرے کے داؤ پیچ سے پوری طرح واقف ہیں ۔پتہ نہیں تو صرف یہ کہ خدائی مخلوق میاں صاحب کی نظر آتی شکل دیکھتی ہے کہ نظریاتی لفظوں پہ یقین کرتی ہے !

Views All Time
Views All Time
225
Views Today
Views Today
1
mm
mm

مجتبیٰ حیدر شیرازی

مزاج طبیعت سے شاعر،پیشے سے وکیل اور فکرو عمل سے سیاسی کارکن ہیں۔انہوں نے شکستہ جھونپڑوں سے زندان کی کوٹھڑیوں تک ،دلدل کی ماری گلیوں سے اقتدار محل کی راہداریوں تک زندگی کے سارے چہرے دیکھے ہیں ۔وہ جو لکھتے ہیں سنائی اور دکھائی دیتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: