Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

کیوں؟ | مجتبی شیرازی

by اگست 22, 2017 بلاگ
کیوں؟ | مجتبی شیرازی

کیوں تے لڑائی ہوندی اے؟

یہ ایک پنجابی ضرب المثل ہے ۔مطلب یہ ہے کہ کیوں، کیا، کیسے، کون اور کہاں جیسے لفظ بات کو بڑھاتے چلے جاتے ہیں اور بڑھی ہوئی بات کبھی خیرپر ختم نہیں ہوتی۔خیر پہ ختم ہونے کے لئے ضروری ہے کہ کوئی ایک فریق کیا اور کیوں کے ہتھیار پھینک دے۔لیکن اپنے میاں صاحب کوئی دن پہلے کیا کے مرحلے سے گذر کر کیوں کی سُرنگ میں داخل ہوئے ہیں۔انہیں کون سمجھائے کہ کیوں تو لڑائی ہوتی ہے، وہ تو شاید مجھے کیوں نکالا کا راگ الاپتے لڑائی پر ہی تلے بیٹھے ہیں۔حالانکہ ضد تو میاں صاحب کا مزاج ہے لیکن لڑائی اُن کے مزاج سے لگا نہیں کھاتی۔تاریخ چغلی کھاتی ہے کہ میاں صاحب استعفیٰ نہ دینے اور ڈکٹیشن نہ لینے کے نعرے لگاتے ہوئے ڈکٹیشن کے تحت استعفیٰ دینے سے بھی نہیں چوکتے۔

تو پھر میاں صاحب کے "کیوں” کو کس خانے میں فٹ کیا جائے؟ فوجداری وکالت کا سنہرا ہنر ہے کہ اگر آپ جج کو قائل نہیں کر سکتے تو اُسے شک و شبہ میں ضرور مبتلا کر دیں۔ وجہ یہ ہے کہ فوجداری قانون میں شک کا فائدہ بہرصورت ملزم کو پہنچتا ہے لہذا جہاں جج صاحب مقدمے کی سماعت کے دوران جرم کے ہونے یا نہ ہونے کے بارے کسی قسم کی الجھن کا شکار ہوئے ملزم کا بھلا ہو گیا ۔آج کل میاں صاحب بھی شاید رائے عامہ کی عدالت میں یہی فوجداری گُر آزما رہے ہیں اور اس گُر آزمائی میں اُن کا ہتھیار بھی ہے "کیوں”۔ وہی "کیوں” جو پنجابی میں لڑائی ہوتا ہے۔

ہوسکتا ہے کہ میاں صاحب کا بات بڑھانے کا مقصد لڑائی ہی ہو لیکن وہ یہ بتانے سے پرہیز کر رہے ہیں کہ لڑائی کس سے؟وہ تو کیوں بھی رائے عامہ پر ہی استعمال کر رہے ہیں ۔ جہاں کیسے اور کیوں پوچھا جا رہا تھا وہاں میاں صاحب خود پر الزام کو کیا کیا کر رہے تھے اور اکیلے میاں صاحب ہی نہیں بلکہ پورے کا پورا ٹبر ہی کیا کیا کر رہا تھا۔ پھر ایک دن عظمیٰ نے اُن کے وکیل صاحب کو والیم 10 تھماتے ہوئے ایک خاص صفحے کے مطالعے کو کہا ، وہ صفحہ کیا کھلا کہ کیا اور کیوں سب ہرن ہوگئے۔ ایسی چُپ لگی کہ بس پھر جو بولا عظمیٰ نے بولا اور کیا بولا کہ بولتی ہی کئی دن تک بول کے نہ دی۔

پھر کسی نے میاں صاحب کو سمجھا یا کہ کیا کا زمانہ گذر گیا ہے اب کیوں کی طرف متوجہ ہوں۔ بس پھر کیا تھا گلی گلی چوک چوراہوں میں مجھے کیوں نکالا کا شور برپا ہو گیا۔ اگر آپ رائے عامہ کو قائل نہیں کر سکتے تو کم سے کم شک و شبہ میں مبتلا تو ضرور کر سکتے ہیں سو میاں صاحب کا کیوں لڑائی ہر گز نہیں سمجھا جانا چاہیے بلکہ یہ فوجداری وکالت کا سنہرا ہنر سمجھا جائے ورنہ میاں صاحب کو بھی پتہ ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے موقع پر انہوں نے خود آرٹیکل 62 ایف (۱) کو آئین سے نکالنے کی زرداری پیشکش کو گھمنڈ کی ٹھوکر پر رکھا تھا کہ وہ عظمیٰ کا افتخار دور تھا اور میاں صاحب اتنا آگے نہیں سوچ پاتے تھے کہ ایک دن 62 ایف (۱) کا ہتھوڑا اُن کے سر پر بھی ٹُھک سکتا ہے۔

میاں صاحب کا کیوں اگر لڑائی کے لئے نہیں تو کچھ سمجھنے کی نیت سے بھی نہیں کہ میاں صاحب سے زیادہ کس کو خبر ہے، وہ انہیں سازشی اداروں کی فخریہ پیشکش ہیں ۔ انہیں اداروں کے ساتھ مل کر انہوں نے محمد خان جونیجو سے لے کر یوسف رضا گیلانی تک کئی وزراءاعظم کے شکار میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ماضی قریب میں افتخار عظمیٰ کے دور میں وہ پیپلز پارٹی کی طرف اداروں کی ہر پیش قدمی کے موقع پر رجز خوانی کے لئے کالا کوٹ پہننے سے بھی دریغ نہیں کرتے تھے اور یہی کیا میاں صاحب تو اداروں کی کئی سیاست کُش پیش قدمیوں کے ہراول دستوں میں خود بھی شامل رہے ہیں۔ لیکن اعظم کے منصب پر فائز ہوتے ہی اُنہی اداروں کی موہوم سی حرکت بھی انہیں گوارا نہیں ہوتی۔ یہ جن گلی کوچوں میں میاں صاحب” کیوں کیوں” الاپ رہے ہیں یہاں کے باسی ابھی تک آصف نواز جنجوعہ ،جہانگیر کرامت اور چیف جسٹس سجاد علی شاہ کونہیں بھولے۔

میاں صاحب سے درخواست ہے کہ مجھے کیوں نکالا کے ساتھ سیکورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے ظفر حجازی کو اندر کیوں ڈالا کا سوال بھی شامل کر لیں کہ وہ غریب کا بچہ بھی پاناما قضیے سے براہ راست متاثر ہونے والوں میں میاں صاحب کے ساتھ شامل ہے۔ اسی طرح مجھے کیوں نکالا کے ساتھ یہ سوال بھی بنتا ہے کہ نیب ریفرنسز کے نام پر کچھ ہی دنوں میں مجھے اندر ڈالنے کی تیاری کیوں جاری ہے۔

Views All Time
Views All Time
282
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

جواب دیجئے

%d bloggers like this: