Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

بہت سفاک ہے بارود کی بُو (حاشیے) | مجتبیٰ حیدر شیرازی

بہت سفاک ہے بارود کی بُو (حاشیے) | مجتبیٰ حیدر شیرازی

بہت سفاک ہے بارود کی بُو
زمیں کو خون کی قے آ گئی ہے
اس دفعہ مانچسٹر لہو تھوک رہا ہے۔اس لہو کے ہر ورق پر بے گناہی سند ہے ۔لیکن گوروں کو بھی تو سمجھنا چاہیے کہ خدا تو اپنی زمین پر گنہگار برداشت کر سکتا ہے لیکن طالبانِ خدائی کا گناہ و ثواب اور سزا و جزا کا اپنا نظام ہے ۔مجھے پتہ نہیں کہ خدا کا اس نظام کے بار ے میں کیا کہنا ہے لیکن خلقِ خدا اسے دہشت گردی اور سفاکی قرار دیتی ہے۔
ہر ذی شعور کا ماننا ہے کہ طالبان ہوں یا داعش اِن کی دلچسپی خدا سے زیادہ خدائی سے ہے ۔ایسی خدائی جس میں خدا ہر سفاکی اور ہر بربریت پر اپنی مہر تصدیق ثبت کرے ۔حیرت مجھے اُن خداوندانِ دانش پر ہوتی ہے جو اسے مذہبی دہشت گردی سے جوڑتے ہیں۔مذہب کے لئے پیروکار کا انسان ہونا ضروری ہوتا ہے ۔ایسی مخلوق جو انسانیت کے بنیادی لوازم سے عاری ہو اُس کے لئے انسان کی اصطلاح بھی استعمال کرنا روا نہیں کجا کہ اُسے کسی مذہب سے منسوب کیا جائے ۔
میرا سوال یہ ہے کہ کیا ریاست کے کسی اقدام کو کسی جائز ناجائز کے معیار پر نہیں پرکھا جاتا ۔کیا دہشت گردی کا تعلق صرف گروہوں اور لشکروں ہی سے ہوتا ہے۔اور یہ جو لیبیا میں ہوا عراق میں ہوا ،افغانستان اور یمن میں ہو رہا ہے اس کے لئے کوئی موزوں اصطلاح کون تجویز کرے گا۔دہشت گردی صرف بارود ، آگ اور خون تک ہی محدود نہیں ۔کرپشن کے باب میں معاشی دہشت گردی،جوڑ توڑ کے حوالے سے سیاسی دہشت گردی ،منصوبہ بندیوں اور میگا پر ا جیکٹس کے نام پر قومی خزانے کے خلاف مفاداتی دہشت گردی ،قومی وقار اور مفاد کے بہانے پر سوشل میڈیا کے خلاف ایف آئی گردی ۔یاد رکھیں ظلم کبھی بے اولاد نہیں ہوتا اور اُس کے بچے اپنے باپ کو کھا جاتے ہیں ۔
ظلم اپنے طریقہ کار سے نہیں اپنے نتائج سے پہچانا جاتا ہے ۔ہر وہ عمل اور فعل جو کسی دوسرے کے حق یا مفاد کی خلاف ورزی پر منتج ہو وہ ظلم کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا ۔ظالم کوئی بھی ہو اور مظلوم کوئی بھی ہو ظلم ظلم ہے اور ظلم پر شرمندگی کے بجائے اُس کے جواز اور وضاحتیں پیش کرنا ہی در حقیقت دہشت گردی ہے ۔یہی دہشت گردی آج کل وزیر داخلہ موصوف ڈنکے کی چوٹ فرما رہے ہیں ۔

mm
مزاج طبیعت سے شاعر،پیشے سے وکیل اور فکرو عمل سے سیاسی کارکن ہیں۔انہوں نے شکستہ جھونپڑوں سے زندان کی کوٹھڑیوں تک ،دلدل کی ماری گلیوں سے اقتدار محل کی راہداریوں تک زندگی کے سارے چہرے دیکھے ہیں ۔وہ جو لکھتے ہیں سنائی اور دکھائی دیتا ہے۔
مرتبہ پڑھا گیا
238مرتبہ پڑھا گیا
مرتبہ آج پڑھا گیا
1مرتبہ آج پڑھا گیا
Previous
Next

Leave a Reply

%d bloggers like this: