Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

مولوی صادق خان نیازی باسٹھوی | مجتبیٰ حیدر شیرازی

مولوی صادق خان نیازی باسٹھوی | مجتبیٰ حیدر شیرازی
Print Friendly, PDF & Email

پپو مخولئے کا ماننا ہے کہ میاں نا اہل شریف کے خلاف عظمیٰ کے فیصلے سے اُن کے شریف ہونے پر جوبھی اثرات مرتب ہوں اُن کا میاں ہونا اب بھی ہر شک و شبہ سے بالا تر ہے۔کیونکہ اُن کے میاں ہونے کا تعلق کسی عظمیٰ یا عالیہ سے نہیں بلکہ خالصتاٌ بی بی کلثوم سے ہے ۔لہذا جب تک وہ میاں ہیں شرافت کے حوالے سے ہر فیصلے کے باوجودوہ کسی بھی اجلاس کی صدارت کر سکتے ہیں اور کسی کو بھی خالہ وزارت کے سر کا صاحب مقرر کر سکتے ہیں۔ پپو نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ چھوٹے میاں کے سبحان اللہ ہونے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ بڑے میاں انا للہ ہوں سو بڑے میاں کا انا للہ ہونا ہی دراصل چھوٹے میاں کا سبحان اللہ ہونا ہے ۔
پپو قدرے حیرت زدہ بھی ہے اور سوچتا رہتا ہے کہ پاناما اور اقامہ میں کیا تعلق ہے؟اُس بے چارے کو تو یہ بھی سوچنا پڑتا ہے کہ تنخواہ لینا جرم ہے یا نہ لینا گناہ۔جب وہ چار سو بلین کے فلیٹ کو دس ہزار درہم کے مقابلے میں زیادہ بڑی تباہی مچاتے دیکھتا ہے تو اُسے لگتا ہے کہ احتساب کی کرنسی میں درہم جو مقام حاصل ہے وہ ڈالر،پونڈ اور یورو کی اوقات کہاں! وہ دو تین کی مساوات کو جب پانچ صفر میں بدلتے دیکھتا ہے تو یقین آ جاتا ہے کہ اقتدار کی ریاضی میں برابر ہے کے نشان کے ادھر اُدھر اعداد بدلتے دیر نہیں لگتی ۔
پپو وزارت عظمیٰ کی بے ثباتی اور بے بساطی پر تھوڑا سا دُکھی بھی ہے کہ کروڑوں کے پیچھے بھاگ بھاگ کر آپ جو حیثیت حاصل کریں چار پانچ بیٹھ کر آپ کو انا للہ کر چھوڑیں یہ کہاں کا انصاف ہے ۔بادشاہ خزانے تو اکٹھے کرتے ہی ہیں کہ انہیں ملک بھی چلانا ہوتا ہے اور اپنا کام بھی ۔کہیں چلتے چلتے اپنا کام ملک کو پیچھے نہ چھوڑ جائے یہ دھیان رکھنے میں کسی دوسرے کے آگے نکل جانے کا خدشہ بھی تو لاحق ہوتا ہے۔کام ملک کا ہو یا اپنا میاں صاحب اس بڑائی اور صفائی سے کیا کرتے تھے کہ اقامہ پکڑاجائے تو پکڑا جائے لیکن پاناما دوربین سے بھی دیکھائی نہ پڑے۔عظمیٰ کی جے آئی ٹی مارکہ دوربین سے بھی کچھ نظر آیا تو بس ایک اقامہ ورنہ پاناما کے لئے تو نئے سرے نیب برانڈ خوردبین تجویز ہوئی ۔
دو تین سیانوں کی پیش گوئی تھی کہ ادھر میاں صاحب شرافت سے دستبردار ہوئے اور ادھر مسلم لیگ کی ن چپٹی ہو کر ب یعنی بھاگم بھاگ کا نقشہ پیش کرے گی لیکن حقائق بتاتے ہیں مسلم لیگ ع عباسی سے ش شہباز ہونے کی تیاریوں میں ہے ۔حتیٰ کہ ان پیش گوئیوں کے بر عکس ن کا نقطہ بھی مسلم لیگ کی حد تک تاحال اپنی جگہ پر موجود ہے ۔وطن عزیز میں پیش گوئیوں کے لئے مشہور بلکہ بدنام شیخ خرید پر پپو مخولئے کا ایمان پکا ہو گیا ہے ۔اگرچہ بیچ میں ایک سال گرتا پڑتا گذرا لیکن قربانی سے پہلے قربانی کی اُنکی مشہور پیش گوئی تو سچ ثابت ہوئی ۔شیخ خرید کی پیش گوئی چوہدری داخلہ کے حوالے سے بھی سچ ہوئی لیکن خود چوہدری داخلہ صاحب کا قول ابھی تک سچ نہیں ہوا ۔
پپو سمجھتا ہے کہ سیاسی اقوال لازمی نہیں کہ سچ بھی ہوں بلکہ یہ اقوال جوڑ کر اصل مطلب بنانا پڑتا ہے۔جس دن چوہدری داخلہ کی پریس کانفرنس ہوئی پپو کو شک پڑ گیا تھا کہ اب محفوظ پاناما کھُل کھُلا جائے گا کہ چوہدری چونکہ داخلہ ہیں لہذا اندر کی باتیں بھی داخلہ ہی کا مضمون ہوتی ہیں۔انہوں نے فرمایا تھا کہ کسی بھی قسم کی لڑائی کی کسی بھی صورت میں کوئی گنجائش نہیں سو بڑے میاں صاحب ایک لفظ بھی نکالے بغیر انا للہ ہوگئے ۔لیکن پپو کا سوال ہے کہ شرافت سے میاں صاحب کی نا اہلی کی مبیّنہ وجہ تو مولوی صادق خان نیازی باسٹھوی اور قاری امین خان ترین تریسٹھوی کے لئے بھی خطر ناک ہو سکتی ہے ۔

Views All Time
Views All Time
445
Views Today
Views Today
2
mm

مزاج طبیعت سے شاعر،پیشے سے وکیل اور فکرو عمل سے سیاسی کارکن ہیں۔انہوں نے شکستہ جھونپڑوں سے زندان کی کوٹھڑیوں تک ،دلدل کی ماری گلیوں سے اقتدار محل کی راہداریوں تک زندگی کے سارے چہرے دیکھے ہیں ۔وہ جو لکھتے ہیں سنائی اور دکھائی دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   پی ایس ایل، روشن آغاز یا اندھا کنواں؟ شاہد عباس کاظمی
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: