پاناما محفوظ | مجتبیٰ شیرازی

Print Friendly, PDF & Email

پپو مخولیا آج کل سارا سارا دن نیوز چینلز پہ کارٹون دیکھتا رہتا ہے۔حرام ہے پانامہ کے علاوہ اُسے کچھ سمجھ آتا ہو لیکن کارٹونوں میں سمجھ آنا ضروری کب ہوتا ہے بس دیکھتے رہیں اور خوش ہوتے رہیں۔لال بھبھوکے چہرے،جھاگ اُڑاتے لہجے اور گدگدیاں کرتے لفظ بس ہاتھوں کے چلنے کی کسر باقی ہوتی ہے. ٹام اینڈ جیری کا ایک ایک سین قربان۔عظمیٰ کی باز پُرس ،اعظم کی وضاحتیں اور نیاز خان اینڈ کو کے ہاتھوں اُن وضاحتوں کے اُڑتے پرخچے۔کوئی ایک مزہ ہے جو آج کل نیوز چینلز پر مفت میسر ہے!
پپو نے بہت کوشش کی ہے کہ اُسے یہ پاناما سمجھ میں آئے لیکن پاناما سمجھ میں آتا ہے تو لیکس پلے نہیں پڑتیں۔میں نے اُسے بہتیرا سمجھانے کی کوشش کی کہ پاناما ایک ملک ہے جہاں تیسری دینا کی لیکس کا حساب رکھا جاتا ہے۔وہ پھر لیکس پر اٹک گیا ۔میں نے بتا یا کہ اگرچہ ان لیکس کا پنجابی والی لیک سے کوئی تعلق نہیں لیکن پھر بھی ان لیکس نے کئی خواتین و حضرات کو اچھی خاصی لیکیں لگا دی ہیں اور آجکل عظمیٰ یہی دیکھ رہی ہے کہ یہ لیکیں ان خواتین و حضرات کی جلدوں تک ہی محدود ہیں یا کہیں اندر تک بھی ان کے اثرات تو نہیں پہنچے ہوئے ۔

عظمیٰ کو اس ساری مشق کی کیا ضرورت پڑی ہے؟ پپو کو ئی مان کے دینے والا بندہ کہاں ہے۔

پپو تمہیں پتہ ہے کہ شیر پر لیکیں لگ جائیں تو اُس پر چیتے کا گمان ہونے لگتا ہے سو عظمیٰ یہ دیکھ رہی ہے کہ کیا ان لیکوں کو دھو دھلا کر شیر کواصلی حالت پر بحال کیا جا سکتا ہے یا پھر اُسے چیتا بننے کی کوشش کے جرم میں جنگل کی بادشاہت سے ہٹانا پڑے گا؟

یہ بھی پڑھئے:   تبدیلی نعروں سے نہیں آتی

چیتا بھی تو شیر کے ننھیالی خاندان سے تعلق رکھتا ہے اُس کا جنگل کے بادشاہ ہونے میں کیا ہر ج ہے؟پپو نے اگلا سوال داغ دیا ۔

ہرج تو کوئی نہیں لیکن چیتا بلیوں کے خاندان سے ہونے کی وجہ سے درختوں پر چڑھنے کا ہنر جانتا ہے اورجنگل کی سرکاری روایات کے مطابق بادشاہ کسی ایسی حرکت میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے جو بندروں کے تمدن سے تعلق رکھتی ہو ۔کیونکہ بندروں کا تمدن شاہانہ مزاج سے لگا نہیں کھاتا۔

اس کا مطلب ہے کہ یہ جو بھائی لوگ ایک شاخ سے دوسری شاخ پر کودتے پھرتے ہیں یہ بادشاہ نہیں بن سکتے؟

پپو انہوں نے اچھل کود بادشاہت کے لئے ہی شروع کی تھی لیکن شیر کی دھاڑ یا چیتے کی غراہٹ کی تاب نہ لاکر کسی درخت پر چڑھنے کی پاداش میں بندر شما ر ہوئے سو پھر یہ کھا وہ کھا کے چکر میں انہوں نے وہی اسٹیٹس قبول کر لیا۔

لیکن میں چیتے کے ساتھ ہوں۔پپو کا اعلان اگرچہ واضح تھا لیکن مجھے مزید وضاحت درکار تھی ۔سو میں نے پوچھا کہ وہ واقعی چیتے کے ساتھ ہے یا لیکوں والے شیر کو چیتا سمجھتے ہوئے اُس کا ساتھ دے گا۔

یہاں سارے شیر ہی لیکیں لگ لگ کے چیتے ہوئے ہوئے ہیں سو کسی بندر کا ساتھ دینے سے اچھا ہے کہ لیکوں والے شیر کو چیتا سمجھ کر اُس کا ہی ساتھ دیا جائے ۔ پپو کا ذہن بالکل صاف تھا ۔

یہ بھی پڑھئے:   ماں کی نمناک آنکھیں – فاطمہ عاطف

لیکن اگر عظمیٰ کی ساری دھلائی کے باوجود شیر چیتا ہی رہا اور اُسے اس پاداش میں جنگل کی بادشاہت سے ہٹا دیا گیا تو کیا تم پھر بھی اُس شیر یا چیتے کا ساتھ دو گے؟ میں نے پپو کی صاف دلی کا مزید امتحان لیا۔

دیکھو ابھی تک پاناما محفوظ ہے اگر شیر چیتا قرار پاکر بادشاہت سے ہٹائے جانے کا خدشہ ہوا تو یہی لیکیں کسی گدھے پر منتقل کر کے اُسے زیبرا بنادیا جائے گا اوربرطرف شیر اُس زیبرے کے پیچھے بیٹھ کر بادشاہت چلانے لگ جائے گا سو میں بہر صورت شیر کے ساتھ ہوں،پپو بھی اپنی ہٹ کا پکا ہے۔

Views All Time
Views All Time
423
Views Today
Views Today
1
mm

مزاج طبیعت سے شاعر،پیشے سے وکیل اور فکرو عمل سے سیاسی کارکن ہیں۔انہوں نے شکستہ جھونپڑوں سے زندان کی کوٹھڑیوں تک ،دلدل کی ماری گلیوں سے اقتدار محل کی راہداریوں تک زندگی کے سارے چہرے دیکھے ہیں ۔وہ جو لکھتے ہیں سنائی اور دکھائی دیتا ہے۔

mm

مجتبیٰ حیدر شیرازی

مزاج طبیعت سے شاعر،پیشے سے وکیل اور فکرو عمل سے سیاسی کارکن ہیں۔انہوں نے شکستہ جھونپڑوں سے زندان کی کوٹھڑیوں تک ،دلدل کی ماری گلیوں سے اقتدار محل کی راہداریوں تک زندگی کے سارے چہرے دیکھے ہیں ۔وہ جو لکھتے ہیں سنائی اور دکھائی دیتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: