کمسن لہجوں میں بوڑھی آوازیں ہیں | مجتبیٰ حیدر شیرازی

Print Friendly, PDF & Email

میں قلم اُٹھاتا ہوں تو کاغذ پر زخم ٹپکنے لگتے ہیں۔لہو لہو زخم۔میں سوچتا ہوں تو فکر کی جگہ سارے وجود میں گھِن دوڑنے لگتی ہے گھِن جس کا مآخذ خود میرا اپنا وجود ہے ۔میں کون ہوں؟کس معاشرے کا باسی ہوں؟یہ پاؤں میں روندے گئے پھول کہاں سے مری آنکھوں میں آکر بین کرنے لگتے ہیں؟مجھے آئینہ دیکھنا چاہیے کوئی ایسا آئینہ جو اس انسانی وجود میں چھُپے درندے کو ننگا کر دے۔ہاں میں درندہ ہوں اور ایک معاشرے کا نہیں جنگل کا باسی ہوں۔ایک ایسے جنگل کا باسی جہاں اختیار لعنت اور اقتدار ایک مسلسل ذلت ہے۔وہ لعنت جو آئینے اندھے کر دیتی ہے اور اپنے اندر کا درندہ دیکھائی نہیں پڑتا ۔ایک ایسی ذلت جس نے خوشحالی کا میک اپ کیا ہوا ہے ۔
میں کیا کروں معصوم عطیہ کی ہچکیاں اور سسکیاں میرے لہو میں حل ہوگئی ہیں۔اُس نے اپنے بھائی کو پٹتے دیکھا، داد فریاد کرتے سنا اور پھر ہچکیوں کے ساتھ مرتے محسوس کیا ۔اب وہ روئے بھی نہ ! اب وہ بین بھی نہ کرے! لیکن میں کیا کروں کہ اُس کی سسکیاں مجھ پر طمانچوں کی طرح برستی ہیں۔اُس کے مرتے ہوئے بھائی کی آنکھوں میں منجمد سوال جیسے میری پتلیوں پر پتھرا گئے ہیں۔اُس کے باپ کی پھٹی ہوئی جیب میرے گریبان کو تار تار کر رہی ہے ۔اُس کی ماں کے نوحوں سے مری گلیاں،چوبارے اور چوراہے اُجڑ رہے ہیں۔عطیہ کا بھائی مر گیا ہے لیکن اُس کے وجود کے سارے زخم فضا میں ہر طرف اُگ آئے ہیں۔روتے ہوئے زخم،سسکتے ہوئے زخم ۔
ہم مصروف ہیں !ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ وزیراعظم کا مستعفی ہونا چاہیے یا عدالت عظمیٰ کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے۔ہمیں جے آئی ٹی رپورٹ پر غور کرنا ہے۔ہمیں عدالت عظمیٰ میں اس رپورٹ کو جھٹلانے والے دلائل سوچنے ہیں۔ہمیں پاناما بحران سے نکلنے کا راستہ ڈہونڈھنا ہے۔عطیہ تمہارا بھائی مر گیا ہے لیکن عمران خان ہماری ماں مارنے پر تُلاہوا ہے۔ہم تمہارے لئے کیا کر سکتے ہیں؟
طیبہ شاید ڈھیٹ تھی ۔پٹتی رہی لیکن سانسیں نہیں اکھڑنے دیں اور پھر ایک دن آسمان اُس کی مدد کو زمیں پر اُتر آیا۔زمین پر بھی سارے خدا آسمان کے ساتھ شامل ہوگئے۔عدالت عظمیٰ سے انسانی حقوق کی تنظیموں تک سارے اختیار یکجا اور یک آواز ہوئے تو طیبہ بچ گئی لیکن اختر بلکتا رہا ، سسکتا رہا ، اُس کی بہن دہائیاں دیتی رہی لیکن آسمان چُپ سادھے رہا ،اختیار اور اقتدار اپنی زلفوں کے بل سنوارنے میں لگا رہا ، لاٹھیاں، گھونسے ، لاتیں برستی رہیں،عطیہ منتیں سماجتیں کرتی رہی لیکن اختر کو مرنا تھا کہ اُس کی قسمت میں یہی لکھا تھا ۔
یہ اختروں، عطیاؤں اور طیباؤں کی قسمتیں کون لکھتا ہے ؟کیا ضروری ہے کہ غربت کے ساتھ ساتھ تذلیل و تضحیک اور بدترین تشدد بھی لکھا جائے ؟کیا ضروری ہے کہ معصوم ہاتھوں میں کھلونے کے بجائے ڈسٹر اور جھاڑو کے ساتھ ساتھ مارپیٹ کے نشانات بھی لکھے جائیں؟کیا ضروری ہے کہ بھوک کے ساتھ درد بھی لکھا جائے؟کیا ضروری ہے کہ شاخِ نازک کے سے وجودوں پر غموں اور دُکھوں کے پہاڑ ٹوٹنا بھی لکھا جائے ۔
فوزیہ برسر اقتدار جماعت کی ایم پی اے کی بیٹی ہے لیکن کیا برسر اقتدار ہونے کے لئے انسانیت سے دستبرداری بھی لازمی ہوتی ہے؟کیا عوامی نمائندگی کا حق ادا کرنے کے لئے عوام کے پھول ایسے بچوں کو جان سے مارنا پڑتا ہے؟میں ایک سکتے کی کیفیت میں ہوں۔ملک کے تمام تر سیاسی قیادت اقتدار کے بکھیڑے سلجھا رہی ہے ۔کسی کی گویائی میں عطیہ اور اختر کے لئے ایک لفظ کی فرصت بھی نہیں۔عدالت عظمیٰ سمیت انسانی حقوق کے سارے ادارے بھی ملک میں دیانت کو رواج دینے میں مصروف ہیں۔عطیائیں اور اختر اپنی خیر خود منائیں۔

Views All Time
Views All Time
576
Views Today
Views Today
1
mm
mm

مجتبیٰ حیدر شیرازی

مزاج طبیعت سے شاعر،پیشے سے وکیل اور فکرو عمل سے سیاسی کارکن ہیں۔انہوں نے شکستہ جھونپڑوں سے زندان کی کوٹھڑیوں تک ،دلدل کی ماری گلیوں سے اقتدار محل کی راہداریوں تک زندگی کے سارے چہرے دیکھے ہیں ۔وہ جو لکھتے ہیں سنائی اور دکھائی دیتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: