سسی روئے یاراں نوں | مجتبیٰ حیدر شیرازی

Print Friendly, PDF & Email
ایک طرف یہ رونا ہے کہ جمہوریت کے خلاف سازش اپنے عروج پر ہے اور دوسری طرف یہ نعرے لگائے جارہے ہیں کہ پہلی دفعہ اس ملک میں حقیقی معنوں میں احتساب رو بہ عمل ہے۔بر سر اقتدار جماعت کے کارپردازان روز ذرائع ابلاغ پر براجمان کھلے عام جے آئی ٹی اور در پردہ سپریم کورٹ کو رگیدتے ہیں تو اُس ضرب المثل کی سمجھ آتی ہے ۔سسی روئے یاراں نوں لے لے ناں بھراواں دے۔ادھر انصافین کی سنو تو لگتا ہے کہ اس ملک میں کوئی انقلاب ہر دروازے پر دستک دے رہا ہے۔اس ساری صورتحال میں بے دریغ شرکتوں اور شمولیتوں کا شور بھی کہانی میں ٹوئسٹ کی خبر دیتا سنائی دیتا ہے۔
قانون کے ادنیٰ طالب علم کی حیثیت سے میرا ماننا ہے کہ انصاف ہونا ہی نہیں چاہیے بلکہ ہوتے ہوئے نظر بھی آنا چاہیے ۔لیکن یہاں ایک جانب سپریم کورٹ وزیرا عظم اور اُن کے خاندان کا کڑا احتساب براستہ جے آئی ٹی کرتی دیکھائی دیتی لیکن دوسری جانب نیب زدگان کی ایک بڑی تعداد نیب زادگان کے ساتھ شیر و شکر ہوتی دیکھائی دے رہی ہے ۔گوندل برادران سے سیالکوٹ کی ببر شیرنی تک نیب کو مطلوب ہر شخص دست انصاف پر بیعت کررہا ہے ۔اور یار لوگوں کا فرمانا ہے کہ احتساب کی کہانی کا یہ پس منظر کسی دوسرے موڑ کی نہیں بلکہ کسی اور کہانی کی طرف کھلا اشارہ ہے ۔
اور اس اشارے کی جتنے منہ اُتنی ہی تشریحات ہیں ۔ایک مدعی خبر کا کہنا ہے کہ مقتدر حلقوں نے بھی انصاف کے دستِ ایاک نعبد و ایاک نستعین پر مالک یوم الدین کی تائید رکھ دی ہے ۔سو کرسی کو وحدہ لاشریک تسلیم کرنے والے صاحبانِ امان اس تائید پر لبیک لبیک گاتے ہوئے اُسی طرف لپک پڑے ہیں۔الیکٹیبلز (electable)کی اس جمہوریت اسلام ،کشمیر اور قومی سلامتی کے بعد اب انصاف کی مصحفِ پاک پڑہانے کی تیاری کی جارہی ہے ۔کوئی دن جاتا ہے کہ جمہوریت کے نام پر جمہور کا خون پیتی جونکوں سے رہائی براستہ عدل جہانگیر ہوگی اور پھر پورے وطن عزیز میں تبدیلی وہ سماں ہوگا کہ خیبر پختونخواہ میں رائج تبدیلیاں منہ چھپاتی پھریں گی
جبکہ جہانِ دانش و بصیرت کے ایک اور معزز رہائشی فرماتے ہیں کہ در اصل حاضر سروس بد عنوان کا احتساب جاری ہے اور سروس کے منتظر اس قماش کے افراد کو ایک گٹھڑ میں باندہا جارہا ہے تاکہ حاضر سروسوں کا جھٹکا کرنے کے بعد ان کا بھی ایک ہی بار چھُٹکا کر دیا جائے ۔اُن کی دلیل یہ ہے کہ عظمیٰ ہو یا عالیہ یہ والے محتسب براہ راست نہ سہی اپنی قوت نافذہ کے لئے عوامی تائید کے محتاج ہوتے ہیں ۔کیونکر ممکن ہے کہ وہ حاضر سروسوں کے لئے ایک قاعدہ اور کلیہ آزمائیں جبکہ منتظرانِ سروس کو کسی دوسری لاٹھی سے ہانکیں۔بات سچ ہو یا نہ ہو مگر بات میں وزن ضرور ہے ۔
قادری مکتب فکر سے تعلق رکھتے ایک تیسری قسم کے صاحبانِ خرد بھی ہیں جن کا ماننا یہ ہے کہ یہ سب کچھ ایک خود ساختہ پیش منظر کا حصہ ہے کس کا مقصد حاضر سروس بچے جموروں کا منہ دُھلانا ہے تاکہ آئے دن جو اُن کے دامن ہی نہیں ساری عبا و قبا کو داغ دار بتا کر واویلا بپا کرکے بے چارے غریب عوام کو اُن کے ہمدردوں کی جانب سے گمراہ کیا جاتا ہے اس کا علاج ایک دفعہ ہی کر دیا جائے ۔اور یہ جو میاں صاحب کا نعرہ ہے کہ اُن کے خاندانی کاروبار کے نام پر اُن کی وزرات عظمیٰ کا ڈہول بجایا جارہا ہے یہ ڈہونگ اور سازش ہے کیونکہ اُن کے خلاف ریاستی اور سرکاری وسائل کے حوالے سے کبھی بدعنوانی کا کوئی الزام ہی نہیں لگا یا گیا ۔سو اس منظر نامے کی تحریر و ترتیب اسی بیانئے کی تائید و تصدیق کے لئے کی گئی ہے ۔
اس سے پہلے کہ یہ دعا کی جائے کہ حالیہ عدالتی اقدامات کا مقصد وہی ہو جو نظر آرہا ہے کوئی میاں صاحب سے پوچھے کہ حضورآپ اور آپ کے خاندان کے خلاف سرکاری بنکوں سے لئے گئے قرضوں کی نادہندگی کے معاملات ابھی تک عدالتوں میں پیشیوں کے منتظر ہیں۔اسی طرح ٹیکس اور منی لانڈرنگ کے الزامات بھی کئی سالوں سے عدالتوں کی توجہ کے طالب ہیں آپ ہی فرمائیں کے سرکاری اور ریاستی وسائل اس کے علاوہ بھی کہیں ہوتے ہیں کہ جن کے الزامات آپ یا آپ کے خاندان پر لگائے جائیں۔
Views All Time
Views All Time
522
Views Today
Views Today
1
mm

مزاج طبیعت سے شاعر،پیشے سے وکیل اور فکرو عمل سے سیاسی کارکن ہیں۔انہوں نے شکستہ جھونپڑوں سے زندان کی کوٹھڑیوں تک ،دلدل کی ماری گلیوں سے اقتدار محل کی راہداریوں تک زندگی کے سارے چہرے دیکھے ہیں ۔وہ جو لکھتے ہیں سنائی اور دکھائی دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   قلم کار حقیقت میں‌بدلا خواب
mm

مجتبیٰ حیدر شیرازی

مزاج طبیعت سے شاعر،پیشے سے وکیل اور فکرو عمل سے سیاسی کارکن ہیں۔انہوں نے شکستہ جھونپڑوں سے زندان کی کوٹھڑیوں تک ،دلدل کی ماری گلیوں سے اقتدار محل کی راہداریوں تک زندگی کے سارے چہرے دیکھے ہیں ۔وہ جو لکھتے ہیں سنائی اور دکھائی دیتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: