یہ آہ و بکا ، گریہ و غم اور محرّم

Print Friendly, PDF & Email

یہ آہ و بکا ، گریہ و غم اور محرّم
اِک ساتھ ہیں اِک عمر سے ہم اورمحرّم
محشر میں مرے واسطے بخشش کی سند ہیں
زنجیر زنی ، دیدہءنم اور محرّم
شبیرؑ کے ادراک کی دیتے ہیں گواہی
تاریخ کے اوراق، قلم اور محرّم

اِک عمر ہوئی لازم و ملزوم ہوئے ہیں
سینے میں مچلتے ہوئے دم اور محرّم
ہر لحظہ مری ذات کی پہچان بنے ہیں
گھر پر مرے غازی کا علم اور محرّم
اِک دشت کی جانب ہیں خیالات سفر میں
چلتے ہیں برابر میں قدم اور محرّم

شاعر: وسیم عباس

Views All Time
Views All Time
96
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   جہالت علم سے بہت بڑی ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: