Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

لچر پن کا انتہائی گھٹیا مظاہرہ (حاشیے) | محمد وارث

by مئی 29, 2017 حاشیے
لچر پن کا انتہائی گھٹیا مظاہرہ (حاشیے) | محمد وارث

روزے کا ایک بڑا مقصد علماء کرام اپنی خواہشات پر کنٹرول بتاتے ہیں ۔ ناجائزہی نہیں جائز خواہشات پر بھی ۔ مگر پچھلے دس برسوں سے ایک گھٹیا تماشا رمضان ٹرانسمیشن کے نام سے ایسا شروع ہو گیا ہے کہ دن بھرعوام روزہ رکھ کر نفس پر کنٹرول کرنے کی مشق کرتے ہیں اور افطار کے بعد رمضان بازاری شو کے ذریعے اپنی سفلی خواہشات کو اتنا بے لگام کرتے ہیں کہ اس کے لیے اپنی دینی اقدار ہی نہیں مشرقی روایات و اقدار کا جنازہ بھی دھوم سے ساری دنیا کے سامنے نکالتے ہیں۔
بیگمات لائیو اپنے خاوندوں کے منہ پر میک اپ کرتی ہیں ،مرد لائیو گنجے ہوتے ہیں ،شوہر و زن اپنی اپنی ساس امی یعنی ایک دوسرے کی والدہ کی شان میں ہنس ہنس کر گستاخی کرتے ہیں اور یہ سب کن چیزوں کے لیے ہوتا ہے؟ایک مائیکرو اوون، ایک موبائل اور ایک بائک لینے کے لیے
ان مادی اشیاء کے لیے مرد و زن کی بےغیرتی کے ایسےحیا سوز مناظر نشر ہوتے ہیں کہ شریف آدمی دیکھ لے تو پسینے چھوٹ جائیں۔
"عامر بھائی ایک مجھے بھی دو ناں، ایک ادھر پھینکو ناں پلیز”
ایک سوٹڈ بوٹڈ نوجوان چہرے پر بھکاری کے سے تاثرات لاتے ہوئے بڑے مسکین سے لہجے میں التجا کرتا ہے اور اپنی خودداری کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیتا ہے۔
حیا کی موت دیکھنی ہے تو وہ دیکھئے ایک لڑکی منہ میں انڈہ لیے اور اس کا شوہر منہ میں آم دبائےکھڑا ہوا ہے،کس لیے؟ دس پانچ ہزارکے گفٹ کے لیے!۔ذلت کی انتہا دیکھنا چاہو تو ان عورتوں کو دیکھ لو جنہیں مرغے کی آواز ککڑوں کوں مسلسل نکالتے ہوئے اسٹیج کے گول دائرے میں تیز تیز سائیکل چلانا ہے، کس لیے؟
اس لیے کہ سونے کا وہ چمکتا زیور پا سکیں جو عورت پن کی تذلیل پر نوحہ کناں ہے۔
اس طرف اجتماعی وقار کا جنازہ ادھر دیکھو، دور سے میزبان ہوا میں تحفے اچھال رہا ہے اور ایک ایک چیز کے لیے ایسے کتوں کی طرح پبلک جھپٹ رہی ہے، جنہیں کئی دنوں کے بعد ہڈی مل سکی ہے۔ مردوں کی قمیص کے بٹن ٹوٹ رہے اورعورتوں کی جائے شرم کھل رہی مگر کسے پروا ہے؟ کسی طرح کچھ تو حاصل ہو گا نا۔ یہ سب دیکھ کر میزبان کے چہرے پر رعونت آمیز مسکراہٹ رینگنے لگتی ہے۔
ادھر پروگرام کے مہمان خصوصی حضرات جو بے شک علم کے نام پر دھبہ ہیں، بڑی ادا سے ماحضر سے شوق فرما رہے ہوتے ہیں اور ان کے چہرے پر مطمئن مسکان اس بات کا ثبوت ہوتی ہے کہ ان کی بھینٹ چڑھائے جانے والا، ان کا حصہ  ان تک پہنچ چکا ہے۔
ارے دین کی بات تو چھوڑئیے، کیا اس سب بازاری پن کا ہماری خودداری وقار اور شرافت کی مظہر مشرقی اقدارو روایات سے ذرا بھی تعلق ہے؟
سخت الفاظ استعمال کرنے پر ہرگز معذرت خواہ نہیں
رہے نام اللہ کا

Views All Time
Views All Time
596
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

جواب دیجئے

%d bloggers like this: