Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

پلیز ریسکیو می! – محمد اشتیاق

by نومبر 2, 2016 بلاگ
پلیز ریسکیو می! – محمد اشتیاق
Print Friendly, PDF & Email

ishtiaq-copyقریب ساڑھے تین سال ہوگئے الیکشن ہوئے، جن میں سے ڈھائی سال سے پاکستان تحریک انصاف سڑکوں پر ہے ۔ کبھی دھرنا، کبھی جلسہ اور اب بات لاک ڈاؤن تک آ پہنچی تھی۔ ان میں سے سب سے بڑا شو جو یہ پارٹی کر سکی وہ 2013 الیکشن سے پہلے کا کراچی اور لاہور کا جلسہ تھا۔ اس کے علاوہ لاہور مینار پاکستان پہ ایک اور جلسے میں قابل ذکر تعداد میں عوام موجود تھی۔

خان صاحب کو ان جلسوں میں کبھی رکاوٹ کا سامنانہیں کرنا پڑا۔ بلکہ جا بجا حکومت، خفیہ ہاتھ اور خفیہ ہاتھ کے گماشتوں کی سپورٹ رہی۔ جن لوگوں کو اس اسٹیٹمنٹ پہ شک ہو وہ نشتر پارک کراچی کے حالیہ جلسے میں حاضری دیکھ کہ تسلی کر سکتے ہیں۔ ہر جگہ خان صاحب نے وی آئی پی اسٹیٹس انجوائے کیا ہے اور موجودہ حکومت نے کہیں روایتی ہتھکنڈے استعمال نہیں کئے جو کہ ایسے جلوسوں کو روکنے کے لئے کئے جاتے ہیں۔

پچھلے گرینڈ شو "دھرنے” کے دوران بھی عمران خان کو خالی گلیاں ملیں اور مرزا یار اس میں آزادی سے پھرتا رہا اور نواز شریف کو "بزدل” ،”ڈر گیا” جیسے طعنوں سے نوازتے رہے۔ عمران خان کا دھرنا بغیر کسی رکاوٹ کے لاہور سے اسلام آباد ایسے پہنچا جیسے نیازی کوچ سروس پہنچتی ہے بلکہ دونوں کزنز کے درمیان ٹین ایجرز کی طرح باقاعدہ پہلے پہنچنے کی ریس لگی۔ خان صاحب سواریاں اتارتے چڑھاتے اسلام آباد پہنچے ۔سو سے اوپر دن وہاں بیٹھ کر حکومت کی برداشت کا امتحان لیتے رہے پر نہ ان کی برداشت ختم ہوئی اور نہ انگلی کی حرکت کہیں اور ہوئی۔

آخر کو کپتان ہی کی برداشت ٹوٹی ، پی ٹی وی پہ قبضہ اور پی ایم ہاوس پہ حملے کا ایکشن شروع ہوا۔پہلی دفعہ ڈنڈے کا سامنا ہوا اور خان صاحب صبح ہونے تک واپس اپنے مقام پر تھے۔ ان کے مومی سپاہی اپنی اوقات سے بڑھ کر لڑے پر وہ اس قابل نہ تھے۔ قادری صاحب کو بھی اسی دن اپنی آنکھوں کا آپریشن یاد آیا ۔

اب کی دفعہ لاک ڈاؤن تھا۔ عمران خان اپنی پارٹی کی تمام قیادت کے ساتھ بنی گالا میں تھے۔ ساری دنیا روک روک کے تھک گئی۔ عدالت نے بھی منع کردیا پر عمران خان صاحب کا فیصلہ اٹل تھا۔ لاک ڈاون ہو گا۔ پر لوگ کہاں سے آئیں گے ؟؟؟ کون لائے گا ؟؟؟ اس دفعہ حکومت کا موڈ ٹھیک نہیں تھا ، پہلے دن اندازہ ہو گیا۔ یوتھ ونگ کے جلسے سے ۔ پھر اسٹریٹیجی کیا تھی؟ ؟ کوئی شک تھا تو وہ شیخ صاحب کے 4 بندوں کے ساتھ سماء کی ویگن کے اوپر سے خطاب کے بعد دور ہو جانا چاہئیے تھا۔ شیخ صاحب سارا دن اپنا موبائل دھرنا لے کے سڑکوں پہ بھاگتے رہے۔ آپ کو سمجھ نہ آئی ؟

پھر پلان کیا تھا ؟ بڑے بڑے لیڈرز عمران خان ، شاہ محمود قریشی ، جہانگیر ترین، علیم خان، اسد عمر تو بنی گالا میں واک اور ایکسر سائز کر رہے تھے ۔ عوام کے ساتھ کون تھا؟ عوام کو کس نے لانا تھا؟ آپ لوگ تو محصور کر دئے گئے ؟؟ امیدیں کس سے تھیں ؟

دو بندے عوام کو لا رہے تھے اعجاز چوہدری اور پرویز خٹک ۔ اعجاز چوہدری کے ساتھ عوام کا جو پیدل سیلاب آ رہا تھا وہ شائد بندر والے کے پیچھے بھاگنے والے بچوں سے بھی کم تھا اور خٹک صاحب، کے پی کے کی مشینری کے ساتھ پہلی رکاوٹ ہی عبور نہ کرسکے۔

حیرت ہے، خان صاحب کی سیاسی بصارت اور حکمت عملی پہ کہ آپ اتنے اہم موقعے پہ اپنی تمام کچن کیبنیٹ کے ساتھ بنی گالا میں ریسکیو کا انتظار کر رہے تھے ۔ لیڈرز لیڈ کیا کرتے ہیں۔ ریسکیو کا انتظار نہیں

Views All Time
Views All Time
318
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   بحریہ کی کثیر القومی۔۔۔ امن مشقیں-رانا اعجاز حسین
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: