"زنا بالجبر اور فکر فراہی”

Print Friendly, PDF & Email

اسلام کے ماننے والے یقینا اس اضطراب میں مبتلا ہوں گے کہ جس دین کو وہ مانتے ہیں، ان کا جس پر ایمان ہے، کیا وہ دین واقعی میں ایسے درندوں کو جو ریپ جیسا ظالمانہ عمل کرتے ہیں ،صرف سو کوڑوں کی سزا تجویز کرتا ہے۔ مسلمان یہ بھی سوچتے ہوں گے کہ وہ خدا جو دلوں کے راز جان لیتا ہے، کیا یہ نہیں جانتا کہ ریپ کے وقت چار عاقل بالغ مسلمانوں کو کیسے جمع کیا جا سکتا ہے، جن کی گواہی پر ہی ریپ کو ثابت کر کے سو کوڑوں لگائیں جائیں گے۔

اسلام کے ماننے والوں کو خدا کے دین کے ان احکام کی اطلاع ہمارے علما نے دی ہے۔اور یہ کام اہل علم علما کا ہی ہے کہ وہ خدا کی ہدایات کو لوگوں تک پہنچائیں۔لیکن ان ہدایات کو سمجھنے کے عمل میں ان سے بھی غلطی ہو سکتی ہے۔ایسے ہی جیسے کسی مرض کی تشخیص میں کوئی ماہر ڈاکٹر غلطی کا شکار ہو جاتا ہے۔لیکن ڈاکٹر کے منصب کا یہ تقاضہ ہے کہ وہ غلطی واضح ہوجانے کے بعد اسے تسلیم کرے اور اس کا تدارک کرے۔اس سے ان کی عزت میں اضافہ ہوتا ہے کمی نہیں۔

ہمارے علما ایسا کیوں نہیں کرتے ۔اس کی وجہ یہ ہے کے ان ہاں ایک تصور موجود ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے فہم میں غلطی کے ہر امکان کو مسترد کرتے ہیں۔اس تصور کی دلیل "تعداد” میں پوشیدہ ہے۔ وہ کہتے ہیں اگرچہ ہماری بات کے خلاف سورج سے زیادہ روشن دلائل پیش کر دیے جائیں ہم نے انھیں تسلیم نہیں کرنا ہے ۔کیوں نہیں کرنا ؟وہ فرماتے ہیں اس لیے تسلیم نہیں کیا جا سکتا کہ اس نقطہ نظر کے ماننے والےہمارے بزدگ تھے اور ان کی تعداد بہت زیادہ تھی۔

مسلمانوں کو یہاں یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ علما اگرچہ اپنے بات پر اصرار جاری رکھیں اور اسے خدا کی بات قرار دیں لیکن اگر ہم پر اپنی عقل اور بصیرت کی روشنی میں علما کے فہم کی غلطی واضح ہو گئی ہے تو اب ہم نے سب سے پہلے دین اسلام اور علما کے فہم یعنی فقہ کو الگ الگ کرنا ہے۔ اس کے بعد ہم خود کوشش کریں اور جانیں کہ اللہ تعالی کا دین ریپ کا شکار انسان کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ اور معاشرے میں وہ کون سے اہل علم موجود ہیں جو اس معاملے کوئی ایسا نقطہ نظر پیش کرتے ہیں جسے اللہ کی کتاب میں بیان کیا گیا ہے۔اور اگر وہ اللہ کی کتاب میں بیان ہوئی ہے تو انسانی عقل کے خلاف کیسے ہو سکتی ہے؟

اسلامی فقہ کا زنا بالجبر پر نقطہ نظر اب پوری تفصیل سے سامنے آچکا ہے، جس کی اگر فہرست بنائی جائے تو وہ درج ذیل چار باتیں سامنے آتی ہیں۔

1-فقہ اسلامی زنا بالجبر کو زنا کے علاوہ کوئی جرم تسلیم نہیں کرتی۔

2-فقہ اسلامی زنا بالجبر کو ثابت کرنے کے لیے چار گواہوں کی شرط رکھتی ہے۔

3-فقہ اسلامی ریپ کو صرف مرد سے متعلق کرتی ہے اس کے نزدیک عورت ایسا نہیں کر سکتی ۔

4-فقہ اسلامی یہ مانتی ہے کہ ریپ کے جرم میں اپنی سنگینی کے باوجود سو کوڑوں کی حد میں کوئی کمی یا اضافہ نہیں ہوتا۔

ان چار باتوں پر ہمارا تبصرہ درج ذیل ہے:

1-فقہ اسلامی آخر کیوں زنا بالجبر اور زنا بالرضا سے الگ کر کے علحیدہ جرم تسلیم نہیں کرتی۔کیا زنا اور زنا بالجبر اپنی نوعیت کے لحاظ سے ایک ہی جرم ہیں۔ہر انسان جانتا ہے ایسا نہیں ہے ۔اگر ایسا نہیں ہے تو زنا کی آیت کےتحت زنا بالجبر کو شامل کرنے کی کوئی دلیل ہے جو قرآن مجید کی اس آیت میں موجود ہے جہاِ زنا بالرضا زیر بحث ہے۔ہمارے فقہا اگر بغیر دلیل کے محض لفظی اشتراک سے یہ حکم اخذ کر رہے ہیں تو یہ بات نہ صرف علم و عقل کے مسلمات کے خلاف ہے بلکہ خود علما ایک دوسرے معاملے میں اس سے مختلف رائے اپنا رہے ہیں۔وہ مانتے کہ چوری کی سزا قرآن مجید کی ایک آیت میں بیان ہوئی ہے اور یہ کہہ کر ہوئی ہے کہ چور اگر چوری کرے تو اس کے ساتھ یہ معاملہ کرو۔تو کیا علما ڈاکو کو بھی اسی طرح چور کی تعریف میں شامل کرکے چوری والی آیت کے تحت سزا دیتے ہیں۔وہ ایسا نہیں کرتے ۔اگر نہیں کرتے تو یہاں کیا مجبوری ہے؟

یہ بھی پڑھئے:   امریکہ عرب اسلامک ممالک کانفرنس ، دہشت گردی اور پاکستان | عابد ایوب اعوان

2-ہم سب یہ جانتے ہیں کہ جرم کے وقت گواہوں کا انتخاب انسان کے ہاتھ میں نہیں ہوتا کہ آپ ریپ کے وقت چار لوگوں کو کھڑا کردیں۔اگر ایسا ہی ہے تو پھر قرآن مجید نے زنا بالرضا کی سزا کے تحت جو ہدایت دی تھی وہ ہدایت زنا بالجبر سے کیسے متعلق ہوگئی۔زنا بالرضا کا معاملہ یہ ہے کہ کسی انسان کو حق نہیں کہ وہ معاشرے میں موجود کسی مرد و عورت کے خلاف بدنامی کی یہ تہمت لگا دے کہ فلاں مرد و عورت تو انسانیت اور خاندان کے ادارے کی پامالی کر رہے ہیں اور غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔قرآن مجید کی اس آیت کی ہدایت یہ ہے کہ اگر کوئی صاحب یہ سمجھتے ہیں تو وہ اس وقت تک اپنا منہ نہیں کھول سکتے جب تک ان کے ساتھ چار ایسے لوگ موجود نہ ہوں جو اس بات کی گواہی دیں کہ یقینا یہ مرد و عورت اس گناہ کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ اس کے بعد عدالت اس بات کا آغاز کرنے کا حق رکھتی ہے کہ ان سے سوال پوچھے۔ اور عدالت اگر دیگر ذرائع سے اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ آپس میں تعلق قائم ہی نہیں ہوا تو محض چار لوگوں کے کہہ دینا سے الزام پھر بھی ثابت نہیں ہوتا۔البتہ اگر وہ مطمئن ہو جاتی ہے کہ یہ مرد و عورت مسلمان بھی ہیں،اللہ کی ہدایات سے واقف بھی ہیں اور باہمی رضامندی سے اس گناہ میں شریک تھے تو انھیں سو کوڑوں کی سزا دے گی۔

3-ریپ کہ تعریف میں عورت کو تابع مان لینا دنیا کی کس منطق کے تحت ہے؟ ایسے بے شمار واقعات ہیں جن میں عورت نے مردوں کو بلکہ بچوں تک کو زبردستی ریپ کیا ہے۔اور ریپ محض اس بات کا نام نہیں ہے کہ معاملہ سوئی دھاگہ کی طرح ہو، بلکہ دنیا جانتی ہے کہ جنسی ہوس کے یہ معاملات دوسرے جسمانی اعضا سے بھی حاصل کیے جاتے ہیں۔

4-فقہ اسلامی اس بات سے پوری طرح واقف ہے کہ جنسی تعلق کا معاملہ زبردستی بھی قائم کیا جا سکتا ہے۔وہ ان معاملات میں زبردستی کو زیر بحث بھی لاتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ چار گواہوں کے ذریعے اس عمل کو ثابت کیے جانے کے بعد اگر عورت اپنی چیخ و پکار، کنواری ہو تو خون کے شواھد اور باقی قرائن سے یہ ثابت کردے کہ وہ تو معصوم تھی تو اسے بری کر دیا جائے گا۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک طرف تو عورت پر جرم کے شنیع ہونے سے جو رعایت دی جا رہی ہے لیکن دوسری طرف سو کوڑوں کی سزا بدستور قائم، کس عقلی اصول پر؟

ہماری فقہ اسلامی کے یہ وہ ابہام اور تضادات اور ہیں جو زنا بالجبر کے معاملے میں اس کے نقطہ نظر کی غلطی کو پوری طرح واضح کردیتے ہیں۔

اس غلطی کے واضح ہو جانے کے بعد اس سوال کے اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ مذہب کی تفہیم میں جو غیر عقلی باتیں، تضادات اور ابہام پیدا ہوئے ہیں کیاہمارا دین انھیں واقعی میں دور بھی کرتا ہے؟ اور جہاں سے یہ باتیں اخذ کی گئیں اس کے علاوہ بھی کہیں یہ جرم زیر بحث ہے؟

اور کیا قرآن مجید نے زنا بالجبر کو زنا کے علاوہ جرم تسلیم کیا ہے؟ اور اگر کرتا ہے تو اس کے ثبوت کا طریقہ کار چار گواہوں سے مختلف ہے؟

تو ان سب سوالوں کا جواب ہے کہ دین اسلام اس معاملے میں فقہ اسلامی سے بالکل مختلف نقطہ نظر رکھتا ہے۔

اسلام کے اس نقطہ نظر کو جاننے سے پہلےضروری ہے کہ ہم یہ جان لیں کہ اسلام کے اس نقطہ نظر کو کس نے اور کیسے حاصل کیا ہے ۔پھر ہم یہ جانیں گے کہ زنا بالجبر پر اس مکتب فکر کی تحقیق کی روشنی میں قرآن مجید ہماری کیا رہنمائی کرتا ہے۔

قرآن مجید کو سمجھنے اور اس پر غور و فکر کے لیے دنیا میں مختلف نقطہ ہائے نظر ہمیشہ سے رہے ہیں۔انھی میں سے ایک اپروچ "فکر فراہی” کی ہے۔ مسلم امت کی علمی تاریخ میں فکر فراہی کا یہ امتیاز رہا ہے کہ اس کے نزدیک دین کو سمجھنے میں قرآن مجید کی حیثیت میزان اور فرقان کی ہے۔اس فکر کے علما نے یہ بتایا کہ قرآن وہ کتاب ہے جس کی روشنی میں دین کو سمجھا جاۓ گا،یہی کلام ہے جس کی تائید و تصویب سے آرا قائم کی جائیں گی اور اسی کے الفاظ ہیں جو رد و قبول کا فیصلہ کریں گے ۔لھذا یہ قرآن مجید ہی ہے جسے ہمارے دینی افکار و خیالات کی تفہیم کا محور و مرکز ہونا چاپیے ۔قرآن کی اس حیثیت کوتسلیم کرتے ہوئے جب اس پر غور کے نتیجے میں جاوید احمد غامدی صاحب نے اپنی کتاب میزان میں "فساد فی الارض” کے زیر عنوان یہ آیت نقل کر کے لکھا ہے:

یہ بھی پڑھئے:   خطرناک کانگو وائرس سے احتیاط ۔۔۔!

’وہ لوگ جو اللہ اور رسول سے لڑتے اور ملک میں فساد برپا کرنے کے لیے تگ و دو کرتے ہیں ، اُن کی سزا بس یہ ہے کہ عبرت ناک طریقے سے قتل کیے جائیں یا سولی چڑھائے جائیں یا اُن کے ہاتھ پاؤں بے ترتیب کاٹ ڈالے جائیں یا وہ جلا وطن کر دیے جائیں ۔یہ اُن کے لیے اِس دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں اُن کے لیے بڑی سزا ہے ،مگر جو لوگ توبہ کرلیں،اِس سے پہلے کہ تم اُن پر قابو پاؤ تو سمجھ لو کہ اللہ مغفرت فرمانے والا ہے ، اُس کی شفقت ابدی ہے۔‘'(المائدہ، 33)

"اللہ کا رسول دنیا میں موجود ہو اور لوگ اُس کی حکومت میں اُس کے کسی حکم یا فیصلے کے خلاف سرکشی اختیار کرلیں تو یہ اللہ و رسول سے لڑائی ہے۔ اِسی طرح زمین میں فساد پیدا کرنے کی تعبیر ہے۔ یہ اُس صورت حال کے لیے آتی ہے، جب کوئی شخص یا گروہ قانون سے بغاوت کرکے لوگوں کی جان و مال ، آبرو اور عقل و رائے کے خلاف برسر جنگ ہو جائے۔

چنانچہ قتل دہشت گردی، زنا زنا بالجبر اور چوری ڈاکا بن جائے یا لوگ بدکاری کو پیشہ بنا لیں یا کھلم کھلا اوباشی پر اتر آئیں یا اپنی آوارہ منشی، بدمعاشی اور جنسی بے راہ روی کی بنا پر شریفوں کی عزت و آبرو کے لیے خطرہ بن جائیں یا نظم ریاست کے خلاف بغاوت کے لیے اٹھ کھڑے ہوں یا اغوا، تخریب، ترہیب اور اِس طرح کے دوسرے سنگین جرائم سے حکومت کے لیے امن و امان کا مسئلہ پیدا کر دیں تو وہ اِسی فساد فی الارض کے مجرم ہوں گے۔ اُن کی سرکوبی کے لیے یہ چار سزائیں اِن آیتوں میں بیان ہوئی ہیں:

تقتیل، (بد ترین طریقے سے قتل کر دینا)

تصلیب ،(عبرت ناک طریقے سولی چڑھا دینا)

ہاتھ پاؤں بے ترتیب کاٹ دینا ،

نفی ۔(علاقہ بدر کردینا)”

ان سزاؤں کی مزید تفصیل دیکھیں میزان، باب :حدود تعزیرات۔

لہذا قرآن مجید کی اس آیت کی روشنی میں یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ دین اسلام زنا بالجبر کو زنا کی طرح ایک ہی جرم تسلیم نہیں کرتا نہ اس کا ثبوت چار گواہوں سے ہوتا ہے بلکہ یہ جرم دراصل فساد فی الارض ہے ،جسے ثابت کرنے کے لیے ثبوت کا تعین ایک جج اپنے حالات و واقعات کے لحاظ سے کرسکتا ہے۔اور اس کی سزا بھی محض سوکوڑے نہیں ہے بلکہ نہایت سنگین اور عبرت ناک ہے۔رسالت ماب صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی قرآنی ہدایت کے تحت ایسے مجرموں کو عبرت ناک سزائیں دیں۔ان کی تفصیل غامدی صاحب کی کتاب برہان میں رجم کی سزا کے زیر عنوان دیکھی جا سکتی ہیں۔

وما علینا الا البلاغ

Views All Time
Views All Time
285
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: