Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

محمد علی … دی چیمپیئن

by جون 11, 2016 کالم
محمد علی … دی چیمپیئن
Print Friendly, PDF & Email

muhammad aliبوڑھے یہودیوں کے لئے بنائے گئے گھر کو، جس کے مکیں زیادہ تر ہولوکاسٹ سے بچ جانے والے لوگ تھے، وسائل کی قلت کی وجہ سے بندش کا خطرہ درپیش تھا کہ اسی اثناء میں انہیں ایک فون کال آئ
میں محمد علی ہوں اور میں ایک لاکھ ڈالر عطیہ کرنا چاہتا ہوں تا کہ بزرگوں کو یہ گھر چھوڑ کر نہ جانا پڑے۔
ڈائریکٹر نے سوچا کوئی ٹھٹھا کر رہا ہے سو اس نے فون بند کردیا۔ گھنٹی دوبارہ بجی، وہی آواز کہنے لگی
Its me— I am the champ
یہ اس شخص کی شخصیت کی ایک جھلک ہے جسے دنیا محمد علی عظیم ترین کے نام سے جانتی ہے۔ محمد علی کی شخصیت کا مختلف اشخاص نے مختلف زاویوں سے جائزہ لیا اور اس کی شخصیت میں اتنا تنوع ہے، اتنی چاشنی ہے کہ ہر کسی کو مختلف زاویوں سے بھی اس کی شخصیت جاذب نظر لگی۔
جیل میں قید مائیک ٹائی سن جہاں اسے دیکھ کر باکسر بننا چاہتا تھا، تو وہیں چھوٹے موٹے جرائم میں ملوث منسٹرجارج فارمین کو دوست محمد علی جیسا بننے کی ترغیب دے رہے تھے، نیلسن منڈیلا کے لئے محمد علی دوران قید بھی امید کی کرن تھا تو آرنلڈ شوارزنگر کے لئے وہ انتھک محنت اور لگن کی مثال تھا
کوئی بھی شخصیت جب اس دنیا سے رخصت ہوتی ہے تو لوگ اس کی اچھائیاں بیان کرتے ہیں اور اس کی تعریف کی جاتی ہے۔ لیکن کیا محمد علی کی تعریف کرنا ہی کافی ہے یا اس کی شخصیت سے ہم کچھ سیکھ بھی سکتے ہیں ؟
Angelo Dundee جو اس وقت مشہور ٹرینر تھا ، ہوٹل کے کمرے میں موجود تھا جب محمد علی نے اُسے کال کی
"کون بات کر رہا ہے”؟ اینجلو نے استفسار کیا”مستقبل کا ورلڈ چیمئن” محمد علی کا جواب تھا۔
اب ذرا یہاں پر رکیئے کتنے ہمارے نوجوان ایسے ہیں جن کو معلوم ہے کہ مستقبل میں انہوں نے کیا بننا ہے یا کیا کرنا ہے ؟انہیں چھوڑئیے جو کچھ نہ کچھ بن چکے ہیں ان میں بے یقینی کی کیفیت کا اندازہ کیجیئےکہ معلوم ہی نہیں وہ کیا کر رہے ہیں اور کیوں کر رہے ہیں، مستقبل میں کیا کریں گے اور کب تک کرتے رہیں گے؟
محمد علی کے متعلق تحاریر پڑھ کر ایسے لگا جیسے ہم محمد علی نہیں بلکہ شاید کسی اور شخصیت کی یاد منا رہے ہیں۔ پاکستانی میڈیا میں Malcolm X اور Nation of Islam کے حوالے سے کوئی خاص ذکر نہیں ہواحالانکہ میلکم اور نیشن آف اسلام کے بغیر محمد علی کا تذکرہ ادھورا ہے۔
بلاشبہ محمد علی بہت کامیاب باکسر تھا لیکن اس کی عظمت فقط باکسنگ کی مرہون منت نہیں تھی۔ اس کی مشہوری میں نیشن آف اسلام کا بھی بڑا کردار تھا جو انسانی ھیولے میں Farad کو خدا اور Ellijah Muhammad کو پیغمبر مانتی تھی۔
سیاہ فام شدت پسند تنظیم ہونے کے باوجود ان میں نظم و ضبط کمال کا تھا اور میلکم ان کا ترجمان تھا۔ وہ اپنے پیروکاروں کی تربیت ایسے کرتے تھے کہ ہر قسم کی اخلاقی برائی میں دھنسے ہوئے ہونے کے باوجود ایسے تائب ہوتے کہ دنیا رشک کرتی۔ یہیں سے اندازہ لگا لیں کہ میلکم جیسا شخص جو دلالی تک کرتا تھا اب ایک ایسا صاف ستھرا شخص تھا کہ جس کو کسی قسم کی دھونس دھاندلی، رشوت بھی اپنے نظریات سے ہٹا نہیں سکی اور رہتی دنیا تک امر ہو گیا، یہی میلکم محمد علی کو نیشن آف اسلام میں لانے کا سبب بنا۔
ہمارا معاشرہ بھی اخلاقی گراوٹ میں گھرا ہوا نظر آتا ہے لیکن کیا یہاں کوئی ایسا لیڈر ہے جو اپنے کارکنوں کی ایسی تربیت کرے کہ وہ ہر قسم کی اخلاقی برائی سے دور رہیں۔ ان میں اتنا اعتماد اور عزت نفس پیدا کر سکے کہ جو بک نہ سکے؟
کیا ہم بحیثیت قوم کسی ایسے شخص کو بنیادی انسانی حقوق دینے کو تیار ہیں جس کے عقائد ہم سے مختلف ہوں؟
لوگ یہ بتاتے نہیں تھکتے کہ محمد علی پہلا مسلمان ہیوی ویٹ چیمئین تھا، لیکن سوال ہے کہ کیسا مسلمان تھا اور اس سے بھی زیادہ ضروری سوال یہ ہے کہ اگر وہ انہی نظریات کے ساتھ پاکستان میں ہوتا تو آیا ہمارے لئے قابل قبول ہوتا یا ناں ؟
پاکستان میں بسنے والی اقلیتیں اور ان کے حالات ہمارے سامنے ہیں، نیشن آف اسلام قادیانیت سے بھی دو ہاتھ آگے کی چیز ہے ان کے ساتھ تو وہ سلوک ہوتا کہ نسلیں یاد کرتیں۔
پہلی عالمی چیمپین شپ کے مقابلے سے پہلے ہی ایک صحافی کو محمد علی کے والد سے علم ہو گیا کہ محمد علی نیشن آف اسلام میں شمولیت اختیار کر رہا ہے، یہ ایک سنسنی خیز خبر تھی اُسے کہا گیا کہ وہ اس بات کا انکار کرے ورنہ فائیٹ کینسل کر دی جائے گی۔ لیکن وہ اپنے نظریات پے ڈٹ گیا۔
اُسے نیشن آف اسلام کا رکن ہونے کی سزا دی گئی جیسے ہمارے ہاں ڈاکٹر عبدالسلام جیسوں کو دی گئی۔ اس کی کامیابیوں کو شک کی نگاہ سے دیکھا گیا، اور دنیا اسے ایک کامیاب بڑبولے سے زیادہ کی حیثیت دینے کو تیار نہ تھی۔
بدقسمتی سے اب لوگ محمد علی کے مقابلوں کو خالص باکسنگ مقابلوں کی حیثیت سے دیکھ رہے ہیں جب کہ وہ اس وقت صرف باکسنگ مقابلوں سے زیادہ عقائد و نظریات کی جنگ تھے، رنگ کے اندر و باہر اسے ہرانے کے تمام ہتھکنڈے استعمال کئے جا رہے تھے۔ ایسا اعصابی تناؤ خالص باکسنگ مقابلوں میں کبھی دیکھنے میں نہیں آیا ۔ جو بھی محمد علی سے مقابلے کے لئے اترا، راتوں رات وہ اسٹیبلشمنٹ کا اور جنگ کی متلاشی عوام کا ہیرو بن گیا۔ جب کھیل میں ہر چیز داؤ پے ہو تو ہار کا نتیجہ جرمن ہیوی ویٹ چیمپئن شمیلنگ کی طرح ہو سکتا ہے جسے ہار جانے پر نازیوں نے تضحیک کا نشانہ بنایا۔
ایسے حالات میں اس نے جنگ سے انکار کر دیا، سفید فام حکمرانوں کے لئے یہ بات قابل قبول نہ تھی کہ غلام قوم کا نمائندہ ان کا حکم ماننے سے انکار کر دے، لیکن اس نے دو ٹوک انکار کر دیا اور اپنے نظریات کے لئے جیل چلے جانے یا مشین گن کے سامنے کھڑے ہونے کا اعلان کر دیا۔
یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ اسے محاذ پر جا کر جنگ نہیں لڑنا تھی، کہا جا رہا تھا کہ اسے فوجوں کے مورال کو بلند کرنے کے لئے بھیجا جائے گا جیسا کہ اس سے پہلے جنگ عظیم میں اس وقت کے چیمئپن جو لوئس کو بھیجا گیا تھا، لیکن اس نے ظلم و بربریت کا کسی بھی شکل میں حصہ بننے سے انکار کر دیا۔
جنگ سے انکار کے بعد اس کا تقریبا سب کچھ ختم ہو گیا، سفری مشکلات، وکیلوں کی فیس غرض کہ اس کے حالات اتنے پتلے ہو گئے کہ اس نے پیسے کمانے کے لئے گانا شروع کر دیا۔
لیکن ایسے حالات میں بھی وہ خاموش نہیں بیٹھا، اس نے طلباء سے محنت کشوں سے خطاب کیا، اس نے ان طبقات میں جو نسلی حقارت کا شکار تھے خود اعتمادی پیدا کی، اس نے لوگوں کو سکھایا کہ کیسے اپنے موقف کے لئے ڈٹ جاتے ہیں۔
اس نے اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے ہر طریقہ بروئے کار لایا، اگر کبھی اس نے سنی لسٹن کو للکارا تھا جس سے بڑے بڑے سورما بھی ڈرتے تھے تو اب اس کا مقابلہ Edgar Hoover سے تھا جو ایف بی آئی کا ڈائریکٹر تھا اور اتنا خطرناک تھا کہ امریکی صدور تک کو حراساں کرتا تھا۔
یہ کہنا آسان ہے کہ جب امریکہ میں سیاہ فام لوگ جن کے آبا و اجداد کو افریقہ سے لایا گیا، گوروں کے نسلی تفاخر کا شکار تھے ایسے میں محمد علی کھڑا ہوا اور اس نے کہا میں عظیم ترین ہوں
ِI am the greatest
لیکن اس وقت کے احساسات کو سمجھنا بہت مشکل ہے، اک اندازہ لگائیے کے سالوں بعد کالوں کی ایک ریلی میں انہوں نے ایسے بینر اٹھائے تھے جن پر صرف یہ لکھا تھا کہ I am a Man
یعنی کہنا چاہ رہے ہوں کہ میں کسی کا "چھوٹا” یا "ٖلڑکا” نہیں۔
ایسے حالات میں خود کو عظیم ترین کہنا دیوانے کی بڑ سے زیادہ کچھ نہیں تھا لیکن علی نے اسے حقیقت کر دکھایا۔
افریکن امریکن باکسر محمد علی سے پہلے بھی چیمپئن رہے اور مقبولیت کی بلندیوں پے چھائے رہے، آج بھی کئی لوگ جو لوئس یا پھر جیک جونسن کو علی سے بہتر سمجھتے ہوں، مائیک ٹائی سن مسلمان بھی ہے اور علی سے کم عمر میں چیمپئن بھی بنا لیکن جو چیز علی کو دوسروں سے ممتاز کرتی ہے وہ ہے علی کا ان لوگوں کے دکھ درد کو محسوس کرنا جو خود اس پے نہیں بیتے۔ علی ایک متوسط خاندان کا فرد تھا، وہ کبھی غلام نہیں بنائے گئے، اس نے سنی لسٹن ، فریزئر یا جارج فورمین وغیرہ کی طرح انتہائی سطح کی غربت میں گزر بسر نہیں کی، لیکن اس کے باوجود اس نے پسے ہوئے غریبوں کے صدیوں سے جاری استحصال کو نہ صرف محسوس کیا بلکہ اس کی روک تھام کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا دی۔
جب عظیم افراد کی موت ہو جاتی ہے تو ہم انہیں انسانیت سے ماورا کر کے دیو مالائی کردار یا پھر بت بنا دیتے ہیں۔ اس طرح ان کی بشری خامیاں کوتاہیاں چھپ جاتی ہیں اور آنے والے اُن پے عقیدت کی تہہ چڑھاتے چڑھاتے انہیں درست ثابت کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
محمد علی کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہے نیشن آف اسلام کے ساتھ اس کے تعلق کو نوجوانی کی غلطی کہہ کر رد نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ اسے عظیم ترین بنانے میں بھی اسی نیشن آف اسلام اور سی نوجوانی کا ہاتھ ہے اگر ہم اس دورانیے کو نکال دیں تو پھر شاید کچھ بھی نہیں بچتا۔
Joe Frazier ہو یا Norton یا پھر Spinks محمد علی ہر شکست کے بعد پہلے سے بہتر بن کر ابھرا اور اس کی عظمت اس میں بھی ہے کہ اس نے ہار نہیں مانی لیکن کچھ غلطیاں ایسی ہیں جو کبھی درست نہیں کی جا سکتیں۔
ایسی ہی ایک غلطی محمد علی سے تب ہوئی جب میلکم اور نیشن آف اسلام کے اختلافات کی وجہ سے اس نے میلکم کو قابل گردن زنی ، موت کا حقدار قرار دیا۔ حالاں کہ محمد علی کو محمد علی بنانے میں میلکم کا کردار تھا اور یہ وہ وقت تھا کہ میلکم افریکن امریکنز کے علاوہ افریکا اور دیگر لوگوں کے حقوق کی حدو جہد میں شامل ہو گیا تھا اور اسلام کا بہتر چہرہ دنیا کے سامنے لا رہا تھا۔ خود محمد علی اس بات کو بعد میں پچھتاتا رہا اور پچھتانے سے حالات نہیں بدلتے ، جارج ارویل نے کہا تھا کہ قوم پرست اپنی قوم کی زیادتیوں کا ناصرف انکار کرتے ہیں بلکہ دفاع بھی کرتے ہیں وہی صورت حال محمد علی کے ساتھ بھی تھی۔
ایک اور بات جو بہت کم لوگ جانتے ہیں وہ یہ کہ محمد علی نے اپنے ڈاکٹر کی ہدایات کو مکمل طور پے نظر انداز کرتے ہوئے باکسنگ جاری رکھی، حتیٰ کہ اس کا ڈاکٹر اس کے اس روئیے سے دلبرداشتہ ہو کر اسے چھوڑ گیا۔ جب ریٹائرمنٹ کے بعد محمد علی ٖLarry Holmes دوبارہ علی میدان میں آیا تو اس کے حواس کا یہ عالم تھا کہ وہ اپنے ہاتھ سے اپنے ناک کو چھو نہیں سکا۔ مگر اس کے باوجود وہ کھیلنے سے باز نہیں آیا۔
مرے پے سو درے کہ اس نے وزن کم کرنے کے لئے ایسی ادویہ استعمال کیں جو ماہرین کے مطابق خطرناک تھیں ہمارے تو پڑھے لکھے لوگ بھی ڈاکٹر تک جانے کی زحمت نہیں کرتے اور طبیعت زیادہ خراب ہونے پے نیلی یا پیلی گولی اپنی یا کسی کی تشخیص کے مطابق دے دیتے ہیں جس کا اکثر الٹ نتیجہ نکلتا ہے
ہم محمد علی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے تب اچھے لگتے ہیں کہ اگر زیادہ نہیں تو کچھ اقدار ہی ہم میں مشترک ہوں۔
محمد علی اپنی ذات اور اپنے لوگوں سے مخلص تھا اسے اپنی ذات اپنی قوم ، اپنا رنگ اپنی زبان ، اپنی ثقافت پسند تھی۔ لیکن ہم میں کوئی مغربی سامراج اور کوئی عرب جنگجووں کی تہذیب لئے دندناتا پھرتا ہے۔
یہاں مٹی سے محبت کا صلہ غداری کے سرٹیفیکیٹ سے دیا جاتا ہے۔ محمد علی پے انگریزی تھوپی گئی تو ہم پے انگریزی کے ساتھ اردو، بقول جون ایلیا مسلم لیگ مسلمانوں کی معاشی اور سماجی تحریک تھی۔۔۔۔۔ جس نے برصغیر کی ایک مشترک زبان کو مشرف بہ اسلام کیا۔”
اب تو اگر کوئی ماں بولی کی بات کرتا ہے تو ہم اسلام ، پاکستان اور اردو خطرے میں ہے کہہ کر اس پے چڑھ دوڑتے ہیں۔
امریکہ میں یار لوگوں نے محمد علی کے جنازے میں شرکت کے لئے ملنے والے مفت اجازت نامے مہنگے داموں بیچ کر کمائی کر لی، ہم ہوتے تو شاید ہمارا رویہ بھی مختلف نہ ہوتا۔ محمد علی جب سے محمد علی بنا، کلے لفظ اس کے لئے گالی تھی، اس کے بدترین مخالفین اسے چڑانے کے لئے اُسے کلے کہتے اور وہ حقیقتاََ آگ بگولہ ہو جاتا ، ہم بھی محمد علی کلے لکھ کر ایک مرحوم کو گالیوں کا خراج تحسین پیش کر رہے ہیں۔

Views All Time
Views All Time
825
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   جمہوریت ہے کیا؟؟
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: