حکمران کرپٹ اور عوام دودھ کے دھلے

Print Friendly, PDF & Email

حضرت عیسیٰ علیہ السلام ‘کوہ زیتون’ سے ہو کر عبادتگاہ میں آئے تو لوگ ایک زانی عورت کو پکڑ کر لائے اور کہنے لگے کہ موسیٰ اور اس کا قانون کہتا ہے کہ اسے سنگسار کیا جائے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا، ‘درست، اب تم میں سے جو کوئی گناہگار نہ ہو وہ پہلا پتھر مارے’۔ یہ سن کر سارا ہجوم پل بھر میں منتشر ہو گیا اور عورت اکیلی رہ گئی۔ تب حضرت عیسیٰ نے اس عورت سے کہا، ‘سب الزام لگانے والے چلے گئے، جاؤ اور مزید گناہ نہ کرو’۔

کچھ بخار اور بعض خمار ایسے ہوتے ہیں جو ہو جائیں تو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتے لیکن معذرت کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ قوم کی اکثریت کو نیوز چینلز اور سوشل میڈیا دیکھ دیکھ کر تبصروں اور تجزیوں کی ایسی لت پڑی ہے کہ اس کا چھوٹنا اب مشکل ہی دکھائی دیتا ہے۔ عموماً ایک ٹی وی چینل پر ایک پروگرام چلتا ہے، اس کے بعد ملک کے مختلف علاقوں میں حلقے سے لیکر یو سی کی سطح پر مختلف اوقات میں ایسی محفلیں سجتی ہیں جن میں اپنے اپنے سیاسی مخالفین کو ننگا کیا جاتا ہے۔ ہر گلی محلے چوراہے، حجام کی دکان، پان والے کی دکان، غر ض کہ ہر جگہ سیاسی گفتگو ہوتی ہے۔ جب سے پانامہ کا معاملہ سامنے آیا ہے، تب سے کرپشن کے معاملے پر تبصروں کا ختم نہ ہونے والا سلسلہ چل نکلا ہے۔ تقریباً ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والا اپنے سیاسی مخالفین کی کرپشن پر بڑھ چڑھ کر بولتا ہے۔ کوئی کہتا ہے نواز شریف اور اس کے خاندان نے کرپشن کی، ملک کو لوٹا۔ کوئی کہتا ہے عمران خان نے بھی دوران کرکٹ اور ہسپتال بنانے کے دوران کرپشن کی۔ کسی کا کہنا ہے کہ آصف زرداری نے اتنی کرپشن کی۔ اگر کسی کو کسی ایم این اے کی کرپشن کا پتہ ہے تو اس کو ننگا کرتا ہے۔ کسی کو اپنے حلقے کے ایم پی اے کی کرپشن کا پتہ ہے تو اس کو بے نقاب کرتا ہے۔ حتیٰ کہ لوگ اتنے باشعور ہو گئے ہیں کہ اپنی یو سی کے چیئرمین اور کونسلر سمیت سب کی کرپشن کو بے پردہ کرتے ہیں۔

لیکن ملک بھر میں کسی وجہ سے پٹرول کی قلت ہوئی۔ ایک غریب شخص نے پٹرول کا ڈرم بھرا اور تین سے چار گنا قیمت پر بیچنے لگا۔ کئی ضرورت مندوں نے اپنی مجبوریاں بتائیں لیکن پٹرول بیچنے والے نے ترس نہ کھایا اور ایک روپیہ کم نہ کیا۔ شام کو اپنی جیب نوٹوں سے بھری اور تھکاوٹ دور کرنے کیلئے ٹی وی چلایا۔ دیکھا ایک سیاسی لیڈر کی کرپشن پر بات ہو رہی ہے۔ پٹرول مہنگے داموں بیچنے والا بولا، اس کرپٹ آدمی کو پھانسی دے دینی چاہئے۔مجموعی طور پر عوام کی باتوں سے پتہ چلتا ہے کہ وہ کرپٹ حکمرانوں یا حکمران طبقے سے تنگ آ گئے ہیں۔ اشرافیہ کی کرپشن کا سن کر ان کی آنکھوں میں خون اتر آیا ہے۔ عوام چاہتے ہیں کہ کرپشن کر کے ملک کو لوٹنے والے اس طبقہ اشرافیہ کو سولی پر چڑھا دیا جائے۔ یہ بات درست ہے کہ جس نے کرپشن کر کے ملک کو نقصان پہنچایا اس کو قرار واقعی سزا دی جانی چاہئے جبکہ سزا دینا متعلقہ اداروں کا کام ہے۔

آج رمضان المبارک کا چاند نظر آ گیا۔ ایک غریب پھل فروش نے تین روز پہلے ہی پھل سستے داموں خرید لئے تھے۔ پورے روزوں میں اس نے اتنے مہنگے داموں پھل بیچے کہ تقریباً 6 ماہ جتنا منافع اپنی جیب میں ڈال لیا۔ روزے دار شدید گرمی میں مرجھائے ہوئے چہروں سے اس کے پاس آتے۔ کچھ دام کم کرانے کا کہتے تو وہ کہتا وقت ضائع نہ کرو، ایک روپیہ کم نہ ہو گا، خریدنے ہیں تو بتاؤ، ورنہ چلتے بنو۔ پھل فروش دن بھر کام کر کے واپس لوٹتا، رات کو ٹی وی پر دیکھتا کہ کسی سیاست دان کی کرپشن پر پروگرام چل رہا ہے۔ پھل فروش دیکھتے ہی گالی دیتا اور کہتا اس کرپٹ آدمی کو جیل میں ہونا چاہئے۔

آج چاند رات ہے۔ بازاروں میں بڑے بڑے دکانداروں کے ساتھ ساتھ چھوٹے ٹھیلے والے بھی موجود ہیں۔ کوئی مجبور اپنے بچے کی خوشی کیلئے کہیں سے ادھار مانگ کر اس ٹھیلے والے کے پاس آتا ہے کہ کچھ کپڑے خرید کر اپنے بچے کو عید پر خوش کر سکے مگر اس غریب ٹھیلے والے کو پتہ ہے کہ آج آخری رات ہے۔ اس نے کپڑے خریدنے ہی خریدنے ہیں۔ جو کپڑا میں 100روپے میں خرید کر لایا ہوں، پانچ گنا تو منافع ضرور وصول کروں گا۔ آج ہی تو موقع ہے وصولی کا۔ اتنے میں ٹھیلے پر پرانا دوست آ جاتا ہے۔ آج کی تازہ خبر دیتا ہے کہ کرپشن کے الزام میں ہمارے حلقے کا ایم این اے پکڑا گیا۔ ٹھیلے والا کہتا ہے شکر ہے ایک اور کرپشن کرنے والا اندر ہوا۔

عید الاضحیٰ میں کچھ روز باقی رہ گئے ہیں۔ ایک غریب سبزی والے نے بہت سی سبزیاں وافر مقدار میں خرید لی ہیں۔ عید سے دو روز قبل سبزیاں بیچنے کا منصوبہ ہے۔ کئی گنا زیادہ قیمت پر بک جائیں گی۔ 25 ہزار کا مال خریدا ہے۔ ٹارگٹ ہے ایک لاکھ روپے سے زیادہ کا بکے۔ شام کو ایک دوست کی جانب چائے پینے چلا گیا۔ وہاں گیا تو کرپشن پر بات چیت ہو رہی تھی۔ سبزی والے نے کرپٹ مافیا کیخلاف ایسی ایسی باتیں کیں کہ سننے والے داد دیئے بغیر نہ رہ سکے۔

ایک سرکاری ملازم جس کی ڈیوٹی صبح نو بجے سے شام چار بجے تک ہے۔ آدھا گھنٹے دیر سے دفتر پہنچتا ہے۔ پھر چائے پی کر فریش ہوتا ہے۔ سائلین انتظار کرتے رہتے ہیں۔ وہ اپنی نشست سے اٹھ کر دوسرے ساتھی کے کیبن میں جاتا ہے اور اس کو بتاتا ہے کہ کل وہ ایک شادی کی تقریب میں گیا تھا۔ پھر تقریب کا احوال بیان کرتا ہے۔ آدھے گھنٹے بعد اپنی سیٹ پر واپس آتا ہے۔ دو چار سائلین کے کام نمٹاتا ہے۔ اتنے میں بریک ہو جاتی ہے۔ بریک ختم ہونے کے پندرہ منٹ بعد دوبارہ سیٹ پر آتا ہے۔ ایک دو کام نمٹاتا ہے۔ پھر اپنی سیٹ سے غائب ہو جاتا ہے۔ چھٹی سے آدھا گھنٹے پہلے سیٹ پر آتا ہے۔ کافی دیر سے منتظر درجنوں سائلین کی التجا سنتا ہے۔ اتنے میں چھٹی کا وقت ہو جاتا ہے۔ گھر آتا ہے اور بتاتا ہے کہ آج بہت کام کیا، تھک گیا ہوں۔ تھکاوٹ دور کرنے کیلئے ٹی وی لگایا۔ کرپشن پر پروگرام چل رہا تھا۔ دیکھ کر اندازہ ہوا کہ ملک میں کتنی کرپشن ہے۔ چنانچہ وہ اہلخانہ کو کرپٹ مافیا کو سخت سزا دینے کا بھاشن دینے لگا۔

ایسی سے بہت سی مثالیں ہیں۔ میں یہ ثابت نہیں کرنا چاہتا کہ حکمران طبقہ یا اشرافیہ کی کرپشن جائز ہے۔ ان کو بھی کٹہرے میں لانا چاہئے مگر معاشرے کا یہ عالم ہے کہ جس شخص کا جب، جہاں اور جتنی بار داؤ لگتا ہے، وہ اس سے بھرپور فائدہ اٹھاتا ہے۔ اکثریت کہتی ہے کہ امیر حکمرانوں نے کرپشن کر کے غریب عوام کا خون چوس لیا۔ ظاہر ہے کہ امیر کو تو غریب کا احساس نہیں لیکن ایک غریب کو تو اپنے جیسے دوسرے غریب کا احساس ہونا چاہئے۔ لیکن جب کسی غریب کو بھی ایک دن یا ایک ہفتے کی ‘بادشاہت’ ملتی ہے تو وہ خود سب سے پہلے دوسروں کا استحصال کرتا ہے۔ کرپشن صرف پیسے کی ہی نہیں، اپنے فرائض کو ایمانداری سے سرانجام نہ دینا بھی کرپشن ہے۔ ذخیرہ اندوزی بھی کرپشن ہے۔ اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرنا بھی کرپشن ہے۔ طبقہ اشرافیہ کی تعداد تو آٹے میں نمک کے برابر ہو گی لیکن عوام تو پونے 20 کروڑ ہیں۔ تو پھر بڑے پیمانے پر کرپشن میں کون ملوث ہے عوام یا حکمران؟

جب ہمارا دامن صاف نہیں تو ہم دوسرے کو کیسے کٹہرے میں لا سکتے ہیں۔ جب عوام کا دامن صاف ہو گا تو کوئی بھی حکمران کرپشن کی جرات نہیں کر سکے گا کیونکہ حکمران کو پتہ ہو گا کہ اگر اس نے کرپشن کی تو ایماندار عوام کا ہاتھ ہو گا اور اس کرپٹ حکمران کا گریبان۔

Views All Time
Views All Time
276
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   میرا بیٹا - سید حسن نقوی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: