Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

محاصرہ دور بھگاؤں مگر کیسے ؟

Print Friendly, PDF & Email

میں بارے محبت کے لکھیں 20 سطریں
اور تصور باندھ لیا
یہ محاصرہ 20 میٹر دور ہوگیا ہے
یہ محمود درویش کی عزہ کے محاصرے کے دنوں میں لکھی گئی ایک نظم کی تین سطریں ہیں۔اور میں بھی یروشلم کو بہانے بہانے سے یاد کرکے اپنے ہاں انسانیت کے گرد درندگی کے محاصرے کو 20 میٹر دور بھگانے کی کوشش کررہا ہوں۔اور یہ اسی موضوع پہ میرا تیسرا مضمون ہے۔

یہ محاصرے کہاں نہیں ہیں ؟ اور ان محاصروں کو توڑنے کی کوشش کہاں نہیں ہورہی؟ اور کہاں ان محاصروں کو وطن کی سلامتی ، قومی مفاد اور دہشت گردی کے خلاف جنگ یا اغیار کی سازش کا مقابلہ کرنے کی کوشش نہیں کی جارہی؟

آپ سب کے سامنے اس خطے کے یروشلم میں واقع جوہر گلستان سے ایک بچے آفتاب یونس کو اٹھالیتے ہیں اور پھر اس کے پہاڑوں میں ‘فلسطینی’ گوریلوں میں جاپہنچنے کی خبر پہ یقین کرنے پہ زور دیتے ہو۔ اور کہتے ہو مان لو کہ یہ کچی دیواروں ، گھاس پھونس کے جھونپڑوں پہ فضاء سے آگ لگانے والے بم جو پھینکے جاتے ہیں،یہ انسانیت بچانے کے لئے ہیں۔دیواروں کی تعمیر حفاظتی شیلڈ کی تشکیل کے نام پہ کرنا اور چھاؤنی و چیک پوسٹوں کا جال سیکورٹی و ترقی کے نام پہ بچھانا بھی کہاں نہیں ہورہا؟ ایسے میں اگر کوئی کہے کہ یروشلم سے لیکر سری نگر تک ، ترکی کے دیار بکر کرد صوبے تک اور آگے کہیں خضدار و مشکے میں حالات ایک جیسے ہیں تو وہ واقعی غدار ہے۔تعصب پھیلاتا ہے۔

لیکن کیا نسل کشی، محاصروں اور ظلم و جبر کے سلسلے کے دراز ہونے میں حاکم طبقات ہی قصور وار ہیں؟مجھے یہاں کچھ اور یاد آرہا ہے۔
عبدالطیف البغدادی جمال عبدالناصر کے ساتھ مصر کے شاہ فاروق کا تختہ الٹانے والے کلیدی افسران میں شامل تھے۔ان کی یادداشتیں جو عربی میں شایع ہوئیں پڑھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔میں ان کو پڑھ رہا تھا تو اس دوران میں اس پیراگراف تک پہنچا تو مجھ پہ عجب کیفیت طاری ہوگئی :

وفي اجتماع مجلس الثورة يوم 4 ابريل، في أثناء المناقشة ذكر جمال عبدالناصر أن هذه الثورة ليست لها قاعدة شعبية تعتمد عليها، وليس هناك من يؤيدها لا من الشعب ولا من الجيش. وأن الذين قاموا بهذه الثورة تسعون ضابطاً فقط وأنهم في تناقص حتى أصبح عددهم خمسين ضابطاً الآن وعلقت على كلامه هذا بقولي: معنى هذا أننا نفرض أنفسنا على هذا البلد!! .. فرد علي بالإيجاب .
مذكرات عبداللطيف البغدادي

یہ بھی پڑھئے:   افضل احسن رندھاوا اور غیر پنجابیوں کا آشوب | عامر حسینی

چار اپریل کو انقلابی کونسل کے ایک اجلاس میں بحث کے دوران،جمال عبدالناصر نے کہا کہ اس انقلاب کی پاپولر بنیاد نہیں ہے،جس پہ ہم انحصار کرتے ہوں اور اور نہ تو عوام اسے لائے اور نہ ہی فوج۔اس انقلاب کو 90 افسران لیکر ائے اور اب وہ گھٹ کر 50 رہ گئے ہيں۔تو میں اس پہ اپنی طرف سے اس قول کا اضافہ کیا،’اس کا مطلب ہے کہ ہم نے خود کو اس ملک پہ مسلط کردیا ہے۔’ تو اس نے اس کا جواب اثبات میں دیا۔
یادیں عبداللطیف بغدادی

مطلب یہ ہے کہ جمال عبدالناصر نے بہت بعد میں اپنے کودتا کو ایک پاپولر انقلاب میں بدل ڈالا۔یعنی نوے افسران کی فوجی بغاوت بہت بعد میں پاپولر انقلابی حکومت کا روپ دھارن کرگئی تھی۔لیکن جمال عبدالناصر کو مصر سمیت پوری عرب دنیا کی ورکنگ کلاس، پیٹی بورژوازی کی انقلابی پرتوں اور کسانوں کی جو حمایت میسر آئی تھی وہ ایک بڑی محنت کشوں اور دیگر محکوم و مجبور پرتوں میں مستحکم جڑیں رکھنے والی پارٹی میں نہ بدل سکی بلکہ جمال عبدالناصر نے ایسی کسی بھی پارٹی کے جڑپکڑنے کے راستے اپنی پالسیوں سے ہی خود ہی بند کرڈالے تھے۔یہی وجہ ہے کہ اس کے جانشین انور سادات اور حسنی مبارک جیسے ڈکٹیر اور پھر مزید زوال پذیری میں جنرل السیسی جیسے لوگ ہی ہوسکتے تھے۔

آج کی عرب دنیا میں ایسے حالات سرے سے ہی نہیں ہیں کہ کوئی آدمی اس طرح کا لیڈر فی الحال بن پائے جسے جمال عبدالناصر جیسا مقام حاصل ہوجائے اور عرب ورکنگ کلاس، کسانوں اور مظلوم و مقہور گروہوں کی امیدوں کا مرکز بن جائے۔انقلابی بائیں بازو کو اس سارے پس منظر میں بہت محنت کرنا ہوگی۔

محمود درویش کو بھی شاید ایسی ہی کسی صورت حال کا سامنا جمال عبدالناصر کی موت کے بعد عرب علاقوں میں رجعت پرستی اور سعودی عرب کی بتدریج مضبوط ہوتی حثیت سے کرنا پڑا ہوگا۔اور 1993ء میں اوسلو معاہدے پہ تو اس کی جیسے کمر ہی ٹوٹ گئی تھی تو اس نے پی ایل او کی مرکزی کمیٹی سے استعفا دے دیا تھا۔اس نے اپنے استعفے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ امن کا دشمن نہیں ہے لیکن حقیقی امن اور آزادی کا میکنزم بنائے بغیر امن کیسے ممکن ہوسکتا ہے۔

آئیں محمود درویش کی یروشلم پہ لکھی ایک شہرہ آفاق نظم پڑھیں :
یروشلم میں
میرا مطلب ہے میں قدیم دیواروں سے اندر داخل ہوتا ہوں
میں کسی حافظے کی مدد کے بغیر ایک زمانے سے دوسرے زمانے کی سیر کرتا ہوں
کیونکہ یہاں انبیاء ہیں جو خود مقدس تاریخ کو بانٹ رہے ہیں
آسمانوں کی جانب جاتے ہیں اور بہت قلیل احساس زیاں اور حزن کے واپس لوٹتے ہیں
کیونکہ محبت اور سلامتی دونوں مقدس چیزیں اس شہر کی طرف قدم بڑھاتی ہیں
میں ایک ڈھلوان سے نیچے اتراتا جاتا ہوں اور سوچتا ہوں
کیسے راویان روشنی جو پتھر بارے کلام کرتی ہے اس سے اختلاف کرتے ہیں؟
کیا پتھر کی روشنی مدھم پڑگئی ہے جو جنگوں کے شعلے بھڑک اٹھے ہیں؟

یہ بھی پڑھئے:   یہ کربلا ہے یہ کربلا ہے - شاکر حسین شاکر

میں نیند چلتے جاتا ہوں،نیند میں گھورتا ہوں
مجھے نہ اپنے پیجھے کوئی نظر آتا ہے اور نہ ہی میں آگے کسی کو دیکھتا ہوں
یہ جتنی بھی ضو فشانی ہے میرے لئے ہے
میں چلتا جاتا ہوں،لطیف تر ہوجاتا ہوں اور اڑنے لگتا ہوں اور پھر میں اس تجلی میں کوئی اور ہوجاتا ہوں
الفاظ ایسے مجھ سے نکلتے ہیں جیسے اشعیا نبی کے لبوں سے گھاس نکلتی ہے
” اگر تم یقین نہیں کروگے تو پھر امان بھی کبھی نہیں پاؤ گے

میں ایسے سرگرداں پھرتا ہوں جیسے میں کوئی اور ہوں
اور میرا زخم ایسا ہے جیسے انجیلی گلاب ہو
اور میرے ہاتھ ایسے جیسے دو فاختاغیں صلیب پہ ہوں
اور وہ زمین کے اوپر منڈلاتی ہوئی،زمین کا نوحہ پڑھتی ہوں
میں ایسے چلتا ہوں جیسے ميں کوئی اور ہوگیا ہوں تجلی میں
نہ مکان ہوں نہ زمان ہوں
تو میں کون ہوں؟

میں ،نہیں معراج کے حضور نہیں ہوں
لیکن میں سوچتا ہوں : واحد نبی محمد (صلی اللہ وآلہ وسلم تھے) جو فصاحت سے عربی بولا کرتے تھے
اور اس کے بعد کیا؟۔۔اس کے بعد کیا؟
ایک سپاہی عورت چلاتی ہے: تم ایک بار پھر؟ کیا میں تمہیں قتل نہ کردوں
میں کہتا ہوں: تم نے مجھے قتل کردیا۔۔۔اور میں بھول گیا، جیسے تم مرنا

Views All Time
Views All Time
258
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: