Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

چار درویش اور کچھوا: کاشف رضا تم شوکت تھانوی نکلوگے،سوچا نہ تھا

by نومبر 13, 2017 کتب
چار درویش اور کچھوا: کاشف رضا تم شوکت تھانوی نکلوگے،سوچا نہ تھا

سید کاشف رضا کا پہلا ناول’چار درویش اور ایک کچھوا’ کراچی سے شایع ہونے والے والے سہ ماہی رسالے ‘آج’ کے شمارہ نمبر 102 میں شایع ہوا ہے۔میں نے ناول آج ہی ختم کیا ہے۔اور اس ناول کو پڑھنے کے بعد میں اپنے تاثرات ہی یہاں پہ رقم کرسکتا ہوں کیونکہ بنیادی طور پہ میں کوئی ناقد نہیں ہوں۔

سید کاشف رضا سے میرا غائبانہ تعارف اسی آج رسالے اور شاید آصف فرخی کے رسالے ‘دنیا زاد’ میں چھپی تحریروں سے ہوا۔کچھ تراجم تھے، کچھ خطوط تھے۔میں ان کی تحریروں کا معترف تھا۔پھر مجھے کافی عرصہ بعد پتا چلا کہ میرے ساتھ فیس بک پہ جو صاحب ‘سید کاشف رضا ‘ صف دوستاں میں شامل ہیں، وہ وہی ہیں جن کی تحریروں کو میں پسند کرتا ہوں۔پچھلے دنوں انہوں نے مجھ سے فیس بک انباکس چیٹ کے دوران پوچھا کہ میں ارون دھتی رائے کے ناول کا ترجمہ کررہا ہوں تو وہ مجھے اس ناشر کا پتا دے سکتے ہیں جس نے ان کو اس ناول کا ترجمہ کرنے کو کہا تھا۔میں نے ان سے کہا کہ اگر وہ یہ ترجمہ کرتے تو یقینی بات تھی کہ مجھ سے اچھا ترجمہ کرتے۔اس ناول کے بارے کہنا ہے کہ یہ ان کو ارون کے پہلے ناول سے کم پسند آیا۔میں اس کی وجہ جان نہ سکا تھا لیکن ان کا ناول پڑھنے اور اور اس ناول میں ان کے فن کے نظریاتی پس منظر کو جان لینے کے بعد مجھے لگا کہ ان کو یہ ناول کن وجوہات کی بنا پہ پسند نہیں آیا ہوگا ، شاید میں جان گیا ہوں۔

کاشف رضا کا تعلق سرگودھا سے ہے،ان کے ابا ائرفورس میں رہے ہیں تو ان کے ساتھ وہ بھی کئی ائر بیس چھاؤنیوں ميں رہے۔کراچی رہتے ہیں۔اور محمد حنیف و میلان کنڈیرا کے ناولوں کا ترجمہ کررہے ہیں جو جلد ہی شایع ہونے جارہے ہیں۔ویسے کیا ہی اتفاق ہے کہ محمد حنیف اور کاشف رضا دونوں ہی بہرحال پاکستان کی ریاست کے بنیاد پرستانہ، یک نوعی اور یک رخی بیانیہ سے اتفاق نہیں کرتے اور ہم ان کو پوسٹ ماڈرنسٹ انٹلیکچوئل اور ادیب کہہ سکتے ہیں اگرچہ اکثر پوسٹ ماڈرنسٹ دانشور یہ لیبل اپنے اوپر لگانا پسند نہیں کرتے۔
اس ناول کے آغاز ہی میں پہلے باب میں سب سے اوپر اگر مجھے ژاں بادلئیراڈ/بادریاغ ( بادریاغ مجھے کہیں اس آر آے ڈی کی آواز کے طور پہ نہیں ملا لیکن کاشف مجھ سے زیادہ فرانسیسی زبان و ادب پہ عبور رکھتے معلوم ہوتے ہیں تو میں نے ان کے تلفظ کو بھی برقرار رکھا ہے) کا قول نہ ملتا اور بار بار ریالٹی/حقیقت بارے راوی اور کرداروں کی زبان سے بحث و مباحثہ ہوتے نہ دیکھتا تو شاید مجھے سمجھ نہ آتی کہ اس ناول کی تکنیک اور اس کے پیچھے کونسی ادبی تھیوری کام کررہی ہے۔

سماجی حقیقت نگاری سے پوسٹ ماڈرنسٹ لکھاریوں کو ویسے ہی اللہ واسطے کا بیر ہوتا ہے لیکن ایسے پوسٹ ماڈرنسٹ ادیب بھی ہیں جو سماجی حقیقتوں کا بیان اپنے ناول، افسانے، کہانی اور مضامین میں لیکر تو آتے ہیں لیکن ان کی ترتیب و تشکیل ایسے کرتے ہیں جس سے ‘ریالٹی ‘ ابہام و ایہام کے مترادف ہوجاتی ہے۔اور بے شک وہ ریالٹی (حقیقت) سے سائن/علامت کا سفر ہوتا ہے۔اور پھر علامت سے علامت کا سفر دکھایا جاتا ہے اور اسے بادریاغ ہائپر ریالٹی کا نام دیتا ہے جس کا سادہ سا بلکہ اگر میں کاشف رضا کی زبان استعمال کروں تو اس کا چوتیا سا ترجمہ ‘ سراب’ ہی کیا جاسکتا ہے۔جسے انہوں نے ‘حقیقت کے فن کو گھس گھسانے ‘ کا نام دیا ہے۔

ہائپر ریالٹی کے فریم ورک میں سید کاشف رضا نے اپنے ناول کو ڈھالا ہے اگرچہ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے راوی، اور خود کرداروں نے ریالٹی کو جیسے دیکھا ہے وہ حتمی نہیں ہے اسے کسی اور طرح بھی دیکھا دکھایا جاسکتا ہے۔اور چیزوں کے ایبسرڈ(اگرچہ اس کی جگہ کاشف رضا نے لفظ اتفاق استعمال کیا ہے)
Why you had to do this Alamgir?
Why you had to do this Ume Salma?
اور پھر اسے بے نظیر بھٹو کے 27 اکتوبر کے قتل کے واقعات تک لیکر جانا اور اس سے نتیجہ نکالنا :
‘بیک وقت مضحکہ خیز، بے معنی اور المناک’
حالانکہ اس ساری تفصیل میں المناکی ایک حاشيے پہ رہ جاتی ہے اور ساری چیز ‘بے معنی ‘ ہی نکلتی ہے۔اور باب سوم کے آغاز ہی میں ایک بار پھر ژاں بودریاغ ہمارے سامنے آکھڑا ہوتا ہے اور وہ کہتا ہے:
سوم یہ کہ فن حقیقت کے غیاب کی نشان دہی کرتا ہے
ویسے چوتھے باب میں اس کی پرت اور کھلتی ہے اور ‘دوم یہ کہ فن بنیادی حقیقت پہ نقاب اوڑھادیتا ہے اور اس کی تخریب کردیتا ہے۔’ ہے کے ساتھ بات آگے بڑھتی ہے۔اور پانچویں باب میں ریالٹی بارے بات اور آگے جاتی ہے کہ ‘فن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اور فن صرف اپنے ہی مماثل ہوتا ہے۔۔۔’یہ بھی ژاں بودریاغ کا ہی قول ہے۔

مجھے یہ سب پڑھتے ہوئے بے اختیار ساجد رشید کا ایک اداریہ کا پیراگراف یاد آیا جسے تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ میں یوں لکھ سکتا ہوں:
ترقی پسندی کی مخالفت میں علامت نگاری کا سہارا لینے والوں نے اسقدر مہمل اور بے معنی تحریریں بھری ہیں کہ قاری کے لئے افسانہ معمہ بن گیا ہے۔شاعری بے معنی لفظوں کے ڈھیر میں بدل گئی ہے۔علامتوں اور استعاروں سے بوجھل ایسی تخلیقات قاری کو پروسی جاتی ہیں کہ تجزیے اور تفسیر کا چورن بھی ان کو ہضم کرانے میں ناکام رہتا ہے۔خود کو ترقی پسندوں سے مختلف ثابت کرنے کے عمل میں کئی ادیبوں نے ادب کو ہی چیستاں بناڈالا ہے۔انقلاب،سیاست،اور معاشرے جیسے بیانیوں کی جگہ بزدلی،خوف اور ذہنی انتشار کو ادب کا وصف خاص قرار دے دیا گیا ہے۔

ساجد رشید نے اس چیستانی ادب پہ پھبتی کستے ہوئے لکھا تھا:
‘ادب کا قاری جو پہلے ادب کی خاطر ایک ڈبیا سگریٹ یا پان قربان کردیا کرتا تھا،اس نے سوچا کہ ایسے معمے خرید کر مغز پچی کرنے کے کیا معنی جس کے صحیح حل پہ انعام تک نہ ملے!
(نیاورق شمارہ 3: جولائی تا ستمبر 1997)
سید کاشف رضا نے ریالٹی اور فن کے باہمی رشتوں بارے بادریاغ کے بنائے قضیوں سے اپنے ناول کی تشکیل کرتے ہوئے اس کے اندر مفسر اور شارح کا رول بھی خود ہی سنبھال لیا ہے اور کوشش کی ہے کہ گنجلگ چیزوں کو اپنے قاری کے سامنے کھول تو دیں لیکن درد بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔

ویسے زرینہ جاوید کی مباشرت کے منظر کی عکاسی کرتے ہوئے اور اور زرینہ سے جاوید کی ملاقاتوں کے بیانیہ کے دوران جتنی آسان اردو کاشف نے استعمال کی وہ قاری حسین محسود کی خودکش بمبار کم سن لڑکوں کے ساتھ لواطت کے فعل کے دوران مفرس زدہ ہوگئی اور اسے کم از کم مدرسے کا پڑھا فاضل مولوی بہت آسانی سے سمجھ جائے گا لیکن جدید تعلیمی اداروں میں پڑھنے والا نوجوان جس کی اردو اور انگریزی دونوں کو ہی کمزوری کا مرض لاحق ہے اسے بہت مشکل سے محظوظ ہوگا۔

‘جہاد کے جوہری بم یعنی فدائی حملے کے استاذ،قاری حسین محسود فضلہم اللہ تعالی کا سینہ ایمان کی حرارت سے ہر دم گرم رہتا تھا۔لیکن ان کے قلب تپاں کی بدولت ان کا سارا جسم ہی اس حرارت سے مملو تھا۔ان کے شکم کے نیچے بفضل اللہی دو بیضوی غدود تھے جن کی نالیوں میں نافع دین خلیوں کی افزائش بدرجہ اتم ہوتی تھی۔یہ خلیے منوی قنیات زریعے سے برنجی نالی میں پہنچتے پھر وہاں سے مجری بول میں چلے آتے۔ایسا معجزہ مخصوص بندوں ہی کے لئے ممکن ہے کہ وہ اپنے مجری بول سے بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بوقت نفوظ اپنے قضیب ( اب خدارا قضیب کا مطلب مت پوچھئے گا یہ کاشف رضا سے ہی پوچھ لیں)۔۔۔۔۔۔۔قضیب بوقت جلال ان کی انگشت شہادت سے کہنی تک آتا تھا۔۔۔۔

ویسے سید کاشف رضا نے ‘ سٹریٹجک ڈیپتھ’ اور معقد کی نالی جو ‘گاف’ تک آتی تھی،بم کے لئے بطور ٹنل کے کام کرنے کا طریقہ اور اس ٹنل کی صفائی کے لئے تاکہ آسانی سے مزائیل اس ٹنل سے سفر کرسکے کی منظر نگاری کی ہے وہ ان کے ذہن کی زرخیزی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
واقعی ژاں بودریاغ کا کہنا ٹھیک ہی ہے کہ ‘درحقیقت فن کا حقیقت سے تعلق نہیں ہوتا اور وہ حقیقت کی تخریب کرتا ہے۔’ویسے کیا ہی مزا رہے اگر ‘تخریب’ کی جگہ ہم لفظ ‘ مسخ ‘ لگادیں۔

ویسے میں بہت سالوں پہلے جب اسپین گئی جنوبی وزیرستان میں قاری حسین محسود کو ملا تھا تو مجھے قطعی اندازہ نہیں تھا کہ قاری حسین محسود کا یہ شوق بھی ہوسکتا تھا اور وہ اس طرح سے جہادی سٹریٹجک ڈیپتھ پالیسی چلارہا تھا۔

سید کاشف رضا کا یہ ناول میرے جیسے آدمی کے نزدیک مزے کی چیز ہے اور اس کے کئی مناظر ‘سنسناہٹ’ پیدا کرنے کے کام بھی آسکتا ہے۔ایسے لوگوں کے لئے خاص طور پہ جو صادق /ککّی بھائی کی طرح اپنی ساری توانائی خواب دیکھنے اور مزاروں کے چکر لگاکر خرچ نہ کرچے ہوں۔لیکن یہ صرف مزے کی چیز ہی نہیں ہے، اس کے اندر کی فلسفیانہ موشگافیاں اپنی جگہ مگر اس میں آج کی ٹی وی چینلوں کے اندر کی دنیا اور اس میں کام کرنے والے نوجوانوں کی ذہنی ساخت اور ان کی سوچ کی پرچھائیاں بھی ہمیں دیکھنے کو مل جاتی ہیں۔کم از کم ان جھلکیوں سے اس ناول کی افادیت بڑھ جاتی ہے۔

ساجد رشید نے ایک معرکۃ الآراء خط وارث علوی کے نام لکھا تھا جس میں ایک جگہ پہ وہ لکھتے ہیں:
‘محترم میں آپ کے رجعت پسندانہ نظریات ( کاشف رضا کے باب میں اسے بادریاغی نظریات پڑھا جائے) سے ہزارہا اختلافات کے باوجود آپ کی نثر کا مداح رہا ہوں-کیونکہ آپ نے سلیم احمد کے اسلوب کی شوخی اور طراری کو اپنی نثر کے زریعہ سے پھکڑپن تک پہنچادیا ہے وہ مجھ جیسے کم علم قاری کے لئے تفریح طبع (کاشف کے قاری کے باب میں تفریح نفس) کا بہترین زریعہ ہے'(نیا ورق شمارہ 6،اکتوبر تادسمبر 1998ء)

مجھے نجانے کیوں کاشف رضا کی مرد و عورت کے باہمی تعلق کو فکشن کی زبان میں بیان کرتے ہوئے وہی وانوی (کہتے ہیں شوکت تھانوی تھے اس نام کے پیچھے) کا اسلوب یاد آگیا جہاں وہ زرینہ سے کہلواتے ہیں
"کتّے زور سے مار۔۔۔۔” پہلے کچھ دھکوں کے بعد اسے زرینہ کی آواز آئی جس نے منھ بھینچا ہوا تھا اور اسی بھنچے منھ سے اس کی آواز نکلی تھی”
اور ایسے جب مشعال کے ساتھ ملاقات کے دوران مشعال کنٹین پہ فریج سے کوک نکالنے کے لئے جھکتی ہے تو کاشف جاوید سے یہ فقرہ کہلواتے ہیں:
"I wonder if your bum is as cute as it looks.”

ویسے کاشف رضا اسے حقیقت نگاری یا سماجی حقیقت نگاری کہہ کر میرے سارے مقدمے کی ماں بہن ایک کرسکتے ہیں۔

ژاں بودریاغ نے ایک جگہ لکھا تھا کہ ویت نام کی جنگ ہارنے کے بعد امریکہ نے یہ مان کر نہیں دیا ویت نامیوں نے ان کو ہرادیا تھا اور انہوں نے ڈزنی لینڈ میں ایسی فلمیں بنائی جس نے اس حوالے سے حقیقت کو بالکل ہی مسخ کردیا۔مجھے یہ خیال بار بار آتا رہا کہ اس ناول میں کاشف رضا نے کچھ ایسے معاملات ضرور اٹھائے جن کا براہ راست تعلق امریکی سامراج سے بنتا ہے(اوئی اللہ! یہ لفظ سامراج میں نے کیوں استعمال کردیا،ہمارے مہان لبرل استاد تو اسے گرینڈ بیانیہ کہتے ہیں اور مہابیانیے تو گمراہی ہوتے ہیں اور وہ اسی لئے مارکس ازم اور تاریخی مادیت پرستی کو رد کردیتے ہیں۔دریدا ان کی مدد کو فوری آجاتا ہے)لیکن کاشف رضا امریکی سامراج، اس کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پہ دنیا بھر میں پراکسی جنگوں اور مداخلتوں کا ہلکا سا اشارہ بھی اس ناول میں آنے نہیں دیتے۔لیکن یہ کوئی سول نہیں ہے کیونکہ ہم کسی ناول نگار کو کیسے کہہ سکتے ہیں کہ وہ دور کے قرینے کے ساتھ ساتھ پاس کا قرینہ بھی ناول میں لازم لیکر آئے۔

ویسے اجمل کمال نے آج تک جتنے بھی ناولوں کا ترجمہ شایع کیا یا ناول نگاروں کے جن ناولوں کو رسالے میں چھاپنے کا اہتمام کیا ہے اس میں کھلے سین ضرور ملتے ہیں جس میں جنس وافر ہوتی ہے۔اب یہ مت سمجھ لیجئے گا کہ میں اسے بطور عیب بیان کررہا ہوں۔بہرحال کاشف رضا ایک پختہ ناول نگار کے طور پہ سامنے آئے ہیں۔انھوں نے جتنے مشکل کرافٹ میں یہ ناول لکھا ،اسے لکھنا کوئی آسان بات نہیں ہے۔ادب بارے ان کا نظریہ کیا ہے اس سے میرا اختلاف اپنی جگہ لیکن اس ناول نے یہ بات ہم پہ عیاں کردی ہے کہ وہ باصلاحیت ادیب ہیں جن کا سٹیمنا بہرحال سو صفحات لکھنے کے بعد جواب نہیں دے جاتا۔ پہلے ناول پہ اور اس کی اس قدر کسی ہوئی مربوط کرافٹنگ پہ سید کاشف رضا کو مبارکباد۔

Views All Time
Views All Time
276
Views Today
Views Today
3
Previous
Next

جواب دیجئے

%d bloggers like this: