Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

حقیقت امام حسین رضی اللہ عنہ (دوسرا حصّہ) |محمد عامر حسینی

by ستمبر 25, 2017 اسلام
حقیقت امام حسین رضی اللہ عنہ (دوسرا حصّہ) |محمد عامر حسینی

قرآن پاک میں اللہ پاک نے اپنی ذات کے انسان کے قریب ہونے کے بارے میں بہت ساری آیات میں کلام کیا ہے۔اور ہم اردو میں اکثر ایک لفظ بولتے ہیں جسے مہجوری کہا جاتا ہے۔یہ مہجوری اور جسے آسان لفظوں میں دوری کہا جاتا ہے ہے کیا چیز؟شیخ ابن عربی کہتے ہیں کہ ویسے تو ہر انسان کا وجود اور ہر انسان کی ذات حق کا آئینہ ہوا کرتی ہے لیکن مخلوق میں سب سے لطیف اور کثافت سے پاک ذات ذات محمدی ہے اور اسی وجہ سے ذات محمدی میں کمال لطافت کے سبب حق کا جو انعکاس ہے وہ شفاف ترین ہے اور علم مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آئینہ علم خداوندی کا کامل ترین انعکاس ہے۔اور اس انعکاس کا لطیف ترین انعکاس آل بیت اطہار ہیں اور طہارت کا ایک معنی یہی لطافت بھی ہے اور اسی لئے کہا جاتا ہے کہ عام آدمی کی زات میں کثافت بہت زیادہ ہوتی ہے تو اس میں انعکاس بھی بہت دھندلا ہوتا ہے۔اور اس انعکاس سے تشکیل پانے والے علم میں نقائص بھی زیادہ ہوتے ہیں۔اس لئے قربت اہل بیت اطہار کے زریعے سے قربت محمد رسول اللہ کا راستا اختیار کیا جاتا ہے اور یہی قرب قربت الی اللہ کا سبب بن جاتا ہے۔

نہج البلاغہ میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا جو پہلا خطبہ ہے اس کی یہ سطریں قابل غور ہیں:

‘دین کی ابتداء اس کی معرفت ہے. کمالِ معرفت اس کی تصدیق ہے، کمالِ تصدیق توحید ہے. کمالِ توحید تنزیہ و اخلاص ہے’

تو یہ جو معرفت ہے اس کے بھی بہت سارے درجے ہیں۔قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے:

وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ ۖ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ ۖ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ

اور جب تجھ سے عبادت کرنے والی میرے بارے میں پوچھیں تو ان بتاؤ کہ میں قریب ہوں۔پکارنے والا جب مجھے پکارتا ہے تو میں جواب دیتا ہوں۔تو بس مجھے پکارو اور مجھ پہ ایمان رکھو تاکہ تم سب رشد و ہدایت پاجاؤ۔

وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهِ نَفْسُهُ ۖ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ

اور بے شک ہم نے انسان کو پیدا کیا اور ہم جانتے ہیں کہ اس کے نفس/ذات میں کیا کیا وسوسے آتے ہیں۔اور ہم ہی اس کی شاہ رگ کے قریب ہیں۔

سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ ۗ أَوَلَمْ يَكْفِ بِرَبِّكَ أَنَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ

عنقریب ان کو ہم آفاق اور ان کے اپنے نفوس میں اپنی نشانیاں دکھائیں گے یہاں تک کہ ان پہ بالکل یہ بات روشن ہوجائے گی کہ وہ’حق’ ہے اور کیا تیرے رب کے لئے یہ بات ہی حق ہونے کے لئے کافی نہیں کہ وہ ہر ایک شئے  پہ گواہ ہے۔

یہاں پہ دو باتیں بہت واضح ہوگئیں کہ اللہ پاک کا وجود انسانوں سے دور نہیں ہے۔لیکن اںسانوں کا نفس جب حالت وسوسہ میں ہوتا ہے تو قربت الی اللہ کا احساس کثافت میں دب کر رہ جاتا ہے۔اور وہ آفاق و انفس میں پھیلی نشانیوں کو پہچاننے سے قاصر ہوجاتا ہے۔یہ تبیان حق پہچاننے کے لئے اگر وسیلہ کوئی بنتا ہے تو وہ اہل بیت اطہار ہیں۔یہ اہل بیت اطہار ہیں جو ہمارے سینوں کی کثافتوں کو دور کرتے اور ہمارے آئینوں کو صقیل کرتے ہیں تاکہ معرفت حاصل ہو اور پھر کمال اس کا تصدیق ہے۔اور یہ سب کچھ بواسطہ انوار اللہی یعنی اہل بیت اطہار کی نورانی صفات سے حاصل ہوتا ہے۔

تو امام حسین کے وجود کی جو لطافت ہے وہ وجود حق کی کمال لطافت کو بے حجاب دیکھتی ہے اور اسی لئے وہ کہتے ہیں کہ تو کہیں چھپا ہوا ہو تو تجھے تلاش کیا جائے نا جب ایسا ہے ہی نہیں۔اور پھر امام حسین رضی اللہ عنہ ایک جگہ یہ بتادیتے ہیں کوئی بھی انسان کتنی بلندی پہ ہو وہ ذات باری تعالی سے غنی و بے نیاز ہوہی نہیں سکتا۔

امام حسین اپنی ایک اور مناجات میں رب باری تعالی کے حضور یوں گویا ہوتے ہیں:

ایسا شخص جس کے پاس سب کچھ ہو اور وہ اپنے آپ کو تجھ سے خالی رکھے اور تیرے سے وہ محروم ہو تو وہ دنیا کا سب سے نادار شخص ہے۔ہارا ہوا شخص وہ ہے جو تیری احتیاج سے خود کو بے نیاز خیال کربیٹھے اور تجھ سے دوری کو اپنا انتخاب کرلے

ایسے لوگوں کے غلام مت بنو جو کہ خالق کی ناراضگی کے بدلے میں مخلوق کی خوشنودی تلاش کرتے ہیں۔

بروز قیامت صرف وہی لوگ خود کو محفوظ محسوس کریں گے جن کا وصف خداخوفی رہا ہے۔

حقیقت حق کا ظل کامل بننے کی جانب پہلا سفر جو ہے وہ خشیت اللہ کا ہے اور اس خشیت اللہ کے اکمال کا عکس خالق کی رضا کے لئے رضائے خلق کی تلاش ہے۔اور امام حسین رضی اللہ عنہ جو انعکاس حقیقت محمدیہ و انعکاس حقیقت علیا ہیں ان کے ہاں خشیت اللہ اور راضی و مرضیہ  کی سطح بھی کامل تر ہے۔

اللہ عزوجل کا فرمان امر بالمعروف و نہی عن المنکر پہ روشنی ڈالتے ہوئے امام حسین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

‘اللہ عورتوں اور مردوں کا فرض اول خیر سے وابستہ ہونا اور اس وابستگی کی سرشاری میں دوسروں کو بھی ترغیب دینا،نیز شر سے دور رہنا اور دوسروں کو بھی اس سے محفوظ کرنے کی کوشش کرنا قرار دیتا ہے اور جو اس اصول کو شعار زندگی بنالیں ان کے لئے دوسرے فرائض زندگی بھی آسان ہوجاتے ہیں۔اور خیر کا قیام و شر کو ختم کرنا یہ ہی دعوت اسلام ہے اور اس کے زریعے سے ہی مظلوم کے غصب کردہ حقوق کی بازیابی ہوتی ہے اور ظالموں کی مخالفت ہوتی ہے’۔

امام حسین رضی اللہ عنہ کے اس قول کی ایک تعبیر روحانی یہ کی جاتی ہے کہ اللہ پاک کیونکہ آپ خیرمطلق ہے اور حقیقت محمدیہ بھی اسی خیرمطلق کا انعکاس ہے اور اس انعکاس کا انعکاس اہل بیت اطہار ہیں تو امام حسین علیہ السلام خیر کامل کا نمونہ ہیں۔تو خیر کا جتنا کامل نمونہ ہوگا وہ اتنا ہی شر سے پاک اور شر کو مٹانے کے لئے اتنا ہی تیار اور بے قرار ہوگا۔اگر امام و سربراہ ہی خیر کا نمونہ نہ ہو اور وہ خود سراپا شر ہو تو وہ اپنی رعایا کو کیسے سراپا خیر بناسکے گا اور اس کے ہاں مظلوموں کے حق کی بازیابی کا سامان کیا ہوگا۔

آپ نے ایک جگہ فرمایا:

‘اے لوگو! اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا تھا کہ جو کسی جارح ظالم کو منکرات کو جائز قرار دیتے،قوانین کو توڑتے دیکھے،سنت نبی کی مخالفت کرتے دیکھے اور بندگان خدا پہ جبروستم کرتے دیکھے اور اس ظالم کو تقریر سے یا اپنےعمل سے نہ روکے اور مخالفت نہ کرے تو یقین رکھو اللہ اسے بھی ظالم و جابر کے ساتھ اس مقام پہ رکھے گا جس مقام کا وہ مستحق ہوگا’۔

امام حسین رضی اللہ عنہ کی ذات کی حقیقت میں خیر سے وابستگی کا ایک پہلو جو سامنے آتا ہے اس قول سے وہ یہ ہے کہ وابستہ خیر ہونا اور شر سے جدا ہونا اس کا مطلب ظالم و جبر و ستم کے نظام اور اس کے پالنہاروں کے خلاف تقریر وعمل سے جدوجہد کرنا ہے اور اگر یہ نہیں ہو تو پھر مطلب اس ظالم کا ساتھ دینا ہے اور حشر بھی اس کے ساتھ ہونا ہے۔

وابستگی خیر اور کراہت و نفی شر بارے ہماری آگاہی میں امام حسین رضی اللہ عنہ اپنے ایک اور قول سے اضافہ فرماتے ہیں:

”لوگ بندگان دنیا ہیں،جب تک وہ سازگار زندگی بسر کرتے ہیں،آسان و سہولت کے ساتھ سانس لیتے ہیں اور اس سہولت و آسانی میں اگر کوئی روکاوٹ نہ پڑنے کا اندیشہ ہو تو وہ وابستگی خیر بھی ظاہر کرتے ہیں لیکن جیسے ہی مشکل وقت آئے،آزمائش کا وقت شروع ہوجائے تو پھر اہل اخلاص بہت کم رہ جاتے ہیں”

تو مشکل اور جبر کے زمانے میں وابستگی خیر کے مقام علیا پہ فائز رہنے والوں کا پتا بھی چلتا ہے اور وابستگی خیر کو نمائش کے طور پہ لینے والوں کا پتا بھی چلتا ہے۔

تو ظلم وجبر کی حکومت خیر سے دور کرتی ہے اور خیر سے دوری کا مطلب اللہ سے دور ہوجانا،اس کے شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہونے کے احساس سے بےگانہ ہوجانا ہے تو ایسے ظلم وجبر کے خلاف اٹھنے والے قربت الی اللہ کی جانب سفر کی دعوت دینے والے ہوتے ہیں۔مظلوموں اور مجبوروں کو ظلم سے نجات دلانے کے لئے کوشش اصل میں آفاق و انفس میں اس ذات کی نشانیوں کا وجدان پانے کا سفر ہے اور یہ تبیان حقیقت علیا بھی ہے اور خود اپنے نفس کے عرفان کا سفر بھی ہے۔اور دنیا سے ایسے طریقے سے معاملہ کرنا دنیا پرستی نہیں بلکہ حق پرستی ہے۔

یزید کا خلافت پہ قبضہ اور اپنی بیعت کے لئے بلانا ایسا ہی وقت تھا جب کسی کو یہ خوش فہمی نہیں تھی کہ اگر اس کی امارت کو نہ تسلیم کیا گیا تو بھی یزید کچھ نہیں کہے گا۔اموی ملوکیت نے بہت واضح کردیا تھا کہ اگر بیعت قبول نہ کی گئی تو پھر مصبیتوں اور آلام کے لئے تیار رہیں۔اور حجاز کے اندر اس وقت ایک  حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ تھے،دوسرے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ تھے اور تیسرے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ تھے۔جبکہ حضرت عبدالرحمان بن ابی بکر صدیق رضی اللہ عنھما فوت ہوچکے تھے۔یہ چار حضرات تھے جن کے بارے میں امیر شام نے پہلے خود ان کو یزید کی ولی عہدی کے لئے رام کرنے کی کوشش کی اور جب ان کی وفات تک یہ رام نہ ہوسکے تو یزید کو مشورہ دیا کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کو ان کے حامی ضرور اس کی حکومت کے خلاف کھڑا کریں گے۔(اب یہ موقف اموی کیمپ کا ہے  اور اس قول کو لیکر اور خطوط اہل کوفہ کے واقعہ کو لیکر اموی کیمپ یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو اموی نظام اور اس کے چلانے والوں سے کوئی لینا دینا نہیں تھا اور نہ وہ قیام و خروج کرنا چاہتے تھے لیکن یہ تو اہل عراق /کوفی تھے ،آپ کے پیرو/شیعان علی المرتضی تھے جنھوں نے دھوکے سے آپ کو عراق بلوایا۔اس کا ایک مطلب یہ بھی بنتا ہے کہ گویا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو نہ تو اموی فکر اور طرز حکومت برائی کی اس نہج پہ لگتی تھی اور نہ وہ اس کے خلاف جدوجہد کو وابستگی خیر کا بنیادی تقاضا سمجھتے تھے۔وہ تو بہکاوے میں آگئے تھے۔کچھ اسے اجتہادی غلطی اور کچھ اسے اندازے کی غلطی قرار دینے لگتے ہیں۔جبکہ یہ سارے لوگ اس طرح کا فکری مغالطہ پھیلاتے ہوئے یہ بات سرے سے نظر انداز کرجاتے ہیں کہ امیر شام کی وفات کی خبر جب عراق پہنچی تو کوفہ میں علوی کیمپ نے سلیمان بن صرد الخزاعی کے ہاں جو مشاورتی اجلاس شروع کئے اور اس کے نتیجے میں حضرت امام حسین کے لئے جو تحریک شروع ہوئی اس وقت نعمان بن بشیر گورنر کوفہ تھا۔اور اسی کی گورنری کے زمانے میں مسلم بن عقیل وہاں پہنچے۔آپ کے حامیوں نے کوفہ میں اموی حکومت کو معطل کردیا۔یہ تو عبیداللہ ابن زیاد تھا جو دھوکے سے کوفہ داخل ہوا اور اس نے شامی فوج کی مدد سے کوفہ میں آپ کے حامیوں کی بہت بڑی تعداد کو ہلاک اور جیلوں میں ڈال دیا اور اس طرح سے مسلم بن عقیل کو نہتا کردیا اور اس وقت کوفہ میں جو علوی کیمپ کے سپاہی تھے اور ڈیڈ سپورٹر تھے ان کو نظر بند کردیا۔باقی رہ گئے کمزور یا وہ اشراف قبائل کے سردار جو حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی کوفہ آمد سے پہلے بھی اموی کیمپ رہے تھے جنگ جمل اور جنگ صفین میں حضرت علی کی کامیابی اور عراق پہ ان کی حکومت کے مستحکم ہوجانے نے ان کو اطاعت پہ مجبور کردیا تھا اور یہ کبھی بھی دل سے علوی کیمپ میں شامل نہ تھے۔تو ان سے یہ امید رکھنا کہ وہ آزمائش و امتحان میں مسلم بن عقیل یا امام حسین کا ساتھ دیتے ایک عبث بات ہے۔دھوکہ علوی کیمپ سے دشمنی رکھنے والے یہ دیتے ہیں کہ وہ ان کمزور یا موقعہ پرست گروہوں اور لوگوں کو غلط طور پہ شیعان علی رضی اللہ عنہ قرار دینے لگ جاتے ہیں۔یہ مغالطہ بہت سے اہلسنت اور اہل تشیع کے لوگوں کو بھی لگا اور اس لئے وہ بعض اوقات آئمہ اہل بیت اطہار کی جانب سے ‘اہل عراق’،اہل کوفہ کے کلمہ عموم کے استعمال کو مطلق و عمومی معانی میں لے لیتے ہیں۔صلح امام حسن رضی اللہ عنہ کا سیاق و سباق یہ بتاتا ہے کہ آپ نے یہ کوشش کی تھی کہ اس وقتی انحراف کو ایک عبوری دور کے طور پہ لیکر اس دوران انحراف سے واپس جانے کے لئے درکار ضرورتوں کو پورا کیا جائے اور جب امر خلافت و حکومت کا قضیہ واپس آئے تو خیر کے ںظام کو پوری طرح سے قائم کرنے کی سعی کی جائے۔لیکن شہادت امام حسن رضی اللہ عنہ اور اس کے بعد ولی عہدی کے قضیے اور پھر یزید کے حکومت پہ قابض ہونے نے اس سارے مقصد کے برآنے کی امید صلح و صفائی کے راستے سے ختم کرڈالی جس کی خاطر صلح کی گئی تھی۔اور حالات واپس اس نہج سے بھی آگے چلے گئے جس نہج پہ شہادت حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے وقت تھے۔اور اسی لئے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے واضح کردیا تھا کہ یزید کی حکومت مان لینے کا مطلب زلت سے زندگی گزارنا ہے اور اس سے بہتر ہے سعادت کی موت سے ہمکنار ہوا جائے۔تو حضرت امام حسین کسی کی شہہ پہ عراق نہیں گئے تھے اور نہ ہی آپ کو اپنے جانثاروں،رفیقوں اور عراق میں موجود سرکردہ رہنمایان علوی کیمپ کی نیتوں اور وابستگی پہ کوئی شک تھا۔آپ صاحب بصیرت قائد و امام تھے اور یہ آپ کا اپنا کیا ہوا فیصلہ تھا کہ یزید کی حکومت کے خلاف قیام کا وقت آگیا ہے۔) امام حسین رضی اللہ عنہ معرفت کے جس مقام پہ فائز تھے اس مقام پہ حامل شخص کو انسان کامل کہا جاتا ہے اور اور وہ حجت اللہ علی الناس ہوا کرتا ہے۔وہ قائم بالزمان ہوا کرتا ہے۔تو وہ کیسے کسی کے بہکاوے میں آئے گا اور کیسے کسی کے کہنے کی روشنی میں اپنے آئیندہ کے لائحہ عمل کا تعین کرے گا۔

 

Views All Time
Views All Time
96
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

جواب دیجئے

%d bloggers like this: