Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

ایک اور نیو لبرل نواز شریف کا طبلچی | عامر حسینی

by August 21, 2017 بلاگ
ایک اور نیو لبرل نواز شریف کا طبلچی | عامر حسینی

خالد احمد پاکستان میں نیوز ویک کے مشاورتی مدیر(کنسلٹنگ ایڈیٹر)،قومی و بین الاقوامی پریس میں مضمون نگار اور وڈرو ولسن امریکی تھنک ٹینک کے ریسرچ فیلو اور اسی تھنک ٹینک کی فنڈنگ سے انھوں نے ‘فرقہ وارانہ جنگ۔۔’ ایک کتاب بھی لکھی ۔۔۔۔۔ ان کے بارے میں دائیں بازو کی صحافت میں جماعت اسلامی کیمپ کے ساتھی صحافی فیض اللہ خان کی وال پہ ایک شخص نے لکھا کہ خالد احمد کا خیال ہے :

‘ پاکستان کی تاریخ میں لیاقت خان کے بعد اگر کوئی سیاست دان ہے تو وہ نواز شریف ہے’

نواز شریف کی حمایت کرنے والے اکثر نیولبرل اور لبرل لیفٹ کے لوگوں کی جب پروفائل پڑھی جاتی ہے تو ان کا تعلق بہرحال امریکی نیولبرل کیمپ سے یا برطانوی نیو لبرل کیمپ سے نکل آتا ہے۔اور یہ وہ عالمی نیو لبرل کیمپ ہے جو نام نہاد دہشت گردی کی جنگ کا سب سے بڑا حامی رہا ہے اور اس کے ہاں سامراج کی مڈل ایسٹ ، جنوبی ایشیا ،مشرق بعید ،افریقہ اور لاطینی امریکہ کے ممالک میں ‘رجیم بدلو۔۔۔۔جمہوریت لاؤ’ پروجیکٹ کے نام پہ براہ راست یا بالواسطہ مداخلتیں ‘ترقی پسندانہ اقدام ‘ ہے اور یہ ایک طرح سے مثبت ‘کالونیل ‘ سوچ کہی جاتی ہے۔

ان کے ہاں امریکہ ، برطانیہ ، جرمنی ، فرانس نے سعودی عرب،ترکی، بحرین، کویت،قطر سے ملکر شام،یمن، لیبیا ميں جو مداخلتیں کیں وہ درست ہیں اور یہ اسے جمہوریت لانے کا پروجیکٹ بتاتی ہیں۔

یہ لبرل لیفٹ انتہائی منافقانہ، موقعہ پرستانہ موقف کا حامل ہے۔ خالد احمد کی بات چل رہی ہے۔ ان کا ایک مضمون نیوز ویک، انڈین ایکسپریس میں شایع ہوا۔ مضمون کا عنوان:

When silence was golden

اس مضمون میں خالد احمد (اس نے ساتھ کے جتنے نیولبرل ہیں انھوں نے یہی موقف اور پوزیشن اختیار کی یہ بھی اتفاق ہی ہوگا مان لیتے ہیں ) میں انھوں نے سعودی عرب اور اس کے جملہ اتحادیوں کی کانفرنس منعقدہ ریاض میں نواز شریف کی خاموشی کا دفاع کیا اور جب پاکستان اور اس کے حکمران طبقات کا سعودی عرب سے تعلقات کا سوال انھوں نے ڈسکس کیا تو زرا ان کا انداز ملاحظہ کیجئے:

Pakistan has always been close to Saudi Arabia. PM Sharif and his family are especially beholden to the Saudi king for saving their lives after General Pervez Musharraf overthrew Sharif’s government in 1999, and then gifting his bankrupt government a billion dollars after his comeback in 2013. Saudi Arabia’s influence in Pakistan is exercised through funded madrasas and an army that continues to be a favoured security glacis for the kingdom’s internal and external defence. The world fears that the kingdom, if it ever chooses to go nuclear, will be piggybacked by Pakistan.

اس پیرا گراف میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ خالد احمد کتنی خوبصورتی سے نواز شریف کے پاکستان میں سعودی فنڈڈ، قطری فنڈڈ تکفیری مذہبی دہشت گرد ،انتہا پسند اور کالعدم تنظیموں سے تعلقات اور سعودی عرب کے پاکستان میں وہابیت کو پھیلانے کے پروجیکٹ میں نواز شریف اور ان کی پارٹی کے کردار کو گول کر گئے اور صرف ساری بات اس ضمن میں ملٹری اسٹبلشمنٹ پہ ڈال دی۔یہ بالکل ویسے ہی بائنری ہے جو عاصمہ جہانگیر، امتیازعالم، نجم سیٹھی اور ان کے دیگر چیلے بنا بناکر ہمارے سامنے پیش کرتے رہتے ہیں۔کیا نواز شریف اور ان کے رفقاء کو سعودی عرب کی داخلی و بیرونی سلامتی کا ٹھیکہ پاکستانی فوج کو دینے پہ کوئی اعتراض ہے؟ کیا نواز شریف سعودی عرب کے ساتھ فوجی اتحاد میں شامل نہیں ہوئے؟ کیا نواز حکومت نے شام پہ اپنی پوزیشن نہیں تبدیل کی ؟نواز شریف بارے سابق سعودی سفیر برائے امریکہ نے نہیں کہا تھا کہ نواز شریف پاکستان میں ہمارے بندے ہیں۔نواز شریف کے غالب اتحادی سعودی عرب کے نظریاتی اتحادی بھی ہیں اور پاکستان میں ابھی تک عام آدمی کو یہ معلوم نہیں ہے کہ خود یہ پاکستانی نواز شریف کے حامی لبرل عالمی سطح پہ مڈل ایسٹ سمیت دنیا کے اکثر خطوں میں امریکہ کی بلاواسطہ یا بالواسطہ فوجی مداخلتوں اور پراکسی جنگوں کے بھی حامی ہیں۔

یہ اتنی بھی ہمت نہیں رکھتے کہ یہ کھلے لفظوں میں امریکی مداخلت کار خارجہ پالیسی پہ ہی کوئی تنقید کرسکتے ہوں۔ان سے کہیں زیادہ باہمت اور حوصلہ مند تلسی گیبرڈ امریکی کانگریس ویمن ہے

خالد احمد کا ایک اور مضمون ہے :

The monopoly of violence

اس مضمون کا مرکزی خیال یہ ہے کہ پاکستان کے اندر وائلنس ریاستی کرداروں سے منتقل ہوکر غیر ریاستی کرداروں کے ہاتھوں میں مرتکز ہورہی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس مضمون میں خالد احمد نے دو صوبے تفصیل سے ڈسکس کئے۔ پہلا صوبہ بلوچستان ہے۔اس صوبے کی صوبائی حکومت جس کی قیادت مسلم لیگ نواز کررہی ہے کے بارے میں انھوں نے کوئی ایک بھی جملہ نہیں بولا، نہ ہی اس صوبے میں جے یو آئی ایف اور اہلسنت والجماعت / سپاہ صحابہ کے درمیان باہمی اشتراک کا ذکر کیا۔حد تو یہ ہے کہ انھوں نے ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن اور پورے کے پی کے میں بھی جے یو آئی ایف اور اہلسنت والجماعت / سپاہ صحابہ پاکستان کے باہمی اشتراک اور ان کے مسلم لیگ نواز سے تعلقات پہ کوئی روشنی نہ ڈالی اور نہ ہی یہ بتانے کی کوشش ہمیں کی کہ اگر جے یوآئی ایف ، اے ایس ڈبلیو جے جو نواز شریف کے ساتھ ہیں یہ نان سٹیٹ ایکٹرز کی وائلنس پہ مناپلی کی ملٹری اسٹبلشمنٹ کی پالیسی سے اتفاق نہیں کرتے اور یہ اینٹی اسٹبلشمنٹ ہیں جیسے وہ نواز شریف کو بتلاتے ہیں تو ان کی وآئلنس کو بلوچستان ، خیبرپختون خوا، پنجاب کے اندر کیسے ملٹری اسٹبلشمنٹ برداشت کررہی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ جماعتیں ‘دفاع کونسل پاکستان ‘ میں کیا کررہی ہیں؟

Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI), which rules KP, has had to tolerate and defer to a seminary near Peshawar where many leaders of TTP and Afghan Taliban had gone for their early religious instruction. Madrasa Haqqania of Nowshehra has been led by a powerful cleric Maulana Samiul Haq who had been eased into the federal Senate in the past when he was riding high during the war in Afghanistan, and his sexual misadventures in the capital had to be tolerated. This year, the government of KP allocated Rs 300 million in its budget for Haqqania, and the media noted how this “university of jihad” had top Afghan Taliban leaders among its alumni, including its late chief, Mullah Omar. The seminary actually had remained closed for many months to allow its students to participate in the Taliban’s war to capture the Afghan province of Mazar-e-Sharif in 1998.

اس پورے مضمون میں خالد احمد نے اکوڑہ خٹک کے مدرسے کا ذکر کیا لیکن جامعہ بنوریہ، پنجاب میں موجود مدارس، مستونگ، خضدار، قلات اور ایسے ہی پشتون بلوچستان کے اندر جو مدارس ہیں جن کی اکثریت بہرحال اکوڑہ خٹک کی نہیں ہے بلکہ جے یو آئی ایف اور اے ایس ڈبلیو جے کی ہے جن کے بارے میں بہت سی رپورٹس ہیں یہاں سے جو ‘پرائیویٹ جہاد ‘ کے لئے ‘میڈیم ‘ کا کام ہورہا ہے اسے وہ کس کھاتے میں دیکھتے ہیں؟ اندرون سندھ 99 فیصد سہولت کار مدارس جے یو آئی ایف و سپاہ صحابہ پاکستان کا مشترکہ وینچر ہیں اور یہ دونوں جماعتیں نواز شریف کو سپورٹ کررہی ہیں اور ان کو نواز شریف کی سرپرستی بھی حاصل ہے۔

حامیان نواز شریف نیولبرل اتنا شرماتے کیوں ہیں نواز شریف اور ان کی پارٹی کے تکفیری دیوبندی-سلفی وہابی نیٹ ورک سے نظریاتی اشتراک سے؟اور پھر اس اشتراک میں ملٹری اسٹبلمشمنٹ میں ضیائی الحقی ٹولے کو شریک کرکے پوری تصویر کیوں نہیں دکھاتے؟

ایک سطر بھی یہ ضیاءالحقی تکفیری نیٹ ورک کے ساتھ نواز شریف کے اشتراک بارے نہ لکھنے والے طاہر القادری، الیاس قادری سمیت کئی ایسے لوگوں پہ پورے پورے آرٹیکل لکھتے ہیں جو بہرحال لوگوں کے گلے کاٹنے اور تکفیر ازم و جہاد ازم کو فروغ نہیں دیتے۔

ایسے ہی ایک اور مضمون خالد احمد نے نواز شریف کی نااہلی کے بعد لکھا :

After Nawaz Sharif

اس آرٹیکل کو اگر شرمناک چشم پوشی پاکستان کے عوام کی حالت زار بارے کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔

خالد احمد اس مضمون میں کرپشن کو پاکستان کی بدحالی کا سبب سرے سے جانتے ہی نہیں ہیں۔(اگرچہ انقلابی لیفٹ کے خیال میں کرپشن اصل مرض نہیں بلکہ اصل بیماریوں کی جڑ مالیاتی سرمایہ داری نظام ہے جو ناہموار ترقی کو جنم دیتا ہے جس سے سب بیماریاں جنم لیتی ہیں) انقلابی لیفٹ اور خالد احمد جیسے نیولبرل کے درمیان فرق یہ ہے کہ انقلابی لیفٹ سرمایہ دارانہ مالیاتی نظام اور پالسیوں کو سوشلسٹ پالسیوں سے بدلنے کی بات کرتا ہے جبکہ نیولبرل اصل میں ہمیں یہ بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ کرپشن، بدعنوانی ، لوٹ مار، فیورٹ ازم یہ سب بیماریاں نیولبرل اکنامک ماڈل کی ترقی کو نہیں روکتیں، ترقی کے سفر کو روکتی ہے تو بس فوجی اسٹبلشمنٹ کی سویلین اتھارٹی پہ بالادستی، نرم آئیڈیالوجی پہ سخت گیر اسلام کی بالادستی،نصابی کتابوں میں رجعت پسندی کا داخلہ اور اس سے جنم لینے والی جہادی ٹائپ جیو سٹرٹیجک پالیساں ۔۔۔۔خالد احمد وال سٹریٹ جرنل،واشنگٹن پوسٹ سمیت امریکی نیو لبرل پریس کے پاکستانی معشیت کے بارے میں تجزیوں کو پیش کرکے یہ بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ نواز شریف کی نااہلی سے پاکستانی معشیت جو ترقی کے سفر پہ گامزن ہے زوال پذیر ہوگئی ہے۔

میں خالد احمد سمیت ان سب نیو لبرل دانشوروں کو یاد کراؤں کہ مشرف کے زمانے میں یا جنرل ضیاء الحق کے دور میں یا پھر ایوب خان کے زمانے میں امریکہ اور برطانیہ کا نام نہاد لبرل پریس پاکستانی معشیت بارے کیا تجزیے کررہا تھا اور کیسے شاندار الفاظ استعمال کئے جاتے تھے۔ان کے فیورٹ سیاست دان نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف کو جب موقعہ ملتا ہے وہ بھٹو کی نیشنلائزیشن کو پاکستان کی ترقی کا سفر روکنے سے تعبیر کرتے ہیں اور یہ ایک آمر تھا جس نے بھٹو کی معاشی پالسیوں کو ریورس گئیر لگایا تھا اور اس حساب سے دیکھا جائے تو کیا آمر اور کیا منتخب حکمران ضیاء الحق کے دور سے لیکر پوسٹ ضیاء دور تک سب کی مالیاتی پالسیوں میں کوئی جوھری فرق سرے سے موجود ہے ہی نہیں۔اور خالد احمد سمیت پاکستان میں نواز شریف کے حامی لبرل سے یہ بھی سوال بنتا ہے کہ جسے وہ
Irrational geostrategic vision

کہتے ہیں چاہے یہ سعودی عرب،قطر ،ترکی وغیرہ کی قیادت میں مڈل ایسٹ میں ہو یا پاکستان اس کا جنوبی ایشیا میں سرخیل بنا ہو اور اب بی جے پی بنی ہوئی ہے ہندوستان میں تو ان سب نامعقول و ناہنجار جیو سٹرٹیجک وژن کی سرپرستی کون کرتا ہے؟کیا امریکہ ، برطانیہ ، فرانس ، سعودی عرب ، ترکی اور دیگر یہی سب تماشا مڈل ایسٹ میں نہیں لگائے ہوئے؟ نصرہ فرنٹ ہو،احرارالشام ہو، اخوان المسلمون ہو ، القاعدہ کے کئی دھڑے ہوں جو بشار الاسد کے خلف لڑے، حوثی قـبائل سے لڑے وہ ماڈریٹ ہوجاتا ہے۔اور ہمارے پاکستان میں نواز شریف کے حامی نیولبرلز ہر ہس جہادی، تکفیری اور انتہا پسند گروہ کا سرے سے تذکرہ بند کردیتے ہیں جس کا نواز شریف سے تعلق نکل آئے اور بس سارا زور ملٹری اسٹبلشمنٹ کے کھاتے میں ڈال دیتے جبکہ ان سب کے درمیان اشتراک موجود ہے۔

Employing hate-speech, which is the new political idiom, most Pakistanis say the country is doomed because of corruption. But the world outside is sanguine about the $46 billion invested in Pakistan by China — only for infrastructure — which the Pakistanis have come to hate, focusing more on health and education. The world outside, however, didn’t agree. The Economist began the trend of positive assessments in May 2015 noting the kudos the International Monetary Fund (IMF) had heaped on Islamabad for not being lax in macroeconomic discipline. The opposition — the PTI and most erstwhile Sharif allies — dismissed all predictions of better days to come by denouncing the IMF as well.
Jaffrelot doesn’t mention corruption as the cause of trouble in Pakistan. He names the nature of Pakistan’s nationalism or what he calls “nationalism without a nation”, the dominance of the army, conflict between “mild” ideology and “hard Islam”, and the dominance of textbook indoctrination that perpetuates conflict and prevents a rational geostrategic vision that would facilitate attention to the national economy and collection of taxes.

پاکستان کے اندر سروسز سیکٹر اور انڈسٹریل سیکٹر اور پھر آئی ٹی سکیڑ اور ایسے ہی زرعی سیکٹر میں ورکنگ کلاس کے ساتھ جو سلوک ہورہا ہے، ان کے احتجاج اور ہڑتال پہ جیسے ڈریکولائی قوانین حرکت میں آتے ہیں اور ریاستی طاقت جس طرح سے استعمال کی جاتی ہے، ڈرائیورز کی ہڑتال ہو، کے ای ایس سی ، پی آئی اے ، اساتذہ ،نرسوں ، ینگ ڈاکٹرز ، مزارعین ان سب کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات قائم کئے گئے۔پاور لومز ورکرز ہوں یا ملٹی نیشنل کمپنیوں (نیسلے، کوکا کولا ، بروک بانڈ) میں ڈیلی ویجرز مستقل ہونے اور ٹھیکے داری نظام کے خاتمے کی مانگ کریں ان سے ریاستی سویلین و ملٹری مشینری جیسے نمٹتی ہے اس بارے میں ان لبرل کا قلم خاموش رہتا ہے۔اور یہ اس میں بھی بس ریاست کے ایک ادارے کو ہی نشانے پہ رکھتے ہیں جبکہ کارپوریٹ سرمایہ داروں کا جو اس معاملے میں ہاتھ ہوتا ہے اس بارے ایک لفظ بھی زبان پہ نہیں لایا جاتا۔

پاکستانی لبرل لیفٹ کا ایک سیکشن عاصمہ جہانگیر ، خالد احمد ، نجم سیٹھی سمیت پاکستانی نیولبرل کے شانے سے شانہ ملاکر کھڑا ہے۔یہ اپنے آپ کو سرمایہ دارانہ نظام کا ناقد بناکر پیش کرتا ہے لیکن اس کے ہاں پاکستانی نیولبرل کی نواز شریف کی معاشی پالسیوں کے جو قصیدے پڑھے جارہے ہیں اس کا رد دیکھنے والا کوئی بیان نظر نہیں آتا بلکہ یہ بھی ریاست بارے نیولبرل کے تجزیوں کے بوجھ تلے دبا نظر آتا ہے۔اور ان نیولبرل کی بدیانتی اور ان کی دانش کے بانچھ پن کو بے نقاب کرنے کی بجائے نیولبرل کی عظمت کے ڈنکے بجانے لگتا ہے اور تب ہمیں اس سیکشن کے اپنے دیوالیہ پن کا بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے۔

http://indianexpress.com/…/after-nawaz-sharif-panama-paper…

http://indianexpress.com/…/after-nawaz-sharif-panama-paper…

http://indianexpress.com/…/pakistan-pm-nawaz-sharif-at-us-…

مرتبہ پڑھا گیا
169مرتبہ پڑھا گیا
مرتبہ آج پڑھا گیا
1مرتبہ آج پڑھا گیا
Previous
Next

Leave a Reply

%d bloggers like this: