Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

کیا کلکتہ میں چڑیاں ہوتی ہیں ؟ | عامر حسینی

by June 13, 2017 بلاگ
کیا کلکتہ میں چڑیاں ہوتی ہیں ؟ | عامر حسینی

سوشل میڈیا نے کم از کم میری کچھ بھاؤناؤں کو اچھے سے پورا کیا ہے اور میں نے کم از کم سوشل میڈیا کے دور سے پہلے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میں کبھی اپنی ان بھاؤناؤں کو پورا ہوتے دیکھ پاؤں گا۔ایک بڑا سا ریڈیو جو لکڑی کی میز پہ سر شام رکھ دیا جاتا تھا اور ہم سب گھر والے اس میز کے گرد نیچے فرش پہ بچھی دری پہ بیٹھ جاتے اور بی بی سی اردو کی نشریات سننے لگتے تھے۔مہ پارہ صفدر سے خبریں سنی جاتی تھیں۔کبھی نہ ان کی تصویر دیکھی اور جب وہ پاکستان ٹیلی ویژن پہ خبریں پڑھتی تھیں اس وقت کا بھی ہمیں کچھ پتا نہیں تھا۔ایک دن میری کسی پوسٹ پہ فیس بک پر مہ پارہ صفدر کا لائک دیکھا اور پھر کمنٹ پڑھا تجسس ہوا کہ یہ کون سی مہ پارہ صفدر ہیں تو یہ جان کر شادی مرگ کی سی کیفیت طاری ہوگئی کہ یہ میری پسندیدہ صدا کار ہیں۔ایک دن دی نیشن میں لکھنے والے لکھاری عباس زیدی فیس بک پہ میرے دوست ہوگئے اور ان سے بات چیت بھی ہونے لگی۔ہفت روزہ نصرت کے زیدی صاحب سے یاد اللہ ہوئی اور پھر چل سو چل۔گوادر سے کے بی فراق اور ممبئی سے رحمان عباس۔شام سے احتشام اور بیروت سے امل سعد ، اردن سے مرحوم ناھض ھتر اور بیروت ہی سے الاخبار کے ایڈیٹر ابراہیم امین۔ایک دن جان ریس مرحوم لندن سے آگئے جن کی ‘انقلاب کا الجبراء’ پڑھ کر ہوش جاتے رہے تھے۔خشک مزاج الیکس سے یاد اللہ ہوئی۔ایران سے کامریڈ بہرام اور ایک دن ایرانی اداکارہ و ڈائریکٹر شبنم طلوعی ٹوئٹر سے فیس بک تک آئیں اور ان سے بات چیت ہوئی۔قرۃ العین طاہرہ نامی فلم میں ان کی اداکاری کے جوہر دیکھنے والے ہیں۔باغی اختر عباس اور اپنے آپ کی تلاش میں مگن علی جون صاحب اور دیکھیں یہ آکسفورڈ کے ظہور الحق بھی تو میرے علاقے کے ہونے کے باوجود مجھے یہیں سوشل میڈیا پہ ملے۔میں یہ سب باتیں آج یہاں کیوں لکھ رہا ہوں؟
دلّی دوبارہ جانا چاہتا ہوں ،تازہ وجہ تصنیف حیدر ہیں۔ان کے سامنے بیٹھ کر کچھ دیر ان سے ان کی شاعری سننا چاہتا ہوں۔ممبئی جاکر رحمان عباس سے کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں۔ممبئی سنٹرل اسٹیشن سے ساجد رشید کے گھر کے قریب ترین اسٹیشن تک ٹرین کا سفر کرنا چاہتا ہوں ۔اس کافی ہاؤس کی یاترا کرنا چاہتا ہوں جہاں کبھی مرحوم باقر مہدی بیٹھا کرتے تھے۔
میرا خواب ہے کلکتہ دیکھنے کا جو ابھی تک پورا نہیں ہوا۔کلکتہ میں کئی وجوہات کی بنا پہ دیکھنا چاہتا ہوں لیکن اس کی تازہ ترین وجہ جس نے کلکتہ دیکھنے کی خواہش اور شدید کردی ہے سومی اینگلو انڈین بنگالن ہیں۔ان کی باتوں نے کلکتہ دیکھنے کی خواہش کو آگ دکھادی ہے۔اینگلو انڈین کلکتہ کے بنگالی خاندان میں جنمی یہ ادیبہ اور مترجم مجھ سے جب ہم کلام ہوئی تو مجھے یوں لگا جیسے میں کسی سائے سے گفتگو کررہا ہوں۔یہ چار زبانیں جانتی ہے۔تین میں پڑھتی اور لکھتی ہے، دو میں سوچتی ہے۔اور ایک میں خواب دیکھتی ہے۔میں نے پوچھا کہ بغیر سوچے کیسے وہ کونسی زبان ہے جس میں یہ لکھ بھی لیتی ہے اور پڑھ بھی لیتی ہے تو کہنے لگی فرنچ اور ساتھ کھلکھلا کر ہنس پڑی۔اب مجھے نہیں پتا کہ کھلکھلا کر ہنسی بھی تھی یا نہیں کیونکہ ہماری بات چیت صرف لکھ کر ہورہی تھی اور اس نے کھل کر ہنسنے کا ایموجی بھیجا تھا۔کہتی ہے کہ انگریجی اس کے جذباتی صورت کی زبان ہے ۔لینگويج آف ایموشنل میک اپ۔کہتی ہے کلکتہ اس کے لئے کبھی کولکتہ نہیں ہوسکتا۔اس نے کلکتہ کے ایسے محلے میں آنکھ کھولی جہاں ہر طرف بس اینگلو انڈین بنگالی رہتے تھے اور اس کا گھر ریپن اسٹریٹ میں تھا۔پھر وہاں سے یہ نارتھ کلکتہ میں منتقل ہوگئی جہاں بنگالی کلچر کے کسٹوڈین بہت جیادہ انگریجی زدہ تھے۔انجیلی سائزڈ تھے۔سائیکل رکشہ گھسیٹتے لاغر بدن،ناقابل اعتبار ٹرام،سرخ اینٹوں سے بنی دیواریں اور ارسٹو کریٹس بنگالی ان سب نے اسے اینگلیسائزڈ کردیا۔کیا کلکتہ اب بھی ویسا ہی ہے؟ ہاں نا، جہاں نہیں ہوتا میں تخیل سے کرلیتی ہوں۔ اس کے جواب نے مجھے ساکت کردیا۔میں بھی تو کراچی اور لاہور کو جہاں یہ ویسا نہیں ہوتا جیسا میرے دماغ میں بسا ہوا ہے ویسا کرلیتا ہوں۔میں نے یہ سوچا اور ترنت اسے بتا بھی دیا۔میری پہلی استانی بھی میتھوڈسٹ چرچ کی پیروکار تھیں اور اس نے بتایا کہ وہ بھی متھوڈسٹ اسکول میں پڑھی جہاں بائبل والی انگریجی پڑھی استانیاں تھیں۔اس نے اپنا پہلا محبت نامہ انگریجی میں لکھا۔ایسا پتر جو کبھی جس کے لئے لکھا گیا اسے بھیجا نہ گیا۔شاعری کے اولین شبد بھی اسی زبان میں اس نے لکھے تھے۔فرانسیسی ایسی زبان ہے جس میں وہ ٹھیک سے نہ تو سوچ سکتی ہے اور نہ اس میں محسوس کرسکتی ہے لیکن وہ اس میں لکھ لیتی ہے آسانی سے۔لیکن خواب تو یہ بس انگریجی میں دیکھتی ہیں۔اینگلو ہندوستانی بنگالن کو اپنی زبان سے پیار 21 سال کی عمر میں ہوا جب یہ اپنے دادا کی لائبریری میں گھسیں اور وہاں انہوں نے انگریجی میں ٹیگور کو پڑھا۔کہنے لگی،”تمہارے کو پتا ہے؟ ٹیگور کو بدیشی جبان میں پڑھنا بلاسفیمی خیال کیا جاتا ہے؟میں نے کہا پھر تو زیادہ تر لوگ اس بلاسفیمی کے مرتکب ہوئے ہیں،اس نے فوری کہا نہیں میرا مطلب تھا کسی بنگالی کا پڑھنا۔کہتی ہے میں خواب گر ہوں اور سوشلسٹ بھی لیکن لٹریچر کو کسی ڈسکورس کو سامنے رکھ کر نہیں پڑھتی۔اسے اردون دھتی رائے سے عشق کی حد تک لگاؤ ہے اور بنّا پھول کو بھی یہ بہت چاہتی ہے۔سیتہ جیت رے کی طرح بننا اس کا خواب ہے لیکن اس کو تعبیر میں ڈھالنے کی اس نے کبھی کوشش نہیں کی۔بنگال کا جب کبھی میں تصور باندھتا ہوں تو بہت تیز،موسلادھار بارش اور بارش سے پہلے بہت حبس اور چپ چپا کردینے والا موسم میرے ذہن میں آجاتا ہے۔لیکن پھر بھی کلکتہ کا نام سنکر مجھ پہ ایک رومانویت سی طاری ہوجاتی ہے۔لیکن یہ اس رومانویت سے بالکل الگ سی شئے ہے جو کراچی میں یاد کی شکستہ دیواروں سے گلے لپٹتے ہوئے مجھ پہ طاری ہوتی ہے یا لارنس باغ میں بدھا کے درخت کے سامنے “اس” کی موجودگی میں طاری ہوا کرتی تھی۔ہارمونیم سے سومی کو عشق ہے اور یہ اسے بجاتی ہے بقول اپنے من میں ڈوب کر۔ایک کلپ اس نے بھیجا ہارمونیم کی موسیقی کا پیچھے چڑیوں کے چہچہانے کی آواز تھی۔”کیا کلکتہ میں چڑیاں ہوتی ہیں ؟” ۔”نہیں تو ، کوے ہوتے ہیں”۔اس نے ذرا چڑ کر جواب دیا تو مجھے بے اختیار ہنسی آگئی۔

مرتبہ پڑھا گیا
229مرتبہ پڑھا گیا
مرتبہ آج پڑھا گیا
1مرتبہ آج پڑھا گیا
Previous
Next

Leave a Reply

%d bloggers like this: