Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

قومی ہم آہنگی میں ادب کا کردار: نمونے کا ایک مضمون – عامر حسینی

by اپریل 26, 2017 کالم
قومی ہم آہنگی میں ادب کا کردار: نمونے کا ایک مضمون – عامر حسینی

اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے ” قومی ہم آہنگی میں ادب کا کردار ” کے عنوان سے دو روزہ کانفرنس لنڈی کوتل میں منعقد کی جارہی ہے۔اکادمی ادبیات ایک سرکاری ادارہ ہے اور اس سے یہ توقع کی بھی نہیں جاسکتی کہ یہ کسی ایسے موضوع پہ کوئی کانفرنس کرائے گا جس میں اس بات کا سراغ لگایا جائے کہ پاکستانی ریاست کی ہئیت حاکمہ جب سے سامراجی جنگوں اور پراکسی جنگوں کا حصّہ بنی ہے اور اس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پہ جو لاکھوں افراد کو داخلی ہجرتوں پہ مجبور کیا اور اس جنگوں کے شروع کرنے سے اس ملک میں بسنے والی مختلف قومیتوں،نسلی ثقافتی گروہوں اور مذہبی اقلیتوں پہ تکفیر ازم، جہاد ازم کے نام سے ظلم کے جو پہاڑ ٹوٹے اس کی عکاسی پاکستان کے اندر اردو، سندھی،پنجابی،پشتو،بلوچی،گلگتی بلتی ،سرائیکی ،براہوی،ہندکو زبانوں کی شاعری،فکشن، نان فکشن ادب میں کیسے ہوئی؟ اور سب سے بڑھ کر یہ جائزہ لیا جائے کہ کیسے پاکستانی ریاست کی پراپیگنڈا مشینری نے اسٹیٹس کو مخالف ادبی بیانیوں کو مین اسٹریم کا حصّہ بننے سے روکنے کے لئے ” جعلی ترقی پسندی، روشن خیالی اور اعتدال پسندی ” کا ڈھونگ رچایا؟
پاکستانی مین اسٹریم پہ اس وقت ایک جعلی اور جھوٹی قومی ہم آہنگی بناکر دکھائی جارہی ہے۔اور ریاستی سطح پہ ایسے ظاہر کیا جاتا ہے جیسے پاکستان کی غیر منتخب ہئیت مقتدرہ اور منتحب ہئیت مقتدرہ نے اپنی تاریخ سے سبق سیکھ لیا ہے اور ترقی پسندی،روشن خیالی کے جس ادبی بیانیہ کو اس نے پاکستان بننے کے فوری بعد مسترد کیا تھا اسے اب قبول کرلیا گیا ہے۔ترقی پسندی اور روشن خیالی کے پاکستان کے بڑے ادبی استعاروں کی اب پاکستانی سرکاری ٹیلی ویژن، مین اسٹریم نجی چینلز اور رسائل و جرائد میں رونمائی پہ کوئی پابندی نہیں ہے۔فیض،منٹو،سجاد ظہیر،شیخ ایاز،غنی خان،سبط حسن،ساحر لدھیانوی،جالب اور دیگر سب قابل قبول بن گئے ہیں۔لیکن کیا واقعی ایسا ہے؟ کیا پاکستانی ہئیت مقتدرہ افتادگان خاک،کچلے ہوؤں اور پسے ہوؤں اور جبر و ظلم کا شکار لوگوں کو ترقی کے سفر میں شریک کرنے اور ان کی ثقافتوں کو اپنے مہا ثقافتی بیانیہ کا حصّہ ماننے پہ تیار ہوگئی ہے؟ اور کیا واقعی سرائیکی خطے سے پروفیسر شمیم عارف ، باسط بھٹی، ، سندھ سے پروفیسر امر سندھو،پشاور سے سلیم راز اور ایسے ہی کچھ اور ناموں کی لنڈی کوتل جاکر ” قومی ہم آہنگی میں ادب کا کردار” پہ مقالے پڑھنا اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی ریاست کی ہئیت حاکمہ ایسے اقدامات اٹھارہی ہے جس سے ایک رضاکارانہ قومی ہم آہنگی کی فضا جنم لے رہی ہے اور اب کسی شاعر کو ” یہ داغ داغ اجالا ،یہ شب گزیدہ سحر ” اور ” جاگ میرے پنجاب کہ بلوچستان چلا” لکھنے کی ضرورت نہیں رہی۔کیا سندھ میں اب شیخ ایاز کی ضرورت نہیں رہی کہ وہ باغیانہ نظموں سے سندھی نوجوان کو جگانے کی کوشش کرے،کسی حلیم باغی اور سرمد سندھی کی ضرورت نہیں رہی؟ کیا بلوچستان میں گل خان نصیر جیسی مزاحمتی اور انقلابی شاعری کی اب ضرورت نہیں ہے؟ کیا سرائیکی خطے کو "اساں قیدی تخت لہور دے” جیسی شاعری کی ضرورت نہیں ہے؟ کیا ہمیں ریاست کا مہابیانیہ اس ملک کے کروڑوں محنت کشوں اور مظلوم و مجبور اقوام کی خواہشوں اور آرزوؤں کے مطابق لگتا ہے جو ہم یہ جائزہ لیں کہ اس ملک کی مختلف زبانوں کا ادب کس قدر قومی ہم آہنگی کا فریضہ سرانجام دے رہا ہے؟
کیا بلوچستان کے بازاروں میں بنی کتابوں کی دکانوں سے میکسم گورگی کا ناول ‘ماں’ کی جلدوں کو اٹھانے اور کارل مارکس،لینن ، فریڈرک اینگلز ،چی گیویرا اور بلوچ دانشور صبا دشتیاری کی کتابوں کو رکھنے پہ ایف سی اور ایجنسیوں کی چڑھائی بند ہوگئی ہے؟ کیا سی پیک کے خلاف کمپئن چلانے والا بی ایس او آزاد کا ترجمان شبیر بلوچ واپس آگیا ہے؟ کیا اس آرمی افسر نے بی ایس او آزاد کی جلاوطن چئیرپرسن کریمہ بلوچ کی بہن اور گھروالوں سے معافی مانگ لی ہے جس نے کہا تھا کہ کریمہ بلوچ اگر بیرون ملک ریاستی اداروں کی جانب سے انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف آواز اٹھانے سے باز نہ آئی تو ان کو نتائج بھگتنے کے لئے تیار رہنا ہوگا۔کیا سندھ میں عدم تشدد پہ مبنی سندھ کے حقوق کی آواز اٹھانے والے سیاسی کارکنوں، دانشوروں، اساتذہ ، شاعروں اور ادیبوں کو اٹھائے جانے، تشدد کا نشانہ بنانے اور کرائے کے قاتلوں کے ذریعے قتل کرائے جانے کا سلسلہ بند ہوگیا ہے؟ کیا کراچی میں اردو بولنے والی کمیونٹی کے لوگوں کا ماورائے عدالت قتل، اذیت دہی اور جبری گمشدگیوں کا سلسلہ بند ہوگیا ہے؟ کیا پاکستان کی ہئیت مقتدرہ نے جہادیوں اور تکفیریوں کو بطور پراکسی استعمال کرنا بند کردیا ہے؟ کیا ریاست نجکاری سے باز آگئی ہے؟ کیا ریاست نے سرمایہ داروں اور عالمی سامراجی اداروں اور طاقتوں کی غلامی ترک کردی ہے ؟ کیا پاکستانی ہئیت مقتدرہ نے مڈل ایسٹ کے سب سے بڑے مذہبی جنونی دہشت گرد ملک سعودی عرب کی غلامی کا طوق گلے سے نکال کر پھینک دیا ہے؟ کیا ریاستی حاکموں نے یہ مان لیا ہے کہ 80ء کی دہائی سے انہوں نے اس ملک کی جو سعودائزیشن کا عمل شروع کیا تھا وہ بہت بھیانک غلطی تھی اور کیا ہئیت مقتدرہ یہ مانتی ہے کہ حافظ سعید،مسعود اظہر ، لدھیانوی و فاروقی و فضل الرحمان خلیل و طاہر اشرفی اس کے اثاثے نہیں ہیں ؟ اور اگر نہیں مانا تو پھر پاکستان کی مختلف زبانوں کے اندر لکھنے والے آزاد اور ترقی پسند فکر کے حامل شاعر، ادیب ، لکھت کار کیا لکھیں گے ؟ یہی نا کہ ایسے سٹیٹس کو کے ساتھ کسی قومی ہم آہنگی کی کوئی امید رکھی جانی فضول ہے۔اور ریاست کی ہئیت مقتدرہ چاہے وہ منتخب ہے یا غیر منتخب جس روشن خیالی کی بات کرتی ہے وہ نوآبادیاتی اور سامراجی روشن خیالی کے سوا کچھ نہیں ہے۔اگر تو آپ لنڈی کوتل کی سرکاری کانفرنس میں جاکر یہ باتیں کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں تو پھر تو جن ناموں کا میں نے اوپر ذکر کیا ان کا جانا بنتا ہے۔ پروفیسر شمیم عارف قریشی اگر لنڈی کوتل جاکر سرائیکی خطے کی غلامی، مجبوری، پسے اور کچلے جانے کی کہانی بیان کرے اور اس کے ذمہ داروں کا تعین کرے، امر سندھو سندھ کی بدحالی اور اس کے عوام کی غلامی کے ذمہ داروں کی بات کرے اور ریاست کے بیانیہ کو چیلنج کرے، سیلاب محسود وزیرستان کی عوام کی آواز بلند کرے اور ایسے ہی دیگر دانشور بات کریں اور یہ سوال ریاست کے سامنے رکھیں کہ ان حالات واقعات میں حقیقی ادب کیسے قومی ہم آہنگی کی فضاء پیدا کرسکتا ہے جب اس کے لئے درکار اقدامات اٹھانے کو ریاست تیار ہی نہیں ہے تب تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان دانشوروں نے سرکاری خرچ پہ لنڈی کوتل تک کا سفر کرنے اور ذرا موج مستی کرنے کے لئے اس کانفرنس میں اپنا نام نہیں ڈلوایا ہے۔ میں نے کئی ایک ناموں کا اس میں ذکر نہیں کیا جو اس کانفرنس کے چھپے دعوت نامے یں موجود ہیں جن کا ایسی بکواس نظریاتی باتوں سے کچھ لینا دینا نہیں ہے جو خالص ادب برائے ادب کے قائل ہیں۔اور ایسے نام بھی ہیں جو امریکی فنڈنگ سے سندھ میں عرصہ 20 سال سے تصوف کو پھیلارہے ہیں اور ان کی کوششوں سے سندھ میں سلطان آباد جیسے علاقے طالبانی تصوف کا گڑھ بن گئے ہیں اور حفیظ بروہی جیسے صوفی باصفا شرک و بدعت کے گڑھ سہیون پہ اپنے بچے پھٹنے کے لئے بھیج کر سندھ کو پرامن بنارہے ہیں اور امریکیوں کی فنڈنگ سے سندھ وحدت الوجودیت کے مضبوط قلعے میں بدل رہا ہے جس کا مشاہدہ خیرپور میں بخوبی کیا جاسکتا ہے۔اس سے یہ مت سمجھا جائے کہ یہاں میری مراد جامی چانڈیو جیسے لوگوں سے ہے۔جامی چانڈیو کون ہے ؟

Views All Time
Views All Time
182
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

جواب دیجئے

%d bloggers like this: