طیب اردوگان : پاکستان کی پارلیمانی سیاست کا شرمناک دن – عامر حسینی

Print Friendly, PDF & Email

aamir-hussaini-new-1فتح اللہ گولن ایجوکیشنل ٹرسٹ آرگنائزیشن – ایف ای ٹی او پاکستان کی سلامتی کے لئے خطرہ ہے۔ہم اپنے تمام دوست ممالک اور پوری دنیا کو مبینہ دہشت گرد تنطیم کے بارے میں خبردار کررہے ہیں، جس کا سربراہ خودساختہ جلاوطن مذہبی سکالر فتح اللہ گولن ہے۔ یہ وہ تنطیم ہے جس نے اس سال ترکی کی منتخب حکومت کے خلاف شب خون مارنے کا منصوبہ بنایا۔اس دہشت گرد نیٹ ورک کو ختم کرنے کی ضرورت ہے اور یہ پاکستان اور دوسرے ملکوں کی سلامتی کے لئے خطرہ بنا ہوا ہے۔پاکستان کے اندر اخبارات میں بعض کالم نگار پاکستانی حکومت کی جانب سے فتح اللہ گولن ایجوکیشنل ٹرسٹ کی جانب سے قائم کردہ پاک۔ترک اسکول کو بند کئے جانے پہ انگلیاں اٹھارہے ہیں، ہم اس عمل کو خوش آمدید نہیں کہیں گے،گولن ٹرسٹ قابل قبول نظریات جیسے ‘تعلیم و سروسز کی فراہمی ‘ کے پیچھے چھپنے کی کوشش کرتی ہے جبکہ اس کا اصل چہرہ دہشت گردی کا ہے”
ترکی کے صدر طیب رجب اردگان کی پاکستانی وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے ساتھ کی جانے والی مشترکہ پریس کانفرنس کا لب لباب یہ ہے۔اور یہ مشترکہ پریس کانفرنس کا غالب متن بھی ہے،باقی باتیں تو محض زیب داستان کے لئے ہی ہیں۔طیب رجب اردگان ابھی پاکستان میں آئے نہیں تھے لیکن نواز حکومت نے پاک –ترک فرینڈزشپ نیٹ ورک کے تحت قائم اسکول و کالجز کے سو کے قریب ترک اساتذہ کے ویزے میں توسیع نہ کرنے اور ان کو ملک چھوڑدینے کے احکامات جاری کردئے گئے تھے،جس کے خلاف ان اساتذہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا ہے۔ترکی کے صدر جس طرح سے ترکی میں اپنی حکومت کے اقدامات پہ تنقید کرنے والے اخبارات اور ٹی وی چینلز پہ جبر کرنے کے قائل ہیں ، ویسے ہی انہوں نے سفارتی آداب بالائے طاق رکھتے ہوئے پاکستانی حکومت کے ترکی کے صدر اردوگان کے دباؤ میں آکر سو ترک شہریوں کو بے دخل کرنے کے احکامات پہ تنقید کرنے والے کالم نگاروں کو تنقید کا نشانہ بنایا وہ بذات خود ایک سنگین عمل تھا

ترکی کے صدر طیب رجب اردوگان نے جب فتح اللہ گولن کے ٹرسٹ کو ایک دہشت گرد ٹرسٹ قرار دیا اور اسے "قابل قبول تصورات ” کے پیچھے چھپنے کا الزام دیا تو یقین کریں مری بے اختیار ہنسی چھوٹ گئی۔کیونکہ ان کے پہلو میں ایک ایسا شخص بطور وزیراعظم پاکستان بیٹھا تھا جس نے ایسی کئی تنظیموں کو پاکستان کے اندر ” سوشل ورک ” کی آڑ میں کام کرنے کی اجازت دے رکھی ہے جن کی دہشت گردی کے نشان عالمی سطح پہ ثبت ہیں۔فلاح انسانیت فاؤنڈیشن ، دعوہ اسکول،کالجز اور یونیورسٹیز نیٹ ورک، میڈیکل کیمپس ، سوشل نیٹ ورک کے پیچھے چھپنے والی جماعت دعوہ/ لشکر طیبہ یو این کی جانب سے عالمی دہشت گرد تنظیم قرار دی جاچکی ہے جبکہ اس کا سربراہ حافظ سعید بھی ایک مانا تانا یواین کی واچ لسٹ میں موجود دہشت گرد ہے۔اسی طرح سے جعلی اہلسنت والجماعت دیوبندی / سپاہ صحابہ پاکستان ، لال مسجد والے، اکوڑہ خٹک والے ایسے کئی دار العلوم اور گروہ ہیں جن کے دہشت گردوں کے ساتھ رابطے کوئی راز نہیں ہیں۔پاکستانی وزیراعظم اور ان کے بھائی میاں شہباز شریف کے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن سے لیکر دہشت گردی کو سپورٹ کرنے والے وہابی گلف عرب شہزادوں سے براہ راست تعلقات ہیں جو پاکستان میں دہشت گردی کو پھیلانے والے نیٹ ورک کی مدد 80ء کی دہائی سے کررہے ہيں

فتح اللہ گولن ، اس کی غیر اعلانیہ کمیونٹی بیسڈ تنظیم حزیمت یا "کمیت ” کے بارے میں آپ انٹرنیٹ پہ سرچ کریں اور ان کے خیالات کو دیکھیں تو آپ کو کسی ایک جگہ یہ بات لکھی نہیں ملے گی کہ اس تنطیم کا ” جہاد ازم ، پولیٹکل اسلام ازم،خارج کرنے والے تکفیری سلفی اسلام ازم سے دور دور کا بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔بلکہ فتح اللہ گولن ایک غیر رسمی صوفی واد آدرشوں کے ساتھ کرسچن اور یہودیوں کے ساتھ بھی انٹرفیتھ ڈائیلاگ کرنے کے حامی ہیں اور وہ غیر آسمانی مذاہب کہلانے والوں کے ساتھ بھی مکالمے کے قائل رہے ہیں۔آج تک اس تنظیم سے جڑا کوئی ایک شخص بھی القاعدہ یا داعش کا سہولت کار نہیں پاسکا یا اس نے ان تنظیموں کو جوائن کرلیا ہو۔لیکن اس تنظیم کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے پاکستان کی سلامتی کا دشمن قرار دینا اور پاکستانی پریس کو اپنے اوپر تنقید سے روکنے کے لئے خبردار کرنا سفارتی آداب کے بھی منافی ہے

ترک صدر جس رعونت اور کروفر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے، اس سے یہ اندازہ لگایا جانا مشکل نہیں ہے کہ وہ پاکستان کی عوام کو جاہل ، بے خبر خیال کررہے تھے۔ان کا خیال تھا کہ ایسا کرنے سے ان کے بدترین جرائم پہ پردہ پڑجائے گا

tayab-urdgan-isisترکی کے صدر طیب رجب اردوگا ن کو عرب پریس "داعش کا قصائی خلیفہ ” کہتا ہے تو غلط نہیں کہتا۔رجب طیب اردوگان نے عراق اور شام میں داعش کے فسادیوں کو اسلحہ، گولہ بارود، ہیوی ڈیوٹی وہیکلز ،خوراک، ادویات پہنچانے اور اپنی سرحد کے راستے سے سلفی اور دیوبندی دہشت گردوں کو شام اور عراق میں داخل ہونے کا راستہ فراہم کیا۔آج بھی ترکی عراق میں زبردستی داعش کے خلاف کاروائی کے نام پہ وہ براہ راست فوجی مداخلت کررہا ہے۔طیب رجب اردوگان ترکی کے زیر قبضہ کردستان کے اندر تاریخ کا بدترین فوجی آپریشن ہورہا ہے۔ترکی میں موجود ترکی کی تیسری بڑی سیاسی پارلیمانی کرد پارٹی کے تمام ایم پی ایز کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔جبکہ ترکی کے صدر اپنے مخالف فتح اللہ گولن کے ہمدردوں کو بھی بڑی تعداد میں جیل بھیج چکا ہے۔کئی اخبارات کا ڈیکلریشن منسوخ کیا جاچکا ہے۔اردوگان کے جرائم سے خود ترکی کی اکثریتی آبادی نالاں ہے اور ترک صدر اور اس کی حکومت اپنے سیاسی مخالفوں کا سیاسی میدان میں مقابلہ کرنے کی بجائے ریاستی جبر سے گلہ گھونٹنے کی کوشش کررہی ہے

tayab-urdgan-isis-1پاکستان کا سلفی و دیوبندی اور جماعت اسلامی کا حامی پریس سیکشن اور سوشل میڈیا پہ سرگرم گروپ ترک صدر کے اس چہرے کو بے نقاب کرنے کی بجائے ترک صدر کے جرائم کا پردہ ‌فاش کرنے والوں کو غدار اور ملکی سلامتی کے خلاف سرگرم قرار دینے سے نہیں چوک رہا۔جب کہ کئی ایک لبرل صحافی اور تجزیہ کار بھی پاک۔ ترک دوستی کے گیت الاپتے ہوئے اس کے جرائم پہ پردہ ڈال رہے ہیں۔ان میں کئی ایک لبرل تو وہ ہیں جنھوں ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت پہ ” ماتم و گریہ زاری ” کی تھی اور ابتک وہ اس پہ اظہار کرتے نہیں چوکتے۔وہ کشمیر کی انتفاضہ کا ذکر اہتمام سے کرتے ہیں لیکن "کردوں” کے خلاف ترکی حکومت کے مظالم پہ ان کے ہاں ایک لفظ سننے کو نہیں ملتا۔ترکی کی وہابی اخوانی حکومت پاکستان کے اندر جماعت اسلامی کے ساتھ کھڑی ہے اور انکو سپورٹ کرتی ہے۔اور یہی جماعت اسلامی ترکی کے صدر طیب اردوگان کی جابرانہ اور ظالمانہ حکومت کو رول ماڈل قرار دیتی ہے۔پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور پنجاب کے چیف منسٹر شہباز شریف کو بھی ترکی ” ترقی ” کا رول ماڈل نظر آتا ہے۔ترکی کے ترقی کے رول ماڈل میں جیسے کردوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے ایسے ہی پاکستانی ترقی کے رول ماڈل میں سوائے شمالی پنجاب کے کسی اور کے لئے کوئی جگہ نہیں بنتی۔پاکستان میں آج انتہائی شرمناک دن تھا جب ایک آمر، قصائی ، داعش کے قصائی خلیفہ نے مشترکہ پریس کانفرنس کی اور پاکستانی پارلیمنٹ کے مشترکہ سیشن سے خطاب کیا۔آپ اگر حزیمت نیوز ویب پورٹل پہ جاکر مضامین پڑھیں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ اردوگان اور اس کے حامی کس قدر ظالمانہ اور جابرانہ طریقوں سے ترکی میں اسلام کی اعتدال پسند اور امن پسندانہ شکل کی علمبردار تحریک کا گلہ گھونٹنا چاہتے ہیں۔یہیں پہ آپ کو ترکی ایک ایک جرنلسٹ اور سابق ممبر پارلیمنٹ کی لکھی کتاب بارے ایک تفصیلی ریویو بھی مل جائے گا، جو کم از کم یہ بتانے کے لئے کافی ہوگا کہ ترک صدر اور اس کی پارٹی کیسے اعتدال پسند اور امن پسند صوفی منش رجحانات کے خاتمے کی کوشش کررہی ہے

مجھے انتہائی افسوس سے یہ لکھنا پڑرہا ہے کہ جس طرح پاکستان میں اردو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پہ سلفی اور دیوبندی اسلام پسندوں کا غلبہ ہے اور وہ سچائی کا قتل کرنے میں مصروف عمل رہتے ہیں ، ایسے ہی ترکی میں طیب اردوگان نے صرف اپنے حامی پریس کو آزادی دے رکھی ہے۔وہاں جمہوریت اور زمان اخبار سمیت سینکڑوں نیوز ایجنسیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا ہے اور کئی صحافی جیلوں میں بند ہیں۔کردوں کے حق میں تو لکھنے والی صحافی عورتیں تک نظر بند ہیں۔پاکستان کی لبرل فیس رکھنے والی اینکرز جیسے نسیم زہرا ہیں اسے ترکی کا اندرونی معاملہ کہہ کر اس پہ بولنے والوں کو چپ کرانے کی کوشش کرتی ہیں۔ایسی کوشش کرتے ہوئے وہ یہ بھول جاتی ہیں کہ سعودی عرب میں شیخ نمر کی پھانسی ، رائف بداوی کو کوڑے لگائے جانے اور وہاں عورتوں سے ہونے والی زیادتیوں بارے خود وہ کئی پروگرام کرچکی ہیں اور جس ٹی وی چینل میں وہ آج کل کام کرتی ہیں وہ چینل عراق ، شام ، یمن کے معاملے میں سعودی عرب اور گلف ریاستوں پہ تنقید پہ مشتمل مواد کو نشر کرنے بارے مشہور ہے لیکن نواز شریف اور ترکی کے صدر طیب رجب اردوگان کے معاملے میں اس کو چپ لگ جاتی ہے

Note: Please to know about Fatehullah Gollen , his organizations and his movement visit these links:
http://hizmetmovement.blogspot.com/
https://en.wikipedia.org/wiki/G%C3%BClen_movement
http://hizmetnews.com/
http://hizmetnews.com/1…/earth۔hizmet۔follower۔flee۔turkey/…
http://hizmetnews.com/…/is۔there۔the۔cemaat۔under۔every۔s…/…
Is There ‘The Cemaat’ Under Every Stone?
http://hizmetnews.com/…/is۔there۔the۔cemaat۔under۔every۔s…/…

Views All Time
Views All Time
843
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   ترکی کی ناکام فوجی بغاوت اور پاکستان کے پاناما کیس کا متوقع فیصلہ | انور عباس انور

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: