Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

مملکت قہر اور الاخبار ۔آل سعود کی جگہ تاریخ کے کوڑے دان میں ہے – عامر حسینی

by اپریل 6, 2017 کالم
مملکت قہر اور الاخبار ۔آل سعود کی جگہ تاریخ کے کوڑے دان میں ہے – عامر حسینی
Print Friendly, PDF & Email

مجھے معلوم ہے کہ بھلے دنوں میں لوگ حقیقت سے آنکھیں چار ہونے پر برا مانتے تھے ، برافروختہ نہیں ہوا کرتے تھے ، آل سعود میں کیوں کہ برداشت کا مادہ کم ہے اور ان کے ہاں بدوی بربریت بار بار عود کرآتی ہے ، یہ مڈل ایسٹ ہو ، جنوبی ایشیا ہو یا شمالی افریقہ ، ان ممالک کو اپنی نوآبادی خیال کرتے ہیں اوران کو اپنے خلاف بات کرنے والی زبان گدی سے کھینچ لینے کی عادت ہے ۔
بیروت کا روزنامہ "الاخبار” یمن پر سعودی عرب کے حملے کو اول دن سے یمنیوں کی نجات کا پروگرام ماننے سے انکاری ہے ، اس نے اپنے اول صفحہ کو”عدوان آل سعود للیمن "کا عنوان دیا ہے اور سعودی جارحیت ، بربریت اور یمن پر اس کے حملوں سے پیدا ہونے والی ٹریجڈی کو ایمانداری سے بیان کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔
یہ اخبار بائیں بازو کی روائیت رکھتا ہے ، اس کے چیف ایڈیٹر ابراھیم الامین کا اخبار کے دفتر میں جو کمرہ ہے وہاں ابراہیم کی عین کرسی کے اوپر عظیم اشتراکی انقلابی کارل مارکس کی پورٹریٹ لگی ہوئی ہے اور ایک طرف ارنسٹو چی گویرا کی تصویر لگی ہے ، یہ اخبار لبنان کے اندر یہاں تک کہ فیمنسٹ ، لیفٹ سیکولر روائت کا ترجمان مانا جاتا ہے ، یہ لبنان میں ٹرانس جینڈر حقوق کی جنگ بھی لڑتا رہا ہے ، یہ فلسطین کی آزادی ، صہیونیت مخالفت ، امریکی سامراجیت ، نیولبرل مارکیٹ ماڈل کے خلاف مزاحمت میں بھی معروف ہے ، یہ آل سعود سمیت عرب آمریتوں کی عوام دشمنی کو بے نقاب کرنے میں سب سے آگے ہے
اس اخبار کی اس جرات مند پالیسی کو نہ تو کبھی لبنان کی سرمایہ دار سعودی نواز اشرافیہ نے پسند کیا اور نہ ہی آل سعود کو یہ کبھی بھائی ، لیکن اب کی مرتبہ لگتا ہے کہ آل سعود کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا ہے اور وہ اس اخبار کی جرات رندانہ سے تنگ آیا لگتا ہے اور اس مرتبہ لبنان میں سعودی سفیر اس کے خلاف بولے ہیں
اس اخبار کے چیف ایڈیٹر نے آج کی تازہ اشاعت میں سعودی سفیر کو ترکی بہ ترکی جواب دیا ہے اور اپنے جوابی کالم کا عنوان رکھا ہے
مملکت قہر اور الاخبار
لبنان میں سعودی عرب کے سفیر علی عواض عسیری نے سعودی عرب کے پروپیگنڈا اخبار الوطن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا
کہ الاخبار مملکت سعودیہ عرب کے خلاف جھوٹ اور اتہام باندھنے کا ماہر ہے اور وقت آگیا ہے کہ اس کو اس کی حدود میں لایا جائے اور سعودی سفارت خانہ اس اخبار کے خلاف عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹائے گا اور اس اخبار کے ایران ، حزب اللہ سے جو رشتے ہیں ان کو بے نقاب کرے گا
ابراہیم الامین نے سعوفی سفیر علی عواض عسیری کی جانب سے دی گئی اس دھمکی کا جواب دیتے ہوئے لکھا ہے
ما الذي تريد أن تفعله بعد يا سفير آل سعود؟
منذ اليوم الأول لصدور 171الأخبار1877 وأنتم تقودون سياسة كمّ الأفواه. اقترفتم أموراً كثيرة لم نتحدث عنها، وللتذكير نعيد لفت الانتباه الى بعض ما تقومون به:
اے سفیر آل سعود اس کے بعد تم کیا کرنا چاہتے ہو ؟
جس دن سے الاخبار نکلنا شروع ہوا تم اس کا محاسبہ کرتے آرہے ہو ، تمہاری طرف سے بہت سے حربے اور ہتھکنڈے آزمائے گئے ، ہم نے کبھی ان کا تذکرہ نہیں کیا ، ہاں ہم نے انتباہی زبان میں جو تم کرتے رہے اس کا ذکر کرتے ہوئے تمہیں خبردار ضرور کیا
ابراہیم الامین بتاتے ہیں کہ
آل سعود نے ترغیب و ترہیب سے الاخبار کی انتظامیہ کو اپنی حکومت اور افعال ہر تنقید سے روکنا چاہا ، جب اس میں ناکامی ہوئی تو الاخبار کی ویب سائٹ کو سعودی عرب میں بلاک کردیا ، ثانوی ذرائع سے اس کے جو صفحات کھل سکتے تھے ان کو بھی بند کردیا ، سعودی عرب کے کسی صحافی یا دانشور کو اس اخبار سے منسلک نہیں ہونے دیا۔
ریجن کی تمام نیوز ایجنسیوں اور اشتہاری کمپنیوں پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ الاخبار کو کوئی اشتہار یا مواد فراہم نہ کریں اور جو کرے گا اس پر سعودی عرب پابندیاں لگادے گا اور کوئی سعودی کمپنی ایسی اشتہاری کمپنیوں کو بزنس نہیں دے گی جبکہ جہاں جہاں سعودی عرب کا ہاتھ پڑتا تھا وہاں وہاں الاخبار کو بزنس دینے سے روکا گیا ، آل سعود نے لبنان کی تمام طاقتوں اور اشراف کے ساتھ ملکر الاخبار کے بائیکاٹ کی مہم پوری شدت سے چلائی مگر اس کا الٹ اثر ہوا۔
ابراہیم الامین نے سعودی سفیر کی جانب سے کیا جانے والا یہ دعوی کہ
وقت آگیا ہے کہ الاخبار کو تنہا کردیا جائے ، اس کو حد میں لایا جائے کے جواب میں کہا کہ
یہ کوئی نئی خواہش بد نہیں ہے ، اس سے پہلے بیروت میں تمہارے نائب سعد حریری نے ایک بڑے جلسے میں الاخبار کے خلاف مہم چلانے ، اس کا مقاطعہ کرنے اور اس کی کمر توڑنے کا اعلامیہ جاری کیا تھا
ابراہیم الامین کہتا ہے کہ سعد حریری کا رفیق خاص وسام حسن اب زندہ نہیں ہے لیکن بہت سے لوگ جو اس کے گرد رہتے تھے اور جو رفیق حریری کے گرد رہتے تھے جانتے ہیں کہ سعد کو دونوں نے نصحیت کی تھی کہ الاخبار کے خلاف مہم جوئی سے باز رہو ، اس سے تمہیں سیاسی طور پر کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔
ابراہیم الامین اس سے آگے ایک پیشن گوئی کرتا ہے
رهاننا على شعب الجزيرة الذي سيلفظكم عاجلاً أو آجلاً الى مزبلة التاريخ حين تهب عواصف الحرية القادمة الى قلب جزيرتنا العربية!
ہم شرطیہ کہتے ہیں کہ جزیرہ العرب میں عوام کا سیلاب عنقریب تمہیں بہاکر لے جائے گا یا جلد ہی تمہیں ( آل سعود کو ) تاریخ کے کوڑے دان کا حصہ بنادے گا کیونکہ جزیرہ عرب کے عین قلب سے آزادی کی تحریک اٹھ کھڑی ہونے والی ہے
ابراہیم الامین کہتا ہے کہ آل سعود نے الاخبار کے خلاف محض لبنان میں مارچ 14 اتحاد ، عدلیہ کی بعض طاقتور شخصیات پر ہی اکتفا نہیں کیا اور نہ ہی اس نے الاخبار سے صحافیوں کو جن کا تعلق گلف تعاون کونسل سے تھا یا باہر سے الاخبار کے ساتھ منسلک ہونے سے روکا بلکہ انہوں نے الاخبار کے خلاف ایک سازش رچی کہ رفیق الحریری قتل کے لئے بننے والے ٹربیونل میں الاخبار کو گھسیٹا
ابراہیم الامین کہتے ہیں کہ
آل سعود نے امریکیوں کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے عرب اور لبنان میں وکی لیکس کی دستاویزات کو شائع ہونے سے روکا ، الاخبار کو ان دستاویزات کو شائع کرنے سے روکا ، تاکہ لبنان اور عرب عوام کو ان کے کرتوت کا پتہ نہ چل سکے کہ یہ عالمی طاقتوں کے ساتھ ملکر لبنان اور عرب ورلڈ میں کیا کرتے رہے اور آگے کیا کرنے والے ہو ، یہ سب افشا ہونے سے روکنے کے لئے تم الاخبار کے پیچھے لگے ہو
ابراہیم الامین کہتے ہیں کہ آل سعود اور ان کے لبنانی ایجنٹوں کو بے نقاب کرنے اور خطے میں سامراجیوں کا کھیل کھیلنے والوں کو بے نقاب کرنا الاخبار کا جرم ہے ، اس لئے آل سعود الاخبار والوں پر یہ تہمت لگاتے ہیں کہ
وہ صفویوں ، مجوسیوں ، فارسیوں اور روافض کے ایجنٹ ہیں ، اس لیے کہ وہ کمیونسٹ ہیں اور مملکت پر تنقید ان کا دین ہے ، اس لئے کہ ان کو ان کے دشمنوں سے مسل ملتا ہے اور اس لئے وہ شتم کرتے ہیں ، اس لئے کہ وہ نصراللہ کی جماعت حزب اللہ ، بشار الاسد اور عراق کے ایک خاص گروہ کے ایجنٹ ہیں اور تہران ملاؤں کی جانب سے بغض و کینہ سے بھرے ہوئے لوگ ہو وغیرہ وغیرہ
وبماذا ستتهموننا؟
بأننا عملاء للصفويين والمجوس والفرس والروافض؟
بأننا عملاء للصفويين والمجوس والفرس والروافض؟
بأننا عملاء تاريخيون للشيوعية الحاقدة على المملكة بحكم أنها رأس الدين؟
بأننا نتلقى الأموال من خصومكم من أجل شتمكم؟
بأننا حاقدون من جماعة نصر الله وحزب الله وبشار الأسد والنظام الطائفي في العراق ونظام الملالي في طهران
اور یہ کہ الاخبار والے فلسطینی ، حوثی ملیشیا کے مہم جو عناصر ہیں
ابراہیم الامین سوال اٹھاتا ہے
وماذا تريدون من مقاضاتنا؟
تم ہمارے خلاف عدالتی کاروائی سے چاہتے کیا ہو ؟
تريدون فرض غرامات علينا تدفعنا الى الإفلاس؟
تريدون قراراً بإقفال الجريدة؟
تم ہم پر جرمانے لگواکر ہمیں دیوالیہ کرنا چاہتے ہو
تم جریدے کو بند کروانا چاہتے یو
تريدون قراراً بوقف نشر أي معلومة أو رأي ضد سياساتكم وضد استعلائكم وضد جهلكم وتخلفكم وظلاميتكم؟
تم چاہتے ہو کہ ایسی معلومات نشر کروانا بند کردو یا تمہاری سیاست ، تمہارے غلبے ، تہماری جہالت ، تمہارا تسلط اور تمہاری ظلمتوں کے بارے میں کچھ نشر نہ ہو
تم پریس ایسوسی ایشن ، کونسل آف ایڈیٹرز ، ریاست ، سیکورٹی فورسز یا وزیراعظم یا پھر اشتہاری کمپنیوں کے راستے سے ہمارا محاصرہ کرنا چاہتے ہو
کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اب اس سے بھی آگے انتقام کی انتہائی شکل تک جاپہنچو ؟
کیا تم ہمیں ڈرانا چاہتے ہو کہ تم اپنے قاتلوں کو روانہ کرو کہ ان کے پاس تمہاری حکومت اور فرداً فرداً تمہارے مولوی کے ہمارے خلاف جاری کردہ فتوے ہوں ؟
کیا تم اپنے شہدوں اور غنڈوں سے ہمارے دفاتر اور ملازمین پر حملے کروانا چاہتے ہیں ؟
کیا تم اپنے ان دہشت گردوں کو جن کو تم نے اپنی خون آشامی کے لئے شام ، لبنان اور اس کے گردونواح میں متعین کیا ہوا ہے کے ذریعے ہمیں سبق سکھانا چاہتے ہو
تم ہمیں سزا دینا چاہتے ہو تاکہ میڈیا میں کوئی وہ شائع کرنے کی جرات نہ کرے جو تم کررہے ہو
ابراہیم الامین کہتے ہیں کہ
چلیں آپ سے جو ہو کرلیجئے گا لیکن ہم اپنے قاری کی توجہ اس حقیقت کی جانب مبذول کراتے رہیں گے کہ الاخبار اس طرح کی صحافت کی ضد ہے جو عربی اور انگریزی میں آل سعود ، صہیونی اور سامراجیوں کے نمک خوار کرتے ہیں اور ہماری لڑائی اسی طرح کے پروپیگنڈے کی قلعی کھولنا ہے
یہ ایک ایسی صحافت عرب خطے میں پروان چڑھارہے ہیں جس کا مقصد ہے کہ عربوں کو صرف وہی پتہ چلے جو قطری میڈیا بتائے یا فقط وہ جو آل سعود کی پروپیگنڈا مشین بتائے ، اور یہ سب کے سب عرب آمریتوں ، صہیونوں اور مغربی سامراجی طاقتوں کی خدمت میں مصروف میڈیا کو ہی پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتے ہیں
اے آل سعود
ہم تو پیشگی رولز آف گیم افشا کرنے والوں میں سے ہیں ، ہماری پوزیشن بہت واضح ہے ، ہم خفیہ ایجنڈا نہیں رکھتے ، ہم صاف کہتے ہیں کہ ہم خطے میں مزاحمتی تحریکوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور انصاف و مساوات ، تکریم آدمیت کی لڑائی لڑرہے ہیں ابراہیم آل سعود کو آئینہ دکھاتا ہوا کہتا ہے
أما أنتم، أهل الجهالة والتخلف والتعصب والتكفير والإرهاب، فلن تتساهل معكم الشعوب العربية طويلاً، رغم حملات التزوير الإعلامي الضخمة، ولن يحتملكم الرأي العام العربي طويلاً،
اور جو تم آل سعود ہو اہل جہالت ہو تخلف و تعصب و تکفیر و خون آشامی سے بھرے ہوئے ہو اور عرب عوام اب زیادہ دیر تک تمہیں برداشت کرنے والے نہیں ہیں اگرچہ ایک عرصے سے تم نے زبردستی جھوٹ اور فراڈ پر مبنی میڈیا کمپئن سے دھوکہ دیا ہوا ہے اور اب عام عرب رائے عامہ تمہیں اور برداشت نہیں کرے گی
فاذهبوا وافعلوا ما يطيب لكم، وما تقدرون عليه. أما نحن، فلم تُخفنا يوماً دولاراتكم المبللة بالدم، ولا سياراتكم المفخخة. رهاننا على شعب الجزيرة العظيم الذي سيلفظكم عاجلاً أو آجلاً الى مزبلة التاريخ، حين تهب عواصف الحرية القادمة الى قلب جزيرتنا العربية!
تو جاؤ ، جو تمہارا دل کرے کرو اور تم اس پر قادر ہو ، باقی ہم جو ہیں تو ہم ایک دن بھی تمہاری خون آشامی سے نہیں ڈرے اور نہ تمہاری جھوٹی جاہ وحشم ہمیں مرعوب کرسکی ہے ، ہم شرطیہ کہتے ہیں کہ جزیرہ العرب کے عوام بہت جلد تمہیں بہاکر لے جائیں گے اور تمہاری جگہ تاریخ کے کوڑے دان کے سوا کہیں اور نہیں یوگی ، جزیرہ
عرب کے قلب سے تحریک حریت بلند ہوگی جو تمہیں شکست فاش سے دوچار کرے گی

Views All Time
Views All Time
299
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   پاکستان تحریک انصاف کی ایک تکلیف دہ سچائی
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: