Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

پتھر بیچ آئینہ رکھنا کتنا مشکل ہے – عامر حسینی

by مارچ 29, 2017 بلاگ
پتھر بیچ آئینہ رکھنا کتنا مشکل ہے – عامر حسینی
Print Friendly, PDF & Email

اصولی طور پہ یہ بہت بری بات ہے کہ میں نے اپنی اس پوسٹ میں اس کی تصویر لگانے کی بجائے جس کی شاعری کا تذکرہ ہے اپنی تصویر لگادی ہے لیکن مجھے پتھر بیچ آئینہ رکھنے والی بات سے اپنے اندر ایک عجیب سی بے چینی محسوس ہوئی تو یہ تصویر یہاں لگادی۔میرے ساتھ راجہ اندر یعنی خوشخال پریمی موجود ہیں اور ان سے آخر میں شہزاد فرانسس ہیں یہ کرسچن اسٹڈی سنٹر راولپنڈی میں ایک محفل موسیقی میں آج سے دو سال پہلے کھینچی گئی تصویر ہے اور آج کے ہی دن یہ تصویر بنی تھی۔وہاں کرسچن اسٹڈی سنٹر ميں بھی ميں نے ” برصغیر مين تکثیریت پسند ثقافت اور مذہبی جنونیت کی تاريخ ” کے موضوع پہ لیکچر دیا تھا۔
میں چاہتا ہوں کہ پاکستانی سماج میں افکار کا جدال چلتا رہے اور معاشرے میں تکثیریت کا کلچر خوب پھلے پھولے لیکن اس سماج کے علمی افق پہ نعرے باز،رنگ باز اور ڈھونگی دھونی رما کر مت بیٹھیں۔اسی لئے بار بار ذہنوں پہ دستک دیتا ہوں تاکہ سوچ اور احساس کی نئی راہیں متعین ہوں۔اور ایسے میں جب رنگ باز بہروپئے انگلی کٹاکر شہید بننے کا ڈھونگ کرتے ہیں تو مجھے مجبور ہوکر اس ڈھونگ کا پردہ چاک کرنا پڑتا ہے۔اور ایسے میں شاید بات بہت ثقیل ہوجاتی ہے تو میں لطافت کے سفر پہ نکل جاتا ہوں۔آپ میں سے بہت سے لوگوں کو اپنی عشرت آفرین یاد ہوں گی۔امریکہ میں وہ ایک یونیورسٹی میں اردو پڑھارہی ہیں۔لیکن جن لوگوں نے آواز رسالے کو پڑھا ہے ان کے ذہنوں سے وہ کبھی غائب نہیں ہوسکتیں۔
مرا قد
میرے باپ سے اونچا نکلا
اور میری ماں جیت گئی
یاد آیا کچھ آپ کو اگر نہیں تو یہ پڑھیں شاید کچھ یاد ائے
میں
یہ انا کے قبیلے کی
سفاک لڑکی
تری دسترس سے
بہت دور ہے
۔۔۔۔۔۔۔
میں ایک دن یونہی بے چین سا بیٹھا تھا اور اس سے پوچھ رہا تھا کہ کون ہے وہ ؟ کہاں سے آئی ہے تو آگے بھی کوئی معمولی ہستی نہیں تھی اس نے جھٹ سے کہا کہ یہ نظم میرا جواب ہے
تعارف
مرا تعارف
پرانے زخم مت کریدو
مرا تعارف
جو تم سمجھتے ہو وہ نہیں ہے
میں اپنی گلیوں کی دھول میں کھیل کر بڑھی ہوں
میں خواب کی عمر میں بھی حالات سے لڑی ہوں
میں اپنے آبا کی قبر پہ کھلنے والی وہ خوش نما کلی ہوں
جو اپنے ہونے کے جرم میں ہر سزا ہنس ہنس کے کاٹتی ہوں
مرا تعارف تو کچھ نہیں ہے
مرا تعارف تو بس وہی ہے
جو مجھ سے پہلے عظیم غالب کا
میر کا تھا
وہ میر جس کو خدائے شعر و سخن کا رتبہ عطا ہوا تھا
مگر گدا کی طرح مرا تھا
عظیم غالب
جو مے کی خیرات مانگتا تھا
میں نے یہ سب سنا تو تڑپ اٹھا اور بے اختیار پوچھا کہ کون ہے یہ تو اس نے کہا آپا عشرت آفرین ہیں۔اور یوں عشرت آفرین سے میں واقف ہوا۔ویسے اتفاق ہی ہے یہ کہ یہاں سوشل میڈیا پہ اتنے سالوں سے میں ہوں اور میں نے کبھی کسی اپنے فیس بک مرد یا عورت دوست سے عشرت آفرین بارے کوئی ایک لفظ بھی نہیں سنا بلکہ جب کبھی فیمنسٹ شاعری پہ بات بھی ہوئی تو عشرت آفرین کا ذکر یہاں سوشل میڈیا پہ کسی نے نہیں کیا۔عشرت آفرین کی شاعری اپنے اندر بہت تہہ داریاں رکھتی ہے اور آپ کو ایسے جہاں کی سیر کراتی ہے کہ آپ عورت کے جہان اندر باریابی پاجاتے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ عشرت ہوں،فہمیدہ ریاض ہوں ، کشور ناہید ہوں ، ادا جعفری ہوں، سارہ شگفتہ ہوں ان سب کے ہاں عورت کی وہ سچائی ہے جسے ہم جیسے مردوں کو پانا ان کی شاعری کو پڑھے بغیر ناممکن تھا۔
لڑکیاں ماؤں جیسے مقدر کیوں رکھتی ہیں
تن صحرا اور آنکھ سمندر کیوں رکھتی ہیں
عورتیں اپنے دکھ کی وراثت کس کو دیں گی
صندوقوں میں بند یہ زیور کیوں رکھتی ہیں
وہ جو آپ ہی پوجے جانے کے لائق تھیں
چمپا سی پوروں میں پتھر کیوں رکھتی ہیں
وہ جو رہتی ہیں خالی پیٹ اور ننگے پاؤں
بچا بچا کر سر کی چادر کیوں رکھتی ہیں
بند حویلی میں جو سانحے ہوجاتے ہیں
ان کی خبر دیواریں اکثر کیوں رکھتی ہیں
صبح وصال کرنیں ہم سے پوچھ رہی ہیں
راتیں اپنے ہاتھ میں خنجر کیوں رکھتی ہيں
۔۔۔۔۔۔
عشرت نے ہی کہا تھا
اتنا بولوگی تو کیا سوچیں گے لوگ
رسم یہاں کی یہ ہے ،لڑکی سی لے ہونٹ
انا کھوئی تو کڑھ کر مرگئی
بڑی حساس تھی اندر کی لڑکی
حویلی کے مکیں تو چاہتے تھے
کہ گھر ہی میں رہے یہ گھر کی لڑکی
جاگیردار خاندان زمین بچانے کے لئے عورتوں کے ساتھ یہی سب کچھ ہوتا ہے اور شہروں میں بھی اکثر لڑکی کو وراثت سے محروم کرنے کے لئے یہ سب ڈرام رچائے جاتے ہیں،عشرت نے بہت ہی سادہ سے انداز میں ایک بڑی خوفناک حقیقت کو شعر کا روپ دے ڈالا
جنھیں کہ عمر بھر سہاگ کی دعائیں دی گئیں
سنا ہے اپنی ہی چوڑیاں پیس کر وہ پی گئیں
بہت ہے یہ روایتوں کا زہر ساری عمر کو
جو ۃلخیاں ہمارے آنچلوں مين باندھ دی گئیں
۔۔۔۔
کس وقت یہ دوستوں نے صلبیبیں سجائی ہیں
جب دوش پر کسی کے یہاں سر نہیں رہا
اب کس لئے سنگ بدستوں کا یہ ہجوم
اس سے کہو کہ شہر میں آزر نہیں رہا
اور عشرت آفرین کی ایک نظم ہے
ادھورے آدمی سے گفتگو
آخری تجربے نے یہ ثابت کیا
اپنے پھرپور فن ،اپنے قامت اور تشخص کے باوصف
صرف ایک لڑکے ہو تم
جوکہ روتی ہوئی لڑکیوں
یا اڑانوں سے محروم زخمی بدن تتلیوں
ساحلوں سے بندھی کشتیوں
فاختاؤں کے ٹوٹے پروں ميں سسکتی ہوئی لذت آزاریوں میں پناہ میں تلاشے
جو کھلنڈری سی خواہش کے پیچھے لپکتے ہوئے
اپنے آدرش بھی توڑ دے
میں تمہیں اپنا ادراک احساس کس طرح دوں
فکر کے اس سفر مین تمہیں کس طرح دوں
تم ابھی مجھ سے چھوٹے سے ۔۔۔۔۔۔ چھوٹے رہو گے
کہ میں اپنے آبا کی ماں ہوں
۔۔۔۔
اپنی آگ کو زندہ رکھنا کتنا مشکل ہے
پتھر بیچ آئینہ رکھنا کتنا مشکل ہے
کتنا آسان ہے تصویر بنانا اوروں کی
خود کو پس آئینہ رکھنا کتنا مشکل ہے
تم نے مندر دیکھے ہونگے یہ میرا آنگن ہے
ایک دیا بھی جلتا رکھنا کتنا مشکل ہے
چلُو میں ہو درد کا دریا دھیان میں اسکے ہونٹ
یوں بھی خود کو پیاسا رکھنا کتنا مشکل ہے

Views All Time
Views All Time
308
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   عدم برداشت - عامر اشفاق
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: