Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

عبید اللہ سندھی اور ترقی پسندی – عامر حسینی

by مارچ 22, 2017 کالم, کتب
عبید اللہ سندھی اور ترقی پسندی – عامر حسینی
Print Friendly, PDF & Email

ہمارے بہت سارے بائیں بازو اور لبرل کیمپ کے لکھاری اور ایکٹوسٹ عبیداللہ سندھی کو ترقی پسند،روشن خیال اور رجعت پرستی سے خالی سامراج دشمن مفکر خیال کرتے ہیں۔میرا اپنا خیال بھی ابتداء میں ایسا ہی تھا لیکن جب میں نے دیوبندی تحریک کا منظم مطالعہ شروع کیا اور عبیداللہ سندھی کی کتب میرے سامنے آنا شروع ہوئیں تو میرے خیالات میں واضح بدلاؤ آیا۔عبیداللہ سندھی کے خیالات شیعہ،ہندؤ،کرسچن، صوفیاء کے بارے میں نہ تو وہابی ازم سے مختلف ہیں اور نہ ہی دیوبند کے سخت گیر لوگوں سے۔اور ان کے ہاں تکثریت پسندی غائب ہے اور مجھے ان خیالات کو پڑھ کر یہ حیرانی ہوتی ہے کہ وہ کیسے ہمارے بائیں بازو کے کیمپ کے پسندیدہ لوگوں میں شمار ہوگئے۔

مولانا عبید اللہ سندھی کی کتاب ” شاہ ولی اللہ اور ان کی سیاسی ” کا مطالعہ کریں تو بعض اقتباسات پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔اس کتاب میں عبید اللہ سندھی نے یہ دعوی کیا ہے کہ شاہ ولی اللہ دہلوی ہندوستان میں جدید سیاسی معنوں میں ایک مربوط نظام فکر و عمل کی حامل ایک انقلابی جماعت اور اس جماعت کے اوپر ایک تحریک چلانے کے خواہاں تھے۔لیکن ان کے اس دعوے کے جواب میں جب شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے کام سے آشنا یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر ان کے ذہن میں اپنی انقلابی جماعت اور ایک تحریک پیدا کرنے کا خیال تھا تو انہوں نے کسی ایک جگہ اس کا تذکرہ کیوں نہ کیا؟ عبید اللہ سندھی اس کا جواب یوں دیتے ہیں:
” امام ولی اللہ نے اس فکر کی اشاعت اور تعلیم کی غرض سے بیسوں کتابیں لکھیں اور سب دہلی کی علمی زبان عربی اور عام پڑھے لکھوں کی زبان فارسی میں تھیں۔ان کتابوں کو حکیم الہند (شاہ ولی اللہ ) نے اپنی دعوت کے اصول اور مسائل ضبط کئے۔لیکن اس معاملے میں اتنا التزام فرمایا کہ ان امور کو ایک جگہ قلمبند نہ کیابلکہ ان کو اپنی تصانیف میں ادھر ادھر پھیلا کر بیان کیا۔اس سے ان کا مقصد یہ تھا کہ وہ نااہل لوگوں کی دست برد سے محفوظ رہیں”
شاہ ولی اللہ اور ان کی سیاسی تحریک ۔عبید اللہ سندھی ،ص 388،مطبوعہ سندھ ساگر اکیڈیمی لاہور
مولانا عبید اللہ سندھی شاہ ولی اللہ کی سیاسی تحریک کو ہندوستان کے تمام باشندوں بلکہ پوری انسانیت کے لئے پیغام ثابت کرنا چاہتے ہیں لیکن مشکل یہ ہے کہ شاہ ولی اللہ اور ان کے پیش روؤں کے خیالات پہ جب نظر دوڑائی جاتی ہے تو ان کی تحریک تو ہندوستان کے مسلمانوں کے جملہ مکاتب فکر سے بھی جا ٹکراتی ہے۔ان کی تھیالوجی، فقہ اور سیاسی سوچ خود مسلمانوں کی ایک بڑی اکثریت کے لئے ناقبال قبول ٹھہر جاتی ہے۔مولانا عبید اللہ سندھی کے جملوں سے پتا چلتا ہے کہ ان کو خود بھی اس مشکل کا اندازہ تھا۔بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ شاہ ولی اللہ جب حج سے واپس آئے تو انہوں نے اس وقت برسراقتدار بادشاہ محمد شاہ کے خلاف اشارے سے یا تفصیل سے کوئی ایک بات بھی نہ لکھی۔اور اس دوران انہوں نے شاید روہیل کنڈھ /اودھ /جدید یوپی میں پشتون سرداروں سے روابط رکھے اور ان میں ایک بڑا رابطہ نجیب الدولہ سے تھا اور اسی نجیب الدولہ کے زریعے سے شاہ ولی اللہ نے احمد شاہ ابدالی سے رابطہ کرنے کی کوشش کی۔یہ روابط خفیہ ہی تھے اسی وجہ سے محمد شاہ مغل بادشاہ نے دہلی میں پورا شاہجہان آباد محلہ شاہ ولی اللہ کو دے دیا تھا جہاں مدرسہ رحیمیہ دہلی کی نئی عمارت کی تعمیر ہوئی۔مولانا عبید اللہ سندھی یہ ظاہر کرتے ہیں جیسے محمد شاہ کو شاہ ولی اللہ کی دعوت سے آگاہی تھی،وہ اس دعوت کی مقبولیت سے خوش تھا اور اسی لئے اس نے زیادہ وسیع جگہ شاہ ولی اللہ کے مدرسے کے لئے دے دی۔لیکن شاہ محمد کی پالیسیی تو صلح کل کی تھی اور وہ ہندوستان میں اس کلچر کو پروان چڑھا رہا تھا جس کی مذمت میں شاہ صاحب کے پیش روؤں نے بعد میں کتابوں کی کتابیں لکھ ماریں۔اور شاہ اسماعیل و سید احمد بریلوی کی تحریک جہاد سے لیکر دیوبند مدرسہ تحریک ہندوستان برصغیر میں ایک مشترکہ کلچر کی نفی پہ ہی کھڑی کی گئی۔یہ ایک ایسا تضاد ہے جو مولانا عبید اللہ سندھی حل نہیں کرپاتے۔اور پھر وہ مدرسہ دہلی سے لیکر تحریک جہاد،1857ء کی جنگ،دیوبند مدرسہ تحریک کو ایک تسلسل میں دکھاتے ہیں جس کا مقصد ہندوستان کے اندر مسلم اشرافیہ کے زوال کو ختم کرکے واپس لانا نہیں بلکہ عبید اللہ سندھی کے نزدیک وہ عالمگیر اسلامی انقلاب لانا تھا جس کو وہ اسلام کا مقصد اولین قرار دیتے ہیں۔حالانکہ شاہ ولی اللہ نے جب نجیب الدولہ سمیب افغان اشرافیہ کے ساتھ گٹھ جوڑ کرنے کی کوشش کی تو اس سے صاف نظر آتا ہے کہ شاہ ولی اللہ کی اندرون خانہ خواہش تھی کہ مغلیہ سلطنت کابل کے ساتھ ملے اور وہ شاید دربار میں شیعہ اور صوفی سنّی ایسے مقتدر لوگوں سے خوش نہ تھے جو ہندوستان میں ہندؤ،سکھ، مسلمان،شیعہ ، سنّی سب کو ساتھ لیکر چلنے کی بات کررہے تھے۔کیونکہ شاہ ولی اللہ کے نزدیک اورنگ زیب کی روش بالکل درست تھی اور وہ اورنگ زیب کے زمانے والی صورت حال واپس لیکر آنا چاہتے تھے۔شاہ ولی اللہ کی کتابوں سے ہمیں کسی ایک جگہ پہ بھی یہ پتا نہیں چلتا کہ انہوں نے ہندوستان کے اندر مرکزی حکومتکے خلاف مرہٹہ،سکھ،سندھی اور دیگر مقامی لوگوں کی بغاوتوں اور ان کی بار بار چڑھائیوں بارے کوئی ایسا تجزیہ بھی کیا ہو جو یہ بتانے کے قابل ہو کہ اس صورت حال کے پیدا کرنے میں اورنگ زیب کی اپنی پالسیوں کا کس قدر کردار تھا۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ عبید اللہ سندھی نے بھی اورنگ زیب کے بارے میں جو خیالات ظاہر کئے اس سے پتا یہ چلتا ہے کہ عبید اللہ سندھی کے ںزدیک بھی اورنگ زیب بہت ہی زبردست بادشاہ تھا اور وہ اسے محی الدین بھی قرار دے ڈالتے ہیں۔یہ بہت ہی غیر سائنسی ، غیر عقلی اور غیر منطقی تجزیہ ہے جو عبید اللہ سندھی اس زمانے کے بارے میں کرتے ہیں۔مولانا عبید اللہ سندھی شاہ ولی اللہ کے نجیب الدولہ سے گٹھ جوڑ اور اس کے زریعے سے احمد شاہ ابدالی کو ہندوستان پہ حملے کی دعوت دینے کا پرزور دفاع کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس سے دہلی کے سیاسی افق کو مرہٹوں کے بڑھتے ہوئے خطرات سے محفوظ کردیا گیا۔1174ء میں پانی پت میں احمد شاہ ابدالی کی افواج نے مغلیہ افواج کو شکست دے دی اور اس واقعے کے دو سال بعد شاہ ولی اللہ کا انتقال ہوگیا۔شاہ ولی اللہ ہوں،شاہ عبدالعزیز ہوں اور ان کے خاندان کے دیگر لوگ ہوں ،مدرسہ دیوبند تحریک کے اکابر ہوں یا عبیداللہ سندھی کے ماننے والے ہوں ان میں سے کسی ایک نے بھی احمد شاہ ابدالی کے ہندوستان پہ حملوں کے دوران لوٹ مار،قتل و غارت گری بارے کوئی زکر نہیں کیا۔احمد شاہ ابدالی کے پہلے حملے کی بات کریں یا اس کے پانچ حملوں کی بات کریں ان حملوں میں دہلی تک جس طرح سے صوفی سنّی صلح کل ، شیعہ ، سکھ، ہندؤ وغیرہ کا قتلام ہوا اور جس طرح سے ان کو لوٹا کھسوٹا گیا اس بارے میں ایک لفظ بھی مذمت کا افسوس کا کہیں لکھا ہوا نہیں ملتا۔پھر اس حقیقت پہ بھی عبیداللہ سندھی اور ان کے رفقاء کوئی روشنی نہیں ڈالتے کہ جب نجیب الدولہ نے افغانیوں کے ساتھ اتحاد کرلیا تو اسی اتحاد کے سبب مغل بادشاہ،شیعہ ،صوفی سنّی ، سکھ ،مرہٹہ اور یہاں تک کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی افواج نے ملکر روہیل کھنڈ پہ حملہ کیا تھا اور احمد شاہ ابدالی سے نجیب الدولہ کے اتحاد نے شاہ ولی اللہ سمیت علماء کی ایک خاص تعداد کی حمایت نے ہندوستان میں بین المذاہب اور بین الفرق ہم آہنگی کی شکستہ زنجیر کو اور کمزور کرڈالا تھا۔حقیقت یہ ہے کہ شاہ ولی اللہ اور ان کے پیش روؤں سے متاثر ہونے والی دیوبند مدرسہ تحریک کے مدح خواں جتنے بھی لکھاری ہیں بشمول عبیداللہ سندھی کے ان سب نے ہندوستان میں "صلح کلیت ” اور تکثریت پسندی کی وہ روایت جو اکبر نے شروع کی تھی اس کے مقابلے میں ہمیشہ اورنگ زیب کو فوقیت دی اور یہی وجہ ہے کہ ان کے ہاں ہندوستان میں دار شکوہ، میاں میر قادری ، بلھے شاہ، شاہ حسین،کبیر،محب الہ آبادی،سرمد سے زیادہ شیخ احمد سرہندی،شاہ ولی اللہ،شاہ اسماعیل اور سید احمد بریلوی وغیرہ پہ زور نظر آتا ہے۔یہ سکھوں کے ملٹری ازم ، مرہٹہ کے ابھار کا بھی غلط تجزیہ کرتے ہیں۔اگر عبیداللہ سندھی کی کتاب "شاہ ولی اللہ اور ان کی سیاسی تحریک” کا بغور مطالعہ کیا جائے تو حیرت انگیز بات یہ سامنے آتی ہے کہ عبیداللہ سندھی یہ بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ مرہٹہ ، سکھ ، ایرانی درباری،صوفی سنّی، پنجابی یہ سب کے سب سازشی تھے، اور اسلام اور مسلمانوں کے ٹھیک نمائندہ اگر کوئی ٹھہرتے تھے تو وہ افغانی ،روہیل کھنڈی اور ان کا سات دینے والے سادات و دیگر قبیلوں کے علماء و نوابین تھے۔یہ احمد شاہ ابدالی کو اسلام کا ٹھیک نمائندہ قرار دیتے ہیں۔

” نواب نجیب الدولہ شاہ ولی اللہ کے خاص عقیدت مندوں میں تھے۔اور شاہ صاحب کے مشورے سے ہی انہوں نے اور ان کے رفقاء نے احمد شاہ ابدالی کو بلایا تھا،اس طرح شاہ صاحب نے دہلی کی حکومت کے اشتراک سے اپنے پروگرام کا ایک حصّہ مکمل کرلیا۔پانی پت میں احمد شاہ ابدالی کی کامیابی نے دہلی کے سیاسی افق کو مرہٹوں کے بڑھبے ہوئے خطرات سے محفوظ کردیا۔اس واقعے کے دو برس بعد 1176ھ میں امام ولی اللہ کی وفات ہوئی”
شاہ ولی اللہ اور ان کی تحریک ،عبید اللہ سندھی،ص466،مطبوعہ سندھ ساگر اکیڈیمی لاہور

عبید اللہ سندھی شیعہ کے بارے میں شاہ صاحب کے خیالات کو بھی اس کتاب میں کئی جگہ بیان کرتے ہیں:

” اس سلسلے میں فرقہ شیعہ نے اہل بیت کے نام سے غلط پروپیگنڈا کرکے مسلمانوں کی ذہنیت کو جس بری طرح سے مسموم (زھریلا) کردیا تھا ،حکیم الہند اپنی تصانیف میں اس کا تدارک فرماتے ہیں”
شاہ ولی اللہ اور ان کی سیاسی تحریک ص 48

شیعوں کی طرف سے حضرت ابوبکر(صدیق)،حضرت عمر (فاروق) رضی اللہ عنہم اور ان کی خلافت پہ جو اعتراضات وارد ہوئے تھے ان کے رد میں میں امام ولی اللہ نے اپنی مشہور کتاب "ازالۃ الخفاء ” لکھی تھی،شاہ عبدالعزیز نے اس کتاب کے مقدمہ کے طور پہ تحفہ اثناء عشریہ تصنیف کی۔شیعوں نے پہلے تو قرآن مجید کی صحیح معرفت اور علم کو امام مہدی کی آمد سے مشروط کردیا تھا،اس کے بعد انہوں نے امام مہدی کی امد کے متعلق عبیب عجیب توہمات کے پردے ڈال دئے۔عملی طور پہ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ شیعت کی دعوت مسلمانوں کو رآن عظیم کی برکات عامہ سے محروم کرنے کا سبب بن گئی۔ادھر ایرانی حکومت کی مسلسل کوشش سے فرقہ اثناء عشریہ نے امام عبدالعزیز کے زمانے میں شمالی ہند میں اپنا مرکز بنالیا تھا۔چناچہ ان کے مسموم پروپیگنڈے سے متوسط طبقوں کے ذہنوں کو بچانے کے لئے شاہ عبدالعزیز نے کتاب ” تحفہ اثناء عشریہ ” لکھی۔علمائے زمانہ "تحفہ اثناء عشریہ ” کو تومزے لے لے کر پڑھتے رہے لیکن انہوں نے امام ولی اللہ کی تصنیف ” ازالۃ الخفاء” کو سمجھنے کا اسے واسطہ نہ بنایا اور اس طرح اس کتاب کو لکھنے کا جو اصل مقصد تھا وہ پورا نہ ہوا”
شاہ ولی اللہ اور ان کی سیاسی تحریک ،عبید اللہ سندھی ص 60
” اس اثناء میں دیوبند کی مرکزی فکر پہ جس قدر بھی حملے ہوئے خواہ وہ نصاری اور ہنود کی طرف سے ہوں یا شیعہ و مبتدعین (بریلوی ،صوفی سنّی ) کی طرف سے یا نجدی و یمنی ذوق رکھنے والے ہندوستانیوں کی طرف سے یا یوروپین ذہنیت رکھنے والے نوجوانوں ( سرسید اور ان سے متاثرہ لوگ) کی طرف سے۔ان میں سے اکثر اعتراضات کے جوابات محققانہ اور مجادلانہ تیار کئے گئے”
شاہ ولی اللہ اور ان کی سیاسی تحریک ،ص 111

شاہ ولی اللہ اور ان کے جانشین شاہ عبدالعزیز اور پھر دیگر لوگ پشتونوں میں ایسے لوگوں کے ساتھ اتحاد بنانے کی جانب راغب تھے جو ہندوستان کے تکثیری کلچر اور صلح کل فضاء پہ بڑی ضرب لگا سکتے ہوں۔اور اس کی تائید خود عبید اللہ سندھی کی باتوں سے ہوتی ہے۔بقول عبید اللہ سندھی شاہ ولی اللہ نے اپنی تصنیف "خیر کثیر ” کے صفحہ 113 پہ لکھا کہ "حکومت چلانے کی استعداد مسلمانان ہند سے افاغنہ کی طرف منتقل ہوچکی ہے،اس سے ان کی مراد جنگی طاقت اور حربی قوت ہے۔ایسے ہی عبیداللہ سندھی شاہ عبدالعزیز کا زکر کرتے ہوئے شاہ عبدالعزیز کے خواب میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے آنے کا زکر کرتے ہیں اور ان کے حوالے سے بتلاتے ہیں کہ حضرت علی نے شاہ عبدالعزیز نے ان کو پشتو زبان سیکھنے کی طرف توجہ دلائی۔
ملاحظہ ہو "شاہ ولی اللہ اور ان کی سیاسی تحریک ” ص 53
اگر عبید اللہ سندھی کی نظر سے شاہ ولی اللہ کی تحریک کا جائزہ لیا جائے تو اس تحریک کا ہندوستان بھر میں موجود فرقوں، مذاہب اور سلاسل صوفیہ کے بارے میں ایک معاندانہ رویہ صاف نظر آجاتا ہے۔میں نے شیعہ کے حوالے سے کچھ اقتباسات اوپر درج کئے۔اب زرا دیگر کے بارے میں اس تحریک کا رویہ بھی ملاحظہ کرلیں:

” اسی زمانے میں امام عبدالعزیز نے امام النقلاب امیر المومنین علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ الکریم کو خواب میں دیکھا۔امیر المومنین نے ان کو یقین دلایا کہ عام طور پہ فقہا اور صوفیاء کے مروجہ طریقے افراط و تفریط سے خالی نہیں۔لیکن قرون اولی کے مطابق صرف وہی طریقہ ہے جس کی دعوت امام ولی اللہ دعوت دیتے ہیں”۔
ص : 53
شاہ ولی اللہ کے بارے میں عبید اللہ سندھی کا خیال تھا کہ وہ ہندوستان کو سرے سے اپنا وطن تسلیم ہی نہیں کرتے تھے۔اور اس حوالے سے وہ شاہ ولی اللہ کے وصیت نامے کا ایک پیراگراف ہمارے سامنے لیکر آتے ہیں:

” ہم یہاں غریب الدیار ہیں۔ہمارے آباؤاجداد باہر سے یہاں آکر آباد ہوئے۔ہمارے لئے عربی نسب اور عربی زبان باعث فخر ہے۔کیونکہ یہ دونوں ہمیں سید اولین وآخرین، افضل انبیآء و مرسل؛ن فخر موجودات علیہ وآلہ الصلوات والتسلیمات سے نزدیک کرتی ہیں۔اس نعمت عظمی کا شکر یوں ادا کرنا چاہئیے کہ جہاں تک ہوسکے ان عادات و رسوم کو جو عرب اول کے ساتھ مخصوص تھیں اور یہی دراصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا منشاء و مقصود بھی تھا ،ہم ہاتھ سے نہ جانے دیں اور رسوم عجم و عادات ہنود کو اپنے اندر نہ آنے دیں”

یہاں اس اقتباس کو درج کرنے کے بعد عبیداللہ سندھی بہت ہی عجیب بات کرتے ہیں۔وہ اس بات کا ٹانکا فٹ کرتے ہیں کہ حجۃ اللہ البالغہ میں شاہ ولی اللہ کے قیصر و کسری کی تعیشات سے دور رہنے والی بات سے۔جبکہ وصیت کا سیدھا سادا مطلب جو بنتا ہے وہ اسی قسم کا پیورٹن ازم اور عرب ازم کا تعصب جو ہمیں ابن تیمیہ اور محمد بن عبدالوہاب نجدی کے ہاں بھی نظر آتا ہے۔

عبید اللہ سندھی اگرچہ محمد بن عبدالوہاب نجدی کی وہابی تحریک سے شاہ ولی اللہ کی تحریک کو الگ بتلاتے ہیں لیکن وہ یہ واضح کرتے ہیں کہ شاہ ولی اللہ اور محمد بن عبدالوہاب نجدی میں کوئی اشتراک اگر ہے تو وہ شیخ ابن تیمیہ پہ اتفاق کرنے کا ہے:
” اس ضمن میں یہ بات ضرور پیش نظر رہنی چاہئیے کہ امام ولی اللہ اور عبدالعزیز کے زمانے میں میں بیرون ہند جس قدراسلامی تحریکیں پیدا ہوئیں ،جیسے ایران میں بابی،نجد میں وہابی اور یمن میں زیدی،ان سب کے اپنے اپنے پروگرام تھے اور حزب ولی اللہ کی ہندوستانی تحریک نہ تو ان میں سے کسی مقصد میں اشتراک رکھتی ہے اور نہ ہی کسی تحریک سے اس کا عمل مشابہ ہے،ظاہر ہے حزب ولی اللہ کی ایران کی بابی تحریک کے ساتھ مشابہت کسی کے وہم وگمان میں نہیں آسکتی۔کیونکہ بابی تحریک ایرانی شیعیوں کی تحریک تھی۔اور اس کے برعکس ولی اللہی تحریک کے اساسی اصولوں میں سے ایک یہ تھا کہ عوام و خواص کو فرقہ شیعہ کی غلطیوں سے بچایا جائے۔البتہ عرب کی نجدی تحریک سے ولی اللہی تحریک بعض امور میں اشتراک رکھتی ہے۔اس لئے ظاہر بیں دونوں کو یکساں سمجھ لیتے ہیں۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ متوفی 738ھ کے ماننے والوں میں سے سرزمین نجد میں 1115ھ میں محمد بن عبدالوہاب پیدا ہوئے۔انہوں نے لوگوں کو توحید کی دعوت دی۔حزب ولی اللہ میں بھی توحید کی دعوت اسی طرح موجود ہے۔اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ کا احترام بھی دونوں تحریکوں میں مسلم ہے”

” امام ولی اللہ جب حجاز تشریف لے گئے تو انہوں نے شیخ ابراہیم کردی مدنی کے کتب خانے میں شیخ ابن تیمیہ کی تصنیفات سے بے شک کافی استفادہ کیا تھا۔امام ولی اللہ کی کتاب "ازالۃ اخفاء ” میں بعض اساسی مسائل ایسے مذکور ہیں جو یقینی طور پہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی تصنیف "منہاج السنّہ ” سے لئے گئے ہیں۔بات یہ ہف کہ حجاز کے قیام کے دوران شاہ ولی اللہ نے سب سے زیادہ فائدہ شیخ ابو طاہر سے اٹھایا تھا”
شاہ ولی اللہ اور ان کی سیاسی تحریک ص 69

” ولی اللہی تحریک اور عرب کی نجدی تحریک سے بعض امور میں مشابہ تھی۔اس کی ایک مثال اسمعیل شہید کی کتاب تقویۃ الایمان ہے۔یہ کتاب حجۃ البالغہ سے ماخوذ ہے۔لیکن بعض مقامات پہ اس میں شیخ عبدالوہاب کی کتاب "التوحید ” کی سی بات لکھی ہے۔یہ اسباب ہیں جن کی بنا پہ وہ اہل علم جو حزب ولی اللہ کے مخالف تھے ان مشترک مباحث کی وجہ سے ان دونوں تحریکوں کو ایک ثابت کرنے کے لئے کافی سے زیادہ کوشاں رہے”

ان اقتباسات سے کم از کم ہمارے سامنے یہ بات آجاتی ہے کہ عبید اللہ سندھی شاہ ولی اللہ اور شیخ ابن تیمیہ و محمد بن عبدالوہاب نجدی کے تصور توحید میں اشتراک تسلیم کرتے ہیں۔اگرچہ انہوں نے وضاحت کی ہے کہ شرک اصغر کے مرتکب کو شاہ صاحب اور شاہ اسماعیل کافر نہیں کہتے۔ایسے ہی التوسل فی الدعا کو جائز خیال کرتے ہیں۔

عبید اللہ سندھی سید احمد بریلوی اور شاہ اسماعیل دہلوی کی تحریک جہاد کو شاہ ولی اللہ اور شاہ عبدالعزیز کی تحریک کا تسلسل قرار دیتے ہیں،اور وہ شاہ اسماعیل و سید احمد بریلوی سے بے پناہ محبت اور عقیدت کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ان کے جو خیالات صوفی سنّی ، شیعہ اور ہندوستان میں بسنے والی دیگر اقوام بارے تھے ان کی بھی تائید کرتے ہیں۔ان کی کتابوں کو انقلاب آفرین قرار دیتے ہیں۔ان کو ان کتابوں کی فرقہ وارانہ اساس کی انقلابیت سے بھری ہوئی ملتی ہے۔

مولانا عبید اللہ سندھی اپنی کتابوں میں بھولے سے بھی اس بات کا تذکرہ نہیں کرتے کہ جب شاہ ولی اللہ حجاز گئے اور مدینہ پہنچے تو محمد بن عبدالوہاب نجدی بھی وہاں زیر تعلیم تھا۔ان کے استاد بھی مشترکہ تھے۔ویسے حیران کن بات یہ ہے کہ شاہ ولی اللہ دہلوی نے اپنی کسی کتاب میں کہیں ہلکا سا بھی اشارہ شیخ ابن تیمیہ کے بارے میں نہیں کیا اور نہ ہی محمد بن عبدالوہاب نجدی کا نام لیا۔انہوں نے ازالۃ الخفاء میں شیخ ابن تیمیہ کی "منہاج السنّۃ ” سے عبارات لیں مگر زکر نہیں کیا،انہوں نے حیات سندھی کا زکر نہیں کیا۔ایسے ہی شاہ اسماعیل اور سید احمد بریلوی نے بھی ابن تیمیہ کا زکر نہیں کیا۔کیا یہ نادانستہ ہوا؟میرا خیال یہ ہے کہ یہ جان بوجھ کر گیا گیا۔کیونکہ ہندوستان ہی نہیں بلکہ پورے عالم اسلام میں اس وقت شیخ ابن تیمیہ اور محمد بن عبدالوہاب نجدی کے خیالات و افکار بارے سخت ردعمل موجود تھا۔شاہ ولی اللہ کو معلوم تھا کہ اگر توحید یا سیاست بارے نظریات کو شیح ابن تیمیہ یا محمد بن عبدالوہاب کی نسبت سے بیان کیا گیا تو عوام کی جانب سے شدید رد عمل کا سامنا کرنا پڑے گا جیسا کہ خود شاہ ولی اللہ اور شاہ عبدالعزیز کے شاگردوں نے بھی شاہ اسمعیل اور سید احمد بریلوی کے خیالات و افکار پہ شدید تنقید کی۔جب تقویۃ الایمان شایع ہوکر سامنے آئی تو ہندوستان بھر میں اس کا ردکیا گیا اور لکھا گیا۔عبیداللہ سندھی بھی دیوبندی علماء کی طرح ان بڑے بڑے ناموں کا کوئی زکر نہیں کرتے جن میں مولانا عبدالقادر بدایونی ، مولانا فضل حق خیرآبادی،مفتی صدر الدین آزردہ سمیت بڑے بڑے علماء شامل تھے۔قریب قریب ایک ہزار سے زیادہ رد مولوی اسماعیل کی کتاب ” تقویۃ الایمان ” کے لکھے گئے تھے۔

عبید اللہ سندھی مدرسہ دیوبند تحریک کے بھی بہت بڑے مداح ہیں۔اور ان کا خیال ہے :

دیوبندی نظام اور اس کی سیاسی مصلحتوں سمجھنے کے لئے اس حقیقت کو مستحضر کرلینا چاہئیے کہ جس دیوبندی جماعت کا تعارف ہم کرانا چاہتے ہیں ،وہ اس دہلوی جماعت کا دوسرا نام ہے جو مولانا محمد اسحاق کی ہجرت کے بعد ان کے متبعین نے ان کی مالی اعانت اور ان کے افکار کی اشاعت کے لئے بنائی تھی۔اس جماعت کی صدارت مولانا مملوک علی صدر مدرس کالج دہلی کے لئے مخصوص رہی۔ان کے بعد مولانا محمد اسحاق نے مولانا امداد اللہ مہاجر مکّی کو مقرر کیا”
شاہ ولی اللہ اور ان کی سیاسی تحریک ص 99

” ہم مولانا محمود حسن شیخ الہند کو اپنے مشائخ اربعہ مولانا امداد اللہ (مہاجر مکیّ) ،مولانا محمد قاسم ناناتوی،مولانا محمد یعقوب دیوبندی اور مولانا رشید احمد گنگوہی ہی کا جانشین مانتے ہیں”
شاہ ولی اللہ اور ان کی سیاسی تحریک ،ص 100
مولانا عبید اللہ سندھی کی کتابوں اور ان کی تحریروں کا جائزہ لیتے ہوئے ہمیں کہیں بھی اس سیکولر نیشنلسٹ اور انٹرنیشنل سوشلسٹ نظریہ کا سراغ نہیں ملتا جو فرقہ وارانہ خیالات کی نفی کرتا ہو، فرقہ واریت کی مذمت کرتا ہو اور تکثریت کا حامی نظر آتا ہو۔عبید اللہ سندھی کی تحریک اور خیالات ہمیں مسلم رجعت پرست ، احیائیت پسند تحریکوں سے کہیں بھی الگ نظر نہیں آتے۔معشیت اور سیاست پہ ان کے تبصرے بچگانہ لگتے ہیں جب وہ کارل مارکس کی تحریروں پہ شاہ ولی اللہ کی تحریروں کو فوقیت دیتے ہیں۔ایک جگہ تو وہ یہ بھی کہتے نظر آتے ہیں کہ شاہ ولی اللہ کا نظام فکر شیخ ابن عربی کے نظام فکر سے کہیں جامع اور کہیں زیادہ اچھا ہے۔اور عبیداللہ سندھی کی سامراج دشمنی، سرمایہ دارانہ نظام سے ان کی نفرت اور کالونیل ازم بارے ان کا تجزیہ اپنے جوہر کے اعتبار سے ترقی پسندانہ اور روشن خیال نہیں ہے بلکہ اس کی جڑیں قدامت پرست اور رجعت پرستی میں پیوست نظر آتی ہیں۔اور مجھے لگتا ہے کہ پاکستان میں جو کمیونسٹ اور لیفٹ حلقے یا بعض لبرلیان عبید اللہ سندھی کے بارے میں خیالات ظاہر کرتے ہیں وہ ان کی تحریروں کی بنیاد پہ نہیں بلکہ ایک عمومی پروپیگںڈے کی بنیاد پہ قائم کئے گئے ہیں۔

Views All Time
Views All Time
754
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   سیکولر بھارت کا انتہا پسند چہرہ-عبدالحمید
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: