Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

فاطمہؑ فاطمہؑ است – عامر حسینی

فاطمہؑ فاطمہؑ است – عامر حسینی
Print Friendly, PDF & Email

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے یوم وصال پہ شیعہ کے ہاں ایک ہفتہ مجالس عزا ہوتی ہيں جبکہ اہلسنت (صوفی) کے ہاں اس دن کی مناسبت سے مساجد، خانقاہوں، مزارات وغیرہ پہ ایصال ثواب کی محافل کا انعقاد ہوتا ہے۔اور پاک و ہند سمیت پوری دنیا میں جہاں جہاں مسلمان آباد ہیں ان کے ہاں یہ دو مکاتب فکر اسی روش پہ عمل پیرا ہیں۔جبکہ پبلک میں جس میں شیعہ اور سنّی دونوں اکٹھے ہوں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کے فضائل ،ان کی سیرت طیبہ طاہرہ کے بارے میں ایسے افکار کا اظہار ہوتا ہے جس سے لوگوں کو آگے جانے کا راستہ ملے اور وہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کی سیرت پاک کو اپنے لئے نمونہ بنائیں۔حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی زندگی بارے ایک تو یہ دو مکاتب فکر کے جمہور کا رویہ رہا ہے۔ایک اور نکتہ نظر سے بھی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی سیرت طیبہ کو جینڈر اسٹڈیز اور ویمن سائیکالوجی اور سائیکو اینالیسز اور انتھروپاولوجی اور فلاسفی سے تعلق رکھنے والوں نے دیکھا ہے۔لیکن مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ چند سالوں سے جب سے تکفیری دیوبندی ازم نے شیعہ نسل کشی کی ایک منظم مہم شروع کی ہے تو سوشل میڈیا پہ ہمارے شیعہ برادران جن میں چند انتہائی پڑھے لکھے اور سمجھدار اور ذہین دماغ لوگ بھی شریک ہیں ایسی تحریریں اور ایسے سٹیٹس اپ لوڈ کررہے ہیں جس سے پاکستانی سماج کی فرقہ وارانہ غیر ہم آہنگی کی فضاء میں اور زیادہ اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔آپ سٹیٹس اپ ڈیٹ اور نوٹیفکشن وال پڑھیں تو آپ کو اندازہ ہوگا کس قدر یہ زہر ذہنوں کو گدلا کرچکا ہے۔اور پھر ان ہی سٹیٹس اور اپ ڈیٹس کو بنیاد بناکر مذہبی جنونی اپنی قتل و غارت گری کا جواز پیدا کرتے ہیں۔
فرقہ پرستی کے زہر نے ہمارے سماج کو ریشہ ریشہ کرڈالا ہے اور اب ہم سب اپنے اپنے جزیروں پہ کھڑے ہیں اور ان کے درمیان جو جو راستے ہمیں جوڑ سکتے تھے ہم ان سب کو آگ لگا چکے ہیں۔ایک بڑے طویل سفر کے بعد کم از کم برصغیر پاک وہند کے شیعہ اور سنّی لوگوں نے اپنے درمیان پائے جانے والے اختلاف کو اپنے خاص حلقوں میں رکھ کر پبلک میں ایسی باتوں کے اظہار کا سلیقہ اور ڈھنگ سیکھ لیا تھا جس سے باہمی سر پھٹول کم سے کم ہو اور اشتراک کا احساس بڑھ جائے۔اور شیعہ اور سنّی ارباب دانش اور ان کے اثر میں عوام کی اکثریت بھی بس سماجی زندگی اور اجتماعی زندگی میں انہی باتوں کا تذکرہ پسند کرتی تھی جو دونوں کے درمیان مشترک صفت کا درجہ سمجھی جاتی تھی۔دونوں طرف کے اہل دانش منبر،عوامی جلسوں کے سٹیج پہ وہ بات کرتے جو شیعہ اور سنّی دونوں سن کر خوش ہوتے تھے اور غم بھی اکٹھے مناتے تھے۔مگر پھر تکفیر ازم بیرون ملک کی پراکسیوں ، ریالوں، تومانوں ، سیاسی مفادات ، پاور اور آئیڈیالوجی کو ایکسپورٹ کرنے کے جنون اور پاکستانی سماج کے اندر اس وقت جد الفساد جنرل ضیاء الحق کی اپنی حکمرانی کو بچائے رکھنے کے لئے تکفیری سنپولیوں کو پالنے کی حکمت عملی نے ہمارے سماج کی صلح کل بنت کو ادھیڑ کر رکھ دیا۔اور آج اچھے بھلے پڑھے لکھے، معقول لوگ بھی اس غیر معقولیت کا شکار ہوگئے ہیں کہ سچی بات ہے دل کرتا ہے کہ اس طرح کا ماحول دیکھنے سے پہلے ہم زندہ ہی نہ رہتے۔

مجھے اس پہ ہرگز کوئی اعتراض نہیں ہے کہ آپ اگر شیعہ اثناء عشریہ ہیں اور آپ فیس بک پہ کوئی سیکرٹ گروپ بناتے ہیں یا اسٹڈی گروپ بناتے ہیں اور کلوز ممبرشپ رکھتے ہیں اور وہاں پہ آپ ان مسائل پہ علمی انداز میں بحث و مباحثہ کرتے ہیں جو مابین اہلسن و شیعہ مختلف فیہ ہیں۔مجھے اس پہ بھی کوئی اعتراض نہیں کہ شیعہ اور اہلسنت کے دو صاحب علم اور تحمل و برداشت کے حامل لوگ باہمی مذاکرہ کرتے ہیں اور اپنے اپنے موقف کی تائید میں ایک دوسرے کے سامنے دلائل کے ساتھ شواہد لیکر آتے ہیں۔علمی طریقہ کار کو ملحوظ خاطر رکھ کر یہ سب کرتے ہیں۔لیکن مجھے اس بات سے سخت اختلاف ہے کہ آپ پبلک آئی ڈیز سے نزاعی باتوں بلکہ انتہائی شدید حساسیت والی چیزوں پہ انتہائی غیر ذمہ داری سے بات کریں۔

جتنے اہل علم ہیں اور مسلم تاریخ کے طالب علم ہیں وہ سب کے سب شیعہ اور اہلسنت کے درمیان پائے جانے والے اختلافات سے واقف ہیں۔اور یہ بھی جانتے ہیں کہ ان کی نوعیت کیا ہے۔لیکن ہر معقول اور معتدل شخص اس بات کی تلقین کرتا ہے اور اس بات پہ یقین رکھتا ہے کہ جہاں معاملات کا تعلق ہر دو اطراف کی شخصیات کے احترام اور وقار کے بارے میں ہو معاشرے میں امن قائم رکھنے کے لئے اس پہ پبلک میں بات سے گریز رکھا جائے۔اور خاص طور پہ جب معاشرے میں تخریب اور فساد کی قوتیں یہ چاہ رہی ہوں کہ معاشرے میں فرقہ وارانہ خانہ جنگی ہوجائے اور لوگ مذہب اور عقیدے کی بنیاد پہ گلیوں اور محلوں میں ایک دوسرے پہ پل پڑیں تو ایسے وقت میں تاریخ کے طالب علم تاریخ سے تقریب بین المذاہب کی امثال نکال کر لاتے ہیں، اتفاق کی بات دکھاتے ہیں انتشار پہ اصرار نہیں کرتے ۔
تاریخ کی گتھیوں کو سلجھانا اور ان پہ غیرجانبداری سے تحقیق اور تفتیش کرنا اور تاریخی حقائق کی کانٹ چھانٹ کرنے پہ اپنی زندگی وقف کرنا یہ کم از کم "فیس بک سٹیٹس اپ ڈیٹ ” کرنا یا کسی چوک اور چوراہے پہ کھڑے ہوکر ” اللھم اللعن من قتل فلاں فلاں ” جیسا عمل نہیں ہوتا۔اور خاص طور پہ جب ایسی لعنت و ملامت کا ہدف آپ کسی دوسرے مکتب کی انتہائی محترم و مکرم ہستی کو بناڈالیں۔یہ فساد فی الارض اور تخریب کی قوتوں کو کامیاب کرنے کے مترادف ہوا کرتا ہے۔میں مثال سے واضح کرتا ہوں تاکہ بات پوری سمجھ آجائے۔
اہلسنت اور اہل تشیع کی اکثریت مظلومیت امام حسین رضی اللہ عنہ پہ متفق ہے اور یزید پہ جمہور اہلسنت کا موقف یہ ہے کہ اس کا فعل قابل مذمت ہے اور وہ کسی بھی لحاظ سے اس قابل نہیں ہے کہ اس کی تعریف کی جآئے ، اس کو رعایتی نمبر دئے جائیں،خارجی، وہابی اور تکفیری دیوبندی حضرات کے موقف کو عتدال پسند اہلسنت بریلوی، دیوبندی اور اہلحدیث نے اس معاملے پہ رد کردیا اور ان کی بات کو وہ نہیں مانتے۔لیکن جناب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وفات بارے ایک طرف تو خود اہل تشیع میں کچھ لوگ اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ ان کی شہادت ہوئی تھی ، تو اہل سنت کی اکثریت ماہرین تاریخ بھی اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر پہ حملہ ہوا تھا،ان کا دروازہ توڑا گیا اور آگے کے سار واقعات اور یہ کہنا کہ ان کے فرض کرلئے گئے قتل کی زمہ داری اہلسنت کے نزدیک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے اہل بیت اطہار کے بعد سب سے مقدس اور محترم شخصیات رضی اللہ عنھم پہ عائد ہوتی ہے اہلسنت کے لئے قابل قبول نہیں ہے۔اور نہ ہی اہلسنت پبلک مقامات یا سوشل میڈیا پہ پبلک آئی ڈیز سے ایسے سٹیٹس اپ ڈیٹ کرنے کو برداشت کریں گے۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے آپ مانیں یا نہ مانیں بہرحال یہ حقیقت اپنی جگہ قائم رہنے والی ہے۔مسلم تاریخ کے نزاعی اور اختلافی معاملات پہ تاریخی ،سماجی ، علمی اور مدلل طریقہ سے سنجیدہ تحقیق کا میدان ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، مکاتب ،جامعات کے شعبہ مسلم تواریخ ، تھیالوجیکل شعبے ہیں نہ کہ چوک، چوراہے، فیس بک پبلک آئی ڈیز۔

میں اس بات پہ یقین رکھتا ہوں کہ آپ اگر حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو علم ومعرفت کا ستون خیال کرتے ہیں تو پیش آمدہ صورت حال بارے ان کی بارگاہ سے رجوع کریں۔آپ فرماتے ہیں:
"فتنہ و فساد میں اس طرح رہو جس طرح اونٹ کا وہ بچہ جس نے ابھی اپنی عمر کے دو سال ختم کئے ہوں کہ نہ تو اس کی پیٹھ پر سوار ی کی جاسکتی ہے اور نہ اس کے تھنوں سے دودھ دوہا جاسکتا ہے”

میں تاریخ کی درستی کی جنگ سوشل میڈیا پہ لڑنے والوں سے کہتا ہوں کہ آئیں میں آپ کو نہج البلاغہ کی سیر کراتا ہوں۔نہج البلاغہ میں کم از کم دو جگہیں ایسی ہیں جہاں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے خود ان کے ساتھیوں نے خلافت اور خاص طور پہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھم کے بارے میں سوال کیا۔آپ نے ایک طرف صاف کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ اس موقعہ پہ یہ سوال اٹھانے یا ان کے جوابات پہ اصرار ضروری ہے۔دوسری جگہ آپ نے کہا کہ اونٹ بارے سوال کا وقت چلا گیا اب اونٹنی کے بچے کی سلامتی کی فکر ضروری ہے۔گویا اگر خود مکتب اہل تشیع کی نظر سے دیکھیں تو ان کے ہاں بھی ترجیح بدلتی ہے کہ کس موقعہ پہ کیا بات کرنی بنتی ہے۔اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بعد جب امت مسلمہ کے خلیفہ بنے تو اس کی بنیاد مہاجر اور انصار صحابہ کرام کی اکثریت اور پھر عامۃ المسلمین کی اکثریت کا اس پہ اتفاق تھا اور یہی وجہ ہےکہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے جب معاویہ ابن سفیان ، عمرو بن العاص سمیت جس جس کو بھی اپنی خلافت کو تسلیم کرنے کے خطوط لکھے یا معاویہ ابن سفیان کے لکھے ہوئے خطوط کے جوابات ارسال کئے تو آپ نے فرمایا کہ میرا انتخاب بالکل ویسے ہوا ہے جیسے ابو بکروعمر و ‏عثمان کا ہوا تھا،آپ نے فرمایا کہ مہاجر و انصار صحابہ کرام جس پہ متفق ہوں اور جسے خلیفہ چن لیں اس کی اطاعت لازم ہے اور آپ نے اسے جماعت قرار دیتے ہوئے اسے تائید ایزدی سے بھی تعبیر کیا۔یہ نہج البلاغہ میں درج ہے۔نہج البلاغہ کھولیں اور یہ بھی دیکھ لیں کہ جب معاویہ ابن سفیان نے آپ سے ” افضل و غیر افضل ، مقام صحابہ کرام اور ان جیسے دوسرے مسائل ” چھیڑے اور آپ سے جواب چاہا تو آپ کا جو جواب خود نہج البلاغہ میں اسے پڑھ کر آپ کو یہ بھی پتاچل جائے گا کہ اس حوالے سے خود علی المرتضی وجہہ الکریم کا منہج تھا کیا ۔اسی کی بنیاد پہ زرا اپنی روش پہ بھی روشنی ڈالیں۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں :
زبان ایک ایسا درندہ ہے کہ اگر اسے کھلا چھوڑ دیا جائے تو پھاڑ کھائے
صبر دو طرح کا ہوتاہے ایک ناگوار باتوںپر صبر اور دوسرے پسندیدہ چیزوں سے صبر
لوگوں کے دل صحرائی جانور ہیں ,جو ان کو سدھائے گا ,اس کی طرف جھکیں گے
(اس قول سے اس نظریہ کی تائید ہوتی ہے کہ انسانی قلوب اصل فطرت کے لحاظ سے وحشت پسند واقع ہوئے ہیں اور ان میں انس و محبت کا جذبہ ایک اکتسابی جذبہ ہے .چنانچہ جب انس و محبت کے دواعی اسباب پیدا ہوتے ہیں تو وہ مانوس ہو جاتے ہیں اور جب اس کے دواعی ختم ہوجاتے ہیں یا اس کے خلاف نفرت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں تو وحشت کی طرف عود کر جاتے ہیں اور پھر بڑ ی مشکل سے محبت و التفات کی راہ پر گامز ن ہوتے ہیں)
جو لوگوں کا پیشوا بنتا ہے تو اسے دوسروں کو تعلیم دینے سے پہلے خود کو تعلیم دینا
جاہل کو نہ پاؤگے مگر یا حد سے آگے بڑھا ہو یا اس سے بہت پیچھے
جب عقل بڑھتی ہےتو باتیں کم ہو جاتی ہیں
جس کی زبان پر کبھی یہ جملہ نہ آئے کہ »میں نہیں جانتا «.تو وہ چوٹ کھانے کی جگہو ں پر چوٹ کھا کر رہتا ہے
بوڑھے کی رائے مجھے خطروں میں کھڑے رہنے والے نوجوان سے زیادہ پسندہے

اپنے بھائی کو شرمندہ احسان بنا کر سر زنش کرو اور لطف و کرم کے ذریعہ سے اس کے شر کو دور کرو
اگر برائی کا جواب برائی سے اور گالی کا جواب گالی سے دیا جائے ,تواس سے دشمنی کا دروازہ کھل جاتاہے .اور اگر برائی سے پیش آ نا والے کے ساتھ نرمی و ملائمت کا رویہ اختیار کیا جائے تو وہ بھی اپنا رویہ بدلنے پر مجبور ہوجائے گا .چنانچہ ایک دفعہ امام حسن علیہ السلام بازار مدینہ میں سے گزررہے تھے کہ ایک شامی نے آپ کی جاذب نظر شخصیت سے متاثر ہوکر لوگوں سے دریافت کیا کہ یہ کو ن ہیں؟ اسے بتا یا گیا کہ یہ حسن ابن علی علیہماالسلام ہیں .یہ سن کر اس کے تن بدن میں آگ لگ گئی اور آپ کے قریب آکر انہیں بر ا بھلا کہنا شروع کیا .مگر آپ خاموشی سے سنتے رہے جب وہ چپ ہوا توآپ علیہ السّلام نے فرمایا کہ معلوم ہوتا ہے کہ تم یہاں نووارد ہ؟ اس نے کہا کہ ہاں ایسا ہی ہے .فرمایا کہ پھر تم میرے ساتھ چلو میرے گھر میں ٹھہرو ,اگر تمہیں کوئی حاجت ہو گی تو میں اسے پورا کروں گا ,اور مالی امداد کی ضرورت ہوگی تو مالی امداد بھی دوں گا .جب اس نے اپنی سخت و درشت باتوں کے جواب میں یہ نرم روی و خوش اخلاقی دیکھی ,تو شرم سے پانی پانی ہوگیا اور اپنے گناہ کا اعتراف کرتے ہوئے عفو کا طالب ہوا ,اورجب آپ سے رخصت ہوا تو روئے زمین پر ان زیادہ کسی کی قدرو منزلت ا س کی نگاہ میں نہ تھی

آخر میں کچھ تذکرہ اس شخصیت کا جس کی وفات کے دن پہ چند حد اعتدال سے بڑھے بیانات دیکھ کر یہ تحریر وجود میں آئی۔
در زہرا سے ہو کر جب بھی پیغمبر نکلتے ہیں

شرف کے چاند سورج گھٹنیوں چل کر نکلتے ہیں

نبی کی لاڈلی آتی ہے جب بھی اپنےآنگن میں

تو مہر و ماہ سر پر اوڑھ کر چادر نکلتے ہیں

تیری آغوش ہی وہ معتبر آغوش ہے بی بی

جہاں سے ترجمان سورہ کوثر نکلتے ہیں

تیرے شوہر کی یہ ادنی کرامت ہے کہ برسوں سے

نجف کی سرزمیں سے قیمتی پتھر نکلتے ہیں

تیرے بچوں کے گہوارے سے مس ہو گر کوئی بے پر

تو اس کے جسم پر فورا ہی بال و پر نکلتے ہیں

تیری چکی بناتی جا رہی ہے دائرہ دیں کا

تیرے فاقوں سے صبر و شکر کے لشکر نکلتے ہیں

تیری فضہ نے یہ علم و ہنر سے کردیا ثابت

کنیزی سے تیری مضمون کے دفتر نکلتے ہیں

نبوت کے سفر کی آخری منزل تیرا گھر ہے

تیرے گھر سے امامت کے قدم باہر نکلتے ہیں

سنا ؤ خیبر و خندق کے قصے اپنے بچوں کو

کہانی سن کے حیدر کی دلوں سے ڈر نکلتے ہیں

جنہوں نے کربلا میں بستر بیمار لوٹا تھا

وہی کاندھوں پہ لے کر بوریا بستر نکلتے ہیں

شجر وہ ہے کہ جس کی شاخ پر تازہ ثمر آئیں

صدف وہ ہے کہ جس کے قلب سے گوہر نکلتے ہیں

تیرا نایاب آنچل ہے مصلی کل ایماں کا

تیری تسبیح سے اخلاص کے جوہر نکلتے ہیں
نایاب بلوری

Views All Time
Views All Time
514
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   مست توکلی ؒ ۔۔۔۔۔بھیدِ زندگی پانے والا صوفی - حیدر جاوید سید
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: